Topics
تخلیقات میں
کائنات کی ہر تخلیق آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہے۔
یہ تعارف کم و
بیش ہو سکتا ہے لیکن کائنات کا ہر فرد ہم رشتہ ہے ۔ چاہے فرد کے علم میں یہ بات نہ
ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان چاند ، ستاروں اور اپنی زمین سے الگ ماحول سے
روشناس نہ ہو سکتا۔ اس کی نگاہ تمام اجرام سماوی کو دیکھتی ہے۔
یہ اس بات کی
دلیل ہے کہ ہر انسان کی حس زمین سے باہر کے ماحول کو پہچانتی ہے۔
گزشتہ چند
دہائیوں سے ہماری زمین قدرتی آفات کی مسلسل زد میں ہے۔ کرۂ ارض کے مختلف مقامات پر
زلزلوں کی تعداد و شدت میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا ہے، مردہ آتش فشاں پہاڑوں نے
یکدم کروٹ لے کر راکھ اگلنا شروع کر دی جس سے مغربی ممالک میں ہوائی آمدو رفت کئی
دنوں تک معطل رہی۔ آتشیں لاوے زیر سمندر سطح میں رفتہ رفتہ گہری دراڑیں پیدا کر
رہے ہیں، زمین کے شمالی اور جنوبی قطبین پر موجود بلند بالا پہاڑوں کے دہانے کیچڑ
اور راکھ کا آمیزہ کئی فٹ بلندی تک اگلتے نظر آتے ہیں۔ یاد رہے یہ کم و بیش کئی
سوفٹ کیچڑ کا ایسا سیلاب ہے جو موہن جو دڑو ، باز نطینی شہروں اور میکسیکو کے گرد
و نواح میں موجود کئی آبادیاں زندہ درگو ر کر چکا ہے۔ صنعت و حرفت اور سیاراتی
مواصلاتی نظام پر مشتمل جدید طرزِ زندگی کے حامل علاقے قدرتی آفات کا مسلسل شکار
ہو رہے ہیں۔ زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں کی بھی صورتِ حال کم و بیش ایسی ہے۔ دلچسپ
بات یہ ہے کہ جب زمینی اور شمسی قدرتی آفات کے واقعات کے اوقات میں موازنہ کیا گیا
تو حیرت انگیز مماثلت نظر آئی۔ زمین کی سطح سمندر پر سونامی کی بلند و بالا لہروں
کا اٹھنا اور دائرے کی شکل میں چاروں طرف پھیلاؤ ایسا ہے جیسا کہ ۷ جون ۲۰۱۱ء کو سورج کی سطح سے اٹھتا ہوا نظر
آیا۔
کیا سورج اور
زمین ایک دوسرے کا آئینہ ہیں؟
یا سورج اور
زمین میں سے کوئی ایک آفات کا موجب ہے؟
کیا صرف انسانی
زندگی ہی آفات کی زد میں ہے؟
ان تمام
تبدیلیوں کے محرکات مقامی ہیں یا آفاقی؟
سورج سپر پاور
کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جس کے اثرات سیارہ پلوٹو تک ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ ۲۰۱۱ء
میں مشرق سے جاپان کے سمندروں میں آٹھ سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دس میٹر
بلند و بالا موج اٹھی اور اٹھارہ ہزار لوگ ڈوب گئے۔ تقریباً پانچ لاکھ افراد بے
گھر ہو گئے۔ پچیس کلو میٹر گہرائی سے نوریکٹر اسکیل کا یہ سونامی تباہ کن تاریخی
قدرتی آفت سمجھی جاتی ہے۔ کئی صنعتی مراکز کی تباہی کے علاوہ نیو کلیئرری ایکٹر کی
مخدوش حالت نے دنیا کے استحکام یا کرۂ ارض کے مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے خدشات
پیدا کر دیئے۔
اس مضمون میں ہم
سورج کے افاقی کردار کا تجزیہ کریں گے ، ایسے واقعات کا بھی ذکر کریں گے جو زمین
اور سورج کے مابین کسی آئینہ کی موجودگی کا پتہ دے رہے ہیں!
جیسے جیسے بچہ
ہوش سنبھالنا شروع کرتا ہے ماحول میں دوسری اشیا کے وجود سے آگاہ ہوتا ہے اس آگہی
میں فطرت اور والدین و دیگر افراد کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ
جستجو و تحقیق کا عنصر نسبتاً چھوٹے بچوں میں زیادہ واضح ہے، وجہ کچھ بھی ہو مگر
ماحول سے ہم رشتہ ہونا۔۔۔ چاہے وہ کائنات کا کوئی بھی جزو ہو، ہم جنس رشتے ناطے
ہوں ، کھیت کھلیان ، باغ و بہار ، رنگ و موسم ، چاند ستاروں کی ٹمٹماتی روشنیاں۔۔۔
سب کے سب ہماری توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں قطع نظر اس کے کہ دلچسپی کا محرک کیا
ہے؟ اندرونی جستجو ہو، مادی منفعت یا پھر علمیت ۔۔۔ نسل در نسل ہمارے رشتے ،
کائناتی اشیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی کرۂ ارض اور بقیہ شمسی نظام کا علمی تجسس
انسان کو ودیعت کیا گیا ہے۔
حضور قلندر بابا
اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
” دیکھا جاتا ہے
کہ انسان اپنے ذہن میں کائنات کی ہر چیز سے روشناس ہے۔ ہم جس چیز کو حافظہ کہتے
ہیں وہ ہر دیکھی ہوئی چیز کو اور ہر سُنی ہوئی بات کو یاد رکھتا ہے۔ جن چیزوں سے
ہم واقف نہیں ہیں ہمارے ذہن میں ان چیزوں سے واقفیت پیدا کرنے کا تجسس موجود ہے ،
اگر تجسس کا تجزیہ کیا جائے تو کئی روحانی صلاحیتوں کا انکشاف ہوتا ہے ۔ یہی تجسس
وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے ہم کائنات کے ہر ذرے سے روشناسی حاصل کرتے ہیں۔
دورِ جدید میں
کائناتی علم کا ذریعہ رائج سائنس کی کئی شاخوں میں منقسم ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق
کئی ہزار سالوں سے یہ علم جمع ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی ذہین افراد نے علم شے میں
رائج مشاہدہ اور تجربے کی استطاعت کے مطابق اضافہ کیا اور کبھی زاویہ بدل دیا۔۔۔
بہرحال علم ایک باقاعدہ نصاب کی شکل اختیار کر گیا۔ فی زمانہ درس گاہوں میں اعلیٰ
تعلیمی سائنسی نصاب میں فلکیات ، کیمیا ، طبیعیات ، کوانٹم طبیعیات ، حیوانات ، جینیات،
نباتات ، فزیالوجی ، آرکیا لوجی ، حساب جیسے بہت سے علوم شامل ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں
اگر شے وجود رکھتی ہے تو علم شے کا بھی کہیں نہ کہیں وجود ہوگا۔۔۔ شے کی ابتدا بھی
ہوگی اس کے ارتقائی مراحل بھی ہوں گے۔
اس کا علم کسی
نہ کسی کتاب کی شکل میں ہوگا۔۔ اگرچہ مختلف زاویہ فکر اپنا اپنا استدلال اور نظریہ
رکھتے ہیں مگر ماہرین تمام علوم کو اکٹھا کر کے ایک انفارمیشن سورس کے لئے کوشاں
یعنی یکجہتی نظریہ (Theory Of
Everything) بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا مقصد ایک ایسا
نظریہ پیش کرنا ہے جو تمام علوم کی اساس بن سکے۔۔
سائنسدانوں میں
تفکر کا رجحان پایا جاتا ہے۔۔۔۔ ذہن میں
اٹھنے والے ہر سوال کے پس پردہ کوئی نہ کوئی محرک ہوتا ہے۔ مختلف شعبوں سے متعلق
سائنسدان اپنے اپنے زاویہء فکر کے مطابق ایک ہی مظاہرے کی تو جہیات پیش کرتے
ہیں۔قطع نظر اس کے کہ کیا نظریہ پیش کیا گیا ، مقصود یہی ہوتا ہے کہ تمام نظریات
یک جہت ہو جائیں ۔ ایسے میں عام قاری کے
ذہن میں یہ خیال اٹھتا ہے کہ آخر تفکر کیوں سائنسدانوں کو یک جہتی کی جانب مائل
کرتا ہے۔۔۔ اور کیوں نہیں کر پاتا ۔۔۔؟
مشہور طبیعیات
دان اسٹیفن ہاکنگ نے Theory of
Everything پیش کی۔ مگر یہ
نظریہ آئن اسٹائن کے آفاقی نظریہ سے متصادم ہو گیا، جب کہ دونوں نظریات موجودہ
اسٹرنگ نظریہ سے متصادم ہیں۔ اسٹرنگ نظریہ کائنات کو آٹھ ڈائمینشن میں دیکھتا ہے،
جس کا تاحال کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکا۔
گزشتہ مضامین
میں کائنات کی ابتدا ، اجرامِ فلکی کی پیدائش ، کہکشانوں کے مابین فاصلے اور
موجودہ سائنسی نظریات تفصیلاً بیان کئے گئے۔ مقداروں کی پیمائش اربوں ، کھربوں ،
سنکھوں میں بتائی گئی ، حتیٰ کہ فلکیاتی دور بین اور آلات کی مدد سے ایسی محیر
العقول پیمائشی اکائیوں کا بھی ذکر کیا گیا جن کا شمار ناممکن ہے۔ وقت اور فاصلے کی
اس عظیم بساط پر پھیلے نظام کے انسانی شمار کی وضاحت کرتے ہوئے روحانی مشاہدات و
تجربات کے نظام ، حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ کی روشنی میں فرماتے ہیں:
نیچرل سائنس (جو
مفروضہ نہیں ہے) علم مابعد النفسیات پیرا سائیکا لوجی یا اسپریچویل ازم اس بات کی
وضاحت کرتا ہے کہ ہمارے طرز بیان میں قدم قدم پر اتنی خامیاں ہیں کہ ہم جو ش میں
سب کچھ کہتے چلے جاتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کو شش نہیں کرتے کہ ہم کیا کہہ رہے
ہیں۔
ہم کہا کرتے ہیں
کہ ماضی کے نقوش ہیں۔ ہماری زمین کھربوں سال پرانی ہے اور کائنات کی عمر ممکن ہے
سنکھوں سال سے بھی زیادہ ہو۔ ان الفاظ کے معانی کیا نکلتے ہیں ذرا سمجھنے کی کو شش
کیجیئے۔
الفاظ کا مطلب
بہت واضح ہے یعنی سنکھوں سال کا زمانہ منجمد ہو کر مکان (Space) کی صورت بن
گیا۔
جس کو ہم کائنات
کہتے ہیں ۔ جب تک زمانہ منجمد نہیں ہوا تھا اس وقت تک نہ شاہد تھا نہ مشہود ۔
یہ کہنے والا
بھی نہیں تھا کہ یہ کائنات ہے اور نہ کائنات تھی۔
یہ وہی زمانہ ہے
جس کو نہ ہم چھو سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں ، نہ اپنے اندر محسوس کرتے ہیں اور
نہ باہر لیکن زمان (Time) یا لازمان کی موجودگی سے انکار بھی نہیں کر
سکتے۔
ابتدائی جماعتوں
