Topics
۲۵ اپریل
۲۰۱۵ء کی صبح کون جانتا تھا کہ زمین کا
ایک خطہ زمین سے ایک میٹر بلند ہو جائے گا اور ہماری معلوم دنیا کی بلند ترین چوٹی
ماؤنٹ ایورسٹ اپنی ہائٹ سے گھٹ جائے گی۔ ادراک ہوا کہ چند سیکنڈ کی فنا نے صدیوں
کی بقا کو اپنے اندر جذب کر لیا ۔ ایورسٹ
کے گھٹنے کا سبب زلزلہ بنا جو ۲۰۰۶ء سے ارضی و سماوی آفات میں ہونے والے اضافہ کی
ایک کڑی ہے۔
کائناتی نظام
میں عدم استحکام کے پس پردہ کون کون سے عوامل کار فرما ہیں جن کے عدم توازن سے
نوعِ آدم اور دوسری انواع جیسے کہ حیوانات ، نباتات ، ہماری زمین ، فضا ، سمندر
حتیٰ کہ بقیہ سیارے و ستارے بھی انتشار کا شکار ہیں؟
عمل ارادہ سےہے۔ اردہ میں یقین نہ ہونے سے فرد کے دماغی
خلیات میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ قوم ، افراد سے بنتی
ہے چناں چہ قوم کے ساتھ وہی ہوتا ہے جس حالت سے فرد گزرتا ہے۔ اس مساوات اور اس کے
حاصلات کے مابین تعلق کو عظیمی صاحب نے کتاب 'روحانی علاج' کے انتساب میں واضح کیا
ہے :
”قوم میں اگر
یقین کی نسبت شک زیادہ ہو جائے تو یہ عمل دو رخ اختیار کرتا ہے۔ جب اس کا رخ عروج
کی طرف ہوتا ہے تو آفاتِ سماوی کے آنے کا احتمال ہوتا ہے اور جب نزول کی طرف ہوتا
ہے تو آفاتِ ارضی آتی ہے۔“
کائناتی نظام
آپس میں منسلک اور کڑی در کڑی پھیلا ہوا ہے۔ کڑیاں جدا ہو جائیں۔۔۔افراد انتشار کا
شکار ہوجاتے ہیں۔ انتشار شک و بے یقینی پیدا کرتا ہے۔
”جب قوم گروہوں
میں منتشر ہو جاتی ہے اور گروہوں کا یقین مختلف ہوتا ہے تو شک زمین کی سطح پر پھیل
جاتا ہے۔ اس انتشار سے آفاتِ ارضی حرکت میں آجاتی ہیں اور پھیل جاتی ہیں۔ نتیجہ
میں سیلاب ، زلزلے ، وبائیں ظہور میں آتی ہیں۔ کبھی کبھی خانہ جنگی بھی ہوتی ہے۔“
(کتاب : روحانی علاج)
۲۵ اپریل ۲۰۱۵ء
نیپال کی تاریخ کا الم ناک دن تھا جب صبح ہوئی 11:56 کے قریب نیپال کی سر زمین
ڈولنے لگی۔ اگرچہ اس کا دورانیہ ایک منٹ سے بھی کم تھا مگر تباہ کن زلزلہ نے پورے
نیپال کو ہلا دیا۔ وہ زلزلہ ایسا نہیں تھا کہ مہلک لہر آئی اور گزر گئی۔۔۔ لہروں
کے ارتعاش سے پیدا ہونے والے پے در پے جھٹکوں نے بعد ازاں متاثرہ علقوں کے بچے
کھچے عمارتی اسٹرکچر کو زمین بوس کر دیا۔
ماہرین ارضیات
جہاں اس زلزلہ کو شدت اور تباہی کے لحاظ سے مہلک ترین یا میگا زلزہ (Mega Quake) گردانتے ہیں وہیں تجزیاتی اعتبار سے دنیا کے مختلف حصوں میں مقیم
لاکھوں محققین اور ارضیات کے ماہرین زلزلہ کے پیٹرن پر انگشت بدنداں ہیں کیوں کہ
یہ گزشتہ زلزلوں سے قطعاً مختلف تھا۔
زلزلہ کی لہریں
روز بروز ، ہفتہ در ہفتہ دامنِ کوہسار میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے گونج رہی تھیں۔
مقامی افراد سراسیمہ تھے۔ بیس لاکھ نفوس بے گھر ہو چکے تھے اور سب کو ہر لمحہ مزید
زلزلہ کے جھٹکوں کا خوف تھا۔ پانچ ہزار کے قریب لینڈ سلائیڈ ہونے کی وجہ سے ان گنت
گاؤں اور قصبوں تک رسائی ناممکن تھی۔ ریسکیوٹیموں کی رساءی کے راستے محدود ہو گئے
تھے۔ ہزاروں لوگ جاں بحق ہوئے۔
نیپال و تبت میں
صدیوں بدھ مت اور ہندو مت تہذیب کے آثارِ قدیمہ بڑی تعداد میں متاثر ہوئے۔ بچ جانے
والے مقامی افراد اور امدادی ٹیموں کی کوشش سے ملبے تلے دبی بہت سی جانیں کئی دنوں
