Topics
خانقاہ عظیمیہ ، حضور قلندر بابا
اولیا بانی سلسلہ عظیمیہ کی ابدی آرام گاہ شادمان ٹاؤن نارتھ کراچی نہایت تیزی
اور دل آویزی کے ساتھ مرجع خلائق بنتی جارہی ہے۔عموماً سہ پہر کے بعد روزانہ یہاں
معتقدین اور متوسلین جمع ہوتے اور نذرانہ ٔعقیدت پیش کرتے ہیں۔ جن خوش نصیب عقیدت
مندوں نے اس بارگاہ عالیہ کی حاضری کی سعادت کو اپنا معمول بنا لیا ہے، وہ تو
حقیقتِ حال سے واقف ہیں تاہم اگر کوئی نووارد بھی وہاں کسی شام زیارت و فاتحہ کی
نیت سے چند لمحے گزارے تو اسے ایک سروقامت شخصیت اپنے ارد گرد ضرور نظر آئے گی۔اس
میں جمعرات جمعہ اور عام تعطیلات کی تخصیص نہیں
کیوں کہ ان دنوں میں لوگ عموماً مزارات اور مقدس مقامات کی زیارت کو جاتے رہتے
ہیں۔ یہ روزمرہ کی بات ہے کہ ہر شام ایک جوان سائیکل پر سوار تیزی کے ساتھ خانقاہ
کی حدود میں داخل ہوتا ہے اور اسی مستعدی کے ساتھ اپنے ہمراہ لائے ہوئے پھول وغیرہ
قریبی حجرہ میں رکھ کر مسکراتے چہرہ اور کشادہ ہاتھوں سے حاضرین کو خوش آمدید کہتے
اور سلام کرتے ہوئے روزانہ کے معمولات میں مصروف ہوجاتاہے۔عمر چالیس سے اوپر ،
مضبوط، کمان کی طرح سیدھا جسم، سیاہ گھنے تراشے بال، قد کاٹھ دیکھیں تو محسوس ہوتا
ہے کہ عمر کی رفتار اور موسم کے گرم وسرد اثرات اس کی شخصیت پر اثر انداز نہیں
ہوسکتے۔ 25، 30 سال کے نوجوان اس کی توانائی اور مستعدی کے آگے ماند نظر آتے ہیں۔
صفائی ، ستھرائی، حاضرین کی خاطر تواضع اور دیگر کاموں میں مسلسل مصروف رہنے والا
یہ شخص ہر ایک کی نگاہ کا مرکز بنارہتاہے۔
اس معروف اور ہر دل آشنا شخصیت کا
دوسرا نام سراج الدین احمد عظیمی ہے۔ دوست احباب صرف سراج ہی کہہ کر مخاطب ہوتے
ہیں۔ مگر اکثریت انہیں سراج صاحب یا بھائی سراج کے نام سے پکارتی ہے۔ مگر سراج
صاحب یا بھائی سراج اس سے بے نیاز ہیں کہ لوگ کس نام سے یاد کرتے ہیں، خدمت اور
مسلسل خدمت ان کا نصب العین ہے اور وہ اس میں کسی قسم کی کوتاہی کے روادار نہیں۔
سراج احمد عظیمی کو ہم بھی پیار سے سراج کہتے ہیں۔یہاں ہم اسی مختصر اور جاذب توجہ
نام والے سراج کی بے لوث خدمات کے متعلق چند حقائق پیش کرنا چاہتے ہیں۔
حضور قلندر بابا اولیا کی حیات میں
جس طرح سراج آپ کی خدمت اور خبر گیری میں پیش پیش اور بے مثال تھے ، آپ کے وصال کے
بعد بھی اسی لگن اور باقاعدگی کے ساتھ حضور کے آستانے پر روزانہ حاضری فرض سمجھتے
ہیں۔ خدمت اور جاں سپاری کے اب بھی وہی انداز ہیں جو حضور والا کے جیتے جی تھے۔
حضور قبلہ قلندربابا سراج کی روح و قلب میں اب بھی سمائے ہوئے ہیں۔سراج کے نزدیک
زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ موت و زیست کی گتھی ان کےلئے کوئی مسئلہ نہیں
ہے۔ وہ حضور کو آج بھی اس جذبہ و احترام سے یاد کرتے ہیں گویا حضور ان کی نظروں کے
سامنے زندہ سلامت موجود ہیں۔ یہ عرفان و رمزآگاہی ان اہل نصیب کا انعام اور صلہ ہے
جن کی زندگی کا مقصد ہی اطاعت و خدمت گزاری ہے۔ جو اپنی ذات اور اہل و عیال