میں ہم سب کو کائنات کی ابتدا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اربوں سال پہلے
دھمکاکہ ہوا تھا۔ دھماکے کو Big
Bang کہا گیا۔
ایک عظیم
گونجار۔۔۔۔
جیسے گھریال کی
گونجار۔۔۔
جب 12 بجتے ہیں
تو گھڑی کے پنڈولم کے بڑے بڑے لیور پیتل کی پلیٹوں سے ٹکراتے ہیں۔ پلیٹیں مرتعش ہو
جاتی ہیں ، ایک بڑا ارتعاش ہوا میں پیدا ہوتا ہے اور گونجار چہار سو پھیلتی ہے۔
Big Bang بھی ایسی ہی ایک گونجار بتائی جاتی ہے ۔ ۔
۔ جو کسی نہ کسی طرح اتفاقاً پیدا ہوگئی
اور چہار سو پھیلتی چلی گئی۔۔۔
یہ اتفاق کیاے
ہوا۔۔۔ اس کے بارے میں استدلال گزشتہ کئی دھائیوں سے پیش کئے جا رہے ہیں، آج بھی
سائنس کے تمام تر شعبے آپس میں متفق نہیں۔۔۔
ایک پرائمری
جماعت کا بچہ اکثر بے ساختہ یہ سوال کرتا ہے کہ جب یہ گونجار پیدا ہوئی اس سے ایک
ہفتہ پہلے کیا ہوا تھا؟ اس کے پچھلے جمعہ کو کائنات میں کیا رونما ہو رہا تھا۔۔۔
زیادہ تر اساتذہ کے پاس اس کوئی جواب نہیں ہے مگر جو وسیع مطالعہ رکھتے ہیں وہ
فوراً جواب دیتے ہیں بیٹا جب گونجار ہوئی تو کائنات کی تخلیق شروع ہوئی تھی۔ یعنی
وہ صفر وقت تھا۔۔۔ گونجار سے پہلے وقت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ صفر سے پہلے کچھ
نہیں تھا۔۔۔ مگر جب بچہ حساب کے مضمون میں گنتی یاد کرتا ہے تو عددی لائن سیکھتے
وقت اسے پڑھایا جاتا ہے کہ یہ ایک عددی خط ہوتا ہے جو ہمارے حساب کتاب میں ہونے
والے تمام اعداد کو ظاہر کرتا ہے ۔ خط کے مرکز میں صفر لکھا جاتا ہے اور دائیں طرف
+1,+2,+3 لکھا جاتا ہے۔۔۔ عددی خط کے مطابق اگر
گونجار کے وقت کو صفر مان لیں تو گونجار سے سات دن پہلے ”7۔دن“ کے کیا معنی ہیں۔
حساب دان کہیں گے یہ مہمل سی بات ہے منفی مقدار کا کوئی طبعی وجود نہیں ہوتا تو
بچہ سوال کرتا ہے میرے جسم کا درجہ حرارت تقریباً 37oC ہے جو ایک وجود رکھتا ہے جس کی پیمائش ممکن
ہے اسی طرح37oC ۔ کا کیا مطلب ہے سائنس بتاتی ہے کہ یہ وہ
درجہ حرارت ہے جہاں ہر شے منجمد ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے سائنسی ماہرین منفی درجہ
حرارت کے مادی وجود پر یقین رکھتے ہیں تو پھر منفی سات دن یا منفی ایک ہفتہ کا کیا
مطلب ہو سکتا ہے؟
بہرحال گونجار
کے متعلق یہی پتہ چلتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے واقع ہوگئی۔پہلے گونجار تیزی سے
پھیلی پھر سکڑ گئی۔۔۔
وہ کون سے عوامل
تھے جنہوں نے پھیلاؤ اور سکڑاؤ کو کنٹرول کیا؟
نہیں معلوم۔۔۔
بتایا جاتا ہے مادی ذرات ایک لامحدود و وسعت میں لا محدود مدت تک پھیلے ہوئے
تھے۔۔۔ اچانک وہ دھیرے دھیرے گھومنا شروع ہوگئے۔ ذرات ایک دوسرے میں ضم ہوتے
گئے۔۔۔ بے ترتیب بکھرے ہوئے مادی اجسام اب جسامت میں بڑے ہوتے چلے گئے ۔۔۔ یعنی
تیرہ ارب ستر کروڑ سال پہلے اتفاقاً ہونے والے دھماکے سے بے ترتیب ذرات بر آمد
ہوئے۔۔۔ نامعلوم نظام کے تحت بے ربط مادہ میں ربط پیدا ہونا شروع ہوا جس میں گردش
تھی۔ اتنے غیر منظم اور بے ترتیب نظام سے ایسا نظام اچانک وجود میں اتا چلا گیا کہ
رائج مشاہدہ اور تجربہ کے حامل سائنسدان بتاتے ہیں کہ ہم اگر مثال کے طور پر صرف
اپنے نظام شمسی میں موجود سیارہ مریخ کے کوائف پر نظر ڈالیں تو مریخ اپنی محوری
گردش 24 گھنٹے ، 37 منٹ اور 23 سیکنڈ میں پوری کرتا ہے۔۔۔
سوال یہ ہے کہ
اس قدر منظم۔۔۔انتہائی مربوط اور ناقابل یقین حد تک درست نظام کیسے وجود میں آیا؟
محسوس ہوتا ہے
کہ ایک عظیم گونج کی توجیہہ ، بے ترتیب و بے ہنگم مادی پھیلاؤ ، نا معلوم دورانیہ
کا سکوت اور موجود کائناتی نظام کے بتائے جانے والے تنظیمی ڈھانچہ کی حقیقت کی
پردہ کشائی سے نا واقف ہے۔
ماہر فلکیات ،
معروف فلکی دور بین کے موجد ، ایڈودڈہبل نے جب انکشاف کیا کہ کائنات ایسے ٹھہری
ہوئی نہیں ہے جیسا کہ بیسویں صدی کی ابتدا میں ماہرین کا اتفاق تھا تو اس نئے
زاویہ کی حمایت کرنے والا کوئی اور سائنسدان نہیں تھا۔۔۔ ہبل نے کہا کائنات پھیل
رہی ہے یہ امکشاف بھی اس نے اپنی دور بین سے دیکھ کر کیا۔
اس کی دور بین
میں کائنات دور اور نزدیک نظر آرہی تھی۔
دور بین نے فلکی
اجرام کو سرخ اور نیلے رنگ کی روشن پٹیوں کی شکل میں دیکھا۔۔ دوربین کے دیکھنے کو
انسانی آنکھ نے دیکھا اور رائج فہم نے نتیجہ اخذ کیا کہ کچھ پھیل رہا ہے۔۔۔
سوال اٹھے۔۔۔
کائنات پھیل رہی ہے تو ارتقائی پراسس کو کون کنٹرول کر رہا ہے اس کے استعمال کا
کتابچہ یعنی Operating Manual کہاں ہے ۔۔۔
ہر ارتقا کا انجام
ہوتا ہے۔۔ کائنات کا انجام کیا ہوگا؟
کب ہوگا؟
انجام کے بعد
کیا ہوگا؟
اس سلسلے میں
علمائے باطن بتاتے ہیں کہ جس شے میں تغیر و تبدیلی ہو، اسے دوام حاصل نہیں ہوتا۔۔۔
ہر لمحہ اس کی
ڈائمینشن بدلتی ہے ۔۔۔ یہ تغیر چاہےانسانی حواس محسوس کریں یا نہ کرسکیں۔۔۔ انسانی
حواس کی ذیلی تخلیقات یعنی سائنسی الات انہیں ریکارڈ کریں یا نہ کرسکیں۔۔۔ تغیر
واقع ہو رہا ہے یعنی جو دکھائی دے رہا ہے وہ اصل نہیں ہے۔۔۔۔
ہم جانتے ہیں جو
اصل نہیں ہے وہ حقیقی نہیں ہے ۔۔ جب حقیقت نہیں ہے تو فکشن ہے۔
تیرہ ارب ستر
کروڑ سال پہلے جس دھماکے کا ذکر کیا جاتا ہے اس کی گونج کسی نے سنی؟ نہیں معلوم
۔۔۔ روحانی مفکر (Spiritual
Scientists) کہتے ہیں:
”جب تک زمانہ
منجمد نہیں ہوا تھا اس وقت تک شاہد تھا نہ مشہود۔ یہ کہنے والا بھی نہیں تھا کہ یہ
کائنات ہے اور نہ کائنات تھی۔؛
ابتدائی جماعتوں
میں پڑھایا جاتا ہے کہ گونج یا آواز کانوں تک اس وقت پہنچتی ہے جب گونج اور کان کے
مابین کوئی واسطہ موجود ہو۔ واسطہ یا میڈیم کو سائنس ایٹم اور مالیکیولوں کے نام
سے جانتی ہے۔ فضا جو بظاہر خالی نظر آتی ہے اس میں ان گنت نادیدہ ایٹم اور
مالیکیول کے خزانے ہیں۔ ہم اگر گھڑی کو تیرہ ارب ستر کروڑ سال پہلے لے جائیں تو
موجود طرز ِ مشاہدہ و تجربہ کے مطابق اس وقت تو ہوا تھی نہ ایٹم اور نہ ہی
مالیکیول تھے۔
ایسی فضا میں
گونجار کیسے پیدا ہوئی ۔۔۔؟
مرتعش ذرات کہاں
سے آئے۔۔۔؟
گونجار کیسے
پھیلتی چلی گئی ۔۔۔؟
ایڈودڈہبل نے اس
پھیلاؤ کو آج کے دور میں کیسے مشاہدہ کیا؟
مشاہدہ میں کیسے
معنی پہنائے؟
فلکیا دانوں کی
جدید صوتی دور بینوں نے گونجار کے تیرہ ارب ستر کروڑ سال بعد صوتی اثرات کی
ریکاردنگ کیسے کی؟
یہ بات کسی بھی
طرح قابلِ فہم نظر نہیں آتی۔۔
یہاں اس سوال کی
مزید وضاحت کی جاتی ہے، سورج نظام شمسی میں توانائی کا عظیم منبع بتایا جاتا ہے۔
بڑی بڑی رصد گاہوں میں جدید ترین اور طاقتور ٹیکنالوجی پر مبنی فلکیاتی دور بین
سورج کی سطح پر ان گنت دھماکوں کی موجودگی کا پتہ دے رہی ہیں جن کی تصاویر خلائی
ادارے ناسا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان دھماکوں کی طاقت زمین پر کئے
جانے والے ہائیڈروجن بہب کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے مگر کسی بھی دھماکے کی
آواز ہم تک نہیں پہنچتی اور نہ سنائی دیتی ہے جس کی بنیادی وجہ موجودہ سائنس کے
مطابق زمین اور سورج کے مابین خلا کی موجودگی ہے۔ یعنی ایک ایسا زون ہے جہاں کسی
قسم کی ہوا یا کوئی ایٹم و مالیکول نہیں پائے جاتے ۔ آواز کے پھیلاؤ کے لیے کوئی
واسطہ موجود نہیں ، اسی وجہ سے سورج پر ہونے والے دھماکوں کی آواز ہم تک نہیں
پہنچتی۔
کرۂ ارض پر
حیاتیاتی آثار تین ارب نوے کروڑ سال پہلے بتائے جاتے ہیں۔
گونجار سے ایک
جیتی جاگتی خوبصورت زندگی کی تشکیل کیسے ہوئی؟ ہمیں نہیں معلوم۔۔۔
موجودہ علم
طبیعیات ( جو مادی اشیا کی طبعی خصوصیات اور مقداروں سے متعلق ہے) اور علم حیتیات
(اس میں زندگی کی تعریف ، زندگی کے حامل اجسام کی حیاتیاتی خصوصیات ، ترتیب و
تدوین کا مطالعہ و تجربہ کیا جاتا ہے) ۔ متذکرہ بالا دونوں علوم کرۂ ارض پر
حیاتیاتی آغاز میں ایک اہم کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے مادہ سے حیات
کے سفر کا آغاز کیسے ہوا، لمحہ لمحہ کیسے گزرا ۔۔۔ آج کی رنگ رنگ زندگی کیسے قائم
و دائم ، سائنسدان اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں ایٹم ، امائنو ایسڈ ، پروٹین ، ٹشو
اور جسمانی اعضا کس نظام کے تحت آپس میں جڑ گئے؟
ان کے مابین
جسمانی ارتقا کیسے پروان چڑھا۔۔۔؟
شعوری تعلق کیسے قائم ہو گیا۔۔؟
ارتقا کا سفر
ماں کے پیٹ سے شروع ہوتا ہے ، دنیا میں پیدا ہونا اور پھر اچانک سب کچھ ختم کیسے
ہو جاتا ہے؟
معلوم تاریخ کے
مطابق اتنے نظم و ضبط کے ساتھ یہ کیسے اور کیوں جاری و ساری ہے؟
مندرجہ بالا
سوالات کا جواب نہ تو انیسویں صدی کی میکانکی سائنس کے پاس تھا اور نہ بیسویں صدی
