Topics
میلہ اپنی تمام تر سرگرمیوں اور
مصروفیتوں کے بعد ختم ہوچکا تھا۔ اس میلے کو پُشکر کا میلہ کہتے تھے اور یہ میلہ
اجمیر شریف کے قریب منعقد ہوتا تھا۔ میلے میں شرکت کے لئے آنے والے ایک خاندان کا
تعلق ضلع ہزارہ سے تھا۔ اس متمول اور امیر کبیر خاندان کے سربراہ نے اجمیر شریف
پہنچ کر اپنی بیوی سے کہا!
"ہم اجمیر شریف آئے ہیں تو
خواجہ صاحب کی درگاہ پر ضرور حاضری دینی چاہئے۔ بیوی نے جواب دیا، ٹھیک کہتے ہیں ۔
میں نے بھی یہی سوچا تھا کہ حضرت کی درگاہ کے درشن کرلوں۔دونوں نے حضرت خواجہ معین
الدین چشتی کی درگاہ شریف جانے کی تیاری شروع کی تو ان کا چھ سات سالہ بیٹا بھی
ساتھ جانےکی ضد کرنے لگا۔
پتا جی،میں بھی درشن کے لئے جاؤں گا۔
مجھے بھی لے چلیں ۔باپ نے سمجھایا بیٹا، تم وہاں جاکر کیا کروگے۔لڑکا نہ مانا اور
اس نے ساتھ جانے کی ضدجاری رکھی لیکن والدین کئی عُذر پیش کرکے اور اسے خادم کی
نگرانی میں چھوڑ کردرگاہ خواجہ غریب نواز چلے گئے۔
بچے کو ساتھ نہ جانے کا بہت صدمہ
ہوا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ مسلسل روتے روتے اس کے اوپر نیند کا غلبہ
ہوگیا اور وہ سو گیا۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ ایک نوراانی شکل و صورت کے بزرگ اس
سے کہہ رہے ہیں۔
” بیٹا ! کیوں روتے ہو؟ تم میرے پاس
نہیں آئے تو کیا ہوا۔ میں خود تمہارے پاس آگیا ہوں “، بچے نے دریافت کیا،” آپ
کون ہیں؟ “ بزرگ نے بتایا، بیٹا! میں وہی
ہوں جس کے پاس تیرے ماں باپ گئے ہیں۔ انہوں نے تجھے میرے پاس نہیں آنے دیا۔ اس لئے
میں خود تیرے پاس آیا ہوں۔ تیرے ماں باپ تو مٹی کی دیواریں اور پتھر دیکھ کرواپس
آجائیں گے لیکن تونے یہیں رہ کر مجھے دیکھ لیا ہے۔
بزرگ کے الفاظ میں ایک خاص اپنائیت
اور کشش تھی اور ان کے وجود میں سے نکلنے والی نورارنی لہریں بچے کو اپنے اندر جذب
ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔یہ الفاظ ادا کرکے بزرگ واپس چلےگئے۔
بچہ نیند سے بیدار ہوا ، اسے اپنے
اندر لطافت اور احساس طمانیت کا بھر پور احساس ہوا۔ وہ خوش خوش کھیلنے میں مشغول
ہوگیا۔ والدین واپس آئے تو بچے کو خوش دیکھ کر خیال کیا کہ بچہ کھیل میں اپنی ضد
بھول چکا ہے۔ چند روز بعد یہ خاندان واپس اپنے وطن چلا گیا۔ اس لڑکے کا نام راجیش
تھا۔
دن گزرتے رہے اور راجیش اسکول کا
زمانہ گزارکر کالج میں جا پہنچا ۔ راجیش ایک سمجھدار نوجوان تھا اوراس کے اندر ایک
خاص قسم کی کشش تھی جس سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔
کالج میں وہ ایک ذہین اور محنتی طالب
علم شمار ہوتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ روزانہ صبح ہلکی ورزش کرتا اور دوڑلگاتا
تھا۔ صبح جب وہ پشاور چھاؤنی کے قریب سے گزرتا تو اکثر ایک انگریز لڑکی گھوڑا
دوڑاتی ہوئی قریب سے گزر جاتی تھی۔ یہ لڑکی گھوڑا دوڑاتی ہوئی قریب سے گزر جاتی
تھی۔ یہ لڑکی نہایت معصوم اور حسین تھی۔ راجیش کو اس لڑکی کے اندر اپنے لئے
نامعلوم کشش محسوس ہوتی تھی۔ وہ ایک ہندوستانی نوجوان تھا اور لڑکی انگریز تھی اور
ضرور کسی بڑے افسر کی لڑکی تھی۔ اگرچہ لڑکی حاکم قوم سے تعلق رکھتی تھی اس کے
باوجود راجیش توجہ ہٹانے کی بجائے اس میں دلچسپی لینے لگا۔ وہ اکثر کھڑا ہوجاتا
اور لڑکی گھوڑے پر سوار اسے دیکھتی ہوئی گزرجاتی ۔
ایک بار کسی دوست کے ساتھ وہ کلب گیا
جہاں دوست کے والد ملازم تھے۔ وہ استقبالیہ کے ایک طرف کھڑا تھا کہ اندر اسے وہی
لڑکی نظر آئی جسے وہ روز گھوڑے پر سوار گزرتے دیکھتاتھا۔لڑکی کی نظریں بھی اس سے
چارہوئیں۔ لڑکی کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر قریب آکر اس سے پوچھا!
