Topics

ظاہر غیب اور غیب ظاہر ہے۔

نظر۔۔طرز فکر سے بنتی ہے۔ طرزِ فکر جانب دار ہے تو چیزیں جیسی ہیں ویسی نظر نہیں آتیں بلکہ نگاہ کا جو زا ویہ بنتا ہے۔۔۔ وہ زاویہ ، نگاہ بن جاتا ہے۔ طرز ِ فکر غیر جانب دار ہے۔۔۔ حقیقت نگاہ بن جاتی ہے۔ سوچنے ، سمجھنے اور معنی پہنانے کی تمام طرزیں ۔۔ اندازِ فکر کا ثمر ہیں۔ طبیب زندگی کا بیشتر حصہ طبی ماحول میں رہ کر طبی طرزِ فکر حاصل کرنے میں گزارتا ہے۔ یہی قانون ایک ماہر فلکیات اور دوسرے شعبہ کے ماہرین کی زندگی میں نر آتا ہے ۔ رہن سہن ، عادات اور دیگر مشاغل درحقیقت طرزِ فکر کا عکس ہیں۔

قلندر شعور کے حاملین کا رنگ قلندرانہ ہوتا ہے۔ الہامی کتابیں اس رنگ کی بابت اطلاعات حاصل کرنے کی حقیقی طرزوں کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں:

” ہم نے لیا رنگ اللہ کا ، اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے ، اور ہم اسی کی تابع داری کرنے والے ہیں۔“  (۲  :  ۱۳۸)

جو اللہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے وہ اللہ کی بصارت ، اللہ کی سماعت اور اللہ کی عطا کردہ قوت فہم سے اطلاعات وصول کرتا ہے۔۔ سمجھتا ہے۔۔ عمل کرتا ہے اور حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے۔ اگر دانش ور ”کائناتی ایجنسی“ کو نیچر کا نام دیتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ نیچرل طرزِ یا نیوٹرل طرزِ فکر ہی اطلاعات کے نظام کو نیچرل یا نیوٹرل انداز میں

وصول کرتی ہے اور اس میں معنی نہیں پہناتی ۔ شے کا مظاہرہ ہو جاتا ہے یہ حقیقی طرز ، غیر جانب دار  طرزِ فکر ہے اور قلندر شعور  (Qalandar Conscious) کہلاتی ہے حقیقت میں اگر مگر اور شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔۔


چوں چرا نہیں۔۔۔غیر جانب دار طرزِ فکر کے لوگ حقیقت سے واقف ہوتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے۔۔۔؟ حقیقت یہ ہے کہ زندگی۔۔۔ پوری زندگی خیر متواتر ہے۔ ایسی خبر کہ اگر اس کا تواتر یعنی خبر آنا بند ہو جائے جس کو ہم خیال کہتے ہیں تو آدمی کے اوپر موت وارد ہو جاتی ہے۔ الہامی آسمانی کتابیں اور قرآن کی تعلیمات کے مطابق فطرت (Nature)  میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ کائنات میں کروڑوں مخلوقات ہیں مخلوق کا ہر فرد Nature  یا فطرت کے قوانین کا پابند ہے۔

 شکل نمبر 38 میں فہم یا نگاہ کا قانون بیان کیا گیا ہے۔ ہم یہاں ”ماحول کو منور کرنے والی روشنی“ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔۔۔ یاد رہے نگاہ سے مراد فقط بصارت نہیں بلکہ حواس کی اجتماعیت ہے۔ شکل کے کے تین حصوں میں نگاہ کے حصول کے لئے تین مختلف روشنیوں سے منور شدہ اطلاعات حاصل کی گئی ہیں۔ ایک مثلث کے کونوں پر

نظر (شہود) ، منظور ( مشہود) اور ناظر (شاہد) دکھائے گئے ہیں جب کہ نظر جس طرز کی روشنی استعمال کرتے ہوئے اطلاعات وصول کرتی ہے اسے نظارہ( مشاہدہ) کہا گیا ہے۔ بالفاظ دیگر اگر ہم تیر (Arrow)  کے نشانات کے مطابق شکل کی تشریح کریں تو معلوم ہوگا کہ ناظر (شاہد) جب منظور (مشہود) کا نظارہ (مشاہدہ) کرنا چاہے تو وہ نظر (شہود) کی کس طرز کو استعمال کرے گا۔۔۔؟

علمائے باطن سے ماخوذ درج ذیل مثالوں پر غور کریں۔

مثال نمبر ۱ : ایک تجربہ بیداری میں باطن میں دیکھنا ہے۔ذہن یکسو ہو جائے تو بہت ساری چیزیں نظر آتی ہیں جن میں اکثر مستقبل کے بارے میں ہوتی ہیں۔ خاص روشنی جو نور سے ہٹ کر ایک دوسری روشنی ہے۔ اس روشنی میں سب کچھ نظر آتا ہے۔ یکسوئی حاصل ہونا شرط ہے۔ یہ باطن میں دیکھنا ہے۔    (قدرت کی اسپیس)

شکل نمبر 38A  میں عام روشنی دکھائی گئی ہے۔ ناظر عام روشنی کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے اور یہ روشنی اتنی محدود ہے کہ دیوار سے گزر جانے سے قاصر ہے۔ شکل نمبر 38 کے ذریعہ Illuminated Light کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں یہ  Illuminated Light ہے جس کی وجہ سے زمین اور سورج کے بارے میں دانش وروں کے نظریات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی تحقیق اور قرونِ وسطیٰ کی تحقیق مختلف ہے اور آئندہ مزید مختلف ہوگی۔ لیکن سائنس نے جتنی ریسرچ کی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ سائنس جو کچھ کہتی ہے اس کا تعلق مادی اشیا سے ہے۔ تلاش آگے بڑھتی ہے اور تفکر گہرا ہوتا ہے تو مشاہدات تبدیل ہو جاتے ہیں۔۔ نظریاتی مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہیں تو درآسل یہ کہتے ہیں کہ مادی وسائل کو بروئے کار لا کر کسی چیز کو سمجھا گیا ہے یعنی دیکھنے کے عمل میں مادیت کا مل دخل ہے۔۔ مادیت بذاتِ خود مفروضہ ہے۔

مفروضہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔۔ نتیجہ کسی نہ کسی شکل میں مرتب ہوتا ہے مگر یہ بات اہم ہے کہ نتائج میں حقائق کا کتنا عمل دخل ہے اور حقیقت ثابتہ پر سے کتنا پردہ اٹھا ہے۔ اٹھا بھی ہے یا نہیں۔۔۔؟ روحانی سائنس دان مشاہدات میں جس روشنی کو استعمال کرتے ہیں اس سے حاصل کردہ نتائج حقائق پر مبنی ہوتے  ہیں۔

مثال نمبر :  زمانہ قدیم کے ماہرین فلکیات ہوں یا زمانہ جدید کے ماہرین ، دونوں کا کہنا ہے کہ سورج میں روشنی ہے۔ علمائے باطن کہتے ہیں سورج میں روشنی نہیں۔۔۔ اصل میں زمین روشن ہے۔ زمین محوری اور طولانی گردش میں حرکت کر رہی ہے۔  روشن زمین کا عکس سورج کے اوپر ہوتا ہے اور سورج کا انعکاس دھوپ ہے۔ کسی بھی مادی وسیلہ سے نظر نہ آنے والی روشنیاں سورج کے اوپر منعکس ہوتی رہتی ہیں۔ سورج ایسا سیاہ طباق ہے کہ دنیا میں لاکھوں سال میں رائج الفاظ میں اس تاریکی کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سیاہ توے یا سور پر جب لطیف روشنیاں پڑتی ہیں تو سورج سے Reflect ہو کر زمین پر آتی ہیں اور یہی وہ روشنی ہے جس کو دھوپ کہتے ہیں۔          (محمد رسول اللہ ﷺ ۔ جلد دوئم)

مثال نمبر ۳ :  زمین ایک گلوب ہےجو اپنے مدار پر ہر وقت متحرک رہتا ہے۔زمین کے دو وجود ہیں۔ ایک وجود ظاہری اور دوسرا باطنی ہے۔ زمین کا باطنی وجود ایسی ماوارئی لہروں سے بنا ہوا ہے جو براہ راست نور سے فیڈ ہوتی ہے۔ یہ روشنیاں ماورائے بنفشی شعاعوں سے بھی زیادہ لطیف ہیں۔                   (محمد رسول ﷺ جلد دوئم)



متذکرہ بالا مثالوں سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مشاہدہ کے لئے نظارہ مختلف ماہیت کی روشنیوں سے حاصل کر سکتے ہیں جب کہ فی زمانہ دانش وروں کے نظریات سے اس لئے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں تغیر ہے ۔ مشاہدہ کے بعد وہ جو کچھ سمجھے ہیں وہ براہ راست نہیں بیچ میں میڈیم ہے۔ فرد دور کی چیزیں دیکھنے کے لئے چشمہ لگاتا ہے۔ براہ راست طرز کلام یہ ہے کہ دیکھنے والے نے جو کچھ دیکھا وہ پہلے شیشہ(Lens)  نے دیکھا۔ شیشہ کے اپنے اندر جو کچھ جذب کیا اس کا ہیولیٰ دیکھنے والے نے دیکھا۔ بلاشبہ سائنس ایسے علوم کی کلید (چابی) جس سے علم کے نئے نئے زاویے کھلتے ہیں لیکن دیکھنے کی ایک طرز ایسی ایسی بھی ہے کہ آدمی دیکھتا ہے اور مادی آنکھ نہیں دیکھتی۔ اس کی ایک نہیں بہت مثالیں ہیں۔ جیسے 1865ء میں جرمن کیمیا دان آگسٹ کیکولے نے خواب میں دیکھا کہ چھ سانپ ایک دوسرے کی دم پکڑے ہوئے ایک بڑا دائرہ بنا رہے ہیں۔ اس نے ثابت کیا کہ بینزین کے مالیکیول کی ساخت ایسی ہی ہے جو اس نے خواب میں دیکھی۔ اس طرح نیل بوہر پر ایٹم کے مرکزہ کے گرد الیکٹانوں کی گردش ایک خواب کے ذریعہ منکشف ہوئی۔

سائنس کے مطابق اگر ہم مادی آنکھ اور جدید خوردبین سے عام پانی کا مشاہدہ کریں تو شکل نمبر 39 کے مطابق دائیں جانب مشاہداتی زاویہ میں صرف آنکھ کا استعمال اور بائیں جانب خورد بینی زاویہ نگاہ دکھایا گیا ہے۔ دانش ور ایسے بصری نظام کو  Equation کی شکل میں اس طرح سے ظاہر کرتے ہیں۔

حاصل شدہ مشاہدات =

آنکھ کا مشاہدہ + خورد بین کا مشاہدہ

Equation  وضاحت کرتی ہے کہ جس شے کو مشاہدہ کا ہدف بنایا گیا ہے اس کی تفصیلات میں آنکھ اور خورد بین کے خواص بھی شامل ہوگئے ہیں۔ Equation  کی بائیں جانب جتنے آلات بڑھائیں ۔۔۔اضافی خواص حاصل مشاہدہ میں شامل ہوتے جائیں گے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کیا اضافی خواص کے اضافہ سے حقیقت سے واقفیت میں مدد ملے گی۔۔؟

حاصل شدہ مشاہدات =

آنکھ کا مشاہدہ   +  خوردبین کا مشاہدہ  + . . . . .

