Topics

معرفت عشق


کچے صحن میں گائے رسی سے بندھی ہوئی تھی۔ اس کا بچہ بھی پاس ہی ماں کے آس پاس گھوم رہا تھا کبھی وہ ماں کی ٹانگوں کے قریب آجاتا تو ماں اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتی ۔ اور اپنی گیلی زبان سے اسے اس طرح چاٹتی جیسے لعاب دہن نہیں محبت کی چاشنی اس کے بدن پر مل رہی ہے۔ اتنے میں گوالا آیا ،بچے کو ماں سے دور لےجانے کے لئے ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ ممتا کی ندی میں جیسے طوفان آگیا۔ زہریلے ناگ کی طرح پھنکارتی ہوئی ، گوالے کی جانب اس طرح بڑھی کہ کچی زمین میں گڑا ہوا کھونٹااکھڑ گیا۔ گوالا اپنی جان بچانے کے لئے بچے کی رسی چھوڑ بھاگ کھڑا ہوا۔ماں اپنے بچے پر جھک کر پھر اسے پیار سے چاٹنے لگی ، ایک لمحے پہلے کی گائے میں اور اس لمحے کی گائے میں زمین آسمان کافرق تھا۔ وہ خونخوار درندہ تھی ۔یہ بے ضرر چوپایہ۔اے ممتایہ رخ دونوں تیرے ہی ہیں۔

سردیوں کی ایک خوش گوار صبح تھی ۔ سورج کی سنہری کرنوں میں خوب صورت موزیک کا فرش موتی کی طرح چمکنےلگا۔ماں اپنے ننھے منے کے ساتھ برآمدے میں نکل آئی۔ اس کےہاتھ میں چاول بھری تھالی تھی ۔دیکھو منے، میں اتنے چاول چن لوں۔ تم یہاں دھوپ میں کھیلو۔ چاول چنتے ہوئے وہ بار بار کنکھیوں سے بچے کو دیکھتی ، مسکراتی نظروں میں بچے کی محبت سمند ر کی گہرائیوں سے بھی سوا دکھائی دیتی۔معصوم جان ماں کی محبت کے گہرے سمندر میں ایک موج کی طرح اس کی رگ جان سے ٹکراتا ۔کبھی آڑے ترچھے قدموں سے دوڑتا ہوا آکر ماں کی گردن سے لپٹ جاتا اور کبھی ہنستا ہوا ماں کے سینے سے اس طرح آکر ٹکراتاکہ چاول کی تھالی اس کے ہاتھ سے گرنے لگتی ۔منے کہہ کر وہ اس کے گال کو چوم کر اسے پھر پرے کردیتی اور دوبارہ چاول چننے لگ جاتی ۔ اتنے میں ایک زور کی چیخ ابھری،ماں کے ہاتھ سے چاول کی تھالی چھوٹ گئی وہ بجلی کی سی تیزی سے بچے کی طرف لپکی ،اس کا منا فرش پر گر پڑا تھا۔اس نے دیوانہ وار اسے اپنی چھاتی سے لگا لیا اور فرش کو ہاتھوں سے مارنے لگی۔ نہ رو منے، اس فرش سے تمہیں چوٹ لگی ہے۔ میں اسے بہت ماروں گی ۔بچے نے آنسو بھری آنکھوں سے فرش کی طرف دیکھا جسے اس کی ماں ایک ہاتھ سے ماررہی تھی۔ اس کے ننھے منے دل کو جیسے قرار آگیا،چیخیں بند ہوگئیں۔اگلے ہی لمحے میں وہ ماں کے سینے میں منہ چھپائے گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ ماں سینے سے بھینچے اس کے بال چومتی رہی۔ اسے اس کی پروا نہ تھی کہ چاول سارے برآمدےمیں بکھرے ہوئے ہیں اس کی پیار بھری نظریں تو بس اپنےلعل پر تھیں۔ جس کی چوٹ کا اثر ابھی تک اس کے دل میں محسوس ہورہا تھا۔ 