کی فلاح و بہبود کو ثانوی حیثیت میں رکھ کر اپنے مخدوم و محبوب کی نگہداشت اور
خدمت ہی کو فرضِ اولین قراردیتے ہیں۔گویا سراج نے خدمت و جاں فشانی کا معیار اور
روپ ہی دوبالا کردیاہے۔
یہ (صلہ کی ) بات ان ہی لوگوں کو ملتی ہے
جوصاحب استقامت (صبر) ہیں اور جو صاحب نصیب ہیں۔ (القرآن )
حضور قلندر بابا اولیا کے درِ دولت
پر سراج دو مرحلوں میں پہنچے ۔ 1969 ءمیں ایک ملاقات کے دوران ڈاکٹر صاحب کی نظر سراج پر پڑی اور انہوں نے
سراج کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ نہ جانےدونوں طرف کون سی مقناطیسی قوت کام کررہی تھی
کہ سراج اس کشش سے گریز نہ کرسکے۔ ڈاکٹر صاحب سلسلہ عظیمیہ کے محترم اور صاحب
اختیار بزرگ ہیں۔ آپ ان مقتدر اور مؤدب بزرگوں میں شامل ہیں جنہیں حضور قلندر
بابا اولیاء سے بطور خاص فیض پہنچا ہے اور جنہوں نے اس مشن کو کامیابی سے آگے
بڑھانے کا بارگراں سنبھال رکھا ہے۔ اُس زمانہ میں ڈاکٹر صاحب 1,D
1/7پر ناظم آباد کراچی میں نیچے کی منزل پر مقیم تھے اور
حضور قلندر بابا اولیاء کا قیام اوپر کی منزل میں تھا جو 14 سال کے شب و روز
پر محیط ہے۔ بعد میں حضور باباصاحب برکات حیدری میں مستقل رہائش کے لئے تشریف لے
گئے۔ ڈاکٹر صاحب کی اندرون بیں نگاہوں نے سراج کی شخصیت میں ذہنی اور طبعی
صلاحیتوں کے جواہر ریزے یقیناً دیکھے ہوں گے جو نگہداشت اور تربیت کے بعد آگے چل
کر خدمت و جاں سپاری کا اعلیٰ نمونہ بن سکتے تھے۔ ادھر سراج کے ذہن میں ان کی
گھریلو ذمہ داریوں کا بار گراں تھا جس نے انہیں مخمصے میں مبتلا کر رکھا تھا۔
ابتدائی چند وقفہ داری ملاقاتوں کے بعد ایک دن سراج کو مسلسل تین دن آنے کا حکم
دیا۔ ڈاکٹر صاحب انہیں دم کرنا چاہتے تھے۔ سراج بتلاتے ہیں کہ پہلے ہی دم میں
ڈاکٹر صاحب نے مجھے بےدم کردیا۔
بالآخر خدمت گزاری اور حاضر باشی کے
دوران وہ مقسوم ساعت آ ہی گئی جب حضور قلندر بابا کی بارگاہ میں سراج بطور خاص
پیش کردیئے گئے۔ اور سراج روحانی دنیا کے رموزونکات سے روشناس ہوگئے۔ بس ایک مخصوص
طرز تربیت تھی جو عالم درون میں کارفرما تھی۔ ہاں اتنا تو سب نے مشاہدہ کیا کہ
حضور کی خدمت میں رہ کر سراج کی طبیعت اور مزاج میں ایسی پختگی پیدا ہوچکی تھی کہ
انہیں اپنے بندۂ بے دام ہونے کا احساس تک نہ ہوا اور نہ ہی وہ کبھی قلب ماہیت پر
حیرت د بے چارگی کا شکار ہوئے۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی، درد لا دوا پایا
سراج کی طبیعت میں اتنی نرمی اور سادگی اور مزاج
میں اتنی لچک ہے کہ کبھی ان کے لب و لہجہ میں جھنجھلاہٹ اور تیزی و تندی دیکھنے
میں نہ آئی ، خواہ کوئی بات کتنی ہی گراں گزری ہو۔ ان کی خاص ادا جو مشاہدے میں
آئی،یہ ہے کہ سراج ہر گفتگو کے موقع پر اپنی آنکھیں اور دل و دماغ کو کھلا رکھتے
ہیں ۔ ان کی طبیعت میں اخذ اور اثر پذیری کی اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس گفتگو