سوال یہ ہے کہ اضافی آلات کے خواص شے کے مشاہدہ میں کیوں شامل ہو جاتے ہیں۔۔؟ شے بذات خود مادہ ہے اور آلات بھی۔ مادہ سے مادہ کو دیکھا جائے گا تو حاصل ہونے والے نتائج مادیت یا مادیت کے خواص کے علاوہ کیا ہو سکتے ہیں۔۔؟ اس قسم کے سلسلہ وار مشاہدات یعنی Cascading Devices   سے حاصل شدہ مشاہدات میں نقص بڑھ جاتا ہے۔ سائنسی زبان میں اسے Entropy کہا جاتا ہے۔  آپ  غور کریں تو اس طرز کے مشاہدات میں جہاں نقص میں اضافہ کا سبب مادی آلات کا استعمال ہے۔۔ وہاں شے کو منور کرنے والی روشنی کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ روشنی کی مختلف اقسام کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔روشنیاں جب صعود کرتی ہیں تو لطافت بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ سب سے نیچے وہ روشنی ہے جسے ماحولیاتی روشنی / بلب / ٹیوب لائٹ کی روشنی کہتے ہیں۔ کتاب ”لوح و قلم“ میں قلندر بابا الیا ء رحمتہ اللہ علیہ نور اور روشنی سے متعلق فرماتے ہیں:

”نسمہ وہ مخفی روشنی ہے جس کو نور کی روشنیوں میں دیکھا جا سکتا ہے اور نور وہ مخفی روشنی ہے جو خود کو بھی دکھاتی ہے اور دوسری مخفی روشنیوں کو بھی دکھاتی ہے۔“

کائنات میں مختلف نوعیں مقداروں کی کمی بیشی کا مظاہرہ ہیں۔”لوح و قلم“ میں ہے:

”کائنات کا ہر نقش روشنی کی ایک الگ نوع ہے۔ ہر نوع روشنی کی ایسی مقداری حرکت رکھتی ہے جو مخصوص رنگوں کی ترتیب ہے اور ہر ترتیب کے تحت یکساں اور مشابہ شکلیں ظہور میں آتی ہیں۔ چناچہ ہر نوع کی مقداری حرکت اپنی  ایک الگ مرکزیت رکھتی ہے۔“     

رنگوں کے ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

” اور یہ جو بہت سی رنگ برنگی چیزیں اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کررکھی ہیں ، ان میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں۔“     (۱۶ : ۱۳)

ایک اور مقام پر بیان ہے:

”اس کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لئے۔ اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں۔“ ( ۱۶ : ۶۹)

آخری الہامی کتاب قرآن کریم روشن و منور ہے۔ ایک ایک لفظ میں بے شمار اسرار و رموز ہیں۔ مندرجہ بالا آیت ” ماہنامہ قلندر شعور “  جون 2014ء کے سرورق پر دکھائی گئی ہے۔

آیئے آیت کو لفظ بہ لفظ پڑھتے اور غور کرتے ہیں۔

جو بہت سے رنگ برنگ۔۔۔ معنی یہ ہیں تمام اشیا اپنی انتہائی شکل یعنی تکمیل شدہ شکل میں کسی نہ کسی رنگ یا رنگوں کی آمیزش سے بنی ہیں۔ رنگ کیا ہیں اور کہاں سے آ رہے ہیں۔۔؟ ہم نہیں جانتے۔۔ پھر فرمایا : اس نے تمہارے لئے ۔۔ واضح رہے لفظ ' تمہارے لئے' استعمال ہوا ہے یعنی الہامی علوم کی طالبات و طلبا کےلئے نہ کہ جمادات ، نباتات ، حیوانات وغیرہ کے لئے ۔ کسی اور زاویہ نگاہ یا تخلیقی پراسیس کے مدارج میں ان رنگوں کی ماہیئت ، نوعیت اور حساسیت مختلف ہوگی۔

آیئے اس نکتہ پر غور کرتے ہیں اشیا کی تخلیق میں رنگوں کا تنوع پایا جاتا ہے، یہاں پھر سے یاد کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

” پاک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے ہر شے کو مقداروں سے تخلیق کیا اور مقداروں کی ہدایت بخشی“

(۸۷ :  ۱۔۳)

ہر شے مقداروں سے تخلیق ہوئی ہے۔ مقداروں کے بدلنے سے شے تبدیل ہو جاتی ہے ۔ اللہ کی آیات میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو اس طرح کے مشاہدات اور تجربات کا ”ذوق“ رکھتے ہیں۔ اشیا کا رنگوں میں پایا جانا ، ہمارے بصری نظام سے اس کی مطابقت اور ان کے مابین مخفی تعلق کا پایا جانا واضح ہے۔

 مکانیت کہاں ہے۔۔؟۔

          نیچر یا فطری نظام پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ انواع و اقسام کی ”اشیا“ جو کسی بھی شکل میں وجود رکھتی ہیں ، دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات کا درجہ بہ درجہ عکس ہیں۔ یعنی صفات کی مظاہراتی شکل ہیں۔ ہر عکس ۔۔۔ مساوات ، فارمولے یا Equation  کے تحت ظہور پذیر ہے۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ رائج سائنس میں جو معنی لفظ مساوات کے ہیں، باطنی علوم کے ماہرین کے نزدیک وہ یکسر مختلف ہیں۔ مثلاً پانی میں چینی کی مختلف مقداروں کو ملانے سے حاصل ہونے والے مرکب کی مساوات باطنی علوم کے ماہرین کے مطابق الگ الگ ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ فرق ہم چوہوں کی مختلف اقسام میں دیکھ سکتے ہیں۔۔ مقداروں کے فرق سے چوہے الگ الگ شکل کے ہوتے ہیں۔ یہی صورت حال مختلف رنگ کے گلاب کے پھولوں کی ہے۔ مخلوق کا تعلق چاہے کسی بھی نوع سے ہو اس قانون سے ماورا نہیں۔

ہم یہاں لفظ تخلیق استعمال نہیں کر رہے جیسا کہ اور بیان کیا گیا ہے۔ جس طرح مادہ کی کئی اقسام بتائی جاتی ہیں، باطنی علمائے کرام اسی طرح روشنی کی بھی کئی اقسام بتاتے ہیں جو مادہ میں ٹھوس پن سے لطافت کی جانب مائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات تجلی کی صورت میں نزول کرتی ہیں اور تجلی نزول کر کے نور سے گزرتے ہوئے روشنی کی صورت اختیار کرتی ہے۔ روشنی مسلسل گیسی سائے بناتی ہے جن سے گیس ، مائع اور ٹھوس حالتیں بنتی ہیں۔ جیسے جیسے نزول ہوتا ہے۔۔ خلا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔۔

” تم کیا سمجھتے ہو یہ پہاڑ اپنی جگہ قائم ہیں۔۔؟ بلکہ یہ بادلوں کی طرح اڑتے ہیں۔“         (۲۷ :  ۸۸)

ایک الگ زاویہ نگاہ جو قرآن کریم کے علاوہ وید میں ہے۔

”ابتدا میں زمین ہلتی تھی اور پہاڑ ہچکولے کھاتے تھے۔ پرماتما دھرتی ماتا کو بنیادیں فراہم کیں اور پہاڑوں کو استحکام دیا۔ اس نے آسمان کو اوپر اٹھایا اور زمین اور آسمان کے درمیان خلا کو ہوا سے بھر دیا۔ اے میرے لوگو! پرماتما پر یقین رکھو۔“           (رِگ وید :  7-9-5-6 , 1-2 , 12)

یعنی شے میں جتنا زیادہ ٹھوس پن ہوتا ہے۔۔ اسی مناسبت سے خلا ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ رائج سائنس مادہ میں حرکت کا ذمہ دار تبدیلیوں کو ٹھہراتی ہے،اس کے مطابق شے میں جتنا ٹھوس پن ہوتا ہے۔۔۔ اسی تناسب سے اس کے بنیادی اجزا کے مابین خلا کم ہوتا ہے۔  آپ  دونوں زاویوں پر غور کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

روشنی کا طیف دراصل ایک ہی قسم کے ذرات کی مختلف مقداریں ہیں۔ قرآن کریم میں ہے:

”اللہ تصویر کشی کرتا ہے ماں کے رحم میں جس طرح چاہے۔“ (۳  :  ۶)

اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے لاشے۔۔۔ ایسی شے جو نا قابل تذکرہ تھی۔۔۔ ہم نے اس لاشے کو شکل و صورت دی۔

گزشتہ اقساط میں'امر' کے تین مراحل بیان کئے گئے ہیں۔ اس تناظر میں مکمل مضمون پڑھنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم ِ مادر میں ایسی تصویر کشی کی ہے جو امرِ ربی ہے ( یہاں امر کی کئی صورتیں یکے بعد دیگرے رونما ہوئیں) دوسرے الفاظ میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اللہ نے جزو لاتجزا کا تذکرہ کیا ہے جب کہ وقت شروع ہوا نہ اس کی بساط میں مکاں کا سفر ۔۔۔ اس بات کو حسابی زبان میں کہتے ہیں کہ 'فاصلہ ' نے ' وقت کے اندر' اپنا سفر شروع نہیں کیا۔ مساوات کی شکل میں ظاہر کریں تو

(وقت) حرکت = فاصلہ                

مساوات کے مطابق فاصلے اُسی لمحہ بنتے ہیں جب وقت میں حرکت ہو۔ اگر وقت صفر ہو تو فاصلہ بھی صفر ہوگا۔ یاد رہے کہ فاصلہ ایک خط یا لائن کی شکل میں ہمیشہ طے ہوتا ہے جو بہرحال ایک تکون (Triangle) کا حصہ ہے۔ بیان کرنا یہ مقصود ہے کہ متذکرہ بالا صفاتِ الٰہی جب تجلی ، نور اور روشنی کے تنزلات میں سے گزرتی ہیں تو ان کا ہجوم ہو جاتا ہے۔ یعنی مرکب لہروں میں ڈھل جاتا ہے۔ ان غیر ماورائی لہروں کے باہم تعامل اور حاصلات کے حصول کے مابین تعلق کو ہم گراف کی مدد سے ” تین عالمین“ میں تفصیلاً بیان کریں گے۔

مختصراً یہ کہ خالق نے اس بات کو آشکار کیا کہ ہم نے لاشے کو شکل و صورت دی رحم مادر میں ایسی تصویر بنائی جس کا علم ہمارے سوا کسی کو نہ تھا۔ موجودہ سائنس میں جب  دو مقداروں کے درمیان تغیر کو گراف کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔ یعنی ایک شے جو مظاہرہ اور دوسری سبب ہے تو سبب کو ہم افقی محور یا  x-axis  اور مظاہرہ کو عمودی محور y-axis سے ظاہر کرتے ہیں۔


خلا کیا ہے۔۔۔؟ مثال گیند میں موجود اسپیس سے دی جا سکتی ہے۔ یہ بالکل خالی ہوتی ہے۔ اس خلا میں کچھ بھی بھرا  جا سکتا ہے۔ جو شے اس میں بھری جائے گی اس کا مظاہرہ صرف اور صرف افقی اور عمودی محور کے مابین ہو سکتا ہے۔ یعنی افقی اور عمودی محور پر موجود مقداریں حدود کے باہر کسی بھی قسم کا مظاہرہ نہیں کر سکتیں۔ البتہ خلا کے اندر مزید افقی اور عمودی اجزا بنائے جا سکتے ہیں جو بنیادی طور پر اپنی اصل کی ذریت کہلائیں گے۔ ان کی تعداد کتنی ہو سکتی ۔۔؟ یہ شے کی بڑی  سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی تفصیل پر منحصر ہے۔

