Topics

قاصد — مکتبِ عشق

 

 

کائنات کی بنیاد محبت ہے اور محبت کی عملی شکل ایثار ہے۔ سورج، چاند، ستارے، زمین، بادلوں کو چلانے والی خراماں خراماں ہوائیں، پھلوں سے جھکے درخت، ماں کی مامتا، باپ کی شفقت اور وسائل سب محبت کے قاصد ہیں۔

مکتبِ عشق کا سبق، دردِ دل سے شروع ہوکر ذات کی نفی پرختم ہوتا ہے۔جب ذات بے ثبات ہوتی ہے تو صرف محبوب باقی رہ جاتا ہے۔ ذات کی نفی تک عشق جس سولی پر لٹکاتا ہے، ہرمیخ سے لہو رِستا ہے۔ سولی پر لٹکنے والا درد سے کراہتا ہے لیکن عشق سے دست بردار نہیں ہوتا۔

ایہ ایسی کھیڈ پیاراں دی

ایہ ایسا بحر محبت دا

کسے کیتا ایویں پار وی نئیں

کوئی منیا اپنی ہار وی نئیں

ترجمہ: محبت کے کھیل میں عاشق بحرِ بے کنار (سمندرجس کا کوئی کنارہ نہیں) میں غوطہ زن ہوتا ہے۔ ساحل نظر نہیں آتا لیکن وہ ہار نہیں مانتا اور نہ عشق سے دست بردار ہوتا ہے۔

 ہم محبوب کے در پر اپنی محبت کے ثبات کے لئے حاضر ہوتے ہیں لیکن عالم ِ حیرت ہے کہ ہمیں علم نہیں ہوتا کہ اپنی محبت کے پردے میں ہم کس کا قاصد بن کر آتے ہیں۔

میرے ساتھ ایسا کیوں ؟

 قرۃا لعین نے سسکتے ہوئے شکوہ کیا ۔

میں نے کہا، اللہ کا نظام ہے۔ ہر کوئی اپنے حصے کی ڈیوٹی دینے دنیا میں آیا ہے ۔

مجھے اطمینان سے جواب دیتا دیکھ کر اس نے طنز کرتے ہوئے کہا، یہ عورتوں کے مسائل ہیں جن کو مردنہیں سمجھتے۔ شادی کے بعد مرد اپنے عزیز و اقارب سے ملتے ہیں لیکن عورتوں کو پابند کردیتے ہیں کہ اِس سے ملنا اور اُس سے نہیں ملنا۔ جب سے شادی ہوئی ہے، مرشد کے در پر جانا ممکن نہیں رہا ۔ کیا مرشد ماں نہیں ہوتی؟ کیا مرشد باپ کی جگہ نہیں ہوتا؟ بھلا ماں باپ سے ملنے سے بھی کوئی روکتا ہے؟

اس کے سوال تیر کی طرح دل پر لگے۔

میں اس کی عقیدت سے واقف تھا۔ اس کو اللہ کی مخلوق کی خدمت کے لئے جو ڈیوٹی سونپی جاتی تھی، وہ دیوانوں کی طرح اسے پورا کرتی۔ اسے مرشد کے مشن کا حصہ بن کر قلبی سکون ملتا تھا۔ چہرہ آسودگی کی تصویر تھا، وہ منتظر رہتی تھی کہ اگلی ڈیوٹی کب ملے گی۔

 بھئی، مرشد چاہتے ہیں کہ تم سماج کی خدمت کرو۔ اب شادی ہوگئی ہے، ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، بچے ہیں، ان کی اچھی تربیت کرو، ان کو اللہ اور خاتم النبیین رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا بناؤ۔ مرشد کی طرف سے اب تمہاری ڈیوٹی ہے کہ بچوں میں پیغمبران کرام علیہم السلام کی طرز فکر منتقل کرو، یہ نسلوں کی تربیت ہوگی۔

وہ مسکرادی، مسکراہٹ میں درد تھا۔

اس نے کہا، میں یہی کرتی ہوں کہ چراغ کی روشنی جو مرشد سے ہمیں ملی ہے، اپنے بچوں کے دل ان سے روشن کروں لیکن جس استاد نے باپ بن کر مجھے اللہ رسول ؐسے محبت کرنی سکھائی اسے دیکھنے کی خواہش نہ رکھوں؟