کے بعد زندہ نکالی گئیں۔ ان
میں تین مہینے
کا بچہ بھی تھا۔ وہ کیسے زندہ رہا۔ جس ملبے کے وہ دفن تھا اس کو ہٹانے کا خیال
ریسکیو ٹیم کو کیسے آیا؟ نہیں معلوم لیکن بچہ محفوظ تھا۔
بتایا جاتا کہ
گزشتہ 80 سالوں میں یہ پہلا زلزلہ تھا جس کے فوری اور دور رس اثرات ناقابلِ بیان
تھے۔ اس افتاد سے کوہ ہمالیہ میں ماؤنٹ ایورسٹ کے دامن میں خیمہ نشین کوہ پیما
خواتین و حضرات بھی لقمۂ اجل بنے۔
قیامت کا منظر تھا۔ ماؤنٹ ایورسٹ سے لمحہ بہ لمحہ برفانی تو دے گر رہے تھے۔ بڑے بڑے گلیشئرز کی یلغار نے انتہائی سرعت سے بلندیوں سے پستی کی جانب پھسل کر وادی کو ملیا میٹ کر دیا۔ لاکھوں سالوں پر محیط کوہ ہمالیہ کی بقا سیکنڈ در سیکنڈ فنائیت کا شکار تھی۔ محققین کے ذہن میں یہ سوال گونج رہا تھا کہ زلزلہ کی لہروں کا نہ رکنے والا تسلسل مزید کسی بڑے زلزلہ کا پیش خیمہ تو نہیں۔۔۔؟ کیا وہ اگلے دس سال میں ہوگا یا ہو سکتا ہے اگلے دس منٹ میں۔۔۔؟
مضمون کے بقیہ
حصہ میں ان عوامل کا جائزہ لیں گے جو زلزلہ کا موجب بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں موجودہ
ارضیاتی تبدیلیوں کے متعلق مادی سائنس کے نظریات اور روحانی سائنس کے قوانین کا
بھی جائزہ لیا جائے گا۔
۲۰۰۶ء سے بڑھتی
ہوئی ارضیاتی تبدیلیوں اور زلزلوں کے تسلسل کی ایک جھلک شکل نمبر 48 میں دکھائی
گئی ہے۔ اس میں سرح اموات کودیکھا جائے تو کرۂ ارض کا نقشہ جغفرافیائی طور پر
بدلتا نظر آرہا ہے۔
۲۵ ملین آبادی
پر مشتمل نیپال کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہے۔ پہاڑی علاقہ کی وجہ سے
آبادی کا بڑا حصہ ڈھلوان پر مقیم ہے۔ آبادی کے درمیان اور اطراف میں ہر طرف کھیت
اور سبزہ ہے۔ پہاڑی علاقے کی ڈھلوان بتدریج عروج کرتے ہوئے دنیا کی دس بلند ترین
چوٹیوں میں آٹھ کی تشکیل کرتی ہے۔ موسمِ بہار میں سینکڑوں مہم جو یہاں کا رخ کرتے
ہیں اس خواہش کے ساتھ کہ کرۂ ارض کے بلند ترین مقام کوہ ہمالیہ کی چوٹی ماؤنٹ
ایورسٹ پر ان کے ملک کا جھنڈا لہرائے۔
نیپال کی وجہ سے
شہرت یہاں صدیوں پر محیط بدھ اور ہندو مت تاریخ بھی ہے جس کے نقوش دارالحکومت
کھٹمنڈو سے لے کر دور دراز پہاڑی چوٹیوں پر ہیں۔ نیپال بدھ مت کے بانی جناب مہاتما
بدھ کی جائے پیدائش ہے۔ دنیا کے قدیم ترین شاہی محلات اور مندروں کی کثیر تعداد پر
مشتمل۔۔۔ نیپال پر امن ملک مانا جاتا ہے۔
دس دن بیت چکے
تھے جب زلزلہ کی پہلی لہر نمودار ہوئی اور ۲۵ اپریل تک تقریباً چار یا اس سے زائد
شدت کے چار سو زلزلوں کی مزید لہریں ریکارڈ کی گئیں۔
زلزلہ کے دوران
جب سطحِ زمین ڈولتی ہے تو اس کی رفتار زمین کی عام محوری گردش سے بڑھ جاتی ہے۔ اس
کا انحصار لہروں کی سمت پر بھی ہوتا ہے۔ بہرحال ہر صورت میں دباؤ پہلے سطحِ زمین
پر چلتے ہوئےیا کھڑے لوگوں کو ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
آدمی بچپن سے
زمین کی محوری رفتار سے غیر محسوس انداز میں مطابقت پیدا کر لیتا ہے۔ یہ رفتار
تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ بتائی جاتی ہے یعنی سطحِ زمین پر ایک ساکن آدمی ایک
ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہر لمحہ گردش کر رہا ہے۔ آدمی کا ذہنی توازن یا
بیلنس کا نظام خود کو اس اسپیڈ سے ہم آہنگ کر لیتا ہے مگر جب بھی زمین کی رفتار
میں فرق آتا ہے تو توازن بگڑنے کی وجہ سے آدمی لڑکھڑا جاتا ہے جیسا کہ چلتی ہوئی
بس میں کھڑے مسافر ، تیز روی یا سس روی کے دوران آگے یا پیچھے کی جانب جھک جاتے
ہیں۔
۱۵ اپریل کو
زلزلہ کے پہلے دن تقریباً ۱۲ لہریں وقفہ وقفہ سے پیدا ہوئیں جن کی شدت پانچ بتائی
جاتی ہے۔ زلزلہ کے پہلے جھٹکے کی لہریں مرکزی مقام سے ۱۶ سکنڈ بعد دارلحکومت
کھٹمنڈو پہنچیں اور صرف ایک منٹ میں ۱۵۰ میل دور ماؤنٹ ایورسٹ تک پہنچ گئیں ۔ آئرش
کوہ پیما جو فوٹو گرافی میں مصروف تھا۔ اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک رہی تھی ،
کیمپ کے لوگوں کو سمجھ میں آگیا کہ وہ انتہائی شدت کے بڑے زلزلہ سے گزر رہے ہیں۔
وادی میں بیس کیمپ کے قرب و جوار میں موجود افراد نے بڑھتے ہوئے طوفان کی تصاویر
اور ویڈیو بنانا شروع کر دیں۔
کیمپ سے پچاس فٹ
کے فاصلہ پر سولر پینل نصب تھے۔ کوہ پیماؤں کے پاس محفوظ مقام پر پہنچنے کے لئے چند
سیکنڈ تھے۔ کسی نے کیمپ میں پناہ لی تو کچھ لوگوں نے بڑی جیکٹ اوڑھ لی۔ تین چار
گھنٹے بعد جب برفانی بادل چھٹ گئے تو معلوم ہوا بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے تھے جب کہ
بچ جانے والے بیشتر افراد کی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں یا پھر شدید ذہنی چوٹ سے وہ
یادداشت اور ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے۔
امرکی ریاست
کولوراڈو (Colorado) میں
واقع لیبارٹری کے آلات نے چوبیس منٹ بعد ان لہروں کو ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ امریکی
ماہرین ارضیات نے مختلف مراکز پر ریکارڈ ہونے والی لہروں کی شدت اور اوقات کا تعین
کیا جس کی مدد سے زلزلہ کے مرکز کا انداز لگایا گیا جسے Epicenter کہتے ہیں۔
زلزلہ کا مرکز کھٹمنڈو کے شمال مغرب میں ۵۰ میل کے فاصلہ پر تھا اور شدت 7.8 تھی۔۔ یعنی میگا زلزلہ
سائنسی زبان میں
ماہرین 7 یا اس سے بڑی شدت کے زلزلہ کو میگا زلزلہ کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ زلزلہ کی
شدت تین ہو تو اس کی دہری شدت چھ نہیں ہوتی۔ تیکنیکی اعتبار سے زلزلہ کی شدت
لوگارتھم اسکیل پر کی جائے تو 0.1 کا
مطلب دس گنا زیادہ شدت ہے۔ نیپال کا یہ زلزلہ ر یکٹر اسکیل کے مطابق 7.8 تھا جو ہیٹی کے زلزلہ کے
مقابلہ
میں زیادہ مہلک
تھا۔
۲۰۰۸ء میں ہیٹی
میں آنے والے زلزلہ کی شدت 7.0 تھی۔ ہیرو شیما (جاپان) میں گرائے جانے والے
ایٹم بم کی شدت ست موازنہ کیا جائے تو ہیٹی کے زلزلہ کی شدت 32 ایٹم بموں کے قریب
تھی۔
چند محققین نے
متاثرہ علاقوں کا رخ کیا۔ انسان تجسس کی ازلی خواہش رکھتا ہے۔ یہ خواہش کائنات کے
ذرہ ذرہ ی انفارمیشن اس تک پہنچاتی ہے۔ تجسس کا دائرہ ذرہ ذرہ پر محیط ہے۔ دراصل
یہ صفتِ 'محیط' خالقِ کائنات کے علوم میں وہ باب ہے جو انسان کے حواس کو کائنات پر
پھیلا دیتی ہے۔ اسی وجہ سے محققین یا تفکر کرنے والے دماغ اختیاری یا غیر اختیاری
طور پر حقائق کی کنہ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ الگ بات ہے
کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے کیوں کہ نتیجہ رائج تربیت کے رنگ میں رنگا ہوتا ہے اور
ہمارا مشاہدہ ہے کہ مظاہر ے بارے میں بیان کردہ نظریات بدلتے رہتے ہیں۔۔حقائق کا
بدلنا۔۔۔ یعنی جو نتیجہ سامنے آیا اس کا مسلسل بدلنا مظاہرہ کے غیر حقیقی مشاہدہ
کی جانب اشارہ کرتا ہے یا پیمائش کے زاویہ میں فرق ہو سکتا ہے۔
ارتقا کے نام پر
نت نئی ٹیکنا لوجی منظر عام پر آرہی ہے اور نئے آلاتِ پیمائش بنائے جا رہے ہیں۔
قطع نظر اس کے کہ کون سے عصری آلات استعمال کئے گئے ہیں۔ کسی بھی شے کے مظاہرات کا
مشاہدہ کریں تو وقت کی کسی بھی اکائی میں اگر مشاہدہ میں تبدیلی نہیں۔۔۔ تو حاصل
ہونے والی اطلاعات حقائق پر مبنی ہیں ورنہ مشاہداتی طرز فکشن ہے۔ مثلاً شے کی نشو
نما یا ارتقا کی مخصوص ساعت (جیسے بلوغت میں بلی ، شیر ، انسان وغیرہ) وقت کی کسی
بھی اکائی میں ہمیشہ یکساں ہوگی۔ اگر ایک جیسی نہیں ہے تو پیمائش میں نقص ہے ،
بالفاظِ دیگر مشاہداتی زاویۂ نگاہ میں فرق ہے۔ بات بہت آسان ہے۔ مظاہرہ ایک ہے تو
اس کی کنہ بھی ایک ہوگی۔ ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ حقائق تک پہنچنے کے لئے
محققین کو پیمائش کا بالکل صحیح زاویہ تلاش کرنا پڑے گا۔ باطنی علمائے کرام کے
مطابق اس کا ماخذ بہر حال الہامی علوم ہیں۔
مشہور حساب دان
لائبنز Leibnitz یا طبیعات دان آئن سٹائن اور شرو ڈنگر کے
نظریات کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ جب عصری آلات سے حقائق تک
رسائی ممکن نہ ہوئی تو انہوں نے الہامی کتابوں کا سہارا لیا۔ مثلاً متذکرہ بالا محققین
نے توریت اور وید کی مختلف آیات کوسطحی شعور سے ملانے کی کوشش کی ہے ۔ نتیجہ کے
طور پر نظریۂ اضافیت یا کوانٹم بلی جیسے نظریات پیش کئے گئے۔ ابتدا میں ایسے
تصورات کو محققین کی بڑی تعداد نے سراہا۔ مگر ذہنی گہرائی کے ضعف اور بصیرت کے
دھندلے پن کی مدد سے الہامی علوم سے ملانے کی کوشش کی گئی تو حقائق مبہم ہوگئے۔
”جو لوگ اپنے
علم میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے شناسا (خواتین و حضرات) بھی تزلزل
کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے لوگ (اعلی بصیرت کے حامل لوگوں کی) گفتگو کے فوائد کھو
دیتے ہیں' جو کچھ وہ سنتے ہیں، ان کے لئے بے فائدہ ہوتا ہے۔“ (رگ وید : 6-2-71-10)
اطلاعات کے منبع
سے صحیح طریقہ سے انفارمیشن وصول کرنے اور معنی پہنانے کی تیکنیک کی وضاحت میں
حامل ِ علوم لدنی حضرت قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں :
” ادراک کہا ں
سے آیا؟ وہ صرف اطلاع ہے۔ یہ اطلاع کہاں سے ملی ؟
اللہ تعالیٰ ،
بصارت میں نے دی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نکلا کہ اطلاع میں نے دی ہے۔ ہم عام حالات
میں جس قدر اطلاعات وصول کرتے ہیں ، ان کی نسبت تمام دی گئی اطلاعات کے مقابلہ میں
کیا ہیں؟ شاید صفر سے ملتی جلتی ہو۔ وصول ہونے والی اطلاعات اتنی محدود ہیں جن کو
ناقابل ذکر کہی گے۔ اگر ہم وسیع تر اطلاعات حاصل کرنا چہیں تو اس کا ذریعہ بجز
علوم روحانی کے کچھ نہیں ہے اور علوم روحانی کے لئے ہمیں قرآن کریم سے رجوع کرنا
ہوگا ۔“ (لوح و قلم)۔