متذکرہ بالا مضمون میں ایسی آیات کا ذکر کیا گیا ہے کہ انسان پر ایک وقت ایسا آ چکا ہے جب وہ نا قابلِ تذکرہ شے تھا۔ شکل نمبر 40 پر غور کریں (a) میں یک نقطہ نظر آتا ہے جو اس لمحہ کو ظاہر کرتا ہے جب اسپرم تخلیق کے پہلے درجہ پر تنہا ہوتا ہے ۔(b) میں نقطہ کی روشنی منقسم ہو جاتی ہے یا با لفاظ دیگر نقطہ کھلتا ہے۔ یعنی ادھڑتا ہے تو شکل (c) اور (d) میں بتدریج 4 سے 8 ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ (d) آٹھ خلیات کی نمو ہے لیکن تصویر میں جو زاویہ دکھایا گیا ہے اس میں چھ خلیات کی نمو سامنے ہے باقی رہ جانے والے دو خلیات کی نمو تصویر کے زاویہ کی وجہ سے سامنے نہیں۔ نقطہ کا چلنا۔۔ ادھڑ نا یا آگے بڑھنا۔۔نقطہ در نقطہ آگے بڑھنا۔۔ اس طرح سے آگے بڑھنا کہ نقطہ کا پچھلا مظاہرہ غائب ہو کر اگلا مظاہرہ بنتا ہے۔۔ یہ آگے بڑھنے کا عمل طولانی گردش کا حاصل ہے۔۔ نقطہ در نقطہ خدوخال کا غائب و حاضر ہونا محوری گردش سے تشکیل پاتا ہے۔

یہ خدوخال کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں۔۔۔ سب ایک فلم کی مانند ہیں جسے شکل نمبر 23 کی فلم کے ایک اسپول سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ شکل 25 کے مظاہرات کہیں سے آتے ہیں جسے فیتہ اول کہا گیا ہے۔۔ اسکرین پر رونما ہوتے ہیں جیسے زمین (اسکرین)۔۔ اور گردش کے زیر اثر غائب ہو جاتے ہیں اسے فیتہ دوئم کہا گیا ہے۔ اطلاعات اُدھڑ رہی ہیں۔۔ اور لپٹ رہی ہیں۔ اطلاعات کی ادھیڑ بُن اور ان کا لپٹنا۔۔ ریکارڈ ہے۔

علمائے باطن بتاتے ہیں  ساری اطلاعات تنزل در تنل کر کے نور تک پہنچتی ہیں۔ نور ہر طرف پھیلتا ہے۔۔ اس کوئی سمت نہیں۔ اگر نور کی کرن اپنے اندر اطلاعات لے کر پھیلتی ہے، اطلاعات کا بہرحال سورس ہوتا ہے جو فی الحال

یہاں زیرِ بحث نہیں ہے ۔ ان کرنوں میں اطلاعات ” کسی نہ کسی شکل“ میں بہتی ہیں جو صرف نور میں نظر آتی ہیں۔ نور میں اطلاعات مخفی ہیں۔ نور کی  کرن کو فی زمانہ انٹر نیٹ یا دیگر آلات میں ڈیٹا کے بہاؤ کے لئے برقی تار یا فائبر آپٹک کیبل کی مثال سامنے رکھ کر سمجھا جا سکتا ہے ۔  آپ  غور کر سکتے ہیں کہ اطلاعات اعداد کی شکل میں تار کے ایک سِ رے سے دوسرے سِرے تک مخصوص رفتار سے بہتی چلی جاتی ہیں۔ اطلاعات کا سورس اطلاعات کو ایک خاص شکل یا Format میں تار میں داخل کرتا ہے۔۔ دوسرے سِرے پر ان اطلاعات کو تار سے حاصل کر لیا جاتا ہے۔۔ تار کے سِرے  اُدھڑنے اور لپیٹنے کا عمل کرتے ہیں۔ کتاب ”نظریہ رنگ و نور“ کا انتساب ہے:

”زمان و مکان (Time and Space) ایک لمحہ کی تقسیم در تقسیم ہے اور لمحہ کی تقسیم۔۔۔ اطلاع جو ہر آن لہروں کے ذریعے  انسانی دماغ پر وارد ہوتی رہتی ہے۔ اگر ہم ان اطلاعات کا مخزن (Source Of Information)  معلوم کرنا چاہیں تو ہمیں بہرحال قرآن میں تفکر کرنا پڑے گا۔“

عظیمی صاحب نے واضح طور اطلاعات کے سورس ۔۔ الہامی علوم تک رسائی کے ذریعہ کی نشان دہی کر دی ہے۔ مکانیت کی مزید تشریح اس کتاب کے باب ” روشنی کیا ہے“ سے ماخوذ ہے:

”آپ کیا سمجھے روشنی اور رنگ (مکانیت ) کیا ہے۔۔۔؟ فضا میں جس قدر عناصر موجود ہیں ان میں سے کسی عنصر سے فوٹان کا ٹکراؤ ہی اسے مکانیت بناتا ہے۔“

یہاں شہرہ آفاق توانائی ع کمیت (مقدار) کے مابین آئن سٹائن کی مساوات E=MxCxC پر غور کر سکتے ہیں۔ اس مساوات کا مطلب یہ ہے کہ مادہ جب توانائی میں تبدیل ہوتا ہے تو رفتار دہری ہوتی جب کہ اس مساوات کے تجرباتی نتائج تا حال ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ لیکن بالفرض روشنی کی رفتار فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو بیاسی میل تسلیم کر لیں تو دہری ضرب کا حاصل تقریباً پینتیس ارب مربع میل بنتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی مکانیت ہے کہاں۔۔؟

محقق صرف روشنی کو تیز رفتار مانتے ہیں جب کہ بلیک ہول سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ روشنی کی کرن بھی دوران سفر قریبی ثقلی اجسام کی موجودگی میں اپنے راستہ سے انحراف کر جاتی ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روشنی فقط روشنی نہیں ، بلکہ محقق جس کرن کو روشنی کے نام سے جانتے ہیں وہ دراصل مادہ کی ایک شکل ہے۔

بات واضح ہو چکی ہے کہ روشنی کی کئی اقسام ہیں۔ یہ سب مختلف لطافت اور مقداروں کی حامل روشنیاں ہیں۔ مقداروں کے فرق کو عام طور پر طولِ موج کی کمی بیشی سے جانا جاتا ہے۔ قطع نظر  اس کے روشنی کی کون سی قسم سے انعکاس ہو رہا ہے، روشنی کی ماہیت میں فرق اطلاعات کی تفصیل بدل دیتا ہے۔ کتاب ” نظریہ رنگ و نور“ میں عظیمی صاحب نے فکشن اور حقیقی حواس اور ان سے حاصل ہونے والے علم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