سے جس کا موضوع ان سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا ،مفید طلب اور رہبری و ہدایت پر
مبنی پہلو تلاش کرلیتےہیں۔ یہ صلاحیت محض خداداد عطیہ ہے ۔ ورنہ عام معنوں میں
تعلیم یافتہ ہونا تو درکنار، وہ نیم خواندہ بھی نہیں ہیں۔ یہ صاحبانِ نظر کا کمال
ہے کہ وہ خاک کو بھی کیمیا بنادیتےہیں۔
کیمیائیست عجب بندگی ِ پیرِ مغاں
خاکِ او گشتم و چندیں در جانم دادند
1970ء کا زمانہ پاکستان
کے لئے نہایت صبر آزما تھا۔ عام بے چینی اور بے یقینی کا دور دورہ تھا۔ لوگ گھریلو
اور ملکی معاملات میں اتنے زیادہ الجھے ہوئے تھے کہ انہیں گھر سے باہر نکلنے کا
مشکل سے موقع ملتا یا حوصلہ ہوتا۔ مگر سراج نے طبیعت ہی جداگانہ پائی ہے۔ انہوں نے
جب حیدری کا ارادہ کیا تو بلیک آؤٹ کی گھٹا ٹوپ فضا یا سر پر منڈلاتے ہوے خطرات کا
عکس بھی اپنے دل و دماغ پر نہ پڑنے دیا۔ اس زمانہ میں سراج اپنے بال بچوں کے ساتھ
کچہری روڈ کے انتہائی سرے پر ملازموں کے کوارٹر میں مقیم تھے اور اسی دُور دراز
علاقہ سے حضور کی خدمت میں حاضر نہ ہوتے تھے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ایک روز
بلیک آؤٹ، سراج صاحب اپنی چارپائی سائیکل پر رکھے چلے آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے حضور کی خدمت میں روزانہ حاضری سراج
کے لئے لازمی نہیں کی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ سراج کا خاندان سندھی ہوٹل، قاسم آباد
میں ایک نیم تیار مکان میں اٹھ آیا۔ اس طرح کچہری روڈ کے مقابلہ میں حیدری تک کا
فاصلہ تقریباً نصف ہوگیا۔ خدمات کی عمدگی ، باقاعدگی اور حضور کی پسند یدگی کا
تقاضا تھا کہ سراج وقت اور فاصلہ کی اس سہولت سے حقیقی طور پر مستفیض ہونے کے لئے
اس حاصل شدہ فرصت کا وقت حضور کی خدمت میں صرف کریں۔
ایک شام حضور نے سراج سے دریافت کیا
کہ پچھلی رہائش سے حیدری آنے اور اب سندھی ہوٹل سے آنے میں کتنا وقت کم ہوگیا۔
سراج نے جواب دیا ،اب تقریباً نصف وقت رہ گیا ہے ۔ حضور مسکرائے مگر سراج حضور کا
مدعا نہ پاسکے۔ ایک ہفتہ کے ناغے بعد پھر وہی سوال ، وہی جواب ، سراج کی عدم
فہمی۔تیسرے ہفتے جب حضور نے وہی سوال دُہرایا تو اگرچہ سراج نے وہی جواب دیا مگر
اس دفعہ وہ مطلب کی تہ تک پہنچ چکے تھے۔ زبان سے اقرار تو نہ کیا مگر دل میں ٹھان
لی کہ اگلے روز سے حاضری روزانہ ہوگی اورپھرحضور
کے وصال تک حاضری اور خدمت روزانہ کا معمول بن گئی۔ جذبۂ اطاعت کی فراوانی اور
حضور کی قربت کے نشے سے سرشاری کا یہ عالم ہے کہ سراج اب تک تقریباً روزانہ ہی
مزار اقدس پر حاضری دیتے اور ہر جہت سے خدمت بجا لانے میں مسرت اورفخر محسوس کرتے
ہیں۔
جس تند ہی ، جاں فشانی اور انتہائے
عقیدت و احترام کے ساتھ سراج نے حضور قلندر بابا کی خدمت کی ہے ، اس کا تصور تو
کسی حد تک کیا جاسکتا ہے مگر لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ والدین میں ماں کی محبت
اور خدمت ضرب المثل ہے۔ ماں بھی جذبۂ مامتا کے تحت عمر کے ایک خاص مقام تک اپنے