کی شہرہ آفاق کوانٹم سائنس کوئی حل پیش کر سکی جب کہ جینیاتی و حیاتیاتی علوم بھی
طبیعیاتی قوانین سے اتفاق نہیں کرتے مگر ایک نقطہ پر سب متفق ہیں کہ مشاہدہ کا
کوئی بھی زاویہ استعمال کریں حیاتیاتی آثار کی بقا میں سورج کا بنیادی کردار ہے۔
اس مضمون میں ہم
سورج کے کرۂ ارض پر اثرات کا جائزہ لیں گے
ہمارے سورج کو ستاروں کی دنیا کا ایک چھوٹا سا ”زرد بونا“ بتایا جاتا ہے۔ سطح کا رنگ زرد ہونے کی وجہ سے اسے زرد کہا جاتا ہے اور ستاروں کی آبادی میں اس ستارے کا حجم بہت کم ہے۔ ضخامت میں سورج اپنی فیملی کے دوسرے ستاروں سے کئی گنا چھوٹا تو ہے مگر ہماری زمین جیسی دس لاکھ زمینیں اس میں بس سکتی ہیں۔
بقیہ سیاروں کے
مقابلے میں سورج کا سائز مقابلتاً کئی گنا زیادہ ہے جو کہ نہ صرف سائز میں بڑے
بلکہ ہمارے شمسی نظام میں اکلوتے ستارے یا سورج کا کردار بھی ادا کر رہا ہے جیسا
کہ شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے۔
سورج ہمارے نظام
شمسی کی سپر پاور بتایا جاتا ہے۔ جہاں سے ہمہ وقت نیوکلیائی تعاملات کے ذریعے حرارت
کی بے پناہ مقدار خارج ہو رہی ہے جیسا کہ بتایا جاتا ہے اس کہکشانی بھٹی میں جاری
تعاملات کے شعلے سورج کی بیرونی سطح سے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی جتنے بڑے ہیں۔ حراری
شدت کے اس ضخیم منبع سے ہماری زمین 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور بتائی جاتی ہے۔ سورج سے
قریب ترین سیارے عطارد زہرہ پر فضا جہنم ناک ہے۔
کیا ہم سورج کے
سلگتے ہوئے ایندحن سے محفوظ ہیں؟
کیا سورج کی
اُگلتی ہوئی آگ کی لپٹ ہمارے جدید طرز ِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہ۔۔؟
کیا دنیا کا
تمام تر کمیونیکیشن نظام محفوظ ہے جو مصنوعی سیاروں کی شکل میں زمین کے ارد گرد
جال کی طرح پھیلا ہوا ہے؟
ہم انفارمینشن
ٹیکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں۔ جہاں آپ اپنے گھر والوں سے ہمہ وقت رابطہ میں
رہنا چاہتے ہوں۔ٹیلی ویژن چینل سے تفریحی پروگرام ، انٹر نیٹ یا خبریں دیکھنی ہوں
یا پھر انٹر نیٹ سےانفارمیشن کے وسیع ترنظام زمینی فضا میں پھیلی ہوئی لاسلکی
شعاعوں پر مشتمل ہے۔
اس مضمون میں ہم
بیان کریں گے کہ روحانی اسکول (Spiritual
School) کیا رہنمائی کر
رہا ہے کہ سورج کیا ہے فیالواقع سورج کی حیثیت کیا ہے؟ خصوصاً ایک حادثہ کے بعد جب
چند لمحوں کے لئے حالیہ شمسی شعاعوں میں تغیر کا پیٹرن ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ
بن سکتا تھا جس نے نہ صرف تمام تر مصنوعی سیاراتی نظام کو معطل کر دیا بلکہ بری ،
بحری اور ہوائی ٹریفک کی راہنمائی کے نظام کو بھی ناکارہ کر دیا۔ ایسا ایک پیٹرن
شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے ایسے میں سورج کی توانائی کے منبع و ماخذ کے بارے
میں تمام رازوں سے پردہ اٹھانا ضروری ہے۔
تلاش و تحقیق
میں نیوٹرل طرز فکر اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سائنسدان ہمیشہ حقیقت کو تلاش کرتے
کرتے مفوضوں میں الجھ جاتے ہیں۔ فلکیاتی اجرام کے حقیقی مشاہداتی طرز پر روشنی
ڈالتے ہوئے عظیمی صاحب فرماتے ہیں:
جب ہم کسی شے کا
مشاہدہ کرتے ہیں تو پہلے وہ شے مشاہدے میں آتی ہے۔ پھر شے کے اندر شعور اور فہم
ابھرتا ہے جو شے کے تعارف کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب تک شے مشاہدے میں داخل نہ ہو یا شے
کی فہم کی اطلاع لاشعور سے شعور کو منتقل نہ ہو ہم کسی شے کے بارے میں کوئی معانی
نہیں پہنا سکتے۔
ہم جب کسی چیز
کا نام لیتے ہیں تو وہ سننے والے کے لاشعور میں پہلے وارد ہوتی ہے۔ مثلاً جب سورج
کہا جاتا ہے تو سننے والا اپنے Inner میں سورج کو محسوس کرتا ہے اس کے بعد شعوری
طور پر سورج کے معانی اور مفہوم متعین ہوتے ہیں۔ ہم روزانہ ظاہری آنکھ سے سورج کو
دیکھتے ہیں وہ سورج داخل کے اندر موجود
سورج سے مختلف ہے۔ نہ صرف یہ کہ مختلف ہے بلکہ جس طرح ہم سورج کو دیکھتے ہیں
روحانی آنکھ سے جو سورج نظر آتا ہے وہ اس سورج کے برعکس ہے جو دن میں دیکھتے ہیں۔
مادی آنکھ کے ذریعے دیکھنے سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سورج کے اندر حرارت اور
گرمی ہے۔ سورج کی شعاعوں کے ذریعے زمین کو حرارت اور گرمی پہنچ رہی ہے۔
کائنات میں
اربوں ستارے بتائے جاتے ہیں۔ جن میں سے ایک نظام ہماری کہکشاؤں میں موجود ہے ہم
جسے سورج کے نام سے جانتے ہیں جس کی سلگتی سطح ہائیڈ روجن اور ہیلیم سے بھری ہے جو
بے پناہ حرارت کے باعث مادے کی چوتھی حالت پلازمہ کی شکل میں کئی لاکھ ڈگری فارن
ہائیٹ کی تپش رکھتا ہے، بسا اوقات اس پلازمہ سے حرارت کے گولے اٹھتے ہوئے دکھائی
دیتے ہیں جن سے خارج ہونے والی شعاعیں کئی لاکھ میل تک متاثر کرتی ہیں۔
ہماری زمینی
زندگی کے لئے جز وحیات اس کا سطحی درجہ حرارت 10,000 ڈگری بتایا
جاتا ہے جو کہ تین سو اسی ارب در ارب میگا واٹ توانائی کسی بھی انسانی پاور
پروڈکشن یونٹ سے حاصل نہیں ہو سکتی مثلاً ہوورڈیم نیو اڈا امریکہ کل تین سو اسی
(380) میگا واٹ توانائی پیدا کر رہا ہے۔ درج بالا لاشمار کے مطابق سورج ایک سیکنڈ
میں توانائی کی جو ضخیم مقدار پیدا کر رہا ہے وہ نوع انسانی کی معلوم تاریخ کی
بڑھتی توانائی کی طلب سے زیادہ ہے۔
ایک سیکنڈ تصور
کریں کہ پورے گلوب کے گرد برقی توانائی سے چلنے والی ٹرین ، صنعتی نظام ، گھریلو
صارفین ، منور راتیں ، جگمگاتے سائن بورڈ۔۔۔ ایسے نظاموں میں درکار برقی توانائی
سورج سے نکلنے والی توانائی کا ناقابل تذکرہ چھوٹا سا جزو ہے۔
سورج ایک ایسی
توانائی کا سورس ہے جو ارب در ارب سالوں سے ہمارے کہکشانی نظاموں کو ہمہ وقت روشن
کر رہا ہے۔
ابتدائی ادوار
میں ماہرین فلکیات کے لئے اندازہ لگانا قریباً نا ممکن تھا کہ توانائی کی اتنی بے
پناہ مقدار سورج پر کیسے پیدا ہورہی ہے۔ اس کا جواب سب کے لئے چیلنج تھا۔ انیسویں
صدی کی ابتدا میں سائنسدانوں کا یہ خیال تھا کہ سورج اسی طرح سے سلگ رہا ہے جیسے
زمین پر کوئی سلگتا کوئلہ۔
اس نظریے کے تحت
اگر ہمارے پاس سورج کے حجم کے برابر برابر کوئلہ موجود ہو اور اسے جلانے کے لئے
کہیں نہ کہیں سے آکسیجن بھی میسر ہو جائے تو تقریباً پانچ ہزار سے چھ ہزار سال میں
یہ کوئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
تو کیا سورج کی
عمر چھ ہزار سال ہے؟
اس الجھن کا حل
بیسویں صدی میں کاربن ڈیٹنگ سے نکالا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ زمین پر موجود زندگی کی نگہداشت کے لئے سورج تقریباً
3 ارب سالوں سے توانائی کاایکسورس بنا ہوا ہے۔
اتنے طویل عرصہ
کے لئے توانائی کے ماخذ کو جاری رکھنے کے لئے تقریباً 720 کھرب درخت درکار ہوں گے
جو کہ چھ ارب کی ابادی کو توانائی مہیا کر سکتے ہیں اس سادہ سے حساب سے واضح ہے کہ
توانائی کی اتنی بڑی مقدار کا ماخذ کوئی اور ذریعہ ضرور ہے۔ کیوں کہ زمین پر رائج
توانائی کے ذرائع اس قدر توانائی پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔
بیسویں صدی کی دوسری تیسری دھائی میں ایک ایسے طریقے کا سراغ لگایا گیا جو بعد میں ہائیڈ روجن بم بنانے کا بھی ذریعہ بن گیا جسے نیو کلیائی تعامل (Fusion Nuclear) یا سادہ الفاظ میں ایٹمی تعامل بھی کہتے ہیں۔ ایٹم مادہ کے چھوٹے ترین ذرہ کو کہا جاتا ہے جس میں ایک مرکز ہ یعنی نیوکلئس ہوتا ہے جب دو ایٹم آپس میں جڑ جاتے ہیں تو ان کے مرکزے ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اسے عمل ایتلاف کہتے ہیں۔
سائنسدان بتاتے
ہیں باہم تعامل میں دونوں اجزا مثبت باردار (Positive Charge Carrier) ہوتے ہیں ہمیشہ ایک دوسرے
کو دفع کرتے ہیں انہیں ایک دوسرے کے نزدیک لانے کے لئے مناسب حالات پیدا کئے جاتے
ہیں۔جیساکہ بہت زیادہ حرارت اور بے پناہ کثافت۔ یعنی ایٹمی ذرات کو کثیف ماحول میں
انتہائی سرعت سے ایک دوسرے کے اس طرح نزدیک لایا جائے کہ وہ آپس میں ضم ہو جائیں۔
شکل نمبر 3 میں دکھائی گئی سورج کی اندرونی سطح (Core) عمل ایتلاف کے
لئے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے جہاں کا درجہ حرارت دو کروڑ ستر لاکھ ڈگری
فارن ہائیٹ بتایا جاتا ہے اسی کے ساتھ
ساتھ یہ کثیف تر بھی ہے مثلاً دھاتوں میں عام طور پر سیسہ کو کثیف تر ہونے کی وجہ
سے بھاری مانا جاتا ہے سورج کی یہ سطح سیسہ کے مقبالے میں دس گنا بھاری مانی جاتی
ہے۔
عقلاً یہ بات
دماغ میں آتی ہے کہ اس کثافت کی حامل سطح مکمل طور پر ٹھوس ہونی چاہیئے مگر