اے محبت یہ بھی تیرا ہی ایک روپ ہے اوروہ شباب کی رعنائیوں سے بھرپور قدرت کا ایک حسین مرقع تھی۔بھنورا نہ ہو تو کلی کے رنگ کو ن پہچانے،بہار نہ ہو تو چمن پر نکھار کیسے آئے عشق نہ ہوتو حسن کی قیمت کون چکائے۔ اے حسین دوشیزہ تیرا مہر حجلہ ٔعروسی کا وہ انمول لمحہ ہے جس لمحے دل ملتے ہیں۔

شبِ وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ ذرا

ترے شباب کی معصومیت نکھر آئی

گھٹائیں مسکرانے لگیں، ہوائیں گنگنانے لگیں، سارا عالم حسن کے نور میں ڈوب گیا۔ خوشیوں کے پیمانے چھلکتے رہے،حسن عشق کی آغوش میں دنیا و مافیہا کی ہر شے  سے غافل ہوگیا۔

شبانِ ہجرت درازچوں زلف و روزِ وصلت چوں عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

کہاں وہ وصل کی روشن گھڑیاں، کہاں یہ کالے ناگوں جیسی ہجر کی لمبی راتیں۔ کہاں وہ بہار کی رنگیں خوش بوئیں، کہاں یہ خزاں کے ویران سناٹے۔کہاں وہ نور برساتا ہوا جمال ، کہاں یہ حسرتوں سے بھر پور بے نور آنکھیں ۔ اے محبوب ! تیری جدائی میں یہ حسن سوگوار ہے۔ شباب کی رعنائیوں پر موت کے سائے منڈلاتے ہیں۔ جوانی کے رنگ پت جھڑ کے جھونکوں میں اڑے جاتے ہیں۔ محبت کی داستان اب قصۂ پارینہ میں بدل چکی ہے۔ محبت کے نغمے اب درد کی آہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کوئی تو اس سے کہہ دے یہ جاکر، محبت کی یہ تصویر تو تُونے دیکھی ہی نہیں۔ 

دن بھر کے عطیات وہدایہ تقسیم کردینے کے بعد لوگوں سے فارغ ہو کر محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ اپنے حجرے میں مراقب تھے۔ اتنے میں ایک خستہ حال، صورت سے پُر ملال شخص اندر آیا۔ حضور ! میری تین بیٹیاں شادی کےلائق ہیں اوران کو کھلانے کا سامان بھی نہیں ہے۔ کجا جہیز اور شادی کے انتظام کا بندوبست ۔کیا کروں ، کہاں سے کروں ،مجبوری و لاچاری آپ کے در تک لے آئی ہے۔ بے بس باپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر محبوب الٰہیؒ کا دل تڑپ اٹھا۔ حجرے میں چاروں طرف نظر ڈالی کہ کوئی شے ہو تو اس کی نذر کروں ۔مگر وہ تو پہلے ہی لوگوں کو بانٹ کر فراغت حاصل کرچکے تھے۔نہیں نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی سوالی اس کے دوست کے درپردست ِ سوال دراز کرے اور وہ خالی لوٹا یا جائے ۔ایسا نہیں ہوسکتا ۔ سامنے اپنی جوتی کی جوڑی دکھائی دی، بے قراری میں وہی اٹھالی۔اور اس شخص کی طرف بڑھاتے ہوئے محبت سے کہنے لگے۔ اسے لے جااور تجھے بازارمیں کچھ لوگ ملیں گے۔ ان سے کہنا، کہ یہ جوتے نظام الدین (اولیاء) کے ہیں ۔ جو زیادہ قیمت دے ان کے ہاتھ بیچ کر اپنا کام چلا۔ وہ آدمی ٹوٹے دل سے جوتے لے کر اٹھا ۔سوچنے لگا، غریب دیکھ کر شاید ٹال دیا گیا ہے۔ چلو کچھ نہ ہونےسے کچھ ہونا ہی بہتر ہے۔کچھ نہیں تو ایک وقت کا دال دلیا ہی مہیا ہوجائےگا۔یہی سوچتے سوچتے بازار میں نکل آیا۔ لوگوں پر نظر پڑی تو حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کی بات یاد آئی۔ اس نے زور زور سے آوازیں لگانی شروع کردیں۔ یہ جوتے حضرت خواجہ کے ہیں۔کوئی انہیں قیمت دے کر خرید لے۔ لوگ اس غریب پر ایک تمسخرانہ نگاہ ڈالتے اور آگے بڑھ جاتے۔ کوئی بھی ان پرانے جوتوں کی قیمت دینے والا نہ تھا۔اتنے میں سامنے سے حضرت امیرخسرو آتے دکھائی دیئے۔ ان کے کانوں میں اپنے پیرومرشد کا نام پڑا تو لپک کر اس آدمی کے سر پر جاپہنچے۔ 