نظریہ رنگ و نور کے پیرو کار اولیائے کرام کس طرح سوچتے ہیں اور ان کی فہم و فراست میں نور کس حد تک کام کرتا ہے ، اس کے بارے میں حضرت قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں:

”نانا تاج الدین ناگپوریؒ خصوصی مسائل ہی میں نہیں بلکہ عام حالات میں بھی گفتگو میں مرکزی نکات بیان کر جاتے تھے جو براہ راست قانون قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہیں۔“

درج بالا فرمان میں ”نور“ کا کردار واضح کیا گیا ہے۔ قاری یہاں روشنی کی ہیئت کی اہمیت اچھی طرح جان سکتے ہیں۔ حضرت قلندر بابا اولیاؒ نے اس نکتہ کی نشان دہی کی ہے کہ نور میں قوانین قدرت کی گہرائیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر بہت سے مظاہر عام روشنی میں مخفی رہ جاتے ہیں۔ نور مظاہرات کے خدوخال کے حقیقی مشاہدہ میں معاون ہے اور ان میں کارفرما عوامل کو عیاں کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے باطن ہمیشہ باطنی مشاہدہ کو اہمیت دیتے ہیں۔ مشاہدہ میں یہ بات کھل جاتی ہے کہ مادی نگاہ جو دیکھتی ہے وہ کہاں سے آرہا ہے۔۔ اس کا مظاہرہ کیسے ہو رہا ہے۔۔ اور حاضر کہاں غائب ہو رہا ہے۔۔؟ صرف روشنی کی ماہیئت میں تبدیلی”حقیقت ثابتہ“ سے قریب کر دیتی ہے۔

مختصراً کہہ سکتے ہیں کہ گردش کے دونوں پہلو یعنی محوری و طولانی ایک نوعی نقطہ کے پروگرام کو کھولتی ہیں۔ پروگرام کہاں سے آتا ہے۔۔۔؟ ہم واضح کر چکے ہیں کہ نور کی کرن میں یہ سب مخفی ہے۔

 غیر متغیر اور متغیر صفات                         

سائنسی اصطلاحات میں خلیہ یا Cell حیاتیاتی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیہ میں تعمیر و تخریب کے عمل کو مائیٹو یا میوسس کہتے ہیں جیسا کہ شکل نمبر 41 میں دکھایا گیا ہے۔ خلیہ کی ٹوٹ پھوٹ  سے نئے خلیات بنتے ہیں ، پھر ثانوی خلیات ٹوٹ کر مزید خلیات میں تبدیل ہوتے ہیں۔ خلیات ، ٹشوز اور اعضا کی شکل اختیار کر کے پودے ، درخت ، کبوتر ، مور ، بلی اور آدمی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ اپنی انتہا میں یہ شکست و ریخت سے دو چار نہیں ہوتے بلکہ گردش کے اثرات کے زیرِ اثر تغیر سے گزرتے رہتے ہیں اور بالآخر دنیا میں رونما ہونے والا جسم آہستہ آہستہ غائب ہو جاتا ہے۔

روز مرہ حقائق کے پسِ پردہ عوامل اور قوانین کو تلاش کیا جائے تو الہامی کتابیں بہت سے انکشافات کرتی ہیں۔ سورۂ اخلاص تخلیقی قدروں کی تفسیر ہے۔

نظریہ رنگ و نور کی تشریحات ظاہر کرتی ہیں کہ مخلوق کی قدروں میں رد و بدل اور ٹوٹ پھوٹ واقع ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس خالقیت تغیر و تبدل اور ٹوٹ پھوٹ سے ماورا ہے۔ شکل نمبر 42 میں سورۂ اخلاص اور ترجمہ  آپ  کی سہولت کے لئے پیش ہے۔ غور سے دیکھیں۔۔۔ اس میں تین کالم ہیں۔ پہلے کالم میں آیات ، دوسرے میں صیغۂ نفی ”لا“ یعنی غیر متغیر حصہ اور دوسرا حصہ تغیر شدہ صفت پر مشتمل ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ خالق کی تمام صفات تغیرات سے پاک اور مبرا ہیں۔ تغیرات مخلوق میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ غرض جب تک صفت سکون کی حالت میں ہے۔ غیر متغیر ہے۔ جب تک صفاتی نقطہ نہیں کھلتا یا گردشی عمل سے نہیں گزرتا۔۔۔ محوری طولانی گردش نہیں ہوتی۔

شکل نمبر 42 میں لا+ صفت کو دکھایا گیا ہے۔ مخلوق کی صفات تغیر پذیر ہیں۔ فانی ہونا ، محتاج ہونا ، ذی اولاد ہونا ، ذی خاندان ہونا مخلوق کی قدریں ہیں۔ یہ قدریں مکان یعنی مظہر یاspace پر مشتمل ہیں۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ فطری قانون کے مطابق یہ قدریں لازماً کسی وقت یا زمان میں قید ہیں۔ زمان کی بساط ازل سے ابد تک پھیلی ہوئی ہے ، کردار ابھرتے ہیں اور بتدریج غائب ہو جاتے ہیں۔ تمام اسکرینوں پر ظاہر ہونے والی اشیا مثلاً تمام انواع ، پہاڑ ، کرسی ، میز ، بستر ، چادر ، کیل ، قلم دان ، کمپیوٹر وغیرہ اسی قانون کی پابند ہیں۔


شکل نمبر 43 میں مختلف حیوانات کی اسپیس دکھائی گئی ہے۔ ہم واضح کر دیں کہ سائنس جس جگہ کو اسپیس کہتی ہے ، ہماری مراد مختلف اسپیس ہے۔ مثلاً جہت چاہے یک جہت ہو ، دو جہتی یا سہ جہتی (3d) ۔۔۔ ہر قسم کی اسپیس خود ایک مظاہرہ ہے جنہیں حواس نے فرض کر لیا ہے۔ پیمائش کے واعدے اور قوانین خود سے وضع کر لیے ہیں۔ درحقیقت یہ سب ایک خلا میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح خلا کا لفظ جو Vacuum   کے نام سے سائنس استعمال کرتی ہے یعنی وہ جگہ جہاں زمین کی کشش نہ ہو ۔ مگر مشاہدہ یہ ہے کہ خلا خود بھی تو کہیں نہ کہیں تیر رہی ہے یعنی آدمی ہر جگہ زمین کی کشش سے آزاد ہے۔