سائنسدان بتاتے ہیں کہ یہ اپنی انتہائی پگھلی شکل میں تیرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے
جسے پلازمہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کی گیس ہے جو انتہائی درجہ حرارت پر مٹر کے
سوپ کی طرح ہو سکتی ہے جس میں ایٹم کے الیکٹران اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے ہیں جس کی
وجہ سے ایٹم اپنی باقاعدہ گیسی حالت برقرار نہیں رکھ سکتا اسی لیے شکل نمبر 4 میں
ایسے مادی مظاہرہ کو پلازمہ کہا جاتا ہے۔ سورج کے مرکزہ میں کیا ہو رہا ہے اس کا
اندازہ لگانے کے لئے ہم اسنوکر بورڈ پر رکھی گیندوں سے موازنہ کر سکتے ہیں جہاں کئی
لاکھ گیندیں ہمہ وقت آپس میں ٹکراؤ کی کیفیت سے گزر رہی ہیں۔ غرض کہ ایک طرح سے
کہکشانی وسعت کی اسنوکر ٹیبل رکھی ہے جہاں بہت سی گیندیں ضرب کے بعد مسلسل بکھر
رہی ہیں۔ اس تمام گیم میں ہدف یہ نہیں ہے کہ آپ کتنی رفتار سے ایک گیند کو دوسری
گیند سے ٹکراتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ٹکراؤ کے عمل سے دونوں گیندیں کتنی درستگی کے
ساتھ باہم ضم ہو جاتی ہیں۔
ہم جب یہ مثال
ایک عام قاری کی حیثیت سے پڑھتے ہیں تو شکل نمبر 5 کے مطابق یہ خیال ضرور ذہن میں
آتا ہے کہ آخر اس اسنوکر بورڈ کی اسٹک کے پیچھے کون ہے؟
اس کی ضرب اور
ضرب کی سمت میں کیا مقداریں کام کر رہی ہیں؟
شعاعی مظاہر، مقناطیسی مظاہر کے مابین کون سی قدریں کام کر رہی ہیں؟
سائنسدان بیسویں
صدی کے اوائل سے اب تک متفق نہیں ہو سکے۔ قلندر شعور کی روشنی میں حضور قلندر بابا
اولیاءؒ اس گمشدہ کڑی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
آئن اسٹائن کے معاصر
جب چند صدیوں کے معرکتہ الآرا اجتہاد پر تبصرہ کرنے لگے تو انہوں نے شعاعی مظاہر ،
مقناطیسی مظاہر اور حیاتی مظاہر کو الگ الگ کر دیا۔۔ اب جو ہر ٹوٹ چکا ہے اور آئن
اسٹائن کی وضع کردہ تھیوری زمان و مکان کے بارے میں پھیل چکی ہے۔ اس نے کہ زمان و
مکان کا الگ الگ تصور بالکل غلط ہے کیوں کہ مکان میں تر چھا پن ہے ۔ تشریح کی گئی
کہ فطرت کا عمل جو کائنات میں جاری و ساری ہے ، روانی میں عمودی نہیں بلکہ اس میں
ترچھا پن ہے۔ یہاں جذب و کشش ، نظام سیارگان اور روشنی کی رفتار سب کی سب مشکوک ہو
گئی ۔ یہ دور اضافیت اور مقداریت کے نام سے موسوم ہوا۔
ذرا سوچیئے!
روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو بیاسی میل فی سیکنڈ مان لی جائے تو
مکان میں ترچھا پن اور اس کی پیمائش کس طرح ممکن ہے۔ جب کہ فاصلہ بالراست ناپتے
ہیں یعنی عمودی لائن ڈال کر ، نہ کہ نیم دائرہ بنا کر۔ آئن اسٹائن اور آئن اسٹائن
جیسے اور لوگوں ، مابعد النفسیات کی حمایت نہیں کرتا۔
سائنسدان بتاتے ہیں سورج کا مرکزہ انتہائی دباؤ و تمازت کی حالت میں ہوتا جہاں ذرات کا باہم ٹکراؤ عمل ایتلاف کا باعث بنتا ہے۔ شکل نمبر 7 کے مطابق (ہائیڈروج) انتہائی سرعت سے ٹکراؤ کے بعد ضم ہو جاتے ہیں اور ہیلیم کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں چو نکہ دو ہائیڈ روجن ذرات آپس میں جڑتے ہیں تو حاصل ذرہ کی مقدار دو ہائیڈ روجن ذرات کے برابر ہونا چاہئے۔ مگر عملی طور پر یہ مقدار کچھ کم ہوتی یہ مقدار کی کمی دراصل توانائی کی بے پناہ مقدار میں تحلیل ہو جاتی ہے واضح رہے یہ وہی توانائی ہے جو شہرہ آفاق آئن اسٹائن کی مادہ و تو وانائی کی مساوات سے معلوم کی جاتی ہے یعنی E=MC2
بتایا جاتا ہے
کہ ہر ایک سیکنڈ میں 60 کروڑ ٹن ہائیڈ روجن ذرات 59.5 کروڑ ہیلیم
ذرات میں تبدیل ہو رہے ہیں بقیہ 50 لاکھ ٹن ذرات کی کمیت مسلسل توانائی کی صورت
میں خارج ہو رہی ہے۔
اس توانائی کی
مقدار کا تقابل ہماری زمین پر کئے جانے والے ہائیڈروجن بمب سے خارج ہونے والی
توانائی سے کیا جا سکتا ہے۔ ہائیڈروجن بمب کا مظاہرہ شکل نمبر 6 میں دکھایا گیا
ہے۔
متذکرہ بالا ایک
سیکنڈ کے عمل ایتلاف سے حاصل ہونے والی توانائی تقریباً 1 ارب بمب کے برابر ہے جس
میں ہر ہائیڈروجن بمب دس لاکھ ٹن توانائی خارج کر رہا ہوگا۔
سائنسدان بتاتے
ہیں کہ تمام ستاروں سے جو ہمیں روشنی حاصل ہوتی ہے ان کے مرکزہ میں وہی عمل ایتلاف
جاری و ساری ہے جیسے کہ سورج کے مرکزہ میں بتایا جاتا ہے۔ اس طرح بالآخر سورج کی
بے پانہ توانائی کے اخراج کا راز کھل گیا۔
عمل ایتلاف اور
سورج کے مرکزہ میں واقع ہائیڈروجن کی کثیر مقدار ہی صدیوں سے اس مفت توانائی کا
ذریعہ قائم و دائم رکھے ہوئے ہے۔ سورج کی توانائی جو نہ صرف سردیوں میں دھوپ سیکنے
، گرمیوں میں کپڑے سکھانے اور آبی اور آبی بخارات کا سبب بنتی ہے بلکہ کرۂ ارض پر
موجود تمام انواع کے مزاج و صحت میں اعتدال بھی قائم کرتی ہے۔
جیسا کہ ہم نے
گزشتہ اقساط میں فکشن حواس اور ان پر مبنی ذیلی آلات کے ضمن میں تفصیلاً ذکر کیا
ہے کہ ہر انسان میں حواس کی دو طرزیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں ایک طرز ٹائم اور
اسپیس میں بند ہو کر مشاہدہ کرتی ہے جسے سوائے فکشن کے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا،
جب کہ دوسری طرز ٹائم اور اسپیس کی پابندی سے آزاد ہے۔ رائج شعور کے برعکس قلندر
شعور کی اس طرز سے حاصل شدہ مشاہدات اور تجربات میں مادیت کی فکشن مہیج شامل نہیں
ہوتی۔
روحانی سائنسدان
جناب عظیمی صاحب فرماتے ہیں۔
جب ہم نظریاتی
مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ مادی وسائل کو بروئے کار لا کر کسی
چیز کو سمجھا گیا ہے یعنی جو چیز بھی دیکھی گئی اس کے دیکھنے کے عمل میں مادیت کا
عمل دخل ہے جب کہ مادیت بجائے خود ایک مفروضہ ہے۔ مفروضہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ
کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا نتیجہ مرتب ہوتا ہے ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ نتائج میں
حقائق کا کتنا دخل ہے اور حقیقت پر سے کتنا پردہ اٹھا ہے۔
سورج کے باطنی
خواص کا ذکر کرتے ہوئے کتاب محمد رسول اللہ ﷺ جلد دوئم میں جناب عظیمی صاحب فرماتے
ہیں:
زمین ایک گلوب
ہے جو اپنے مدار پر ہر وقت متحرک رہتا ہے زمین کے دو وجود ہیں۔ ایک وجود ظاہری ہے
اور دوسرا وجود باطنی ہے۔ زمین کا باطنی وجود ایسی ماورائی لہروں سے بنا ہوا ہے جو
براہ راست نور سے فیڈ ہوتی ہیں یہ روشنیاں ماورائے بنفشی شعاعوں سے بھی زیادہ لطیف
ہیں۔ کسی بھی مادی وسیلے سے نظر نہ آنے والی روشنیاں سورج کے اوپر منعکس ہوتی رہتی
ہیں سورج سیاہ توے کی طرح ہے جس میں اتنی تاریکی اور سیاہی ہے کہ دنیا میں لاکھوں
سال میں رائج الفاظ میں اس تاریکی کو بیان نہیں کیا جا سکتا اس سیاہ توے یا سورج
پر جب لطیف روشنیاں پڑتی ہیں تو سورج سے منعکس ہو کر زمین پر آتی ہیں اور یہی وہ
روشنی ہے جس کو دھوپ کہتے ہیں۔
روائتی اور
قلندر شعور کے مشاہداتی زاویہ میں فرق ہوتا ہے روائتی شعور نسل در نسل پروان چڑھا
ہے جس کا تمام تر علم مادہ اور مادہ پر مشتمل آلات پر مبنی ہے جب کہ قلندر شعور ان
حواس کو استعمال کرتا ہے جو مادی آلات مثلاً دور بین وغیرہ کی تخلیق کرتے ہیں یعنی
قلندر شعور کا حامل بندہ مادہ میں بند ہو کر نہیں۔۔۔ مادہ سے آزاد ہو کر اصل حواس
سے براہ راست مشاہدہ اور تجربہ کرتا ہے۔
ہم سورج سے دھوپ
سینکتے ہیں ہیں یہ دھوپ کیا ہے؟
اس کا منبع کیا
ہے؟
عظیمی صاحب
فرماتے ہیں:
زمانہ قدیم کے
ماہرین فلکیات ہوں یا زمانہ جدید کے ماہرین ان کا کہنا ہے کہ سورج میں روشنی ہے۔
تپش ہے علمائے باطن کہتے ہیں کہ سورج میں روشنی نہیں ہے اصل میں زمین روشن ہے۔
زمین محوری اور طولانی گردش میں حرکت کر رہی ہے۔ روشن زمین کا انعکاس سورج پر ہوتا
ہے اور سورج کا یہ انعکاس دھوپ ہے۔
تجربہ :۔ متذکرہ
بالا باطنی مشاہدہ کے مطابق آپ ایک تصویر بنانے کی کوشش کریں جس میں زمین
سےروشنی کا اخراج دکھایا جائے ، پھر اس روشنی کے انعکاس سے شعاعیں واپس زمین کی
جانب بنائی جائیں۔ تصویر سامنے رکھ کر
سوچیں موجودہ سائنس کے مطابق زمین ٹھوس ہے اور سورج تمام تر گیسوں پر مشتمل ہے،
قلندر شعور کے مطابق زمین گیسوں کا مجموعہ ہے اور سورج ایک بڑے آئینہ کی مانند ہے
، تو عام دور بین سے دکھائی دینے والا سورج تصاویر میں کیا دکھا رہا ہے؟
سورج پر اٹھنے
والے بلند و بالا شعلوں کی لپک کیا ہے؟
اگرچہ یہ بیان
قابلِ ذکر ہے کہ سورج پر گزشتہ دو دھائیوں سے سونامی ریکارڈ کئے جا رہے ہیں،
متذکرہ بالا دونوں سوالات کی روشنی میں اس سونامی بھی تجزیہ کیا جائے!
