Topics
نقاہت طاری تھی۔ پیاس سے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ میں صحرا یا
ویرانے میں نہیں تھا، گھر کے ٹی وی لاؤنج
میں بیٹھا سامنے رکھی ہوئی پانی کی بوتل سے پیاس بجھا سکتا تھا لیکن—میں کسی کے
انتظار میں تھا اور انتظار طویل ہوتا جا رہا تھا۔ محسوس ہوا کہ اگرکچھ دیر تک پانی
نہیں پیا تو پیاس سے مر جاؤ ں گا۔ خود کو سیرابی سے دور رکھنے کے لئے سامنے رکھے
گلاس اور پانی کی بوتل کو نیم وا آنکھوں
سے دیکھا —نقاہت کے بوجھ سے پلکیں آہستہ آہستہ آنکھوں کی دہلیز پر آگئیں۔
باغبانی کے دوران بیج کو غور سے
دیکھتے ہوئے سوچا کہ چھوٹا سا بیج دلیل ہے کہ اس کی نسل ابتدائے آفرینش سے چل رہی
ہے اور یہی چھوٹا بیج اپنی آنے والی نسلوں کاتسلسل ہے۔ بیج نما مائیکروفلم میں
ماضی کا ریکارڈ اور مستقبل کے لا تعداد درخت چھپے ہوئے ہیں۔ میں نے اسے نرم کی گئی
مٹی میں رکھا اوراوپر سے مزید مٹی ڈال کر ہلکی سی تھپکی دی۔ سورج کی تمازت سے ماتھے
پر بوندیں نمودار ہوئیں اور چہرہ بھگونے لگیں۔ پھر پیاس نے سیرابی کا تقاضا کیا۔
پانی اور پیاس دو رخ ہیں۔پیاس نظر
نہیں آتی، پانی دیکھا جاسکتا ہے۔ دیدہ نادیدہ دونوں رخ ملنے کو بے تاب تھے ۔ پیاسے
کو لگتا ہے کہ کائنات کی ہر شے پیاسی ہے اور سیرابی چاہتی ہے اور یہی ہر تخلیق کے
گردش میں رہنے کی وجہ ہے۔
میرے اندر پیاس نے اپنے دوسرے رخ
پانی سے ملنے کے لئے آواز دی۔ میں نے آواز سنی ، حلق خشک ہوگیا اور ہونٹوں پر زبان
پھیری ،پاس پڑی ہوئی بوتل اٹھائی لیکن پانی نہیں پیا بلکہ نرم زمین میں مدفن بیج
کی پیاس بجھائی۔
میں بڑبڑایا — پانی مٹی کو تروتازہ
رکھ کر بیج کی آبیاری کرے گا اور بیج درخت بن جائے گا۔لیکن پہلے بیج کوخول سے
نکلنا ہوگا۔ خول بیج اور مٹی کے درمیان میں دیوار ہے۔ مٹی میں فنا ہونے سے بیج میں
سراپا ظاہر ہوگا اور نسل بڑھے گی۔
پودوں کو پانی دے رہا تھا کہ ملازم
نے اطلاع دی ، صاحب جی! آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔ کون ہے —؟
کوئی لڑکا ہے ،نام نہیں بتایا
،پریشان لگتا ہے۔
ٹھیک ہے ۔مہمان خانے میں بٹھاؤ ،
میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔
مہمان خانے میں داخل ہوا تو نیلی
قمیص پتلون میں ملبوس ایک لڑکا صوفے پر افسردہ بیٹھا تھا۔ آنکھیں کمرے کی چھت پر
نہ جانے کیا تلاش کر رہی تھیں۔
چہرہ جانا پہچانا تھا۔ یادداشت پر
زوردیا،یاد نہیں آیا۔ وہ میری آمد سے غافل تھا، آنکھیں ہنوز چھت پر جمی ہوئی
تھیں۔ ارتکاز بتا رہا تھا کہ وہ یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں نہیں ہے۔ آنکھوں کے