”میرا خیال ہے کہ میں نے تمہیں کہیں
دیکھا ہے۔“
”آپ کا خیال درست ہے۔ میں روز صبح
ورزش کےلئے نکلتا ہوں۔ اس وقت آپ گھُڑ سواری کرتی ہیں۔ ہمارا سامنا پشاور چھاؤنی
کے پاس ہوتا ہے۔“
ٹھیک کہہ رہے ہو مجھے یاد آگیا۔ یہ
بتاؤ تم یہاں کیسے آئے ہو؟
میرے دوست کے والد یہاں ملازم ہیں
اور دوست اپنے والد سے ملنے آیا ہے۔ کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟ راجیش نے
سوال کیا۔اسی وقت لڑکی نے دور سے ایک انگریز کو آتا دیکھ کر کہا،سوری ! ڈیڈی آرہے
ہیں اور دوڑتی ہوئی ان کے پاس پہنچ گئی۔ پھر وہ دونوں مرکزی دروازے سے نکل کر چلے
گئے۔
چند روز بعد راجیش صبح کے وقت چھاؤنی
کے قریب سے گزرا تو بےاختیار اس کی متجسس نگاہیں راستے پر لڑکی کو تلاش کرنے لگیں۔
اچانک وہ اسے گھوڑے پر سوار درختوں کے درمیان سے نکلتےہوئے دکھائی دی، لڑکی نے بھی
اسے دیکھ لیا تھا۔ اس نے گھوڑے کی رفتار آہستہ کی اورراجیش کے قریب پہنچ گئی۔
ہیلو مسٹر۔۔اس نے اپنا جملہ ادھورا
چھوڑدیا۔مجھے راجیش کہتے ہیں۔ راجیش نے اپنا تعارف کرانے کے بعد اس کی طرف سوالیہ
نگاہوں سے دیکھا، لڑکی نے خود ہی اپنا تعارف کرایا۔ میرا نام کیتھی ہے۔ میرے ڈیڈی
میجر ولیم پشاور میں تعینات ہیں۔ کیاتم پڑھ رہے ہو؟
راجیش نے بتایا کہ وہ کالج کا طالب
علم ہے۔ وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے کافی آگے نکل گئے۔ پھر انہوں نے ایک دوسرے کو
خداحافظ کہا اور واپس ہوگئے۔
پھر اکثر دونوں اسی طرح ملتے اور
باتیں کرتے ہوئے شہر کے نواح تک چلے جاتے۔ راجیش کو کیتھی میں خاص کشش اوراپنائیت
محسوس ہوتی تھی اور کیتھی بھی راجیش کے اندر ایک مقناطیسی قوت محسوس کرتی تھی۔
راجیش کے امتحانات قریب آگئے تھے۔
ایک دن وہ رات کو دیر تک پڑھتا رہا، رات کو بستر پر لیٹا تو پریشان تھا کہ کہیں
صبح آنکھ نہ کھلے او وہ کیتھی سے ملنے نہ پہنچ سکے۔ علی الصبح بہت سویرے اچانک اس
کی آنکھ کھل گئی، یوں لگا جیسے کسی نے ہوشیار کردیا ہے۔ وہ وقت سے پہلے بیدار
ہوگیا تھا۔ کپڑے بدل کر باہر نکلا اور مقررہ جگہ پر پہنچا۔کیتھی بھی آپہنچی۔ راجیش
نے اسے بتایا، میرے امتحانات ہونے والے ہیں اور امتحانات کے بعد مجھے دو ماہ کےلئے
ہزارہ جانا ہوگا۔گھر والے میرا انتظار کررہے ہیں۔
کیتھی اداس ہوگئی، راجیش کے لئے بھی
اس سے جُدائی کا تصور سوہانِ روح تھا۔ وہ خاموش کھڑا سوچ رہا تھا کہ کاش یہ چھٹیاں
کبھی نہ آتیں اور کیتھی کے قُرب سے محروم نہ ہوتا۔ کیتھی نے کچھ سوچ کر کہا،میں
تمہیں اپنی سہیلی کا پتہ دے دیتی ہوں۔ تم اس پتے پر خط لکھتے رہنا۔ دو ماہ کی تو
بات ہے وقت گزر جائے گا۔
امتحانات ختم ہوئے اور وطن چلاگیا۔
اس نے پہنچتے ہی خط لکھا اور کیتھی کا جوابی خط آگیا۔دوسراخط روانہ کیا لیکن اس کا
جواب نہیں ملا، وہ پریشان ہوگیا اور طرح طرح کے خدشات دل میں پیدا ہونے لگے۔ بڑی
مشکلوں سے چھٹیاں گزار کر واپس پشاور پہنچا۔ واپسی کےدوسرے دن اسے ایک شخص نے
پیغام دیا،
”میجر ولیم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔شام
کو ان کے بنگلے پر آجائیےگا۔“
راجیش مقررہ وقت پر میجر ولیم کے
بنگلے پر پہنچا تو اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا۔ کچھ دیر کے بعد میجر ولیم
اندر داخل ہوا اور اس کے پیچھے کیتھی بھی اندر آئی ۔ میجر نے ایک خط کیتھی کے
سامنے کرتے ہوئے پوچھا،
کیا یہ خط تمہارے لئے ہے؟
کیتھی نے خط دیکھتے ہوئے کہا، جی ہاں۔
میجر نے غصے سے پوچھا، ایسا کیوں ہے؟
کیتھی نے جواب دیا، اس لئے کہ میں اس
سے محبت کرتی ہوں۔
میجر نے راجیش کے سامنے اس کالکھا
ہوا خط کرتے ہوئے پوچھا،
کیا یہ خط تمہارا ہے؟
راجیش نے بھی اسی طرح کہا،جی ہاں۔
اس جواب پر میجر ولیم نے اگلا سوال
کیا، تم نے یہ خط کیوں لکھا ہے؟
راجیس نے کہا، میں کیتھی سے محبت
کرتا ہوں۔
میجر ولیم اپنی بیٹی کی طرف پلٹا اور
کہا، کیتھی ! ایک بات اچھی طرح سن لو۔ ابھی تمہاری عمر کم ہے اور تم دو برس بعد
خود اختیاری کی عمر کو پہنچو گی۔ دو برس تک میں تمہارا سرپرست ہوں۔ اس وقت تک تم
اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کرسکتیں، اس کےبعد تمہاری مرضی ہےجو چاہے کرلینا۔ لیکن دو
برس تک تم میرے فیصلے کی پابند ہو۔ دو برس تک اس لڑکےسے ملنا اور خط لکھنا بند
کردو۔
پھر میجر ولیم راجیش کی طرف پلٹا،
نوجوان! کیتھی کے سرپرست کی حیثیت سے
میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم دو سال تک نہ اس سے ملو گے اور نہ خط لکھو گے ۔ اگر
میں نے تمہیں اس سے ملتے ہوئے دیکھ لیا یا اپنے بنگلے کے قریب بھی دیکھا تو بے
دریغ گولی ماردوں گا،اب تم جاسکتے ہو۔
راجیش
نے کیتھی کی طرف دیکھا اور کیتھی نے راجیش کی طرف دیکھ کر نظریں نیچی کرلیں، راجیش د ل پر پتھر رکھ کر واپس آگیا۔ وہ سوچ رہا
تھا کہ دو سال کا عرصہ زیادہ نہیں ہوتا۔ جب یہ عرصہ گزر جائے گا تو وہ اور کیتھی