باطنی علوم کے ماہر قلندر بابا اولیا ء ؒ فرماتے ہیں :

”انسان۔۔۔ سوچ بچار ، تفکر یا تو جہ کا نام ہے یعنی صرف حواس کا نام انسان ہے۔“

اگرچہ ذکر عرضی و طولانی گردش کا ہے مگر ابدالِ حق ؒ کے الفاظ کی مزید  تشریح کرنا قبل از وقت نہ ہوگا۔ بابا صاحب ؒ نے فرمایا : ” اس کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اگر وہ زمین کی کشش کا پابند ہوتا تو کبھی مرتا نہیں۔۔۔ ہمیشہ امر رہتا۔ اس لئے کہ زمین کی کشش اس کی ہر کیفیت کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔“

 آپ  درج بالا فرمودات پر غور کریں۔ اشیا چاہے مرئی ہوں یا غیر مرئی۔۔۔ عروج و زوال ، ظاہر و غائب کا فارمولا وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ التماس ہے کہ لفظ ” کیفیت “ پر غور کریں۔۔ کیفیات کی ذریات یعنی Derivatives  کے نقوش کیسے اسکرین پر ظہور پذیر ہوتے ہیں۔اسکرین جو طولی و عرضی گردش میں محرک ہے۔۔ وہی اسکرین (مثلاً بلی ، پہاڑ ،سمندر ، انسان ، درخت) ایک اور اسکرین (زمین) کے جزو کے طور پر منسلک نظر آتی ہیں حتیٰ کہ زمین(اسکرین) کا مظہر صفر سے شروع ہوتا ہے جہاں اسکرین در اسکرینیں موجود ہیں۔ جیسے بلی، پہاڑ ، سمندر


انسان، درخت وغیرہ کا ارضی اسکرین پر وجود۔

”زمین کے پیٹ میں کروڑوں ڈائیاں ہیں اور پانی تصورات کا خول ہے۔“       (کتاب : قلندر شعور)

وید میں لکھا ہے :

”پانی سورج کے شعلوں سے بخارات بن جاتا ہے اور آسمان کی جانب چلا جاتا ہے اور پھر بارش بن کر زمین پر برستا ہے اور مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ پانی سے ہر قسم کی زندگی نشونما پاتی ہے۔ پانی پر ماتما ہے۔“

(رگ وید : ۱۶۴ – ۴۲ ، ۴۵-۴۶ ، ۵۱-۵۲)

بات کو مختصراً اس طرح بیان کیا جائے گا کہ آدمی پر غم طاری ہوتا ہے۔۔غم کے بعد خوشی آئی۔۔غم کہاں گیا۔۔؟ غصہ آتا ہے ، کہاں سے آرہا ہے۔۔؟ مزاج میں انکساری آتی ہے ، کیسے ۔۔۔؟ یہ سب کیفیات ہیں۔

متذکرہ بالا تشریحات بار بار پڑھیں۔ غرض کہ مخلقات کی قدروں میں ابتدا، انتہا ، اشتبا ، عکس ، رنگ و روشنی کی درجہ بندی ہوتی ہے اور ہر قسم کا تغیر ہوتا ہے۔ مختلف شکلوں میں لاشمار احوال و آثار پائے جاتے ہیں۔ سورۂ اخلاص کی روشنی میں متغیر و لا متغیر ہستی ، دونوں کرداروں کا واضح ذکر ہے۔  آپ  اس میں محوری اور طولانی گردش کے ثمرات اخذ کر سکتے ہیں۔ جہاں ہمیں ”لا“ ہے۔۔ وہ زمان و مکان سے آزاد ہے۔

 آپ  ان احادیث پر غور کریں :

”وقت میں میرا اور اللہ کا ساتھ ہے۔“

”زمانہ کو برا مت کہو ، زمانہ اللہ ہے۔“

محوری و طولانی حرکات کے اثرات اشیا کے مظہر کا سبب ہیں۔ ارتقاء ہوتا ہے۔۔ مظہر یا شے ( مثلاً بلی ، پہاڑ ، سمندر ، آدمی ، درخت) انتہا تک پہنچتی ہے اور بتدریج گھٹ کر غائب ہو جاتی ہے۔

روز مرہ مشاہدہ میں استعمال ہونے والی روشنی کے حقیقی کردار کی وضاحت کے لئے  آپ  آسان تجربہ کر سکتے ہیں۔ روشنی کا مخرج کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً سورج یا مصنوعی ذریعہ جیسے ٹیوب لائٹ ، بلب ، شمع وغیرہ ۔۔ تجرباتی طور پر قاری ڈرائنگ روم میں جہاں عموماً سجاوٹ کی اشیا صوفہ سیٹ ، پردہ قالین وغیرہ رکھے ہوتے ہیں اگر کسی طرح وہاں گھپ اندھیرا کر لیا جائے۔ مثلاً رات کے اندھیرے میں روشنی نہ جلائیں تو ماسوا تاریک ماحول کے کچھ نہیں دکھائی دے گا۔۔ حالاں کہ سب اشیا اپنی جگہ موجود ہیں۔

غور طلب نکتہ یہ ہے کہ کمی کس چیز کی ہے۔۔۔؟ ظاہر ہے روشنی کی ۔ قاری سمجھ سکتے ہیں کہ اصول کے مطابق ”روشنی“ جس کا مخرج کچھ بھی ہو سکتا ہے، اشیا کے خدوخال سے ٹکرا کر  چشمِ بصارت کے اندرونی لینس سے گزر کر شے کی موجودگی کا احساس بناتی ہے۔ احساس شے کی موجودگی اور خدوخال پر مشتمل ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈرائنگ روم میں تمام اشیا موجود ہونے کے باوجود نظر کیوں نہیں آرہیں۔۔؟