جگر گوشہ کی خدمت کرتی ہے مگر اس کے بعد جیسے جیسے بچہ شعور حاصل کرتا جاتا ہے،
ماں بتدریج اپنے آپ کو علیحدہ کرتی جاتی ہے۔ ابھی بلوغ کی منزل وارد ہوئی ہے کہ
وہی لخت جگر جو اپنی ماں کی آنکھ کا تارا تھا اور جس کی معمولی سی تکلیف سے ماں کی
نیند اڑجاتی تھی ، کم سنی میں ماں کی ڈانٹ ڈپٹ اور کرخت لہجہ میں گفتگو کا شکار
ہوجاتا ہے۔ مگر سراج نے خدمت کے اس معیار کو بھی مات دے دی۔حضور کی چاہت اور شفقت
بھی قابل رشک تھی۔ گھر کے سودا سلف کی فراہمی اور کپڑوں کی دھلائی صفائی عام بات
تھی۔ اس پرمُستزا د سہ پہر کے 6-5
بجے سے رات کے گیارہ بجے تک سراج حضور کی خدمت میں ہمہ تن
مصروف رہتے تھے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ سراج کو گھر کی نگہداشت اور فکر
معاش کے لئے کتنا وقت ملتا تھا۔ عقل عاجز اور درماندہ ہے کہ اس جذبۂ سپردگی اور
حوصلۂ تسلیم ورضا کا احاطہ کس طرح کرے۔
سراج کا معمول تھا کہ روزانہ 5 اور 6 بجے کے درمیان
حیدری پہنچ جاتے تھے۔ سائیکل ساتھ والے مکان میں رکھ کر اور سودا سلف درونِ خانہ
حوالہ کرکے ہنستے مسکراتے تیز قدموں سے چل کر حضور اور حاضرین کو سلام کرتے اور
قدموں کی طرف فرش پر بیٹھ جاتے تھے۔ اس وقت معتقدین اور احباب بھی ایک ایک کرکے
جمع ہوجاتے اور گفتگو کا سلسلہ چل نکلتا۔ حضور کا معمول تھا کہ ہر آنے والے کو
بیٹھنے کے ساتھ چائے کی پیالی پیش کرنے کا حکم دیتے اور سراج لپک کر اس کی تعمیل
کرتے ۔
دوران گفتگو دل چسپی کے ساتھ سنتے
مگر مداخلت نہ کرتے۔ تاہم ذہن برابر مفید مطلب نکات کی تلاش میں لگا رہتا تھا۔
حضورکا یہی اندازِ تعلیم اور طریق افہام تھا کہ حاضرین توجہ سے گفتگو سنیں اور
اپنا مطلب و مدعا بیان کئے بغیر اپنے مسئلہ کا حل معلوم کرلیں۔ حضور بابا صاحبؒ
شاذ و نادر ہی کسی نجی معاملہ پر ضرورت مند سے براہ راست مخاطب ہوتے۔ ظاہر ہے کہ
ہر حاضر باش کوئی نہ کوئی دینی، دنیاوی ، خاندانی یا معاشی ضرورت
ذہن میں رکھتا تھا۔ باباصاحب ہر ایک کے
دلِ اضطراب یا احتیاج سے باخبر ہوتے تھے ۔ گفتگو کسی نہج سے ہو یا موضوع خواہ کچھ
ہو، حضور کے ارشادات میں موضوع گفتگو سے گریز کے بغیر ایسے نکات اور اشارات شامل ہوتے تھے جن سے ہر ضرورت مند کے مسئلے کا
حل ضرور نکل آتا تھا۔
عرض یہ کرنا ہے کہ دوران گفتگو سراج
بھی حاضرین مجلس کا ایک رکن ہوتے تھے۔ اور ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے کے لئے گوش
برآواز رہتے تھے۔ مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد حضورؒ جب لیٹنے کا ارادہ کرتے تو
سراج بستر تکیہ درست کرکے ہلکے ہاتھوں اور ایک خاص rhythm
متوازن اتار چڑھاؤ کے ساتھ حضور ؒکے ہاتھ پاؤں کمردباتے یہاں تک کہ حضور سراج کو
گھر جانے کی اجازت دیتے یا اٹھ بیٹھتے اور پھر ہلکی پھلکی بات چیت چل نکلتی ۔کبھی
کبھی سراج سے کہتے ”حقہ پلاؤ۔ “یہ حقہ کیا تھا؟ سراج کا پسندیدہ ، تیز عام معیار
کا K2 سگریٹ۔اسی سگریٹ کے چند ابتدائی کش لے کر سگریٹ سراج کو واپس کر