ملنے کے لئے آزاد ہوں گے اور زندگی کا فیصلہ کرسکیں گے۔
راجیش اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں
مشغول ہوگیا اورمختلف ذرائع سے کیتھی کا حال اور اس کی خیریت معلوم کرتا رہا۔ ایک
دن اسے معلوم ہوا کہ کیتھی انگلستان چلی گئی ہے جب کہ اس کا باپ میجر ولیم ہندوستان
میں موجود ہے۔ اس خبر سے اس کا دل ڈوبنےلگا۔ یوں لگا جیسے حالات اس کے بس سے باہر
ہوتے جارہے ہیں اور وہ حالات کے سامنے مجبور ہوتا جارہا ہے۔ اسے یقین ہونے لگا کہ
اب وہ کیتھی کو کبھی نہ دیکھ سکے گا، اس
کیفیت میں چارپانچ دن گزرگئے۔ کھاناپینا بھی نہ ہونے کے برابر رہ گیا اور ذہن میں
ہر وقت کیتھی کاخیال رہنےلگا۔ ایک دن اچانک اس کےذہن میں ایک خیال بجلی کا کوندا
بن کر وارد ہوااور اس کے دل کو قدرے اطمینان حاصل ہوا۔
وہ جب چھٹیوں پر اپنے گھر پہنچا تو
ایک مناسب وقت پر اپنے والد سے کہا،
پتاجی! میری کالج ایجوکیشن ختم ہونے
والی ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے طب کی
اعلیٰ تعلیم کے لئے ولایت بھیج دیں۔
باپ نے راجیش کی طرف حیرت سے دیکھا
اور سمجھاتے ہوئے کہا،
بیٹا! تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ
ہندوستان میں میری بڑی جائیداد، املاک اور کاروبار ہے۔ تمام املاک اور کاروبار کی
دیکھ بھال اور انتظام کے لئے مستقل توجہ کی ضرورت ہے۔ میں اپنی عمر کے تقاضے کی
وجہ سے اس پر متواتر توجہ نہیں دے سکتا۔ تمہیں چاہئے کہ کاروباری معاملات کو سیکھو،سمجھو
اور اس کا انتظام سنبھال لو۔
راجیش باپ کے فیصلے سے متفکر ہوگیا
اور کہا، پتا جی! کاروبار اور جائیداد وقتی طورپر چھوڑ کر جاؤں گا، اس کا انتظام عارضی طور پر کوئی اور بھی سنبھال
سکتا ہے۔ طب میرا شوق ہے اور مجھے اس سے بہت دلچسپی ہے، میں اس علم کو ضرور سیکھنا
چاہتا ہوں۔
باپ نے کئی بار سمجھایا لیکن راجیش
مسلسل ضد کرتا رہا۔ بالآخر مجبور ہوکر اجازت دے دی اور راجیش انگلستان چلا گیا۔
انگلستان پہنچ کر تعلیم کے ساتھ ساتھ پوری سرگرمی سے کیتھی کو تلاش کرنے لگا۔ اس
نے ہندوستان میں متعین فوجی افسروں کے نام اور ان کی موجودہ پوسٹنگ معلوم کرائی۔
بالآخر اسے معلوم ہوا کہ میجر ولیم ریٹائرڈ ہوگیا ہے اور ان دنوں انگلستان میں موجود
ہے۔ ان تمام واقعات اور تلاش میں دو سا ل گزرچکے تھے۔ ایک دن اس نے کیتھی کا پتہ
بھی معلوم کرلیا۔
ہفتہ کےآخری ایام میں وہ اپنے شہر سے
کیتھی کے رہائشی قصبے میں پہنچا ۔ وہ اچانک کیتھی سے مل کر اسے حیرت زدہ کردینا
چاہتا تھا۔ دروازے پر پہنچ کر گھنٹی بجائی، کیتھی نے ہی دروازہ کھولا اور اسے سامنے دیکھ کر
حیرت اور خوشی سے بے حال ہوگئی۔ وہ دونوں خوش خوش باغ میں پہنچے ۔ کیتھی نے کہا،
راجیش! مجھے اپنی آنکھوں پر یقین
نہیں آرہا ہے ۔ میرا خیال تھا کہ تم مجھے بھول چکے ہوگے۔وہ کیسے؟ راجیش نے سوال
کیا۔
انسان وقتی جذبات میں بہت سی باتیں
کہنا ہے لیکن بدلتے حالات میں اس کے خیالات و جذبات بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔
راجیش نے مسکرا کر کہا، ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا ۔یہ وقت تمہیں بتائے گا۔
کیتھی نے مسکرا کر کہا، یہ تو بتاؤ تم یہاں کس طرح آگئے ؟ یہ بات تو میں
پوچھنا بھول گئی۔ راجیش نے کہا، تمہاری
تلاش مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ میں میڈیکل پڑھ رہا ہوں اور لندن میں قیام ہے۔ میں
نے والد کو مجبور کیا وہ مجھے میڈیکل کی تعلیم کے لئے لند ن بھیج دیں اور بالآخر
میں نے انہیں راضی کرلیا۔مقصد یہ تھا کہ میں یہاں پہنچ کر تم سے مل سکوں اور پھر
مسلسل تلاش کے بعد میں نے تمہیں ڈھونڈ نکالا۔
کیتھی راجیش کے جذبات کی قدر کرتے
ہوئے مسکرائی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بنچ پر بیٹھ گئی۔ وہ دیر تک باتیں کرتے رہے
اور پھر ملنے کا وعدہ کرکے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ راجیش بہت مسرور تھا اور خود کو بہت
ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔
وہ واپس لندن پہنچا تو چند روز بعد
کیتھی کا خط آپہنچا۔ خط دیکھ کر راجیش فکر مند ہوگیا لیکن خط کھول کر پڑھا تو
مسکرادیا۔ کیتھی نےاس کا حال معلوم کرنے کےلئے خط لکھا تھا۔ لیکن خط کےالفاظ میں
کیتھی کی ورافتگی وشیفتگی چھپی ُ ہوئی تھی۔ راجیش سے صبر نہ ہوسکا اور وہ مقررہ
وقت سے پہلے ہی کیتھی سے ملنے پہنچ گیا۔ اس نے کیتھی سے کہا،
کیتھی! میں تمہارے خط کے جواب میں
خود آگیا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ جلد
کرلینا چاہئے۔
کیتھی نے کہا،راجیش جلدی نہ کرو میں
کسی مناسب وقت کے انتظار میں ہوں۔ ڈیڈی سے بات کروں گی۔
راجیش خاموش ہوگیا۔
میجر ولیم کو راجیش کی انگلستان آمد
اور کیتھی سے ملاقاتوں کی خبر ہو چکی تھی ۔ ایک دن اس نے کیتھی سے کہا، کیتھی !
