Topics
محترم جناب عظیمی صاحب سے ایک نشست میں سوال کیا گیا کہ عشق کیا ہے—؟
جناب عظیمی صاحب نے جواب میں فرمایا —
” یہ سوال میرے ذہن میں بھی کئی دفعہ
آیا ۔ جب میں نے اس کے بارے میں سوچا تو بہت سارے اشعار بھی یاد آئے ، بہت سارے
اقوال بھی یاد آئے،بہت دن میں، میں سوچتارہا تو میری آنکھوں کے سامنے ایک تمثال
آئی —یعنی ایک تصویر آئی —اور وہ تصویر یہ تھی کہ ایک جگہ کسی تختے پر ایک موم
بتی رکھی ہوئی ہے اور موم بتی میں کسی نے دیا سلائی لگائی اورروشن ہوگئی۔دیکھتے ہی
دیکھتے وہاں ہزاروں پروانے نہ جانے کہاں سے آگئے اور ہر پروانے کی خواہش یہ تھی کہ
میں موم بتی کے شعلہ کو چُھو لوں—اُس سے
بغل گیر ہوجاؤں ، اُس سے گلے مل لوں،وہ
جاتا تھا اور جل کر گر جاتا تھا۔ میں یہ منظر بہت دیر تک دیکھتا رہا
تو ذہن میں یہ بات آئی کہ —یہ عشق ہے۔
اب عشق کا اگرآپ نے راستہ اختیارکیا ہے تواس طرح اپنے آپ کو غائب
کردو کہ ، موم بتی جلنے کے بعد دھاگہ نہیں رہتا۔موم بتی کا جسم تو رہ جاتا ہے
لیکن وہ دھاگہ جو قربان ہوا ہے ، اپنے
محبوب پر اس طرح قربان ہوجاتا ہے کہ
دھاگہ نظر نہیں آتا—بس—اگر ایساہوگیا تو عشق کا مقصد پورا ہوتا ہے ورنہ تو
بھئی نہیں ہوتا۔
اب ہم کچھ بھی کہتے رہیں اور جلنے
مرنے کا مقصد یہ لیں کہ ہم تو جل کر راکھ ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ —یہ سب کچھ نہیں
ہے۔اس کے ذہن میں اس کے سوا کچھ آتا ہی نہیں ہے کہ میں نے اس پر قربان ہونا ہے۔یہ
قربانی نہیں ہے کہ آپ اس کے پیر دبا دیں ،اس کو اچھا کھانا کھلادیں، اس کو اچھے
کپڑے سلوا کر دے دیں، اس کو خوشبوئیں بہت ساری لا کر دے دیں یا جو بھی کچھ ہے — یہ
کچھ بھی نہیں ہے۔
عشق یہ ہے کہ —آپ اپنی انا کو جو موم
بتی کے اندر روشنی بن رہی ہے— جو اپنی نمائش کررہی ہے کہ میں ہوں — ’میں ہوں ، میں روشنی ہوں،میں روشنی ہوں‘— اور پروانےآتے ہیں روشنی کے
عاشق ہوتے ہیں ، اُس روشنی کا طواف کرتے ہیں(دیکھئے گا کبھی)اور جوش میں آکر شعلے کی نذر ہوکر مر جاتے ہیں— اور
جب وہ موم بتی جلنے کے بعد ختم ہوتی ہے تو وہاں اُس کے خون کے—موم کے چند قطرے تو
ملتے ہیں— لیکن دھاگہ نہیں ملتا۔موم جو ہے اُس کا لباس ہے اور دھاگہ جو ہے اُس
کی روح ہے—بس یہ میر ی سمجھ میں آیا تھا“۔
خواجہ
شمس الدین عظیمی
مرکزی
مراقبہ ہال کراچی