علاوہ ازیں ہم
سورج پر جاری نیو کلیائی تعامل اور حرارت کے اخراج کے ذکر کو جاری رکھتے ہوئے آپ کی
توجہ اس طرف مدت سے جاری ہے اور ایک سیکنڈ میں ہائیڈروجن کی ایک ضخیم مقدار ہیلیم
میں منتقل ہو رہی ہے۔
تو اب سورج پر
ہیلیم کی کتنی مقدار موجود ہے؟
سورج پر ہائیڈ
روجن کہاں سے مہیا ہو رہی ہے؟
یا ایک دفعہ کسی
اتفاقی حادثہ سے ہائیڈ روجن اکٹھی ہو گئی اور عمل ایتلاف بھی اتفاقاً شروع ہو گیا
تو پھر اس کا انجام کیا ہوگا؟
اگر اتفاقاً
روشن سورج میں بقول سائنس روشنی نہ رہے تو پھر۔۔۔؟
سائنسی تحقیقات
میں ” اگر مگر ، بالفرض ، ہو سکتا ہے، ہوگا“ جیسا طرز کلام عیاں نظر آتا ہے۔ مادہ
کو توڑنے سے ٹھوس ، مائع ، گیس اور پھر پلازمہ جیسی حالتوں کا تعین کیا گیا۔ مگر
سورج کی روشنی۔ ہمارے لئے دھوپ کبھی بھی معمہ نہیں بنی۔ کیوں کہ اس کی اصل سے ہم
واقف نہیں۔ سائنسدان بہرحال نئے نئے زاویے تلاش کر کے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش میں
مصروف ہیں۔ باطنی علما (صوفی) کائنات کی بناید روشنی کو قرار دیتے ہیں نظریہ رنگ و
نور کے شارح جناب عظیمی صاحب فرماتے ہیں:
”جس کائنات کو
مادی آنکھ دیکھتی اور پہچانتی ہے اس کی بنیاد روشنی ہے۔ ایسی روشنی جس کے اندر
بہاؤ ہے۔ موجودہ دور کی سائنس اس کو Gasses کے نام سے جانتی ہے۔ روشنیوں کے بہاؤ سے
مراد یہ ہے کہ Gasses کے اجتماع سے شکلیں وجود میں آتی رہتی ہیں۔
اس کی مثال یہ ہے کہ ایک گلاس پانی بھر کر دیوار پر زور سے پھینکا جائے۔
پانی بہنے کے بعد جب دیوار پر پوری طرح پھیل جائے تو غور سے دیکھنے سے دیوار کے اوپر مختلف شکلیں نظر آتی ہیں۔ جس طرح پانی دیوار کے اوپر شبہیں بنا لیتا ہے اسی طرح نازل ہونے والی روشنیوں کا بہاؤ جب زمین (کائنات کی ایک اسکرین) پر نزول کرتا ہے تو روشنیاں پھیلنے اور بکھرنے سے افراد کائنات کی شکلیں بن جاتی ہیں۔ بہاؤ کے زمین کی اسکرین سے ٹکرانے کے بعد شبیہ کے اندر جو بنیادی مصالحہ بنتا ہے۔ وہ مرکری Mercury ہوتا ہے۔ روشنیوں کے بہاؤ کے بعد پارے کی روشنیوں سے مل کر اور ایک دوسرے کے اندر سے جذب ہو کر اجسام بنتے ہیں۔ انہی اجسام کو حیوانات ، نباتات اور جمادات کہا جاتا ہے۔
ریسرچ کرنے والے
آپ کی دلچسپی کے لئے عرض ہے کہ وہ مندرجہ بالا پیرا
گراف اور متذکرہ بالا سوالات کو بار بار پڑھیں۔ زمین سے خارج ہونے والی شعاعوں اور
ان کے سورج سے انعکاس کا عمل کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ آپ اپنے تجزیات اور
تحقیق کو ہم تک بذریعہ ای میل یا ڈاک ضرور ارسال کریں۔
اب ہم اپنی توجہ
اس طرف مبذول کرتے ہیں کہ یہ بے پناہ توانائی لمحہ بہ لمحہ کس طرح سورج کے مرکزے
سے باہر تمام سیاراتی نظاموں کو ترسیل ہو رہی ہے۔ یہ توانائی روشنی کے ذرات (جنہیں
فوٹان کہا جاتا ہے) کی شکل میں سفر کرتی ہے۔ یہ سورج کی حراری شعاعیں ہیں جو اپنا
سفر سورج کے مرکزہ سے شروع کرتی ہیں۔ پہلے فوٹان 1 لاکھ پچاسی ہزار میل چوڑی شعاعی
اخراجی زون میں داخل ہوتے ہیں جہاں ذرات اور شعاعیں کثافت میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں
کہ فوٹان جیسا لطیف ترین ذرہ بھی زون میں موجود دوسرے ذرات سے ٹکراتا ہے جن میں
ہائیڈروجن ہیلیم ایٹم شامل ہیں۔
فوٹان بے ترتیب
منحنی خطوط کی شکل میں مسلسل مرکزہ سے باہر کی جانب سفر کرتے ہیں اس دوران یہ
دوسرے ذرات میں بھی جذب ہوتے ہیں اور ٹکراؤ سے پھر خارج ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے سورج
کی سطح قریب آتی ہے فوٹان کے ارد گرد دوسرے ذرات کی کثافت کم ہو جاتی ہے اور ٹکراؤ
بھی کم ہو جاتا ہے حتیٰ کہ وہ 1 لاکھ 30 ہزار میل کی مسافت طے کر جاتے ہیں۔
فوٹانکی اسپیڈ
بڑھ جاتی ہے اور شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ سطح پر ہمیں بلبلے نکلتے دکھائی دیتے
ہیں یہ بلبلے طویل قامت گیس کے ستون کی صورت میں سطح سورج سے اٹھتے ہئے نظر آتے ہیں
قریباً دس دن میں یہ سورج کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں اتنی کھٹن مشقت کے بعد فوٹان کا
آرام دہ سفر شروع ہوتا ہے اب وہ سورج کے اطراف پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مرکزے سے
سورج کی سطح تک کا سفر جو انتہائی کثافت میں ہوتا ہے قریباً اسی (80) دن کی مسافت
بتائی جاتی ہے اب یہی فوٹان سورج کی سطح سے صرف آٹھ منٹ میں نو کروڑ تیس لاکھ میل
کے فاصلے موجود ، ہماری زمین پر پہنچ جاتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے
کہ جب یہ شعاعیں ہمارے جسم پر تمازت کا احساس پیدا کرتی ہیں تو اس وقت تک ان کی
عمر کئی سو ہزار سال ہوتی ہے۔ یعنی ایک گیند کا سفر ہے جو فوٹان کی مانند سورج کے
مرکز سے شروع ہو جاتا ہے اور کئی سو ہزار سال کے بعد یہ گیند باآخر ہماری صحن میں
گرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے یہ عمر ہماری فہم کے حساب کے لئے بے حد زیادہ نظر آتی ہے
جب کہ سورج کے شمار کے مطابق وقت کی ایک اکائی یا لمحہ ہمارے کئی لاکھ سال کے
برابر ہوتا ہے۔
ابھرتے دن کے
ساتھ دکھائی دینے والی گولی زرد پلیٹ جو صدیوں سے مشرق سے نمودار اور مغرب میں
ڈوبتی بتائی جاتی ہے اپنے اندر تعاملات کی پوری فیکٹری اٹھائے ہوئے ہے۔ ستاروں کے
انگنت شمار میں ہمارے سورج کا وجود کب ظاہر ہوا۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بڑے دھماکہ سے Super Nova تخلیق ہوا جو
پھیلتا گیا۔ شکل نمبر 8 کے مطابق Super
Nova کا تخلیقی
طریقہ کار بیان کیا جا چکا ہے جب عظیم الجثہ ستاروں کا حجم بڑھتا ہے تو گیسوں کا
گرد و غبار پیدا ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ شکل نمبر 7 میں دکھایا گیا ہے جو نظام شمسی
کے پھیلاؤ سے کئی گنا بڑے حجم پر محیط ہوتا ہے جس میں سیارے چھوٹے چھوٹے ذرات کی
شکل میں بکھرے ہوئے ہیں۔ بگ بینگ کے نقطہ
آغاز سے 10 ارب سال بعد ان ذرات نے آپس میں ملنا شروع کر دیا گیس کی لطافت اب
سمٹتی جا رہی تھی۔
ثقلی اثرات کے
تحت ذرات ایک دوسرے میں مدغم ہو رہے تھے۔ ہمارا شمسی نظام بھی ایسے ہی ایک گیسی
گرد و غبار کے انجماد کی صورت میں تشکیل پاتا گیا۔ ماہرین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ
آخر کون سی طاقتیں تھیں جنہوں نے ایک بڑے ستارے کو گیس کے غبار میں بدل دیا ۔ غبار
بھی ایسا کہ ذرات کی خاص ترتیب سے تشکیل دیا گیا۔
کشش ثقل نے انہیں
کس فارمولے کے تحت یکجا کیا ۔۔؟
یہ سب سکرپٹ
کہاں ہے ۔۔؟
اگر ایک نظام
مربوط ہے۔۔ ایک قاعدہ اور ضابطہ کے تحت ہے تو یہ قاعدہ اور ضابطہ کیسے قائم ہے۔۔؟
کائناتی اجزا اس
کی تقلید کیوں کرتے ہیں۔۔؟
اگر نظام میں گڑ
بڑ ہے تو مرمت کس طرح ہوتی ہے۔۔؟
کیا زمین گول ہے؟
کیا سورج گول
ہے؟
تجربہ :
آپ اس
کا تجربہ دو گیندوں کی مدد سے کر سکتے ہیں۔ ایک چھوٹی اور ایک نسبتاً بڑے سائز کی
گیند لیں ، چھوٹی گیند کو ہم زمین مان
لیتے ہیں ، اب چھوٹی گیند بڑی گیند (سورج) کے گرد دائروی شکل میں اس طرح گھمائیں
کہ چھوٹی گیند لٹو کی طرح خود بھی گھوم رہی ہو۔ جب زمین گھوم رہی ہو تو جو حصہ
سورج کے سامنے ہو اسے سفید چاک سے نشان زدہ کر دیں ، اس طرح زمین کا ایک پورا چکر
سورج کے گرد مکمل کریں۔ آپ اپنا مشاہدہ نوٹ کریں۔
آپ دیکھیں گے کہ
اگر دونوں گول ہیں تو کیا وجہ ہے کہ زمین ہر وقت یعنی 24 گھنٹہ سات دن (7/24) روشن
نہیں رہتی۔ سائنس دان اس کے بارے میں سورج اور زمین کی محوری گردش کا ترچھا
پن بتاے ہیں مگر کمپیوٹر تما ثیل اس کی
وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔
ایسے بہت سے
سوال ہیں جو قاری کے ذہن میں اٹھتے ہیں۔ انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام سیارے جو
تعداد میں نو ، گیارہ یا تیرہ بتائے جاتے ہیں مخصوص محور میں مخصوص رفتار سے سورج
سے مقررہ فاصلے پر طولانی حرکت میں گردش کر رہے ہیں۔ رفتار ، فاصلوں اور محور کا
یہ انتہائی مستحکم نظام کس قانون کے تحت قائم ہے۔۔؟
اس میں نظم و
ضبط کا انتظام کس نے قائم کیا ہے؟
سائنس دان بتاتے
ہیں کہ سپر نووا میں سورج ہی واحد فلکی جسم تھا جس کے گرد ذرات انتہائی کثافت کے
ساتھ اکٹھے ہوئے اور مد غم ہوتے گئے آخر کیا ثبوت ہے سورج Super Nova کے پھٹنے سے ہی
وجود میں آیا۔
ماہرین اس کے
شواہد ہمارے پاؤں کے نیچے ہی پیش کرتے ہیں۔ یورنیم جیسی اشیا جو ایٹمی ری ایکٹر
میں فیول کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اتنے بلند و بالا درجہ حرارت پر بھی نہیں
تخلیق پا سکتی۔ کسی بڑے ستارے کے اندر بھی اتنی حرارت نہیں ہے جو لوہے سے بھاری
اجسام یاعناصر کی تخلیق کر سکے یورنیم جیسے بھاری عناصر صرف ہماری کائنات میں Super Nova میں ہی ممکن
ہیں زمین سورج اور بقیہ سیارے اپنی ترکیب میں انہی گیسز سے مرکب ہیں Super Nova کے بکھرے ہوئے
مواد نے دورانِ گردش اکٹھے ہو کر جس بڑے فلکی جسم کی تخلیق کی وہ سورج تھا جہاں
مادہ 99%
مرتکز ہونے کے ساتھ ہی ساتھ انتہائی طاقتور تجا ذبی کشش کا مرکز بھی بن گیا۔
اسی وجہ سے بقیہ تمام مختلف کمیتوں کے اجسام اس کے گرد گردش میں مصروف ہیں۔ ان تمام اجرام فلکی میں زمین ہی واحد خطہ ہے جہاں اپنے مخصوص فاصلے کے با عث سمندر موجود ہیں وگرنہ سورج سے قریب ہوتی تو تمام سمندر بخارات بن جاتے اور زمین چٹیل میدان رہ جاتی۔اگر یہ دور ہوتی تو اتنی منجمد ہو جاتی کہ تمام سطح ایک جما ہوا ویران
خطہ بن جاتا غرض
کہ نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈا بس 9 کروڑ 30 لاکھ میل کے سفر پر ہم بیٹھے اپنی پر
سکون فضا کو انجوائے کر رہے ہیں۔ اسے ہم چاہے قسمت کہیں یا خوش بختی یا کوئی حادثہ
بہرحال یہ کریڈٹ سورج کے معین فاصلہ کو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ معین فاصلہ کن
مقداروں پر قائم ہے اور مقداروں پر قائم ہے تو مقداریں کس نے قائم کی ہیں۔۔؟
سائنسدان بتاتے
ہیں ہم کیوں یہاں ہیں۔۔ اس لئے کہ یہی ایک ممکن خطہ تھا جہاں تمام شمسی نظام میں
زندگی کے موزوں حالات مہیا تھے۔
زمین اگرچہ اپنی
مخصوص پو زیشن کی وجہ سے خوش قسمت ہے مگر پھر بھی سورج کی بیرونی سطح پر ہونے والی
تبدیلیوں کے تخریبی اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ !!