میرا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ تمہیں عقل آجائے گی اور تم زندگی کے معاملات کوبہتر سمجھنے لگو گی لیکن میں دیکھ رہا
ہوں کہ تم ابھی تک بچپن کے دور سے نہیں نکل سکی ہو۔
کیتھی نے جواب دیا، ڈیڈی! میں سمجھ
گئی ہوں کہ آپ کا اشارہ میری اور راجیش کی دوستی کی طرف ہے۔
میجر ولیم نے بات کاٹتے ہوئے کہا،
بات صرف دوستی تک ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن دوستی سے آگے بڑھ کر شادی کا فیصلہ
میرے خیال میں تمہاری بہت بڑی غلطی ہوگا۔
کیتھی نے کہا، ڈیڈی! راجیش ایسا نہیں
ہے۔ آپ اس سے مل کردیکھیں۔آپ خود کو وسیع الخیال کہتے ہیں پھر اس معاملے میں آپ کا
رویہ مختلف کیوں ہے؟
بیٹی! اس معاملے کا وسیع الخیال ہونے
سے تعلق نہیں ہے۔ تمہاری عمر کم ہے اور تم ابھی نا سمجھ ہو۔ جذبات کے ذریعے سوچ
رہی ہو لیکن میں حقائق کی روشنی میں تمہیں سمجھا رہا ہوں۔ میں ہندوستان میں کافی
عرصہ رہا ہوں اور وہاں کے لوگوں کی نفسیات بھی سمجھتا ہوں اور ان کے سماجی اور
معاشی حالات سے بھی باخبر ہوں۔
میجر ولیم اپنی بیٹی کو مسلسل سمجھاتے
ہوئے کہہ رہا تھا، راجیش ایک امیر کبیر
خاندان کا فرد ہے ۔ اگر اس کے باپ نے جائیداد اور روپے پیسے کو ایک طرف رکھ دیاتو
وہ بدل بھی سکتا ہے۔ امیر خاندان کے لڑکے جوانی میں محبت کا کھیل کھیلتے ہیں اور
وقت آنے پر بدل جاتے ہیں۔ اس سے تمہیں جو ذہنی و جذباتی صدمہ ہوگا، وہ میرے لئے
بھی شدید روحانی اذیت کا باعث بنے گا۔
کیتھی نے باپ سے کہا، ڈیڈی! راجیش
ایسا نہیں ہے۔ میں اسے اچھی طرح پرکھ چکی ہوں ۔ وہ روپے پیسے کےلئے بدلنے والا شخص
نہیں ہے۔
میجر ولیم نے مزید کہا، دوسری بات یہ ہے کہ ہماری معاشرتی اقدار اور ان
کے سماجی حالات میں بھی فرق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے لوگ عورت کے مقام
کو جس نظر سے دیکھتے ہیں، یورپ کے لوگوں کا نقطۂ نظر اس سے الگ ہے۔ تم ہندوستان
کے ایک خاندان کافرد بن کر خود کو مجبور محسوس کرو گی اور رفتہ رفتہ تمہیں تنہائی
اور مشکلات کا احسا س ہوگا۔ راجیش تم سے کتنا ہی مخلص سہی لیکن وہ خاندانی روایات
اور معاشرتی اقدار تو نہیں بدل سکتا۔ وہ جب ان روایات کی پاس داری کرے گا تو اس
وقت تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا۔
کیتھی نےباپ کی تمام باتوں کے جواب
میں کہا، ڈیڈی ! ضروری نہیں کہ راجیش بھی یہ سب کچھ کرے اور میرے لئے سب سے اہم
راجیش کا ساتھ ہے۔ اس کے آگے ساری باتیں ثانوی ہیں۔
باپ بیٹی کی یہ گفتگو کسی نتیجے پر
پہنچے بغیر ختم ہوگئی۔
راجیش اور کیتھی کی ملاقاتوں کا
سلسلہ جاری رہا۔ راجیش نے ایک بارپھر کیتھی سے پوچھا، کیتھی نے مسکراتے ہوے کہا
راجیش، جلد بازی سے کام نہ لو ۔ میں ڈیڈی کو سمجھا رہی ہوں کہ وہ بھی ہمارے فیصلے
کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے اس کی تائید کردیں۔ انہوں نے مجھے ہمیشہ بھر پور
شفقت دی ہے۔ اگرچہ وہ ذرا سخت طبیعت کے مالک ہیں لیکن اپنی بات پر بے جا ضد کرنے والے
نہیں ہیں۔میں جانتی ہوں کہ وہ ہمارے فیصلے کو اس لئے قبول نہیں کررہے ہیں کہ وہ اس
میں میرےلئے مشکلات اور نقصان تصورکررہے ہیں، نتائج کا خوف ان کے راضی ہونے میں رکاوٹ ہے، مخالفت
کی اور کوئی وجہ نہیں ہے۔میں انہیں راضی کرنا چاہتی ہوں تاکہ وہ بھی خوش
دلی سے ہمارے فیصلے میں شریک ہو سکیں۔ میں انہیں ناراض نہیں کرنا چاہتی۔
راجیش نے کہا، کیا تم نے انہیں نہیں بتایا کہ میں اس معاملے
میں کتنا سنجیدہ ہوں اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو؟
کیتھی نے راجیش کو سمجھایا، راجیش
میں انہیں قائل کرنے کی پوری کوشش کررہی ہوں ، مجھے امید ہے کہ وہ مان جائیں گے۔
اس طرح کئی ماہ گزرگئے لیکن میجر
ولیم راضی نہ ہوا۔ ایک دن کیتھی اور راجیش ملے توپھر یہ معاملہ زیرِ غور آیا۔
کیتھی نےکہا،
میں نے ایک ترکیب سوچی ہے۔ میں بیمار
بن جاتی ہوں۔ ہمارے فیملی ڈاکٹر بہت اچھےخیالات کے مالک ہیں اور انہیں اس معاملے
کا علم ہے ۔ میں کسی موقع پر انہیں قائل کرلوں گی کہ ڈیڈی کو میری بیماری کے حوالے
سے سمجھائیں کہ اگر ہماری شادی نہ ہوئی تو یہ جذباتی صدمہ میری زندگی بھی لے سکتا
ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈیڈی میری زندگی کو داؤ پر نہیں لگائیں گے۔
دن بدن کیتھی کی خاموشی بڑھتی گئی
اور اس نے زندگی کی سرگرمیوں میں حصہ لینا چھوڑدیا۔ خوش مزاج اور شگفتہ طبیعت بیٹی
کو جب اُداس و خاموش دیکھا تو میجر ولیم مضطرب ہوگیا۔ اور پھر ایک دن جب کیتھی کی
طبیعت خراب ہوئی اور وہ بستر سے لگ گئی تو اس نے فوراًفیملی ڈاکٹر کو بلوالیا۔ کئی
بار کے معائنے کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے میجر ولیم سے کہا،
میجر صاحب! میرا خیال ہے کہ کیتھی
ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ اگر یہ کیفیت برقرار رہی تو نروس سسٹم پر بھی
ناخوش گوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں بلکہ خدانخواستہ کوئی شدید مرض بھی لاحق ہوسکتا
ہے۔ اس سے پہلے تو کبھی میں نے کیتھی کو اس طرح کی حالت میں نہیں دیکھا۔
میجر ولیم اس نئے انکشاف سے بے حد
پریشان ہوگیا۔ کیوں کہ بات اس کی بیٹی کی زندگی تک جا پہنچی تھی۔ وہ اب تک جو
مخالفت کررہا تھا اس کی وجہ بیٹی کی کامیاب اور خوش گوار زندگی تھی لیکن اب اس کی