کناروں سے آنسو گالوں پرگرے مگر لڑکے کی محویت قائم رہی۔
گلا کھنکارتے ہوئے اپنی موجودگی سے مطلع کیا تو
جیسے وہ ہوش میں آگیا۔معذرت خواہانہ لہجے میں بولا، مجھے خبر نہیں ہوئی کہ آپ آگئے
ہیں۔
میں نے پہچاننے کی کوشش کرتے ہوئے
خوش اخلاقی سے جواب دیا، کوئی بات نہیں۔ بتائیے کیا خدمت کرسکتا ہوں آ پ کی؟
میرا نام ’قیس ‘ہے۔ کئی سال پہلے
ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت میں بارہویں جماعت میں تھا۔ آپ نے سوالوں کا جواب دے کر
میری الجھن دور کی تھی۔
مجھے یاد آگیا کہ سات سال پہلے ہنستے
مسکراتے لاابالی چہرے سے ملاقات ہوئی تھی۔اس چہرے کو موجودہ چہرے میں تلاش کیا —کہیں
نظر نہیں آیا۔ قیس بدل چکا تھا۔ وہ ہنستا مسکراتا چہرہ کہاں چھپ گیا؟ سامنے بیٹھے
لڑکے کے چہرے پر داستان چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ زندگی آگے بڑھ رہی ہے لیکن ذہن
ایسے نقطے پر رک گیا ہے جس نے اسے حالات کا قیدی بنادیا ہے۔
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا،
یادآگیا، آپ سے ملاقات ہوئی تھی لیکن اس وقت اور آج کے قیس میں بہت فر ق ہے۔
الفاظ نے اس کے زخموں کو چھیڑ
دیا۔آنکھیں بھر آئیں اور زرد چہرہ سرخ ہوگیا۔ بھاری آواز اور بہتی آنکھوں سے
داستان ِمحبت سنانی شروع کی۔
آج میرے پاس اس کے کسی سوال کا جواب
نہیں تھا کیوں کہ میں خود اپنے سوال کی تلاش میں تھا۔
وہ مایوس رخصت ہونے لگا تو میں نے کہا، قیس! جب
تک اپنے سوالوں کے جواب دوسروں سے پوچھو گے، مایوس رہو گے۔اندر تلاش کرو، میں بھی
وہاں دیکھ رہا ہوں۔
قیس کے جانے کے بعد میں سوچ رہا تھا
کہ محبت کی داستانیں ایک سی ہوتی ہیں۔ وہی محب اور محبوب ۔ رقیب اور ظالم رسمیں۔آہیں
اور سسکیاں ۔ شکوے شکایتیں اور حصول ِیار کی تمنا۔ یہ تمنا دل کو بے چین رکھتی
ہے۔نہ جانے وصل کیسا تقاضا ہے جوسب کی زندگی کا جزبن کر نئی نئی داستانیں بن رہا
ہے۔
تقاضے کیاہیں—؟
بیج کا مٹی میں ملنے کا تقاضا۔ وہ کیوں خود کوفنا کرکے نسلوں کو جنم دینا
چاہتا ہے—؟
پروانے کے اندر کون سی آگ ہے جو شمع سے مل کر فنا ہونا چاہتی ہے—؟
ہر لمحہ کیوں خود کوفنا کر کے نئے لمحے میں داخل ہوتا ہے —؟
لا علمی کا دوسرا رخ علم اور تفکر کا دوسرا رخ آگہی ہے۔ جاننے کا تقاضا جب
ماحول سے بے نیاز کر دے تو لاعلمی آگہی سے گلے مل کر علم بن جاتی ہے۔تقاضے کیا
ہیں، جاننے کی کوشش کی ، ذہن میں ہلکا خاکہ بنا لیکن تصویر واضح نہ ہوسکی۔
بالآخر ذہن پیاس پر رک گیا کہ پیاس
بھی تقاضا ہے۔ پیاس خود بتائے کہ وہ کیا ہے تو بات بن سکتی ہے۔میں نے پانی پینا