میں نے کہا، جانتی ہو جب ہم روحانی سلسلے میں داخل ہوئے تو پہلا سبق کیا ملا تھا ؟

’’مادی جسم اصل نہیں، روح اصل ہے اور روح مکانیت کی پابند نہیں۔‘‘

 ہم مرشد کے بچے ہیں۔ ہمارے تار ان سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یاد کرتے ہیں تو تار ہلتے ہیں اور کیا خبر کہ کس نے کس کو یاد کیا ہے!

یہ سننا تھا کہ وہ تڑپ اٹھی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔میں نے اسے رونے دیا کہ دل کا بوجھ آنسوؤں کے ذریعے باہر آجاتا ہے۔

وہ چپ ہوئی تو میں نے کہا، ان کے پیغام کو حرز ِجاں بنالو، لوگوں کا دل نرم ہوجائے گا ۔ اس نے کہا،غم باتوں سے دور نہیں ہوتا۔

وہ زندگی میں ایک دفعہ مرشد سے ملی تھی۔ جب دوسری ملاقات کا وقت آیا تو باری آنے سے پہلے ملاقات کا وقت ختم ہوگیا۔ سویرے روانگی تھی، دیکھنے کی حسرت رہ گئی۔ وہ آج بھی روتے ہوئے کہتی ہے کہ مجھے اس قابل نہیں سمجھا گیا۔ سب کی ملاقات ہوگئی اورمیں قطارمیں اس جگہ کھڑی رہ گئی جس کا نمبر آنا لکھا نہیں تھا۔

میں نے بلا سوچے سمجھے کہا، میرے ساتھ چلو، دونوں بہن بھائی سلام کرکے آجائیں گے۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی دیکھ کر غلطی کا احساس ہوا ۔ وہ سسرال کی وجہ سے شہر میں مرضی سے آجا نہیں سکتی تھی اور میں دوسرے شہر لے جانے کی بات کررہا تھا۔

کسی شاعر نے کہا ہے،

مرا حال پوچھ کے ہم نشیں

 مرے سوزِ دل کو ہوا نہ دے

بس یہی دعا میں کروں ہوں اب

 کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے

وہ خیال میں کھوئی گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھی رہی۔ اتنے میں بیگم چائے لے کر آئیں، وہ اس کے حال سے واقف تھیں۔ اسے چائے دے کر سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور چلی گئیں۔ طویل خاموشی کے بعد قرۃ العین نے مجھ سے پوچھا، اگرآپ کی اپنے ماں باپ سے ملاقات روک دی جائے تو آپ کا کیا حال ہوگا؟

میں اس کے سوال پر لرز گیا لیکن ہمت دینا مقصود تھا اس لئے لہجہ مضبوط رکھتے ہوئے کہا، مرشد کی یاد قلبی سکون ہے۔ صرف تم نہیں، میں بھی جسمانی طور پر میلوں دور رہتا ہوں۔ جب یاد ستاتی ہے اور ڈگمگانے لگتا ہوں تو تصور کی چادر اوڑھ لیتا ہوں۔

ہاں ! آپ کی ملاقات ہوجاتی ہے نا ۔ یہ خالی پیٹ کا درد ہے، آپ نہیں سمجھ سکتے۔ اس نے تکلیف دہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا پھر بولی، ہزار وسوسے دل کو بے چین رکھتے ہیں۔ اب تو لگتا ہے جیسے مجھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہمارے دلوں میں محبت کی چنگاری کیوں روشن ہوتی ہے؟ ہم پروانے کیوں بن جاتے ہیں؟

یہ کہہ کر وہ زارو قطار رونے لگی۔

 بیٹھے بیٹھے آنسو رواں ہوجاتے ہیں ۔ کیا کہوں کہ کیوں رو رہی ہوں؟بے بسی سے قالین کے نرم گوشوں کو ناخنوں سے کریدتے ہوئے بولی ۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا، قالین پر کیوں ظلم کرتی ہو؟ یہ بھی درد میں مبتلا ہے۔ اس کے تار اپنے خاندان سے فراق میں قالین بنے ہیں۔