زندگی داؤ پر لگ گئی تھی۔ وہ میڈیکل کالج گیا جہاں راجیش زیر تعلیم تھا۔ پرنسپل
اور اساتذہ سے راجیش کے بارے میں ان کے خیالات معلوم کئے۔ اور اس معاملے کو راز
داری میں رکھا۔ پھر وہ ہوسٹل کی مالکہ کے پاس گیا جہاں راجیش ٹھہرا ہوا تھا۔ ہوسٹل
کی مالکہ سے بھی راجیش کی تمام سرگرمیوں اور اس کے کردار کے بارے میں معلومات حاصل
کیں۔
اس کاروائی کے بعد میجر ولیم کئی دن
غوروفکر میں ڈوبا رہا اور پھرایک فیصلہ کرلیا۔ وہ راجیش کے پاس پہنچا ۔ راجیش نے
اسے اپنے کمرے میں بٹھایا۔ میجر نےکہا:
میں چاہتا ہوں کہ پندرہ دن کے لئے تم
میرے ساتھ سیاحت کے لئے چلو۔
راجیش میجر ولیم کی اس پیشکش پر
حیران بھی ہوا ور متذبذب بھی۔اس نے کہا،
میجر صاحب! میں کس طرح جاسکتا
ہوں۔میرے امتحانات قریب آرہے ہیں اور مجھےتیاری کرنی ہے، ان حالات میں مجھے چھٹی بھی نہیں مل سکے گی۔
میجر ولیم نے کہا، زیادہ فعال بننے
کی کوشش نہ کرو۔ میں تمہارے پرنسپل سے رُخصت لے چکا ہوں لہٰذا فوراً تیار ہوجاؤ۔یہ
کہہ کر اس نے راجیش کو چھٹی کی اجازت نامہ دکھایا۔ راجیش کی سمجھ میں نہیں آرہا
تھا کہ اس پیشکش کو کیا معانی پہنائے۔ بالآخر اس نے ساتھ جانے کا فیصلہ کرلیا اور
نہانے کے لئے واش روم چلا گیا۔
اس دوران میجر ولیم نے راجیش کے کمرے
کا اچھی طرح معائنہ کیا۔ چابیوں سے اس کی الماری کھول کر تمام چیزوں کا بغور جائزہ
لیا۔ اس کو کوئی ایسے شے نہ مل سکی جس سے راجیش کے بارے میں غلط تاثر قائم ہو سکے۔
ایک بکس میں اسے وہ تمام خطوط بھی ملے جو اس کی بیٹی کیتھی نے راجیش کو لکھے تھے۔
وہ غسل خانے سے نکلا اور تیار ہوا تو میجر نے اسے بٹھا کر کہا،
راجیش! مجھے معلوم ہے کہ کیتھی اور
تم عمرکےجس دور میں ہو اس میں جذبات زیادہ ہوتے ہیں اور عقل کا دخل کم ہوتا ہے۔ اس
بات پر ایک بار پھر غورکرلو جب تمہارے باپ کو معلوم ہوگا کہ تم نے انگلستان میں
ایک غیر ہندو لڑکی سے شادی کرلی ہے تو وہ کتنا ناراض ہوگا۔ وہ تمہیں جائیداد اور
کاروبار سے بھی بے دخل کرسکتا ہے۔ تم انگلستان میں شاید مستقل نہ رہ سکو کہ یہاں
کا موسم اور یہاں کا طرز زندگی تمہیں اچھی نہ لگے اس لئے کہ تم اندر سے تو ایک
ہندوستانی ہو۔ کیتھی ابھی ہندوستان کی تہذیب سے ناواقف ہے ، وہ ہندوستانی تہذیب اور ہندوستان کی آب وہوا میں کس طرح رہ سکے گی۔
تم دونوں کی زندگی خراب ہوجائے گی۔
راجیش نے مسکرا کرکہا، میجرصاحب! ہم
نے ان باتوں پر اچھی طرح غور کرلیا ہے آپ کو ان باتوں کی فکر کی ضرورت نہیں ہے۔
میجر نے راجیش کو ساتھ لیا اور اپنے
گھر لے جاکر ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا ۔ ابھی وہ نیچے ہی تھا کہ اوپر سے کیتھی کی
آواز آئی،
ڈیڈی! آپ میرے لئے کچھ لائے ہیں؟۔
میجر
ولیم نے کہا، میں تمہارے لئے جو کچھ لایا
ہوں وہ تم ڈرائنگ روم میں جاکر دیکھ سکتی
ہو۔
کیتھی تجسس کے عالم میں تیزی سے
سیڑھیاں اُترتی ہوئی ڈرائنگ روم میں پہنچی تو راجیش کو دیکھ کر دم بخود رہ گئی۔اس
کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اتنے میں میجر ولیم ڈرائنگ روم میں داخل
ہوا۔ اس نے راجیش سے کہا،
راجیش! جب تم کیتھی سے اتنی محبت
کرتے ہوتو تم عیسائیت اختیارکرلو تاکہ مذہبی فرق تم دونوں کے درمیان اختلاف نہ
پیدا کرسکے۔
راجیش نے کیتھی کی طرف دیکھا تو اس
نےباپ کی تائید میں سرہلادیا۔ راجیش نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا،
آپ کو معلوم ہے کہ میں مذہبی طور پر
شدت پسند نہیں ہوں اور میرا مسلک انسانیت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسانیت کسی بھی
مذہب میں رہ کر اختیار کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر آپ میرا امتحان لینا چاہتے ہیں تو
مجھے عیسائی ہونے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
میجر ولیم اور کیتھی دونوں کے چہرے
خوشی سے کھل اُٹھے ۔ وہ سب ساتھ چرچ گئےجہاں راجیش نے عیسائیت اختیار کرلی اور پھر
کیتھی سے اس کی شادی ہوگئی۔
راجیش اور کیتھی دونوں بہت خوش تھے
اور دونوں کے دن ہنسی خوشی گزرنے لگے۔ شادی کے ایک سال بعد کسی نے راجیش کے والد
کو سب حالات لکھ دیے کہ تمہارا لڑکا عیسائی ہوگیا ہے اور انگریز لڑکی سے شادی کرلی
ہے۔ راجیش کا باپ سخت غصہ ہوا اور اس نے راجیش کا خرچ بھیجنابند کردیا۔ معاشی
پریشانی پیدا ہوئی کیونکہ ابھی راجیش تعلیم کے مراحل طے کررہا تھا۔ میاں بیوی
دونوں فکر مند رہنے لگے۔ ایک روز میجر ولیم ان کے پا س آیا اور ایک لفافہ انہیں دے
کر کہا،
یہ لفافہ کیتھی کی والدہ کی طرف سے
ہے اور تم دونوں اس کے مالک ہو۔
بعد میں جب لفافہ انہوں نے کھولا تو
اس میں ایک خطیر رقم کاچیک موجود تھا۔ دونوں بہت خوش ہوئے اورپھر آسائش کی زندگی
گزارنے لگے۔ اس خوش وخرم زندگی میں ان کے کئی بچوں کی پیدائش ہوئی اور راجیش نے طب
کا امتحان پاس کرکے پریکٹس بھی شروع کردی۔
ایک رات راجیش سویا تو اس نے خواب
میں دیکھا کہ ایک نورانی صورت شخصیت اس کے سامنے موجود ہے۔ انہوں نے راجیش سے کہا!
تم نے اپنی زندگی کا ایک دور خوش
وخرم گزار لیا۔ اب اگلے مرحلے کے لئے یہاں ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہارا انتظار کررہے ہیں۔
راجیش نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا !
آپ ہیں کون؟
نورانی چہرہ بزرگ نےکہا!