حضرت امیرخسرو کا تعلق شاہ ہند کے دربار سے تھا۔ اور آپ اس وقت اسی کے دربار سے آرہے تھے۔ مرشدکریم کا نام سن کر فرطِ محبت سے تڑپ اٹھے۔کیا کہا تونے یہ جوتے خواجہ پیاکے ہیں ۔ارے او ہفت اقلیم کے شہنشاہ ! تو اس انمول خزانے کی قیمت سے بھی واقف نہیں ہے۔کیا چاہئے تجھے اس کے عوض، اس کی قیمت میں تو ساتوں آسمان اور زمین بھی کم ہیں۔ اس انمول تحفے کو کون خریدنے کی سکت رکھ سکتا ہے۔ارے او نادان ! تو انہیں پیسوں کے عوض دیتا ہے۔ لے یہ لے جا،اور جوتے مجھے دے دے ۔ کاش میرے پاس اس وقت کچھ اور بھی ہوتا تو وہ بھی دے دیتا اس انمول خزانے کے عوض، یہ کہہ کر دربارِ ہند کی جانب سے عطا کردہ اشرفیوں کی ایک تھیلی اس کو پیش کردی۔ اور بھی جو کچھ قیمتی شے پاس تھی وہ سب کچھ دے دیا اور نہایت ہی احترام اور بصد شوق و جذبہ عشق مرشد کے آپ کی جوتیاں سر پر رکھ لیں۔جوتیوں کا سر پر رکھنا تھا کہ عشق کی آگ تن بدن میں سرایت کرنےلگی۔ جذب و مستی میں بے خود ہوکر دربارِ نظام الدین اولیاءؒ میں جاپہنچے ۔ دربار کے تمام لوگ نظر سے اوجھل ہوگئے، نگاہیں خواجہ پیا پر لگی تھی۔ بھرے دربار میں جوتیاں سر پر رکھے مستی میں ناچنے لگے۔۔۔

چھاپ تلک سب چھین لی رے مو سے نیناں ملائیکے

اپنی سی رنگ لی نی رے مو سے نیناں ملائیکے

اور لوگوں نے دیکھا کہ شیخ کی جوتیوں نے مرید کو فنا فی الشیخ کردیا۔ عشق کی یہ بھی ایک ادا ہے۔

سبحان اللہ! کیا شان ہے ان متبرک ہستیوں کی جنہوں نے صوف کے جبےّ پہن کر بکریاں چرائیں ۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آٹھ آٹھ پہر کے روزے رکھے۔ آپ ایک ایسی ہی بابرکت ہستی ہیں جن کے لئے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی میں یمن کی جانب رخ کرتا ہوں مجھے اُدھر سے محبت کی خوشبو آتی ہے۔ فنائے عشقِ رسولؐ  عطائے دست قبول جناب حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ ، اللہ اور اللہ کے پیارے رسول ؐ کا ان پر سلام ہو۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت ہی ضعیف اور معذور تھیں۔ سوائے حضرت اویس قرنی کے ان کا اور کوئی نہ تھا جو انکی دیکھ بھال کرتا ۔ یہ زمانہ حضور پاکؐ کی رسالت کا زمانہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ماں کے خدمت کے صلہ میں حضرت اویس قرنی کے قلب ِ پاکیزہ میں اپنے محبوبؐ کی محبت کا نور بھر دیا۔ حضرت اویس قرنی اپنے ہاتھوں سے ماں کو نوالے بنا کر کھلاتے ۔ اس کے لئے بکریاں چراتے۔ادھر فرائض کی بیڑیاں پاؤں میں بندھی تھیں، ادھر قلب مبارک میں عشقِ محمدیؐ نے زور پکڑا ہوا تھا ۔نظر کا تقاضا کہ دیدار رسولؐ سے روشنی حاصل ہو جائے۔ اور معذور ماں کے رحم کی پکار کہ میری محتاجی کا سہارا نہ چھینا جائے۔ دونوں کو نبھانا بڑے حوصلے کے بات ہے اور یہ حوصلے بھی دنیا نے دیکھ لئے۔ ماں کی آخری سانس تک اس کی خدمت میں لگے رہے۔ اور ادھر دل ہی دل میں عشق رسولؐ کی ایسی پرورش کی کہ یہ بوٹا ایک مضبوط تناوردرخت بن گیا۔ جس کی جڑیں حضرت اویس قرنی کی رگ جان میں پیوست ہوگئیں ۔ جنگ احد میں جب دشمنان اسلام نے اللہ کے محبوب ؐ کے دندان مبارک شہید کرڈالے تو حضرت اویس قرنی ؓکے سمندرِ عشق میں طوفان آگیا۔ درد کی لہر قلب سے اٹھتی اور ایک ایک دانت کو اکھیڑ کر پھینک دیتی جب تک اپنے سارے دانت خود اپنے ہاتھوں سے نہ اکھیڑ ڈالے ، درد عشق تھم نہ سکا ۔عشق محمدیؐ میں فنائیت کی یہ مثال بھی کیسی عجیب مثال ہے۔ 