سورج کے مرکز
میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر چکے ہیں جہاں بے پناہ درجہ
حرارت اور دباؤ پر انتہائی سرعت سے مختلف عناصر آپس میں ٹکرا کر توانائی کے
ہائیڈروجن بم بنا رہے ہیں توانائی کے اس پلازمہ میں جب میلوں لمبے بلبلے اٹھتے ہیں
تو ان کی لپک سورج کی سطح سے ڈسچارج ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ شعاعی اخراج کے
ایسے حوادث زبردست مقناطیسی طوفان کو جنم دیتے ہیں۔ مقنا طیسی طوفان کیا ہے ہم
مقناطیس کو شمال و جنوب سے طلوع و غروب ہونے والی لہریں جانتے ہیں جو دھاتوں میں
سے آسانی سے گزر جاتی ہیں انہی لہروں سے جب بڑا تغیر ہوتا ہے تو ان کے بہاؤ میں
عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے جو بڑے مقناطیسی شرارہ کا سبب بنتا ہے ایسے ہی مقناطیسی طوفان سورج پر پچھلے گیارہ سال سے مسلسل رونما
ہو رہے ہیں ان کی بڑھتی ہوئی تعداد ہماری زمین کے جدید طرزِ زندگی کے لئے بڑے خطرہ
کا موجب بن سکتی ہے۔
ہماری زمین کی
گردش بحیثیت ایک ٹھوس جسم کے ہوتی ہے جو کہ بہت واضح مقنا طیسی میدان کی تشکیل
کرتی ہے جہاں مقناطیسی شعاعیں یا لہریں شمال سے جنوب کی جانب بتائی جاتی ہیں۔ ایک
شمال ہے اور ایک جنوب۔۔ اس لئے مقناطیسی پیمانہ یا کمپاس کا بنانا آسان ہے جس کی
سوئی کا سرخ نشان شمال ظاہر کرتا ہے جب کہ سفید جنوب کو مگر تصور کریں اگر دو پول
(شمالاً جنوباً) کی بجائے ایک سے 10 لاکھ قطب ہوتے جیسا کہ سورج میں بتایا جاتا
ہے۔
سورج کا
مقناطیسی میدان کئی چھوٹے چھوٹے جال کی شکل میں پھیلا ہوا ہے۔ جن کی اپنی اپنی
سمتیں ہیں جیسا کہ شکل نمبر 9 میں دکھایا گیا ہے کیونکہ سورج میں پلزمہ یکساں
رفتار سے نہیں گھوم رہا جس کی بنیادی وجہ سورج کی سطح پر مختلف ثقلی زون کا پایا
جانا ہے سورج کے خط استوا پر پلازمہ زمین کے پچیس دنوں کے حساب سے صرف ایک دفعہ
گردش کرتا ہے۔ جب کہ قطبین پر 35 زمینی دنوں میں ایک چکر مکمل ہوتا ہے پلازمہ کی
مختلف رفتاریں کئی لاکھ اقسام کے مقناطیسی میدانوں کی تخلیق کا سبب بنتی ہیں اگرچہ
مقناطیسی میدان نادیدہ ہوتا ہے مگر اس کے وجود سے مختلف شواہد ان شعاعی حلقوں میں
عیاں ہوتے ہیں جو سورج کی سطح سے باہر ابھرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔جیسے ایک عام
مقناطیس کے گرد لہریں باہر کی جانب نکلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں بالکل اسی طرح کی
کثیر سمتی لہریں سورج کے گرد ہالے کی شکل میں موجود ہیں۔
سورج کی سطح پر
موجود حلقے کثیر سمتی مقناطیسی میدانوں کی موجودگی ظاہر کر رہی ہیں۔ پلازمہ میں
اٹھنے والی ان لہروں کی باہر کی جانب لپک اتنی وسیع قوس ہوتی ہے کہ اس میں ایک
مشتری جیسی جسامت والا سیارہ آسانی سے گزر سکتا ہے۔ جیسا کہ شکل نمبر 10 میں دکھایا ہے پچھلے گیارہ سالوں میں ایسے
شواہد بھی ملے ہیں کہ مقناطیسی میدانوں کے ٹکراؤ نے پلازمہ کو سورج کی سطح کے
بیرونی جانب جھکا دیا ہے جو ایک موٹے رسے کی مانند بل کھائی ہوئی نظر آتی ہے۔
پلازمہ کے اس طرح جھکنے والے حلقوں میں کئی مقناطیسی میدانوں کی موجودگی نظر آتی
ہے یہ حلقے کئی ہفتہ یا کئی مہینوں تک نظر آتے رہتے ہیں حتیٰ کہ ان میں چھپی ہوئی
مقناطیسی توانائی خارج ہونے لگتی ہے اور حلقے واپس سورج کی سطح میں لوٹ آتے ہیں۔
جب پلازمہ پیچیدہ ترین مقناطیسی میدان کے ساتھ سورج کی بیرونی سطح کی جانب حلقے بناتے ہیں
تو حرارت کی ایک بڑی مقدار کے اخراج کے باعث سطح کا درجہ ہزار ڈگری تک گر جاتا ہے
اس کم تر درجہ حرارت والے زون کے نیچے کئی ہزار ڈگری کی سطح اپنی جگہ موجود رہتی
ہے حرارت کے اس فرق کو سائنسدانوں نے سیاہ نقاط یا Sun Spot کی شکل میں
ریکارڈ کیا ہے ان سورج کے داغوں کو سورج کے داغوں کی روشنی کسی طور پر کم نہیں ہے
اگر ان داغوں کو سورج سے جدا کر کے دیکھیں تو ان کی روشنی ہمارے چاند کے مقابلے
میں کئی گنا زیادہ ہے۔ ایسے داغ شکل نمبر 11 میں دکھائے گئے
ہیں۔جدید سائنس میں گلیلیو پہلا فلکیات دان تھا جس نے سورج کے داغوں کے مقام میں
واضح تبدیلی مشاہدہ کی جو کہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سورج بھی اپنے مرکز کے گر گھوم
رہاہے اس قسم کے تصورات گلیلیو کے زمانے میں نہیں پائے جاتے تھے۔
گلیلیو نے نہ
صرف یہ بتایا کہ سورج گھوم رہا ہے بلکہ اس کے داغ بھی اپنے اندر گھوم رہے ہیں جیسے
کہ سمندری طوفان بھنور کی مانند گھومتے ہیں۔ یہ بھنور توانائی کو مزید دباؤ میں لے
آتے ہیں ۔ توانائی جب کسی نقطہ پر اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے تو مقناطیسی میدانوں
کی کثرت پلازمہ کی لہروں کو بڑھا دیتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ شکل نمبر 10 کے مطابق بڑی بڑی قوس کی شکل میں توانائی کے
یہ شعلے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کی مثال بچوں کے کھلونے سے دی جا سکتی ہے۔ جب وہ ربڑ
بینڈ سے بنی گاڑی کی چابی گھماتے ہیں تو ربڑ کی لچک مروڑ کی وجہ سے اپنے اندر
توانائی جمع کرنا شروع کر دیتی اور گاڑی حرکت کرنا شروع کر دیتی ہے۔ حرکت کا
دورانیہ لچک کی توانائی کے برابر ہوتا ہے۔
جب سورج کے داغ
توانائی کو مروڑنا شروع کر دیتے ہیں تو پلازمہ کی لپک پیدا ہوتی ہے جو شمسی شعلے
کی مانند سورج سے باہر کی طرف لپکتی ہے۔ شمسی نظام میں اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں
ایک شمسی شعلہ کئی ارب میگاٹن توانائی خارج کرتا ہے۔ جس کی طاقت زمین میں دس لاکھ
آتش فشاں کے بیک وقت مجموعی لاوا اگلنے کے برابر ہو سکتی ہے شعلے بہت روشن ہیں۔
کیونکہ ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے اندازاً دس لاکھ ڈگری ہوتا ہے۔ یہ
ضروری نہیں ہے کہ مظاہرہ ایک گھنٹہ تک جاری رہے، مگر توانائی کا ضخیم اخراج اس
دوران ہوتا ہے۔ طبیعیات دانوں کے مطابق ایک دھماکہ بالکل ایسا ہے جیسے لاکھوں ایٹم
بم سورج کی سطح پر چلا دیئے گئے ہوں۔ یہ شعلے اپنی توانائی نہ صرف فضا میں خارج
کرتے ہیں بلکہ انتہائی توانائی کے ذرات کے اخراج کا موجب بھی ہیں جن کا رخ سورج کی
اندرونی سطح کے جانب ہوتا ہے اگر ان کے
راستے میں ذرات کی کثافت زیادہ نہ ہو تو یہ اپنی توانائی نہیں منتقل کر دیتے ہیں۔
بصورت دیگر کثیر کثافت کے زون میں ان کے ٹکراؤ سے زلزلہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے
ایسے زلزلے سورج کی سطح پر بعض اوقات دکھائی دیتے ہیں جن میں دباؤ کی لہریں زلزلہ
کے مرکزی مقام سے باہر کی جانب پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ سب سے پہلے ایسی لہروں کا
مشاہدہ 1998 ء میں کیا گیا۔
ان لہروں کی
اونچائی دو میل بلند اور رفتار دو لاکھ پچاس ہزار میل فی گھنٹہ ہوتی ہے اس کی شدت 11.3 ریکٹر اسکیل بتائی جاتی ہے۔
یہ بالکل ایسا
ہی ہے جیسے کرہ ارض کی سطح پر ایک گز لمبی ڈائنا مائٹ (بارود) کی سلاخیں گاڑ دی
جائیں اور پھر انہیں اڑا دیا جائے بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ شمسی دھماکے چھوٹے درجہ
کے نہیں ہوتے صرف زلزلہ ہی ایسی قدرتی آفت نہیں جسے شمسی زلزلوں سے موازنہ کیا ج
سکے بلکہ شمسی شعلے ایک سونامی کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جو کہ 700 میل
بلند و بالا لہریں پیدا کرتی ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں یہ لہریں سورج کی سطح پر ہر طرف پھیل جاتی ہیں
زلزلہ یا شمسی سونامی بظاہر کرہ ارض کی زندگی کے لئے مضر نظر نہیں آئی ہے مگر یکدم
رونما ہونے والے شمسی شعلے اپنی لپک اور پلازمہ کی اچھال کے باعث فضا میں چارج شدہ