یاد کرو جب تم چھوٹے تھے اور تمہارے
ماں پاپ تمہیں روتا چھوڑ کر اجمیر ہمارے پاس آگئے تھے لیکن ہم خود تمہارے پاس آئے
تھے۔
بزرگ کے ان الفاظ کے ساتھ ہی راجیش
کے ذہن میں ایک فلم سی چل پڑی اور وہ تمام باتیں اس کے سامنے سے گز رگئیں جن کا
تذکرہ بزرگ نے کیا تھا۔ اسے اجمیر شریف کا واقعہ یاد آگیا کہ وہ ایک کمرے میں روتا
ہوا سو گیا تھا اور پھر اس نے عالم تصور میں ہی دیکھا کہ یہی بزرگ اس سے اپنا
تعارف کرارہے ہیں۔
خواب دیکھتے ہی اس کی آنکھ کھل گئی ۔
رات کا پچھلا پہر تھا اور ہر سو سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کیتھی اس کے برابر لیٹی
بےخبر سورہی تھی۔ راجیش نے چاہا کہ کروٹ بدل کر سو جائے لیکن خواب کا تاثراتنا
گہرا تھا کہ اس کی نیند اُڑ چکی تھی اور وہ خواب کےبارے میں سوچنے پر مجبور ہوگیا
تھا۔ خواب باربار خود کو دُہرارہا تھا۔ راجیش کو صرف اتنا معلوم تھا کہ اجمیر شریف
میں ایک مسلمان مہاتما کا مزار ہے جن سے ہندو اور مسلمان دونوں عقیدت رکھتے ہی۔
راجیش مذہبی معاملات اور مافوق الفطرت واقعات پر زیادہ یقین نہیں رکھتا تھا۔ ایک
طبیب ہونے کی وجہ سے بھی وہ ان چیزوں کا قائل نہیں تھا اور اسے انسانی ذہن کا ایک
خیالی مظہر سمجھتا تھا۔
لیکن یہ خواب دیکھنے کے بعد وہ سوچنے
پر مجبور ہوگیا ۔ آخر اس نے ایسا خواب کیوں دیکھا ہے۔ کافی دیر غور کرنے کے بعد
راجیش نے اپنے ذہن میں خواب کی تعبیر نکال لی۔وہ سوچنے لگا خواب وخیالات انسانی
خواہشات اور دبی ہوئی آرزوؤں کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ جب انسانی خواہش حد سے زیادہ
ہوجاتی ہے تو انسان اسے خواب میں پورا ہوتا دیکھ کر آسودگی حاصل کرلیتا ہے۔ بچپن
میں جب میرے ماں باپ نے مجھے اپنے ساتھ نہیں لے گئے اور میں ساتھ جانے کی گہری
خواہش لئے سو گیا تو خواب میں اپنی خواہش کو نورانی شکل بزرگ کی صورت میں دیکھ
لیا۔ پھر سالہا سال گزرنے کے بعد اس سے ملتا جلتا منظر دیکھنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے
کہ وطن کی یاد اور وطن سے تعلق کے خیالات پھر ایک مرتبہ میرے اندر متحرک ہوگئے
ہیں۔اسی لئے میں نے ایک بار پھر بچپن کے واقعے کو دوبارہ اس طرح دیکھ لیا ہے اور
یہ سب کچھ وطن سے تعلق کی وجہ سے ہے۔ راجیش نے یہ تمام باتیں سوچنے کے بعداپنے دل
کو تسلی دی کہ یہ سب محض خیالی باتیں ہیں اور پھر وہ کروٹ بدل کر سوگیا۔
کچھ عرصہ بعد راجیش نے خواب میں
دوبارہ انہی بزرگ کو دیکھا۔ بزرگ نے کہا،
ہر بات کےلئے وقت مقرر ہے اگرتم نے
وقت پر قدم نہ اُٹھایا اور ہمارے پاس نہیں آئے تو مشکلات میں گرفتار ہو جاؤگے۔
راجیش نے خواب کو ایک بار پھر اپنے
خیالات او رخواہشات کا اعادہ سمجھ کر اسے رد کردیا اور اپنے کاموں میں مشغول
ہوگیا۔ کچھ عرصہ بعد بزرگ تیسری بار خواب میں دکھائی دیے۔ ان کےاطوار بدلے ہوئے
تھے اور لہجے میں سختی تھی۔ فرمایا،
تمہارے لئے جو امر مقر ر ہے وہ بہر حال
پوراہونا ہے۔اگرمخالفت کی راہ پر چلو گے تو مصائب اور حالات خود تمہیں صحیح راستے
پر لے آئیں گے۔ تمہارے پاس ایک ماہ کی مہلت ہے۔
راجیش چونک کر اُٹھ بیٹھا اس نے خواب
کے بارے میں ایک بار پھر بے توجہی برتی۔ اس کے پاس کیتھی تھی، معاشرے میں ایک مقام تھا، معاشی فراخی تھی پھر
اس کی تعلیم اور ماحول کا پس منظر بھی اس کے فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا
تھا۔بالآخر اس نے خواب کو ذہنی پریشانی کا شاخسانہ قرار دے کر اسے فراموش کردیا۔
زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھاکہ اس کا
بچہ بیمار ہوگیا۔ وہ خود ڈاکٹر تھا اور مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹر اس کے دوست تھے
لیکن کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ بیماری کی کیا وجہ ہے۔ پھر ایک دن اس کا بیٹا
اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ بیٹے کی وفات سے راجیش صدمے سے بے حال ہوگیا۔ کچھ عرصہ
نہیں گزرا تھا کہ بیٹی بھی نا گہانی طور پر انتقال کر گئی۔راجیش کی سمجھ میں نہیں
آرہا تھا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔
راجیش اور کیتھی دونوں بے حد اُداس
رہنے لگے۔ کیتھی کی صحت تیزی سے گرنے لگی اور وہ بستر سے لگ گئی ۔ راجیش ہر طرح
سےا س کی دل جوئی کرتا،گھنٹوں پاس بیٹھتا۔ وہ دونوں گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتے
لیکن کیتھی کی کھوئی ہوئی صحت واپس نہیں آئی۔ ایک دن راجیش کی نظریں کیتھی کے چہرے
پر جمی ہوئی تھیں اور ماضی کے واقعات ایک ایک کرکے چشم تصور کے سامنے سے گزر رہے
تھے۔ نوجوانی میں کیتھی سے ملاقاتیں ، پھر انگلستان میں کیتھی سے ملاپ اور پھر
شادی ، اور شادی کا ابتدائی خوش وخرم عرصہ سب ایک ایک کرکے اس کے سامنے آرہا تھا۔
کیتھی کا حسین، شگفتہ اور معصوم چہرہ زمانہ کے نشیب و فراز سے گزر کر اپنی دل کشی
کھو چکا تھا۔ کیتھی نے راجیش کو پریشان سوچتے ہوئے دیکھا تو اس کی آنکھیں بھرآئیں،
راجیش سے کہا،
راجیش! مجھے معلوم ہے کہ تم کیا سوچ
رہے ہو۔ تمہیں یاد ہے کہ شادی کے لئے میں نے بیماری کا بہانہ بنایا تھا اور ایک
عرصہ تک بیمار بنی رہی تھی لیکن آج میں سچ مچ بیماری کے شکنجے میں گرفتار ہوگئی