دیتے۔ سگریٹ حضور کے لب کے لمس لے کر اب سراج کے ہونٹوں میں ہوتا۔ سراج آنکھوں کی
چمک اور عجیب سرور آمیز کیف یا کیف آمیز سرور کے ساتھ وہ سگریٹ ختم کرتے اور حضور
کی اجازت سے گھر واپس ہوتے۔ یہ اعزاز اور شفقت سراج کے علاوہ شاید ہی کسی اور کا
نصیب رہا ہو۔
مے پرستی کا مزہ جب ہے کہ ساقی کہہ اٹھے
مے میں وہ مستی کہاں جو میرے مستانہ میں ہے
یہ سلسلہ اور معمول مہینوں بلکہ
سالوں پر محیط رہا ۔ وسط 1977 ء سے حضور بابا صاحبؒ کی صحت میں اضمحلال کے آثار شروع ہوئے مگر حضورؒ
نے اپنے معمولات میں فرق نہ محسوس ہونے دیا، رفتہ رفتہ اس کمزوری نے بیماری کی شکل
اختیار کرلی اور علاج شروع ہوگیا۔طبیعت کا
اتارچڑھاؤ جاری رہا مگر مکمل صحت یابی کے آثارپیدا نہ ہوسکے۔ کم و بیش یہی کیفیت
وسط 1978ء تک رہی۔ اب سراج کی ذمہ داری اور فکر مندی بھی بڑھ گئی اور اسی کے
ساتھ خدمت کی مقدار بھی ۔معلوم ہوتا ہے قضا وقدر نے پہلے ہی سے اپنے ارادہ اور مشیت
سے حضورؒ کو آگاہ کردیا تھاجسے حضورؒنے برضا و رغبت تسلیم بھی کرلیا تھا۔ ان کے
مشن کی ترویج و تکمیل میں جمود پیدا ہوچلا تھا، ہو سکتاہے کہ اس صورت حال سے متاثر
ہو کر حضور نے اس مادی دنیا میں قیام کو ضروری نہ سمجھا ہو۔ بہر حال یہ ایک نکتۂ
فکر ہے۔ اصل حقیقت سے اللہ تعالیٰ اورحضور قلندر بابا ہی آگاہ ہیں۔
اصل
بیماری کو نہ تو کوئی سمجھ سکا اور نہ ہی حضور نے کبھی اسے ظاہر ہونے دیا۔ نتیجہ
یہ ہوا کہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ حضور نے محض بہی خواہوں کی دل جوئی کی خاطر
اپنے آپ کو ہر قسم کے علاج کے لئے پیش کردیا۔ معالج جو بھی علاج اور پرہیز تجویز
کرتے وہ اسی پر عمل شروع کردیتے۔مگر بیماری تھی کہ مستقل ہوتی گئی۔ جون 1978ء تک کمزوری کے باعث اکثر لیٹے رہتے اور
اسی حالت میں لوگوں کو حاضری کا موقع دیتے ۔ ورنہ اس سے ڈیڑھ سال پہلے تک قدرتی
عمر رسیدہ ہونے اور بعد میں بیماری میں مبتلا ہوجانے کے باوجود حضور قلندر بابا
اولیاء سہ پہر سے رات کے دس گیارہ بجے تک مستقل بیٹھے رہتے اور اسی توجہ سےلوگوں
کے مسائل سنتے تھے مگر اب حالات بتدریج نئی تردد انگیز شکل اختیار کررہے تھے۔ کھا
نے پینے میں تکلیف بڑھ گئی تو معالجین اور ماہرین نے گلے کے کینسر کا شبہ ظاہرکیا۔
حضور ؒکی عدم صحت کی یہ آخری تشخیص تھی اور اس سلسلے کا ہر علاج آخری اور ناکام ثابت ہوا۔
حضور قلندر بابا کی خدمت و جاں
نثاری کا جتنا صبر آزما اور ہمت طلب یہ دور تھا۔ اسی نسبت سے سراج نے اپنی ذہنی
اور روحانی تربیت اور وابستگی کے طفیل اس گراں بہا فرض کو اپنے اوپر آسان کرلیا۔
خیال فرمائیے کہ شام کی حاضری مستقل طور پر جاری ہے۔اور وہاں سے فارغ ہوکر رات کے
دو ڈھائی بجے پھر حاضر ہونا ہے۔ مگر آفرین ہے سراج کی ہمت اورحضور ؒکے ساتھ
وابستگی، محبت اور وارفتگی کے جذبہ پر کہ انہوں نے پیشانی پر بل آنے کا خیال تک نہ
آنے دیا۔ حضورؒ نے شوال سے اگلے ماہ صفر تک کا زمانہ دردوکرب سے گزارا۔ ملنے والوں