اس نے ہاتھ فوراً پیچھے کرلئے۔

یہ فراق میں قالین بن گیا اور میں؟

پھر ہائے اللہ! کہتے ہوئے یہ اشعار پڑھے۔

دردِ فرقت  سہا نہیں جاتا

لیکن ان سے کہا نہیں جاتا

درد ِ دل بھی کہیں محتاج ِ بیاں ہوتا ہے

درد ہو دل میں تو چہرے سے عیاں ہوتا ہے

اب میرے دردِ محبت کا ٹھکانا مت پوچھ

اب یہ احساس نہیں کہ درد کہاں ہوتا ہے

میرے پاس اس کی باتوں کا جواب نہیں تھا ۔ عاشقوں کی اپنی دنیا ہوتی ہے جس میں قوانین بھی ان کے اپنے ہوتے ہیں ۔ جانتا تھا کہ عشق توجیہہ قبول کرنے پر راضی نہیں ہو تا۔ وہ اٹھی اور بیگ سے جوڑا نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولی، مرشد کے آستانے پر جا رہے ہیں، یہ اپنی طرف سے ان کو دیجئے گا۔ میرا نام نہ لیجئے گا۔

میں نے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا، نام کیوں نہ لوں؟ میں تو بتاؤں گا کہ آپ کی بیٹی نے بھیجا ہے۔آپ کو بہت یاد کرتی ہے ۔ وہ درد بھری مسکراہٹ سے بولی، اگر میری آواز ان تک نہیں جاتی تو بہتر ہے کہ ان کو یہ علم بھی نہ ہوکہ میری کوئی ہستی ہے ۔پھر تحفہ کیوں بھیج رہی ہو، تم تو جانتی ہو کہ وہ اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے۔

وہ بولی، ہر بات کا جواب نہیں ہوتا۔

وہ بہت مایوس تھی، میں جانے سے پہلے اس کو امید کی روشنی دکھانا چاہتا تھا۔ اس کے حالات نہیں بدل سکتا تھا لیکن موجودہ حالات میں اس کوجینے کی آس دینا چاہتا تھا۔  میں نے کہا، مرشد کی یاد دل کو راحت دیتی ہے، ان کی باتیں زندگی کے صحرا میں پھول ہیں، جذبات کی زمین ان کی یادوں سے سبزہ زار بن جاتی ہے پھر آنسو کیوں؟

وہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی، کچھ مت کہیں، خاموش ہوجائیں، یہ وہ راستہ ہے جس میں اپنے کہے ہوئے الفاظ ستاتے بہت ہیں۔ جن کو زیارت نصیب ہو، وہ دل کا حال کیا جانیں ۔ میرے لئے تو وہی ماں اور وہی باپ ہیں ۔

میں بے چینی سے پہلو بدل کر خاموش ہوگیا ۔ دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا تو وہ سمجھ گئی کہ اسٹیشن جانے کا وقت ہوگیاہے۔میں جب کراچی جاتا ہوں ، قرۃ العین کو خبر ہوجاتی ہے۔ وہ ملنےضرور آتی ہے۔میں نے بیگم اور بچوں کو الوداع کہا پھر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولا، تم بہت پیاری بیٹی ہو، بہت اچھی بہن ہو، اس تکلیف کو امتحان سمجھو اور گزر جاؤ۔ اللہ کا فرمان ہے،

’’پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘

 (الم نشرح : ۵۔۶)

یہ کہتے ہوئے گھر سے نکل آیا ۔  دل بھاری ہوگیا تھا۔ یہ کیسی محبت ہے کہ زندہ رہنا دشوار اور زندگی کا ہر لمحہ کرب بن جائے۔ ذہن میں ہزار باتیں آتی رہیں۔دل کی باتیں دل سے سمجھی جاتی ہیں لیکن میں دماغ سے بہت دیر تک سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ عشق ظرف پیدا کرتا ہے اور جب تک ظرف نہیں بنتا، کم ظرفی سے پیمانے چھلک جاتے ہیں ۔

