Topics

خط — اللہ کے نام

 

                                                 

 آج کل شام کو چھت پر چہل قدمی کرتی ہوں ۔ سڑکیں سنسان اور راستے خالی ہیں۔ گھر کے پچھلی جانب فارم ہاؤ س میں قطار در قطار درختوں کی شاخیں مست و خرم ہوا سے جھولتی ہیں۔ سڑک کے دوسری طرف پارک میں سبز رنگ تازہ گھاس کے تصور سے تلووں کو ٹھنڈک پہنچتی ہے اور کیاریوں میں رنگین پھول نظر کو تازگی بخشتے ہیں۔

سڑک کنارے دھریک کے درخت سفید اور کانسی رنگ پھولوں کے گلدستے اٹھائے کھڑے ہیں جن کی بھینی خوش بوسے فضا معطر ہے ۔ زمین پر آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اور آسمان میں وسعت دیکھ کر لگتا ہے کہ فطرت ُپر سکون اور آسمان بے نیاز ہے۔ زمین و آسمان کے عجائبات پر غور کرنے والوں کو قدرت آسمانی وسعتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

 نہیں جانتی کہ میرا اور اس کا ساتھ کب سے ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ جب میں نہیں تھی — میرا وجود اس کے ارادے میں موجود تھا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب روحوں کو جسم نہیں ملے تھے ۔جسم ملتے ہی اس کے اور اپنے ہونے کا احساس پیدا ہوا۔ اکثر سوچتی ہوں کہ جب میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے پہلے کیا دیکھا ، پہلا خیال کیا آیا، کس کی آواز سنی اورسب سے پہلے کسے محسوس کیا ۔

محسوسات کی دنیا اب تک اس لمحے سے سجی ہوئی ہے جب میں نے اردو لکھنی سیکھی اور مشق کرکے پہلا نام ’اللہ‘ لکھا ۔ ورق پر بابرکت نام لکھتی رہتی مگر دل نہ بھرتا۔اس نام میں ا تنی کشش ہے کہ لکھنے بیٹھتی تو دیر تک لکھتی رہتی۔ یہ محض نام نہیں، بابرکت وجود ہے جس کے دم سے تشخص اور پہچان ہے۔ جب نام لکھنا شروع کیا تو مجھے یقین تھا کہ میں جو بھی ہوں، بس ’اس‘ کے ہونے سے ہوں ۔’اللہ‘ نام سے اتنی انسیت ہوئی کہ اپنا آپ اجنبی ہوگیا۔ آئینے میں دیکھ کر بے یقین رہتی۔میں آج تک اپنے وجود سے نامانوس ہوں — ہر دم کچھ نہ کچھ بدل جاتا ہے ۔

   کڑی دھوپ اور ٹھنڈی چھاؤں میں ہر طرف اس کی مہربانیاں دیکھیں اور محبت علم الیقین سے عین الیقین میں داخل ہوگئی۔حق الیقین کی مجھے خبر نہیں ۔ اتنا جانتی ہوں کہ ہجوم یا تنہائی میں ایک لمحے کو دل احساس سے خالی نہیں ہوا۔ اندرمیں کوئی کہتا کہ تم کم زور ہو— وہ مضبوط ہے۔ اس طرح وہ میرایقین بن گیا ۔

میں اس رشتے پر ناز کرتی اور دل ہی دل میں اس سے باتیں کرنے لگی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور مجھے یاد کرتا ہے ۔ بعض اوقات میں چلتے چلتے ٹھہر جاتی ۔دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی جیسے دل ابھی سینے سے باہرآجائے گا۔خمارچھا جاتااور آنکھوں میں کھل بند شروع ہوجاتی ۔ایسے میں دل چاہتا کہ اس کے سوا پاس کوئی نہ آئے ۔

گھر والوں کو خبر نہیں تھی کہ میر ا مکان جس جہاں میں ہے ، وہ جہاں کوئی اور ہے۔ ’اللہ‘  نام کی تکرار سے محسوس ہوتا کہ وہ ہرطرف ہے اورمجھے گہری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ میں خود کو نگاہ ِ محبت کے نور میں چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے اور یاد میں مگن دیکھتی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ مجھے دیکھ کر مسکر اتا ہے ، سامنےآتا اور چھپ جاتا ہے ۔ اس کی محبت نے میرے اندر عجب نازو اندازپیدا کردئیے تھے۔