ہزاروں درود اور ہزاروں سلام ہوں اللہ تعالیٰ کے اس  نورپر جس کو اللہ نے اپنا محبوب کہہ کر پکارا ،جنہیں باعث ِتخلیقِ کائنات ٹھہرا یا، جنہیں رحمت للعالمین بنایا، جنہیں مقام محمود تک پہنچایا، جن کو اپنی قدرت کی عظیم ترین نشانیوں سے نوازا۔عشق باری تعالیٰ میں ڈوبی ہوئی اس ذاتؐ کو ہر طرف سے اللہ نے گھیرا ہوا ہے۔ کس کی مجال ہے کہ اسے بری نظر سے کوئی دیکھ تو لے ۔ اور جب یہ نور محمدی ؐ آسمان سے زمین پر جلوہ گر ہوا تو قدرت اس کی حفاظت کے لئے اور زیادہ مستعد ہوگئی ۔ جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے محبوبؐ پر بری نظر ڈالی  اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے پھوڑ دی گئیں۔ جس نے بھی اللہ کے رسولؐ کی شان میں گستاخی کی اس کی قیمت میں ابد تک کے لئے اس گستاخی کی پاداش میں تڑپنالکھ دیاگیا۔ جس نے بھی اللہ کے پیارے کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کی، قدرت کا جذبۂ انتقام بھڑک اٹھا۔ صفت عشق  ِدل سے صدا بلند ہوئی ،  تبت یدا—

ترجمہ: ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ وبرباد ہوگیا۔ کوئی فائدہ نہ پہنچایا اسے اس کے مال نے اور جو اس نے کمایا۔ عنقریب وہ جھونکا جائے گاشعلوں والی آگ میں۔ اور اس کی بیوی بھی بد بخت ایندھن اٹھانے والی ۔اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی۔

بدبخت ابولہب حضور پاکؐ کا چچا تھا۔ اس کی بیوی اور وہ حضور پاکؐ کےر استے میں خار دار جھاڑیاں بچھا دیا کرتے تھے۔ نگاہِ عشق اپنے محبوبؐ کے پائے نازک کی خراش نہ دیکھ سکی ۔ عرش سے فرش تک اور فرش سے عرش تک ملک خداوندی میں تہلکہ مچ گیا۔ وہ بدبخت آخر کہاں بچ کر جائیں گے دست قدرت کی رسائی سے۔ ان سے کہہ دو کہ قدرت کی زمین پر وہ جہاں جہاں سے گزریں گے، ان کےلئے سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہ ملے گا ۔یہ کیسا عشق ہے کہ خود قدرت اپنے محبوبؐ کے دشمن سے انتقام پر اترآئی ہے۔ یہ کیسا عشق ہے کہ اپنے محبوبؐ کو گزند پہنچانے والے کے لئےاللہ کے کلام سےبد دعائیں نکلتی ہیں۔اے نادان ،یہ عشق کی انتہا ہے۔ ذات محمدی ؐ فنا فی اللہ ہے جیسے جسم اور جان کا رشتہ۔جسم ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اور جان ذات باری تعالیٰ کی تجلی ہے۔جسم کے روئیں روئیں میں جان پیوست ہے۔ ایک روئیں کو کھینچا جائے تو تما م جان میں تکلیف ہوتی ہے۔ ہر رُواں درد کی ٹیس سے تڑپ اٹھتا ہے۔ جسم کی ہر تکلیف کا اثر جان کی گہرائیوں تک پہنچتاہے ۔ جان تو اصلِ ذات ہے ، اصل ِذات وحدتِ خداوندی ہے جس کی ہر صفت لامحدود ہے ۔ارے او بیوقوف ! دنیا کے نشے میں ڈوبے ہوئے انسان! کبھی بھول کر بھی ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹیڑھی نظر نہ ڈالنا۔ کہ یہ اللہ کی حدود میں داخل ہونے کی ناکام کوشش ہے۔ کوئی ناپاک اس پاک ہستی کے قریب بھی جانے کی جرات نہیں کرسکتا۔