لوگوں کی محبتوں کا قاصد بن کر جب مرشد کےپاس حاضر ہوا، پیغامات ان تک نہ پہنچا سکا ۔ سب کہتے ہیں کہ میرا نام لے کر سلام پیش کرنا، یہ کہنا اور وہ کہنا جب کہ میرے اندر حجاب کے ہزاروں پردے ہیں۔ یہاں آتا ہوں تو زبان گنگ ہوجاتی ہے ۔ اپنی بات تک لب پرنہیں آتی۔ اور آئے بھی کیسے! دید کی پیاس لفظوں سے کبھی بجھی ہے؟

 حکم ہوا کہ مہمان خانے میں انتظار کریں ۔  شاپنگ بیگ جس میں جوڑا تھا، سامنے رکھا تو قرۃ العین کا چہرہ نگاہوں میں گھوم گیا ۔میں اکیلا نہیں تھا، اور لوگ بھی ملاقات کے منتظر تھے۔ خاموشی طاری تھی ۔ اچانک دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور اندر میں برف پگھلنے لگی۔ آنکھوں کے گوشے نم ہوگئے۔ زمانے کو خبر کرنے کے لئے ایک آنسو گال پر بہہ گیا۔ تیزی سے گال پر ہاتھ پھیرا۔ یہ کیا ہوا؟ جیسے قرۃ العین آکر براجمان ہوئی ہو اور پوچھ رہی ہو کہ ظرف کا سبق دینے والے! یہ کم ظرفی کیوں؟

ملاقات میں ایک منزل کا فاصلہ رہ گیا ہے، کون سا قرۃ العین کی طرح مبتلائے ہجر ہوں پھر اندر کی موجیں کس طوفان کی خبر ہیں؟   آنسو موتیوں کی لڑی بن گئے۔ مہمان خانے میں بیٹھے لوگوں کے لئے میرا رونا عجب نہیں تھا۔ یہاں آنے والے جانتے ہیں کہ یہ مہمان خانہ پروانوں کے لئے ہے، پروانہ آیا ہے، کوئی اندر میں روتا ہے اور کوئی باہر۔

 جب میں نے قرۃ العین کی طرح سر گھٹنوں پر رکھا تو اس کا حال منکشف ہوا۔ جذبات کی رَو کا گزرنا ضروری تھا، باہر آکر ٹہلنے لگا،  خود پر قابو پاچکا تو اندر آگیا۔بیٹھا ہی تھا کہ دل پھر سے بھر آیا جیسے بند ٹوٹنے کے قریب ہو۔ ساتھ بیٹھے لوگوں سے باتوں میں خود کو مشغول کیا کہ شاید دل کا گداز ٹل سکے اور اس حال میں سامنے نہ جاؤں جس حال میں قرۃ العین میرے سامنے بیٹھی تھی۔ آخر کار دل کو قرار آگیا۔

اتنے میں ڈیوٹی پر مامور صاحب آئے اور میرا نام پکارا۔ میں مسکراتا ہوا سیڑھیوں کی طرف چل دیا ،  جذبات میں سکون تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ متبسم چہرے کے ساتھ حاضر ہو رہا ہوں لیکن 21 سیڑھیاں گداز کا دریا بن گئیں ۔  آج دل کو نہ جانے کیا ہوگیا تھا۔ بے نام درد نے سرایت کرکے مجھے قرۃ العین بنا دیا تھا ۔ جب باپ سے زیادہ شفیق مرشد پرنظر پڑی تو میں بکھرگیا۔ جی چاہا کہ ان کے قدموں میں سر رکھوں اور روتا رہوں ۔ خود کو سنبھال نہ سکا اور کچھ فاصلے پر بیٹھ کر بچوں کی طرح زار و قطار رو دیا۔نہیں جانتا کہ یہ میرا حال ِ دل تھا یا مجھے کسی کے حال کا قاصد بنا کریہاں بھیجا گیا تھا۔ اندر میں آنکھ نے دیکھا کہ قرۃ العین دور کھڑی سکون و اطمینان سے مسکرا رہی تھی جیسے اس کا پیغام پہنچ گیا ہو۔