زندگی شعور کے مدارج طے کرتے ہوئے آگے بڑھی اور موجودگی کا احساس قوی ہوتا گیا۔ بچپن کا شعور ذہن میں تھا اس لئے میں جانتی تھی کہ وہ کہی ان کہی سب سنتا ہے اور میرے لکھے بغیر دل کی بات پڑھ لیتا ہے ۔ پھر بھی دل چاہتا کہ اسے خط لکھوں۔شاید یہ میرے محدود شعور کی تسکین تھی۔

میں نے خط لکھنا شروع کئے۔ چپکے چپکے خط لکھتی، پڑھتی اور درسی کتابوں میں چھپا لیتی۔ کبھی الماری میں کپڑوں کے نیچے محفوظ کرلیتی پھر وقت بہ وقت سارے خط نکال کر پڑھتی — کاغذ بھیگ جاتا تھا، سیاہی پھیل جاتی تھی اور محبت کے سارے رنگ نظر آتے تھے۔مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا۔ بھیگے ہوئے کاغذ دیکھ کر میں کہتی، اے سیا ہی ! گواہ رہنا ۔

   خط لکھنے کی تیاری مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ جب گھر پر کوئی نہ ہوتا تو میں منہ ہاتھ دھو کر امی کی سرخی پاؤڈر لگاتی،آنکھوں میں کاجل سجاتی اور خط لکھنے بیٹھ جاتی ۔ ورق آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔ خط لکھنے کے بعد بھیگے کاغذ کو چوم کر ہوامیں بلند کرتے ہوئے کہتی،

 ’’   آپ کے نام ‘‘

اور تہ کرکے چھپالیتی۔پھر گھروالوں کےآنے سے پہلے منہ دھولیتی تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ بیش تر خطوط میں جلا چکی ہوں ۔ جو محفوظ ہیں ان میں سے مختصر ترین دو خطوط یہ ہیں۔ ۔۔

ذہن ہر وقت نا مہ ٔ محبت کی طر ف متوجہ رہتا۔ سوچتی تھی کہ کاغذ قلم ہاتھ آتے ہی یہ لکھوں گی، وہ لکھوں گی۔ پھر ڈر پیدا ہوتا کہ کو ئی پڑھ نہ لے۔خطوط کی حفاظت مشکل ہوجاتی تومیں شعلوں کے حوالے کر دیتی۔

مجھے یاد ہے جب پہلی مرتبہ دل میں لگی آگ کو فاسفورس سے بنی آگ کے حوالے کیا تو محسوس ہوا کہ کاغذ نہیں جل رہا، میں جل رہی ہوں۔ کاغذ نہیں سلگ رہا، میں سلگ رہی ہوں۔ کاغذ راکھ نہیں ہوا، میں راکھ ہو رہی ہوں۔ آنکھیں جلنے لگیں اور چربی پگھلتی ہو ئی محسوس ہوئی ۔ یکایک جھماکا ہوا ۔کسی نے کہا،

 ’’اطمینان رکھو! محبت کے خطوط جلے نہیں،نگاہ ِ کرم میں محفوظ ہو گئے ہیں ۔‘‘

اپنائیت کا احساس مزید گہرا ہو گیا۔ سکون اور اطمینان کی لہریں محیط ہو گئیں ۔ پھر میں نے خطوط کی حفاظت کرنا چھوڑ دی۔بس لکھتی اور الماری میں رکھ دیتی۔ بہت عرصے یہ معمول رہا۔  نجانے پھر کیا ہوا کہ میں نے خط لکھنا چھوڑدیا ۔ یہ عمل ترک کئے سالوں گزر گئے ہیں مگر وہ مجھ سے قریب ہے۔ اس کی تجلی شمع ہے اور میں پروانہ۔

    ایک رات خواب میں دیکھا کہ آسمان پر سنہرے رنگ کی بہت بڑی کتاب کھلی ہوئی ہے۔ کتاب نے پورے آسمان کا احاطہ کیا ہوا ہے ۔ میں نیچے کھڑی حیرت سے دیکھ رہی ہوں ۔ ذہن میں آواز گونجی ،

’’یہ وہ خط ہیں جو تم نے ہمیں لکھے تھے ۔‘‘

مجھے باریک کاپی اور رجسٹر کے صفحے یاد آئے ۔

 عرض کیا ، میں نے تو آپ کو بہت کم خط لکھے تھے، یہ اتنے زیادہ  ؟

ہاں ! یہ تمہارے خطوط ہیں۔آواز دوبارہ گونجی ۔

 میں خوشی سے رونے لگی ۔آنکھ کھلی تو چہرے پر نمی تھی اور دل شکر کے جذبات سے لبریز تھا ۔