تابکار ذرات کو پھیلاتے ہیں جو کہ 800 سے900 میل فی سیکنڈ
کی رفتار سے سفر
کرتے ہیں۔اتنی
تیز ترین رفتار کے ساتھ مادہ کی ایک بڑی مقدار کو فضا میں پھیلاتے ہیں۔ شمسی
طوفانوں کی زد میں اکثر دوسرے شمسی نظام کئی ہفتوں کی مسافت پر واقع ہیں۔ جس کی
وجہ سے یہ طوفانی بادل اپنی توانائی کھو بیٹھتے ہیں۔ مگر ان شمسی طوفانی بادلوں
میں کچھ ایسے بھی اخراج ریکارڈ کئے گئے ہیں جو تقریباً ایک ہزار میل فی سیکنڈ سے
ہماری شمسی نظام کی جانب سفر کرتے ہیں اور ہمارے کرہ ارض سے ایک دن سے بھی کم وقفہ
میں ٹکراتے ہیں ایسا طوفان شکل نمبر12 میں دکھایا ہے۔
بتایا گیا ہے
طوفانی بادلوں میں زمینی بادلوں کی طرح چارج کرنے والے بادل بھی ہوتے ہیں جب یہ
بادل بیرونی خلا سے زمینی فضا کی جانب آتے ہیں تو راستے میں مصنوعی سیارچوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو زمینی
مواصلاتی نظام میں مدد گار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر بادلوں میں موجود توانائی ان
سیارچوں میں سرایت کر جائے تو تمام مصنوعی سیاراتی نظام کو لمحوں میں ختم کر سکتی
ہے اور اگر یہ زمین کی سطح تک پہنچ جائے اور بجلی کے نظام یا اس سے متصل الیکٹرانکس
و الیکٹریکل تنصیبات سے گزر جائیں تو بے پناہ توانائی کے چارج سے یہ تمام نظام
مکمل طور پر تباہ ہو سکتاہے۔ یہ شمسی ہالہ سے خارج ہونے والا مادہ جسے (CME) کہا جاتا ہے بالکل ایسے
ہی خارج ہوتا ہے جیسے اچانک چھینک آتی ہے جس میں ہوا کے دباؤ سمیت پانی کی بوندیں
اور بڑی تعداد میں خوردبینی اجسام شامل ہیں اور جیسے کچھ ہی دور جا کر چھینک کے
بادل دم توڑ دیتے ہیں اسی طرحCME کا بادل بھی اگر زمین تک پہنچنے سے پہلے اپنی
توانائی کھو بیٹھے تو زمینی زندگی محفوظ ہوتی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے CME کا اخراج بڑھ گیا ہے جیسا
کہ شکل نمبر 13 میں وہ لہریں دکھائی گئی ہیں جو زمین تک
پہنچتے پہنچتے غیر مضر ہو جاتی ہیں۔ جب کہ شکل نمبر 14 میں ہماری زمین کا مقناطیسی غلاف دکھایا گیا جس میں بائیں جانب
سورج سے خارج ہونے والا CME نظر
آرہا ہے جو سورج سے فاصلے کے ساتھ ساتھ پھیلتا ہے۔ واضح رہے کہ جتنا CME بادل دور ہوتا
ہے اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔
دور جدید کے طرز
زندگی میں دھات کا استعمال بکثرت ہے دھاتیں منفی یا مثبت چارج کے لحاظ سے حساس
ہوتی ہیں کسی بھی دھاتی مشین الیکٹرانکس یا الیکٹریکل آلہ کے درست کام کرنے کے لئے
ضروری ہے کہ اس پر چارج کی مقدار صفر ہو جسے ہم عام الفاظ میں گراؤنڈ ہو نا یا
گراونڈ پوٹینشل کہتے ہیں۔ یہ برق سکونی وہی چارج ہے جو اکثر سردیوں میں ہم اونی
کپڑوں یا پلاسٹک کی کنگھی میں محسوس کرتے ہیں۔بسا اوقات اگر اندھیرے میں اونی کپڑے
یا
شال اوڑھی جائے
تو اس میں ہلکے ہلکے سپارک بھی نکلتے دکھائی دیتے ہیں مگر اس چارج کی مقدار اس قدر
کم ہوتی ہے کہ جسم پر اس کے مضر اثرات نظر نہیں آتے۔ مگر سورج سے خارج ہونے والی CME کئی لاکھ گنا توانائی کی حامل ہوتی ہے جو کہ
دھاتی سطح مثلاً پل ، مکان، تاروں سے گزرنے کے بعد اسے خاکستر (راکھ) کر سکتی ہے۔
جیسے آسمانی بجلی جب درختوں یا عمارات پر گرتی ہے تو انہیں نیست و نابود کر دیتی
ہے بالکل اسی طرح بڑھتے ہوئے CME ہمارے زمینی مواصلاتی نظام کے لئے تباہ کن
ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین موسمیات اور برقیات کے علم میں جیسے ہی ایسے مشاہدات آنے
لگے تو امریکہ میں قومی موسمیاتی ادارے میں ایک شعبہ خلائی موسم پیمائی صرف اور
صرف CME کے اخراج اور اس کے ممکنہ
اثرات کا مطالعہ کر رہا ہے جو کہ عوامی اور دفاعی لحاظ سے ضروری ہے اس ادارے NOAA میں ماہرین
فلکیات ہمہ وقت CME کے بارے میں رپورٹیں مرتب
کرتے ہیں ان پر بحث و مباحثہ کے بعد روزانہ باقاعدگی سے نتائج مرتب کئے جاتے ہیں۔
جن میں ہر CME کی ترکیب ، مسافت ، شدت
اور زمین پر حالیہ اثرات شامل ہیں۔
NOAA کے اس خلائی موسمیاتی ادارے کے مطابق ہماری
زمین کی مقناطیسی خصوصیات CME کے
بہت سے طوفانوں کا رخ ایسے موڑ دیتی ہے جیسے سمندر میں چلتی ہوئی بوٹ سمندر کا
سینہ چیرتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہماری زمین کا مقناطیسی پیٹرن شکل نمبر 15 میں دکھایا گیا ہے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ
ایک بڑی کشتی طرح ہے۔ جس کی دائیں جانب شمسی CME کا اخراج ہو رہا ہے۔ شکل نمبر 15 پر غور کرنے سے یہ مشاہدہ بھی سامنے آتا ہے کہ کرہ ارض کے
مقناطیسی میدان کی شباہت پپیتہ سے ملتی جلتی ہے جب کہ زمین کو اکثر تصاویر میں گول
دکھایا جاتا ہے آخر ایسا کیوں ہے؟
یہاں ہم اپنی
بحث CME تک ہی محدود رکھیں۔
سائنسدانوں نے
تحقیق و تلاش (ریسرچ) سے جو علوم نوع انسانی پر ظاہر کئے ہیں بلاشبہ قابلِ تحسین
اور شعوری اعتبار سے قابلِ تسلیم ۔۔۔ لیکن اسپریچوئل سائنس کا تحقیقی نظریہ یہ ہے کہ یہ سب دیکھنا ،
ریسرچ ، تحقیق و تلاش ، تسلیم کرنا یا اس میں مسلسل رد و بدل ہونا سب شعوری کیفیات
پر قائم ہے۔ شعور کی مختصر تعریف یہ ہے کہ شعور میں مسلسل تغیر اور تبدیلی واقع
ہوتی رہے جب کہ لاشعوری تحریکات اور لاشعوری علوم کی تحقیق کے مطابق کسی شے میں
تغیر نہیں ہے۔ سورج کا نکلنا، رنگ بدلنا ، ایندھن کی طرح شعاعوں کا گرم ہونا اور
موسمی لحاظ سے گرم نہ ہونا بظاہر تغیر ہے
لیکن یہ تغیر
ایسا ہے جیسے پہلی منزل سے دوسری منزل تک چڑھنے کے لئے سیڑھیاں ہوتی ہیں۔ اس بات
کو اس طرح سمجھنا آسان ہے کہ ہم صبح ، دوپہر ، شام ، رات سیڑھیاں چڑھتے ہیں اور
اترتے ہیں اور یہ عمل مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ روحانیت یا اسپریچوئل ازم کے نقطہ نظر
سے یہ تغیر نہیں ہے بلکہ چڑھنا اترنا ، پھر چڑھنا اترنا ، نیچے ظاہر ہونا اوپر
غائب ہونا ، اوپر ظاہر ہونا نیچے غائب ہونا سب مسلسل عمل ہے۔ اس مثال سے ہم شعوری
استعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔ سائنس حقیقت پسندانہ نظر سے اگر جائزہ لے تغیر ہمیں
مٹیریل میں نظر آتا لیکن سب کی قدریں (Values) متعین ہیں ان میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ تبدیلی
اصل میں شعوری کیفیت ہے۔ آسمانی کتابیں اور آخری الہامی کتاب قرآن اس قانون کی
وضاحت کرتا ہے۔ اس کی مثالیں بے شمار ہیں جو قابل احترام سائنسدانوں کے علاوہ زیرک
انسان بھی بآسانی سمجھ لیتا ہے۔
رات۔۔رات ہے ۔
دن ۔۔۔دن ہے۔ سیب ۔۔ سیب ہے اور آلو۔۔۔آلو ہے ، بکری بھیڑ ، گائے ، اونٹ ، ہاتھی ،
دنیا جب سے بنی ہے انہی ناموں سے متعارف ہے۔
زمین میں تبدیلی
نہیں آتی۔ زمین کے اوپر جب پانی آجاتا ہے تو ہم سمندر کہتے ہیں۔ سمندر اتر جاتا ہے
پانی کی جگہ کو ہم زمین کہہ دیتے ہیں۔
1989ء میں کینڈا
میں Quebec صوبہ میں CME کا انوکھا حادثہ دکھایا گیا ہے جب CME نے شمالی قطب
سے داخل ہو کر زمینی فضا کو چارج کر دیا نتیجتاً Quebec کے دور دراز
شہروں تک جانے والے الیکٹریکل تاروں سے شعلے برآمد ہونے لگے اور وہ جل کر ٹوٹ گئے۔
جب کہ ٹرانسفارمر دھماکے سے پھٹ گئے۔ یاد رہے کہ جب بھی بجلی کے تاروں میں کسی قسم
کا نقص واقع ہوتا ہے تو ایک نظام کے تحت بجلی کی ترسیل بند ہوجاتی ہے مگر پھر بھی
تاروں پر شعلے چمکتے رہے۔ ایسے شعلے بھڑکتے رہے جو واضح طور پر برق سکونی کی
نشاندہی کر رہے تھے۔ شکل نمبر 16 میں متعلقہ تباہیوں کی چند تصاویر دکھائی گئی ہیں۔
اتنی شدت کے
ساتھ برق سکونی کا کون سا ماخذ Quebec یا زمین کے نزدیک فضا میں موجود ہے؟
اس سوال کا
سیدھا سادا جواب تھا۔ کوئی نہیں !!