جان لو کہ معرفت عشق کی حقیقت خود ذات ہے۔ جب جسم اور جان آپ میں ملتے ہیں تو عشق کی معراج ہوتی ہے۔جب روح اور ذات آپس میں ملتے ہیں تو کائنات حرکت میں آجاتی ہے۔ روح ذات کا وہ آئینہ ہے جس میں نظرخداوندی اپنی شانوں کو دیکھتی ہے۔ ذات کی ہرصفت وحدت ہے۔ذات سے نکلی ہوئی یہ روح بھی وحدت خداوندی کا ایک نادر نمونہ ہے۔ یہی روح یہی نادر نمونہ ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ذات باری تعالیٰ کا آئینہ ہے۔

ایک اللہ کے بندے موت کا ذکر بہت محبت و شوق کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ میاں لوگوں کو تو موت کے نام سے ہول چڑھتا ہے اور آپ ہیں کہ ہر وقت موت کی تمنا میں جیتے ہیں۔ کہنے لگے، دراصل موت کی خواہش بھی اللہ ہی کے لئےہے کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ سے ملنے کا اس قدر شوق و جذبہ ہے کہ موت مجھے ایک ایسا پُل دکھائی دیتی ہےجس پُل پر چل کر میں اپنے رب سے ملاقات کروں گا۔ پس میرا جی چاہتا ہے ، کسی طرح وہ پُل میرے سامنے آجائے۔ اور میں اس پُل پر چل کر اپنے رب کی آغوش میں داخل ہوجاؤں۔یہ پُل مجھے اسی لئے عزیز ہے کہ یہ مجھے میرے محبوب سے ملانے والا ہے۔

یہ بھی عشق کا ایک نرالا انداز ہے ۔ مجنوں جس ویرانے سے گزر کردرِ لیلیٰ تک پہنچنا ہے، وہ ویرانہ بھی درِ لیلیٰ کی طرح عزیز ہوجاتا ہے۔ معرفت عشق میں تمام حقیقتیں آئینۂ محمدیؐ میں جاکر گم ہوجاتی ہیں۔ کسی کی نظر آئینہ کو دیکھتی ہے اور کسی کی نظر آئینے کے اندر جلوۂ خداوندی کی مشاہدہ کرتی ہے۔ آئینہ نہ ہوتا تو جلوے بھی نہ ہوتے۔ آئینے کے حجابات ہی جلوےکی نمود ہے۔عشق حجابات کے پردے میں داخل ہوکر خود حجاب ہوجاتا ہے اور اس کی معرفت لامحدود ہوجاتی ہے کہ حجابات کے بعد ذات کی ہرفکر لا محدود یت میں داخل ہوجاتی ہے۔عشق کی معرفت لامحدود ہے اور لامحدودیت صفت باری تعالیٰ ہے ۔ عشق ذات باری تعالیٰ کی ایک ایسی صفت ہے جو روح کو ذات کی جانب کھینچ رہی ہے ۔ذات کی اسی کشش کا نام عشق ہے۔ روح کے اندر اس کشش کا ادراک اور احساس عشق کی کیفیات ہیں۔