چھوڑ دیااور صبر کی آخری حد تک سیرابی سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔ آٹھ ہزار چھ سو
چالیس سیکنڈ (8,640) کے بعد صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تو خود کو مصروف رکھنے کے بہانے
تلاش کئے۔ حلق خشک، ہونٹ سفید اور آنتیں
حسرت و یاس کی تصویر تھیں۔ پیاس کے تقاضے میں شدت تھی۔ میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا
پانی کی بوتل اور گلاس کو نیم واآنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔پھر ضبط کامزید امتحان
لیتے ہوئےآنکھیں موند لیں۔
شکوک و شبہات پیدا ہوئے کہ شعور
زیادہ دیر پیاس کا بوجھ اٹھا نہ سکےگا کیوں کہ جسم میں پانی کی کمی جان لیوا
ہوسکتی ہے ۔لیکن یہاں تک پہنچ کر پیاس سے ملے بغیر واپس جانا دل نے گوارا نہیں
کیا۔ اچانک شعور اور لاشعور کے بیچ میں پیاس متشکل ہوکر میرے سامنے آگئی۔پیاس کی
ہیئت اضطرابی کیفیت میں مبتلا، بار بار پہلو بدل رہی تھی۔ جیسے پروانہ دیوانہ وار آگ
دیکھ کر اس میں داخل ہونا چاہتا ہے۔
کون ہو تم—؟ نیم وا آنکھوں سے پوچھا۔
اس نے کہا، کسی کی چاہت ہوں جوپیاس
بن کر تمہارے اندر دور کر رہی ہے۔
کس کی چاہت —؟ مجھے حیرت ہوئی۔
جس کی
چاہت یہ کائنات ہے۔ جس نے محبت سے کائنات تخلیق کی تاکہ وہ پہچانا جائے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ پیا س کیا
ہے۔
یہی سوال تم سے پوچھتی ہوں کہ تم کیا
ہو۔ تمہاری اور میری اصل ایک ہے۔ چوں کہ تم مجھے خود سے الگ دیکھتے ہو اس لئے مجھے
پیاس کہتے ہو۔ میں پانی کا باطنی رخ ہوں ۔میرا ہونا پانی کے ہونے کی دلیل ہے۔ ہر
شے پانی سے پیدا ہوتی ہے ۔پانی جانتا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے۔ چوں کہ وہ روپ بہروپ
بن گیا ہے اس لئے پانی کے سارے بہروپ اصل روپ میں ضم ہونا چاہتے ہیں۔ اصل سے وصل
کے لئے بے تابی کو تم پیاس کہتے ہو۔
تمہارامقصد کیا ہے، چاہتی کیا ہو؟
میں نے پوچھا۔
وہی جو محب محبوب سے چاہتا ہے،
جو بیج زمین سے چاہتا ہے،
جو پروانہ شمع سے چاہتا ہے،
جو قطرہ سمندر سے چاہتا ہے
اور وہی جو تم مجھ سے چاہتے ہو۔
میں کوئی اور نہیں تمہاری پیاس کا روپ ہوں۔ مجھے
یاد کرکے تم پیاس بن گئے ہو اور میں تمہاری سیرابی ہوں۔ صرف تم نہیں ، میں بھی تم
سے ملنا چاہتی ہوں۔ میں پیاس ہوں اور میرا دوسرا رخ پانی ہے۔جب تک تم پانی نہیں پی
لیتے، میں تمہیں بے چین رکھوں گی ۔
میں نے کہا، عجیب بات ہے کہ میں تم
میں اور تم مجھ میں فنا ہونا چاہتی ہو تاکہ زندگی کا تسلسل قائم رہے اور پیاس اور