آسان سائنسی جواب ہے کہ منعکس ہونے والی روشنی کی وہ مقدار جو ایک میٹر کے تین کروڑویں حصہ سے سات کروڑویں حصہ کے مابین ہونی چاہیے ، تاریکی میں موجود نہیں تھی۔ یعنی روشنی جو آنکھ کی اسکرین پر کسی بھی شے یا طرز کی موجودگی ظاہر کرتی ہے۔۔ اس کی مطلوبہ مقدار ماحول میں مہیا نہیں ہے اور وہ مظاہرہ دکھانے سے قاصر ہے۔ اب اگر آنکھ دماغ کو اطلاع دے کہ کمرہ خالی ہے تو ظاہر ہے کہ غلط نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کیوں کہ ڈرائنگ روم کا تاریک ماحول دوسری مخلوقات مثلاً الو یا بلی کے لیے دن کی مانند ہے جو مادی آنکھ سے مکمل طور پر اوجھل ہوتا ہے۔ ثابت ہوا کہ اخذ شدہ نتائج کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ ڈرائنگ روم متذکرہ بالا اشیا سے خالی ہے۔

مثال کو ایک اور زاویہ سے بیان کرتے ہیں۔ آنکھیں بند کریں اور ڈرائنگ روم کا ماحول مکمل طور پر منور کریں تو ڈرائنگ روم اور اس میں موجود اشیا نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ دماغ کی اسکرین کچھ نہیں دکھاتی۔

جس طرح شکل نمبر 26 میں سوئچ A اور B  کے ضمن میں تفصیل بیان کی گئی تھی ، ان بنیادوں پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم سوتے ہیں تو ”لیل“ کے حواس غالب آجاتے ہیں۔ ماحول سے غافل جسم کو کچھ نظر نہیں آتا۔ اس قسم کی کیفیت کو عام طور پر خواب کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح جاگتے ہوئے ڈر خوف ، خوشی غم ، بھوک پیاس یا بیماری کے اثرات جسم پر مرتب ہوتے ہیں ، نیند کی دنیا میں بھی یہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جاگتے ہوئے ”نہار“ کے کرنٹ کے زیر اثر جسم کی کیفیات اور ”لیل“ کے کرنٹ کے زیر اثر جسم کی کیفیات اور ”لیل“ کے کرنٹ کے زیر اثر جسم کی کیفیات یک ساں ہیں۔ مگر سوچنا یہ ہے کہ پھر فرق کس شے کا ہے۔۔؟


غور کرنے پر انکشاف ہوتا ہے کہ ہر دو صورت میں بنیادی فرق منعکس ہونے والی روشنی کا ہے۔ روشنی کا انعکاس ماحول میں اشیا کی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔ گو کہ خواب و بیداری میں روشنی کی مختلف اقسام استعمال ہوتی ہیں۔ مثال سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بشمول فی زمانہ سائنسی نظریات و عقائد ، محققین مشاہدہ کی ان طرزوں سے واقف نہیں ورنہ وہ ضرور کنہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔۔ وہ لیل و نہار کی روشنی کے آنے جانے اور مشاہداتی زاویہ نگاہ کے حوالہ سے اپنے مشاہداتی آرکیٹیکچر سے واقف ہی نہیں۔۔!

جاگنے اور سونے کی حالت میں شعور فعال ہوتا ہے یا پھر کلی یا جزوی طور پر معطل! دراصل زندگی کے بہت سے اجزا مادی نظروں سے اوجھل ہیں جو شعور کو مثالی یا اعلی زندگی کی طرف مائل کرتے ہیں۔ قلندر بابا اولیاء ؒ فرماتے ہیں:

”ہم روشنی کے ذریعے دیکھتے ، سنتے ، سمجھتے اور چھوتے ہیں۔ روشنی ہمیں حواس دیتی ہے۔ جن حواس کے ذریعے ہمیں شے کا علم ہوتا ہے وہ روشنی کے دیے ہوئے ہیں۔ روشنی درمیان سے حذف کر دی جائے تو ہمارے حواس بھی  حذف ہو جائیں گے۔ اس وقت نہ تو خود ہم اپنے مشاہدہ میں باقی رہیں گے اور نہ کوئی دوسری شے ہمارے مشاہدہ میں باقی رہے گی۔“                   (کتاب  :  لوح و قلم)

شکل نمبر 36 میں دکھایا گیا ہے کہ روشنی کی مختلف اقسام کیسے حواس کے مختلف رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہیں۔ کثیف روشنی اطلاعات کی فراہمی کو لطیف روشنیوں کے مقابلہ میں کم رفتار سے دماغ کی اندرونی اسکرین پر پہنچاتی ہیں۔

علمائے باطن روشنیوں کی کئی اقسام بتاتے ہیں۔ یہ تمام اقسام ایک دوسرے کی تنزل شدہ شکل ہیں۔ جو روشنی ہمیں ظاہری حواس سے نظر آتی ہے وہ مادی روشنی ہے۔ بظاہر تجربہ یہ ہے کہ وہ ٹھوس ، مائع اور گیس کے مقابلہ میں زیادہ لطیف ہے مگر  آپ  بآسانی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ شعاعیں دیوار یا موٹی کتاب سے گزرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اس روشنی کو ہم شکل نمبر 36 کے مطابق عام شعاعیں (مرئی روشنی) کہیں گے۔ زیریں سرخ شعاعیں ، بالائے بنفشی شعاعیں ،  X-Ray یا تاب کار شعاعیں ۔۔۔ ان کی ہر قسم کسی نہ کسی ٹھوس ، مائع یا گیسی مادی وجود سے گزرنے سے قاصر ہے ۔ جیسے تاب کار شعاعوں کے بہاؤ میں سیسہ رکاوٹ بن جاتا ہے۔