اور عقیدت مندوں سے گزارش کی گئی کہ انتہائی ضرورت کے سوا حضور ؒسے مخاطب نہ ہوں۔
گھر والوں کے علاوہ اگر کوئی شخص وہاں موجود ہو سکتا تھا تو وہ سراج تھے جو اب
زیادہ سے زیادہ وقت حضورؒ کی خدمت میں صرف کرتے تھے۔سچ پوچھئے تو اس نازک ترین دور
میں گھر والوں سے زیادہ سراج کی ضرورت تھی کہ وہی حضورؒ کو گود میں لے کر جہاں حکم
ہوتا لے جاتے ۔ ان کے علاوہ نہ کسی میں اتنی ہمت تھی اور نہ اجازت۔ دمِ واپسیں تک
سراج نے اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ایسی خدمات اور اتنی باقاعدگی اور جمع
خاطر کے ساتھ کہ فرشتوں کو بھی رشک آئے۔ جس جسمِ اطہر کو اپنے بازوؤں میں لینے کی
سعادت سراج کو حاصل ہوئی اسی جسم اطہر کے نورانی مظہر کو ملائکہ مقربین لئے پھرتے
ہیں۔ سراج نے حضور قلندر بابااولیاء کی بارگاہ میں جو نذرانہ ٔدل وجاں پیش
کیا اور جس پیار و شفقت سے اُسے حضو رؒنے قبول بھی فرمالیا اس کی حقیقت تک رسائی
ان ہی حضرات کے لئے ممکن ہے جو دریا ئے شہود کے شناور ہیں۔ جو لوگ سراج کی نجی
زندگی اور گوناگوں ذمہ داریوں کا علم رکھتے ہیں وہ محض مادی حیثیت سے ہی اس قربانی
اور جاں سپاری کی قدروقیمت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ معاشی اور خانگی الجھنیں انہیں
پہلے بھی پیش آتی تھیں اور اب بھی آتی رہتی ہیں مگر سراج کے پائے ثبات میں ذرالغزش
نہیں ہوئی۔
سراج زندہ دل ہیں اور خوش وقتی کےدل
دادہ ہیں لیکن انہوں نے قلندر بابا اور آپ سے وابستہ تمام امور کو اولیت دے رکھی
ہے۔ انہیں ذاتی آسائش اور تکمیل خواہش کی فکر فرض کی ادائیگی کے مقابلے میں دامن
گیر نہیں ہوتی۔
در رہِ محمل لیلیٰ کہ خطر ہاست بسے
شرط اول قدم آنست کہ مجنوں باشی
مقام شکر ہے کہ سراج نے حضور قلندر
بابا اولیاء کی خدمت و اطاعت کے راستے میں جو اول قدم اٹھا یا تھا۔ انہوں نے خطر
ہائے گوناگوں کو خاطر میں لائے بغیر ، جنون عشق کی کٹھن مسافت طے کرتے ہوئے منزلِ
مراد کو حاصل کرلیا ہے۔ سراج بجا طورپر اپنی لازوال قربانی اور بے مثال کامیابی پر
قابل مبارکباد ہیں۔
عشق کی ایک جست نے طے کردیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں
ان کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ اس
بیماری کور روحانی قوتوں سے ختم کردیں ۔ فرمایا :
”میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے کہ میں عوام کی طرح دنیا میں رہوں،عوام کی طرح
علاج کراؤں اور عوام کی طرح نقل مکانی کروں۔ “
وصال سے
ایک گھنٹہ قبل بھائی سراج صاحب نے جانے کی اجازت چاہی ، فرمایا : اچھا جاؤ، خدا حافظ، صبح جلد آجانا۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ بھائی سراج صاحب نے پیر
ومرشد کا حق خدمت ادا کردیا۔ قبلہ خواجہ صاحب اور چند دوسرے متوسلین حضرات کی
موجودگی میں ایک بار جنت کا تذکرہ ہورہا تھا۔ قبلہ حضورؒ نے فرمایا،
میں نے ایک
دھوبی کی پیشانی پر جنت کی مہر دیکھی ہے، یہ دھوبی سراج صاحب ہیں۔