ہوں، نکلنا چاہتی ہوں لیکن نکل نہیں سکتی
۔ کبھی کبھی میں اپنے اندر موت کے سائے لہراتے محسوس کرتی ہوں۔ راجیش میں تم سے
جدا ہونا نہیں چاہتی ، کیا مجھے اس بیماری
سے نجات نہیں ملے گی، تم مجھے سچ سچ بتادو۔
راجیش کے آنسو بہنے لگے۔ نہیں کیتھی
! تم ایسی باتیں نہ کرو ، تم ضرور اچھی ہو جاؤگی۔ انسان کبھی بیمار ہوجاتا ہے اور
پھر صحت بھی ہو جاتی ہے، تم اچھی ہو جاؤ
گی ۔ جب تم اچھی ہو جاؤگی تو تمہیں یہ بیماری ایک خواب معلوم ہوگی۔راجیش یہ باتیں
کہہ رہا تھا لیکن اس کے دل میں خوشی کا عنصر مفقود تھا ۔ وہ اس کی وجہ سمجھنے سے
خود بھی قاصر تھا۔ ایک دن کیتھی کی طبیعت بگڑگئی ، راجیش نے بے قرار ہوکر اس کا
ہاتھ تھام لیا۔ کیتھی کی نگاہیں راجیش کے چہرے پر مرکوز تھی اور آنکھوں کی روشنی
ماند پڑتی جارہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہوگئیں، راجیش روتے روتے بے ہوش ہوگیا۔
راجیش کی دماغی حالت صدمےسے بُری
ہوگئی۔ ایک عرصہ تک وہ ذہنی و جسمانی طور پر بیمار رہا۔ میجر ولیم نے ہر ممکن حد
تک اس کا علاج کرایالیکن اس کی طبیعت بحال نہ ہوئی۔ ڈاکٹروں نے میجر ولیم سے کہا، ہمارے
خیال میں ان کو ہندوستان لے جائیں ۔ وہاں کی آب و ہوااور ماحول سے ان کا دل بہل
جائے گا۔ یہاں رہ کر شاید ان کے اندر ماضی کی تلخیاں اورغم ہمیشہ کے لئے نشتر کا
کام کرتے رہیں گے۔
راجیش ہندوستان آگیا اور کچھ ہی عرصے
میں بالکل ٹھیک ہوگیا۔اس نے عیسائیت سے متعلق تبلیغی مشن میں شمولیت اختیار کرلی
اور مذہبی تبلیغ شروع کردی۔اس دوران اس نے دو شادیاں بھی کیں لیکن کوئی بیوی زندہ
نہ رہی۔ ایک بار وہ تبلیغی دورے پر امرتسر گیا۔ امرتسراس زمانے میں مذہبی مناظروں
کا مرکز تھا۔ ایک مناظرے کے دوران کسی عیسائی مبلغ نے راجیش کا حوالہ دیتے ہوئے
کہا،
آپ کے سامنے یہ صاحب موجود ہیں ۔
پہلے یہ ہندو تھے لیکن جب عیسائی مذہب کا مطالعہ کیا تو عیسائیت کی سچائی ان پر
ظاہر ہوگئی اور یہ عیسائی ہوگئے۔ یہ بہت پڑھےلکھے اور عالم شخص ہیں۔ اگر عیسائیت
میں خوبیاں نہ ہوتیں تو یہ اپنا مذہب چھوڑ کر عیسائیت کیوں اختیار کرتے؟
ہندو مذہب کے عالموں نے اس بات کو رد
کرتے ہوئے راجیش سے جوابی سوال کیا،
آپ نے ایسی کون سی بات عیسائیت میں
دیکھی جو ہندو مت سے افضل ہے اور ہندومت میں ایسی کون سی کمی ہے جو عیسائیت پورا
کرتی ہے۔
راجیش نے اس سوال کا جواب دینے کی
کوشش کی لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہ سکا۔ اس نے دل میں یہ بات محسوس کی کہ اسے
تمام مذاہب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔تب کہیں جاکر ایسی بات کہنی چاہئے۔اس خیال کے پیش
نظر اس نےمختلف مذاہب کی کتابوں اور تحریری مواد کوپڑھنا شروع کیا۔ ایک رات اس نے خواب دیکھا کہ
کوئی شخص اس کہہ رہا ہے،
تم قرآن کا ترجمہ کیوں نہیں پڑھتے؟
اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا
اور ترجمہ میں غوروفکر بھی کرتا رہا۔ اس کے ذہن میں جو بھی سوالات تھے ان کا جواب
قرآن مجید میں موجود تھا۔ بہت سی نئی نئی باتیں قرآن پاک پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں
آنے لگیں۔ قرآن پاک کا اعجاز اس کے سامنے آیا تو دل اسلام کی طرف راغب ہوا اور اس
نے اسلام قبول کرلیا۔ ان کا اسلامی نام عبدالعزیز رکھا گیا۔ قبول اسلام کے بعد
ڈاکٹر عبدالعزیز نے بھوپال میں سکونت اختیار کرلی اور ایک کمپنی میں ملازم ہوگئے۔
ملازمت کے سلسلے میں انہیں اکثر اِندور جانا پڑتا تھا۔ ایک بار کسی کام کے لئے
انہیں اِندور سے اُلور جانا پڑا۔ اُلور جاتے ہوئے راستہ میں ٹرین تبدیل کرنی پڑتی
تھی اور یہ تبدیلی اجمیر شریف سے ہوتی تھی۔ ڈاکٹر عبدالعزیز اجمیر شریف کے اسٹیشن
پر اترے تو معلوم ہوا کہ دوسری ٹرین آنے میں بہت دیر ہے۔اس وقت سے فائدہ اٹھاتے
ہوئے انہوں نے اپنا سامان وغیرہ کمرہ ٔ انتظار میں رکھوادیا اور اجمیر شریف کی
سیرکرنے چلے گئے۔ سیر کرتے کرتے ان کے ذہن میں خیال آیا کہ اجمیر شریف آیا ہوں اور
خواجہ غریب نوازؒ کے مزار پر حاضری نہ دوں، کیسی عجیب بات ہے۔ اس وقت ان کے ذہن
میں نہ بچپن کے واقعات تھے اورنہ انگلستان میں دیکھے ہوئے خواب انہیں یاد تھے۔ صرف
یہ خیال ان پر طاری ہوگیا کہ انہیں درگاہ شریف پر حاضر ہونا چاہئے۔
جیسے ہی وہ خواجہ غریب نوازؒ کے روضے میں داخل ہوئے ان پر
ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی، ذہن تمام خیالات سے خالی ہوگیا۔ بے اختیار روضے کے
کٹہرے پر سر رکھ دیا۔ گریہ وزاری اور رقت طاری ہوگئی اور بےخود ہوکر رہ گئے۔ یوں
لگ رہا تھا کہ وہی چھ سات سال کا بچہ راجیش ہے جو روتے روتےسو گیا ہے اور خواب میں
خواجہ غریب نواز اس سے بات چیت کررہے ہیں۔راجیش(عبدالعزیز) ماہ و سال کا ایک طویل
عرصہ گزار کر آج پھر اسی نقطہ پرپہنچ گئے تھے جسے وہ چھ سات سال کی عمر میں چھوڑکر
آئے تھے۔انہوں نے چھ سال کی عمر میں روح میں اپنی نسبت کا مشاہدہ کیا تھا اور آج
جسم، طویل مسافت طے کرکے اسی نقطہ پر روح کے ساتھ موجود تھا۔ تاکہ روح کے ساتھ آگے
سفرکرسکے۔
ڈاکٹر عبدالعزیز گھنٹوں بے خودی کی
حالت میں کھڑے رہے جب ہو ش میں آئے تو ٹرین کا وقت نکل چکا تھا ۔ درگاہ سے باہر