مجھے یاد ہے ان دنوں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔ ہم سیرو تفریح کے لئے ایبٹ آباد گئے ہو ئے تھے ۔وہ مجھے ہر سمت نظرآتا۔ پہاڑوں میں، وادیوں میں چھاجانے والی دھند میں، اوپر ،نیچے، ہر طرف ۔اکثر چونک جاتی کہ یہ کیسا دیکھنا ہے کہ میں اسے دیکھ رہی ہوں اوروہ نظر بھی نہیں آتا ۔

گھر میں کسی بڑے سے پوچھا، کیا اللہ کو دیکھا جاسکتا ہے —؟ مجھے جھڑک دیا گیا کہ ایسی باتیں نہیں کرتے۔ آئندہ اس بارے میں سوچنا بھی مت ۔ زبان خاموش رہتی لیکن آنکھیں جواب دیتی تھیں کہ وہ محبوب ہی کیا جسے دیکھا نہ جا سکے۔

ا سکول میں سہیلی سے کہا، اللہ کو دیکھنا چاہتی ہوں ۔

اس کے چہرے پر تشویش پھیل گئی ۔

اس نے کہا، یہ نہیں ہوسکتا۔

میں نے پھر کسی سے دل کی بات نہیں کی ۔

   نویں جماعت میں تھی کہ عجیب خیال آیا۔ بار بار قبر میں لیٹنے کا دل چاہتاتا کہ معلوم ہو کہ ماحول کی تبدیلی حواس پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔بظاہراس خواہش کا پورا ہونا موت سے پہلے ممکن نہیں تھا ۔خیال رد کرنے سے شدت میں اضافہ ہوگیا ۔میں نے اللہ سے مدد مانگی کہ یااللہ! کو ئی انتظام فرما دے۔

ایک روز صبح کے وقت اسکول جانے کے لئے گیٹ کھولا۔سڑک کے دوسری طرف تازہ مٹی کا ڈھیر نظر آیا ۔ قریب جا کر دیکھا تو تقریباً چھ فٹ گہرا گڑھا تھا۔ غالبا ً پانی یا سیوریج کی لائن کے لئے کھدائی کی گئی تھی۔  آنکھوں میں چمک آگئی ۔دل قبر نما گڑھے میں اترنے کے لئے مچلنے لگا لیکن سفید یونیفارم کا خیال آتے ہی خود کو سمجھایا کہ شام ہونے تک صبر کروں۔ کسی نے دیکھ لیا تو پاگل سمجھےگا۔

گرمیوں کے دن تھے۔بالآخر شام ہوئی۔ ٹھنڈی ہوا کے ساتھ چنبیلی کی خوش بو فضا میں پھیل گئی۔ بچے گلی میں کھیل رہے تھے ۔ آج میں نے سفید یونیفارم تبدیل نہیں کیا۔کسی بہانے سے پہنے رکھا۔ مغرب کے بعد اندھیرا پھیلنا شروع ہوا لیکن اندھیرا بھی روشنی تھا۔ بچے اپنے اپنے گھر چلے گئے ۔کچھ بچے ابھی تک کھیل رہے تھے ۔ میں نے چپکے سے نظر بچا کر گڑھے میں چھلا نگ لگا دی اور سیدھا لیٹ گئی ۔

مٹی کی نمی محسوس ہو تے ہی کیفیت بدل گئی —گھر کے سامنے سنگ مر مر کی دیوار قریب ہو تے ہو ئے بہت دور نظر آئی ۔ آس پاس کے گھروں میں بتیاں جلتے بجھتے دیے بن گئیں۔ جھرجھری سی آئی اور ہر چیز ٹوٹتی ہو ئی محسوس ہوئی ۔ آنکھیں بند ہونے لگیں اور جسم غیر محسوس ہوگیا ۔

 اف ! کتنا بڑا دھو کا ہے۔ دنیا اور رشتے ناتے، سب کھیل تماشا ہے ۔صرف ایک رشتہ حقیقی ہے اوروہ اللہ ہے۔ حواس اس نقطے میں سمٹ آئے ۔ مٹی مٹی میں مل رہی تھی اور جان جان سے لپٹ رہی تھی ۔نہ جانے کتنی دیر میں وہاں بے سدھ پڑی رہی ۔

امی نے رو رو کر برا حال کر لیا۔ گلی میں خبر پھیل گئی کہ میں گم ہو گئی ہوں ۔ ہر طرف تلاش جا ری تھی۔گلی میں اندھیرے کی وجہ سے کسی کو گڑھے میں دیکھنے کا خیال نہیں آیا۔کافی دیر بعد ایک بچے نے مجھے دیکھ لیا اور سب کو خبر کی۔پریشان آوازیں سماعت سے ٹکرائیں اور میں قبر کے ماحول سے نکل آئی۔