CMEطوفان کا ٹکراؤ ہی اس تمام تباہی اور بڑے پیمانے پر بجلی کے
بریک ڈاؤن کا سبب بنا۔
ماہرین کے مطابق اگر ہم CME کے طوفان کی بروقت پیشین گوئی کر سکیں تو بجلی کی کمپنیاں اپنے طور پر حفاظتی اقدامات کر لیں اور مواصلاتی نظام کے تحفظ کے لئے بھی عملی اقدامات ہو جائیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ایسے تباہ کن قسم کے CME ایک دن سے کم وقت یعنی اوسطاً 16 گھنٹے میں زمین کے شمالی قطب کی جانب سے داخل ہوتے ہیں تو اس وقفہ کے دوران کرۂ ارض پر جدید برقی مواصلاتی نظام کو بچایا جا سکتا ہے جس کا بہرحال طرز زندگی میں بنیادی کردار ہے۔ CME طوفان کے دوران تمام مواصلاتی سیاروں کو سُلا دیا جائے، بحری جہازوں ، ہوائی جہازوں اور بری ٹریفک کی آمد و رفت کو روک دیا جائے۔۔۔ کیا یہ پائیدار حل ہوگا۔۔۔ ؟ اگرچہ کاروباری حلقوں کی طرف سے اس پر بے پناہ تنقید ہوگی جو اپنا موبائل فون ایک منٹ کے لئے بھی بند نہیں رکھنا چاہتے۔ مگر کیا اس قدرتی آفت سے بچنے کا کوئی اور حل ہے۔۔۔؟
ہوائی جہاز ائیر
فورس ون کو امریکی صدرعام طور پر حفاظتی پرتوکول یا سفارتی سفر کے لئے استعمال
کرتے ہیں ائیر فورس ون ٹیکنا لوجی کا شاہکار بنایا گیا جس میں کسی بھی قسم کی
صورتحال سے بچنے کے لئے تمام تر ممکنہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ مگر تجربہ ہے کہ یہ
تمام اقدامات اس وقت ناکام ہوگئے جب 1980ء میں امریکی صدر ریگن نے چائنا کے لئے
پرواز کی۔۔۔ اس دوران ایک شمسی طوفان نے ائیر فورس ون کے تمام مواصلاتی اور
الیکٹرانک الات کو ناکارہ کر دیا۔
موسمیاتی ماہرین
اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کس طرح CME کی آمد اور اس کے ممکنہ ٹارگٹ علاقوں کا
تعین کیا جائے۔ جیسے روزانہ خبروں میں بارش کے ہونے ، برف گرنے ، ریت کے طوفان ،
ہوائی سمندری طوفان کی پیشین گوئی کی جاتی ہے جس میں اس کا ممکنہ وقت ، متاثرہ
علاقہ اور شدت کے بارے میں پہلے سے متعلقہ ریکیو ٹیموں کا آگاہ کر دیا جاتا ہے
تاکہ بروقت مکینوں کا انخلا کیا جا سکے اور جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا
سکے۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ مادی الات سے اندازے لگاتے ہوئے اقدامات ضرور پورے
ہوں۔۔۔ پورے ہوتے ہیں لیکن تجربہ شاہد ہے کہ وقت کے وقت اس برقی روکا رخ پلٹ جاتا
ہے جس کی وجہ سے بارش ہونے طوفان آنے یا زلزلوں کی پیشین گوئی 100% صحیح نہیں ہوتی۔ یہ ایک نظام ہے جو شعور کے
دائرہ کار میں تو ہے لیکن یقینی نہیں۔ اگر دس پیشین گوئیاں صحیح ہوتی ہیں تو کم و
بیش اتنی ہی پیشین گوئیوں کا نتیجہ مثبت نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ
قابل قدر سائنس دانوں کی تحقیق و تلاش ایسی کاوش ہے جو ماورایئت کی تصدیق کرتی ہے
لیکن شعوری محدودیت شعور دائرہ کار سے پوری طرح باہر نہیں ہونے دیتی اس کی مثال
پچھلے دو مضامین میں ہبل دور بین کا تذکرہ کر کے وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ شعور کتنا بھی علم حاصل کر لے وہ علم کیئر آف ہوتا ہے اوریجنل یا
ڈائریکٹ نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ شعور کی اصل مسلسل گھٹنا بڑھنا ۔۔۔ بڑھنا گھٹنا اور
بالآخر عقل کی رینج سے باہر جا کر غائب ہو جانا ہے۔ جب کہ سورس آف انفارمیشن یعنی
لاشعور کا نظام شعور کے برعکس ہے۔ شکل نمبر 17 میں دکھایا گیا ہے ہماری جدید طرز
زندگی کس قدر ایسے عوامل پر منحصر ہے جس میں کسی بھی قسم کا تعطل یا تباہ کاری
نظام زندگی کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ جس میں زراعت ، تیل و گیس کی پائپ لائنیں ، بری
بحری و فضائی ٹریفک ، پاور گرڈ اسٹیشن ، مواصلاتی نظام جیسی اہم سہولیات شامل ہیں۔
اور سورج کی طرح روشن خود آدمی کی اپنی مادی زندگی ہے۔ جب کہ آسمانی کتابوں کے مطابق
اصل میں تغیر ہے اور نہ تعطل ہے۔
NOAA کے خلائی موسمیاتی ادارے میں موسمیاتی
ماہرین کی تعداد ایسے CME طوفانوں کے گزشتہ دو سو سال کے ریکارڈ پر
غورو فکر کر رہی ہے اور کمپیوٹر کی مدد سے آئندہ آنے والے طوفانوں کی پیشین گوئی
کی جا رہی ہے۔
عوام اس بات سے واقف نہیں ہیں مگر ماہرین کی تمام تر تما ثیل اور مباحثہ کا خلاصہ ایک خطرناک رجحان کی پیشین گوئی کر رہا ہے۔ جیسا کہ شکل نمبر 18 میں دکھایا گیا ہے بیک گراؤنڈ میں شمسی طوفان ہے اور گراف بائیں سے دائیں جانب بڑھ رہا ہے اگر افقی خط پر پڑھیں تو سال 1995ء سے 2020ء لکھا نظر آئے گا جب کہ گراف میں موجیں طوفان کی شدت ظاہر کر رہی ہیں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے 2000ء میں اس طوفان نے شدت اختیار کی اور 2010ء تک پھیلتی رہی۔2010ء سے اس نے دوبارہ شدت اختیار کرنا شروع کر دی۔
آپ دیکھ سکتے
ہیں کہ گراف میں خطوط کے مابین فاصلہ زیادہ ہے جو پیشین گوئیکے برعکس غیر متوقع
طور پر ایک زیادہ شدت کو ظاہر کر رہا ہے 2014ء سے 20216ء کے مابین ماہرین اس شدت
کی انتہا تک پہنچنے کا اندازہ لگا رہے ہیں عملی طور پر یہ کہاں تک پہنچے گا اس کا
ریکارڈ صرف طوفان کی حقیقی پیمائش سے ہی پتہ چل سکتا ہےبعض ماہرین کے مطابق NASAکے
اس گراف سے دگنا یا تین گنا زیادہ بلند گراف متوقع ہے کیونکہ سورج پر زلزلوں اور
خاص طور پر بڑھتے ہوئے سونامی ان شمسی طوفانوں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ کرتے
دکھائی دے رہے ہیں یہاں اس بات کا تذکرہ بھی مناسب ہے جہاں طبیعیات دانوں نے سورج
کے عمل ایتلاف پر غورو فکر کرتے ہوئے ہائیڈ روجن بم اور ایٹم بم جیسے خطرناک
ہتھیار ایجاد کئے جو دنیا کو بھک سے اڑا سکتے ہیں۔ وہیں ایسے ہی جینیئس اذہان نے CME کے مظاہرہ کو
بھی ہتھیاروں کی شکل میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی ہیں جنہیں عام زبان میں برقی
مقناطیسی لہر یا (EMP) کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے ہتھیار کسی قسم کا
بارود استعمال نہیں کرتے محض ایک انتہائی طاقت ور برقی مقناطیسی لہر پیدا کی جاتی
ہے جو تمام تر دھاتی برقی اور الیکٹرانک آلات کو آناً فاناً راکھ کر دیتی ہے۔
اگر ایسے ہتھیار
کسی بھی بڑے صنعتی شہر پر داغے جائیں تو بے انتہا طاقت کی یہ برقی مقناطیسی آسمانی
بجلی کی مانند تمام شہر پر ایک ساتھ گرتی ہیں۔ اور ہر شے کو جلا کر خاکستر کر دیتی
ہیں ایسے خاموش دھماکے ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم کی طرح تابکار بھی نہیں ہوتے اور
تمام آبادی ، صنعتی و رہائشی انفرا سٹر کچر کو لمحوں میں ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں
ایسا ہی ایک EMP ہتھیار شکل نمبر 19 میں دکھایا گیا ہے جس کا
اکثر استعمال اور تباہ کن اثرات ہالی وڈ فلموں میں دکھائے گئے ہیں۔
CME طوفان کی آمد عام طور پر شمالاً جنوباً دیکھی گئی ہے جب کہ
اکثر یورپ اور مغرب کی جانب ہوائی جہاز اپنی پرواز کے دوران کچھ شمال کی جانب رخ
کرتے ہیں ماہرین متفکر ہیں اگر CME طوفان کی بروقت پیشین گوئی نہ ہو سکے تو
قیاس ہے کہ مسافر بردار جہاز اس طوفان کی زد میں آجائیں گے۔ اگر چہ یہ جہاز آسمانی
بجلی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر CME طوفان کے اندر
بجلی کی مقدار آسمانی بجلی کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ بتائی جاتی ہے اس لئے
ماہرین کے لئے سورج پر ہمہ وقت نظر رکھنا ضروری ہو گیا ہے جس کا محرک بہر حال سورج
کی سطح پر رونما ہونے والے داغ ہیں۔ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ 2014ء سے 2016ء کے دوران
داغوں میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ داغ سورج
پر ایک جگہ اکٹھے ہیں بلکہ یہ شمسی کرہ کے اطراف میں پھیلے ہیں اس لئے سورج پر کئی
لاکھ مقنا طیسی میدان ہیں مگر وہ داغ جن کے طوفان کا رخ ہماری زمین کی طرف ہے وہ
سورج کے خط استوا کے نزدیک موجود ہیں سورج کی گردش کے ساتھ بالکل خط استوا کی سیدھ
میں ہماری زمین کی جانب شمسی شعلہ اگلتے ہیں۔ ابتدا میں ان کی توانائی میں وہ شدت
نہیں تھی جو 2000ء سے مسلسل بڑھتی ہوئی ریکارڈ کی گئی ہے خدانخواستہ شاٹ گن کی طرح
اگر ایک انتہائی توانائی سے لبریز طوفان ہمارے شمالی قطب سے ٹکرا گیا تو کرۂ ارض
پر زندگی کو بڑا خطرہ لاحق ہوگا۔