آتے ہوئے وہاں موجود خدام سے کہا، ہم کل پھر آئیں گے۔ دوسرے روز آئے اور اندرگئے تو پھر بے خودی کی
حالت طاری ہو گئی اور گھنٹوں ہوش وخرد سے بیگانہ رہے۔ تیسرے دن آئے اور جب حاضری
دے کر باہر آئے تو وہیں بیٹھ کر نوکری سے اپنا استعفیٰ لکھااورکمپنی کو بھیج دیا۔
اپنا تمام سامان وغیرہ لوگوں میں تقسیم کردیا اور خود خاموشی سے درگاہ کے اندر ایک
حجرے میں داخل ہوکر معتکف ہوگئے۔ چالیس روز مسلسل معتکف رہے۔ چالیس روز گزرنے کے
بعد عبدالعزیز نے مشاہدہ کی حالت میں دیکھا کہ ایک بزرگ آئے اور انہیں ساتھ لے کر
ایک سیڑھی کے پاس پہنچے ۔ سیڑھی کے پاس پہنچ کر بزرگ نے سہارا دے کر انہیں ایک
زینہ اوپر چڑھا دیا۔ ایک دوسرے صاحب نے ان کا ہاتھ پکڑ کر دوسرے زینے پر کھڑا
کردیا۔ اس طرح وہ بہت سے زینے عبور کرتے ہوئےایک اونچی سطح پر پہنچے تو انہیں وہاں
تحفہ کے طور پر بہت سی چیزیں عنایت کی گئیں ۔ ڈاکٹر عبدالعزیز نے وہ تمام چیزیں لے
لیں اور زینے کے ذریعے نیچے واپس آگئے۔ نیچے پہنچے تو وہی بزرگ کھڑے ملے جنہوں نے
پہلا زینہ چڑھایا تھا۔ انہوں نے کہا،
لاؤ دیکھیں، تم کیا لائے ہو؟
ڈاکٹر عبدالعزیز نے تمام عطیات ان کی
خدمت میں پیش کردیئے۔ بزرگ نے ان چیزوں میں سے چند اپنے ہاتھ میں اٹھالیں اور
ڈاکٹر عبدالعزیز کو دیتے ہوئے کہا ، باقی چیزیں میں نے اپنے پاس رکھ لی ہیں۔ ابھی
تمہارےاندران کو سنبھالنے کی طاقت نہیں ہے،وقت آنے پر تمہیں دے دی جائیں گی۔
داکٹر عبدالعزیز نے بزرگ کی دی ہوئی
چیزوں کو دیکھا تو ان میں تھرمامیٹر ، اسٹیتھو اسکوپ اور دیگر آلاتِ طب موجود تھے۔
اسی را ت کا ذکر ہے کہ درگاہ خواجہ
غریب نواز کے متولی نثار احمد نے خواب میں دیکھا کہ وہ خواجہ غریب نواز کی خدمت
میں حاضر ہیں۔ خواجہ صاحب سخت ناراضی کے عالم میں ان سے کہہ رہے ہیں کہ تم کیسے
متولی ہو۔ تمہیں معلوم نہیں کہ فلاں حجرے میں ایک غریب مسافر چالیس دنوں سے بے
دانہ وپانی پڑا ہے۔ فوراً جاؤ اور اسے باہر نکال کر فلاں مکان میں ٹھہراؤ اور قیام
وطعام کا بندوبست کرو۔ وہ بہت اچھا ڈاکٹر ہے، سامان طب خرید کر اسے دو اور کہو کہ علاج معالجے
کا کام شروع کرے۔
نثار احمد گھبرا کر بیدار ہوگئے۔ اسی
وقت بتائے ہوئے حجرے پر پہنچے اور دروازہ تُڑوا کر اندر گئے تو دیکھا کہ ڈاکٹر
عبدالعزیز اندر بے ہوش پڑئے ہوئے ہیں۔ اٹھوا کر گھر لائے، دودھ اور پانی آہستہ
آہستہ کرکے حلق سے نیچے اتارا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر عبدالعزیز کی آنکھیں کھل گئیں۔
ایک دو روز میں ان کی کمزوری دور ہوگئی اور طبیعت بحال ہوگئی۔نثار احمد نےڈاکٹری
سے متعلق سامان ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا،
یہ سامان میں آپ کو خواجہ غریب
نوازکے حکم سے دے رہا ہوں۔ ان کا یہ بھی حکم ہے کہ آپ فلاں مکان میں رہ کر علاج
معالجے کا کام شروع کریں۔
ڈاکٹر عبدالعزیزنے سامان لیتے ہوئے
کہا، خواجہ صاحبؒ کا حکم سر آنکھوں پر۔
کچھ دنوں بعد ڈاکٹر عبدالعزیزایک بار
پھر خواجہ غریب نواز کی خواب میں زیارت کر رہے تھے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا، عبدالعزیزہم تمہارےمعاملے کی نگرانی کر رہے ہیں
لیکن یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ تمہارے لئے روحانی استاد کا انتخاب کریں کیونکہ راہِ
سلوک استاد کے بغیر طے نہیں ہوسکتی ۔ رات چار بجے مزار کی پائنتی کی جانب مولسری
کے درخت کے پاس پہنچ جانا، شیخ سے ملاقات ہو جائے گی۔
ڈاکٹر عبدالعزیز نے نہایت ادب سے عرض
کیا" حضور! میں انہیں کس طرح پہچانوں گا۔ ازراہِ کرم ان کا اسمِ گرامی اور
پہچان بھی بتادیں۔ خواجہ صاحبؒ نے فرمایا، فکر نہ کرو، تم انہیں دیکھتے ہی پہچان
لوگے۔
ڈاکٹر صاحب کی آنکھ کھل گئی۔ وہ رات
بھر نہیں سوئے اور چار بجے کا انتظار کرتے رہے۔ ٹھیک چار بجے مولسری کے درخت کے
نیچے پہنچ گئے،دیکھا کہ ایک صاحب درخت کے نیچے بیٹھے
ہوئے ہیں۔ روشنی میں آتے ہی انہیں پہچان لیا، یہ وہی صاحب تھے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب
کو خواب میں زینے کی پہلی سیڑھی پر چڑھایا تھا اور واپسی پر عطیات کامعائنہ کرکے
سامانِ طب ان کے حوالےکیا تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں تو وہ صاحب مسکرا اٹھے۔ ڈاکٹر
عبدالعزیزنے دوڑکر ان کا ہاتھ تھام لیا اور شاگردی اختیار کرلی۔
اس مقام سے ڈاکٹر عبدالعزیز کی زندگی
کا اگلا دور شروع ہوا ۔خواجہ غریب نوازؒ کی روحانی نگرانی اور امدادا نہیں ہمیشہ
حاصل رہی۔ چھ سات برس کی عمر میں اس روحانی نسبت کا پہلا نظارہ ہوا تھا۔ ڈاکٹر
عبدالعزیزنوجوانی میں عشق مجازی سے آشنا ہوئے، طب کی تعلیم مکمل کی اور شادی کے
بعد انگلستان میں سکونت اختیار کی لیکن جب خواجہ غریب نوازکی روحانی نسبت نے اپنا
کام کیا تو ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی حالات نے انہیں اجمیرشریف پہنچا دیا اور یہاں
سے آپ کے روحانی سفر کا آغاز ہوا۔ اس روحانی سفر میں وہ کن کن مراحل سے گزرے اور
کون سے مدارج طے کئے یہ ڈاکٹر عبدالعزیزاور ان کے روحانی سفر کے رہنما خواجہ غریب
نواز کو ہی معلوم ہے، تاریخ میں اس کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