دو افراد نے مجھے کھینچ کر باہر نکالا۔چند گھنٹوں میں رنگ زرد ہوگیاتھا۔ بہت دن تک کسی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہا ۔ بھوک کم ہوگئی لیکن تجربہ اچھا تھا۔ باعث تسکین بات یہ ہے کہ ہر جہاں میں وہ میر ے ساتھ ہے ، چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔

 اے اللہ ! تو اعلیٰ و بزرگی والا رب ہے

میں نجس و ناپاک بندی

 تو قادر مطلق ہے

اور میں مجبور محض

تیرے حکم سے میرا وجود ہے

 تجھے اپنے محبوب ؐکا واسطہ

مجھے نور ِمحبت سے محروم نہ کرنا

محبت بھرے دن اور محبت بھری شامیں تھیں ۔

میں سولہ سیڑھیاں چڑھ کر چھت پرجاتی اور تنہائی میں ٹہلتے ہوئے باتیں کرتی تھی۔ لگتا تھا کہ خون میں جوش پیدا ہوگیا ہے اور لہروں میں تلاطم برپا ہے۔ اظہار محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ سرسراتی ہوائیں کان میں سرگو شیاں کرتی تھیں ۔جواب موصول ہو نے پر طاقت سلب ہوجاتی اور میں زمین پر ڈھیرہو جاتی ۔

گھر والے ڈانٹتے تھے کہ کیا بلاوجہ مسکراتی رہتی ہو۔

میں کسی کو کیا بتاتی ؟

سچ کہتے ہیں کہ گھر کا تبدیل کر نا شعور کاٹوٹنا ہے ۔ میرا شعور بھی بہت مرتبہ ٹوٹا۔ ہم محلے سے سوسائٹی میں منتقل ہو گئے ۔ والد صاحب نے قیمتی گھر جہاں میرا بچپن گزرا، سستے داموں فروخت کر دیا !

سیڑھیاں، چھت اور وہ کمرا — میرا بستر کھڑکی کے بالکل نزدیک تھا ۔ رات میں سوتے ہوئے کھلاآسمان اور چاندآنکھوں کے سامنے ہوتے ۔چاندنی راتوں میں چھت پر ٹہلتے ٹہلتے تھک جاتی تو کمرے میں آکر بستر پر لیٹ جاتی۔ پورے چاند کی رات میں روشنی کمرے میں پھیلنے سے ماحول پر ُاسرار ہوجاتا۔ میں مسکراتے ہوئے پوچھتی کہ اے چاندنی ! کیا تم میری تلاش میں اندر آئی ہو — ؟

میں نے سردیوں کی راتوں میں بارہا چاند کی روشنی میں اللہ کے لئے اشعار لکھے جن کے جواب آنکھیں بند کرنے کے بعد موصول ہوتے ۔ بچپن کے گھر سے جذباتی وابستگی کی وجہ وہاں میرا گزرا ہوا بچپن نہیں تھا۔ میں اس لئے اداس تھی کہ گھر کے چپے چپے میں یادیں بسی ہوئی تھیں۔ اسے یاد کرنے کی ابتدا اس گھر سے ہوئی تھی۔ فرش پر گرنے والے آنسو بظاہر مٹ چکے تھے مگر مجھے واضح دکھائی دیتے تھے ۔ میں اکثر کہتی تھی کہ ،

’’ اے فرش ! گواہ رہنا ، یہ آنسو نہیں، میری محبت ، میرا لہو ہے۔‘‘

گھر تبدیل کرنے کا انتہائی دکھ تھا۔مگر حسرت و یاس اطمینان میں بدل گیا جب بچپن کے گھر میں آخری روز اندر میں آواز گونجی ،

’’تم ہماری محبت کو سینے سے لگائے ہماری طرف ہی آرہی ہو ۔‘‘

دل بھر آیا ،  یا اللہ! بے شک میرا سفر آپ سے آپ کی جانب ہے ۔ ٹھیک اس روزسے دل گھروں سے آزاد ہوگیا۔مٹی کی درودیواریں نہیں، بندے کا اصل گھر دل ہے جہاں محبوب رہتا ہے۔  آج بھی جب گھر سے نکلتی اور داخل ہوتی ہوں تو یہ ضرور کہتی ہوں کہ ،

’’ یا اللہ ! آپ مجھ سے رگ ِجان سے بھی زیادہ قریب ہیں —

 نحن اقرب الیہ من حبل الورید۔‘‘