پانی مل کر نئے جلوے میں آشکار ہوں۔
وہ بولی، تقاضے کی تسکین سے زندگی کو
دوام ہے۔
میں نے کہا، لیکن تم محض پیاس ہو،
اصل کا م تو پانی کا ہے جو سیراب کرتا ہے۔
مسکراتے ہوئے پیاس بولی، پانی میں
بھی پیاس ہے۔ ایسا نہ ہو تو پانی کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ تم غور کرو کہ اللہ نے
خو د کو متعارف کرانا چاہا تومخلوقات کو محبت سے پیدا کیا ۔ چاہنا اور محبت — دو
رخ ہیں جن کے ملنے سے کائنات بنی ہے۔ چاہنا تقاضا ہے اور تقاضے کی تسکین و تکمیل
محبت سے ہوتی ہے۔
چاہت —تقاضا ہے اور تقاضا تحریک ہے جو مجھے
تمہیں اور کائنات کو متحرک رکھتا ہے۔میں بھی زندگی ہوں اور تم بھی زندگی ہو۔ زندگی
زندگی سے ملتی ہے۔
قارئین! اس قانون کو سمجھنے کے لئے درج ذیل کرامت اور اس کی تشریح پڑھئے۔
’’ حالت ِ استغراق میں نانا تاج
الدین ؒکی آنکھیں کچھ کھلی رہتی تھیں۔ حیات خان اکثر ان کی نیم باز آنکھیں عجیب
ذوق و شوق سے دیکھتا ۔ ایک مرتبہ استغراق کی حالت میں حیات خان نے مجھے اشارے سے
بلایا ۔ کہنے لگا ، اس پتے ّکو دیکھو۔ میری نظر یکے بعد دیگرے کئی پتوں ّپر گئی۔جس
پتے ّ کی طرف اس نے اشارہ کیا تھا اس میں سے ٹانگیں، چہرے کے خدوخال اور چھوٹی
چھوٹی آنکھیں رونما ہورہی تھیں۔ پتا ّتقریبا ً تین انچ لمبا ہوگا ۔ یکایک میری نظر
برابر والے پتّے پر جاپڑی ۔ اس میں بھی ویسا ہی تغیر ہورہا تھا۔ یہ دونوں پتّے ایک
دوسرے کے پیچھے چلنے لگے۔ ایک دو منٹ میں ان کی ہیئت اتنی بدلی کہ پتوں ّکی کوئی
شباہت ان میں باقی نہیں تھی۔ وہ درخت کے تنے کی طرف چلے جارہے تھے۔ اور نانا تاج
الدینؒ کی نیم وا آنکھیں ان پر جمی ہوئی تھیں۔‘‘
کرامت کی علمی توجیہ بیان کرتے ہوئے
تاج الاولیا بابا تاج الدین ؒنے فرمایا:
’’دیکھ یہ درخت ہے۔ اس کے اندر زندگی کے
سارے ٹکڑے جڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنا، سننا، سمجھنا، جنبش کرنا، یہ سب ٹکڑے اس درخت کے
اندر جھانکنے سے نظر آتے ہیں ۔ اس کے ہر پتے ّمیں سچ مچ کا منہ ہے، سچ مچ کے ہاتھ
پیر ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ جب تک پتا ّ دوسری زندگی سے نہیں ٹکراتا ، اس کے اندر
عام لوگ یہ نیرنگ نہیں دیکھ سکتے۔ اور جب کوئی پتاّ میری زندگی سے گلے ملتا ہے تو
جیتا جاگتا کیڑا بن جاتا ہے۔ یہ سمجھ کہ آنکھ سے بھی گلے ملتے ہیں ۔ یاد رکھ!
زندگی سے زندگی بنتی ہے اور زندگی زندگی میں سما تی ہے۔ ‘‘
پیاس کہہ رہی تھی کہ ایک شے کو دورخ
میں دیکھو گے تو سمجھنا ناممکن ہوجائے گا۔ جس کو تم د و پرت سمجھتے ہو، وہ ایک شے
کے دو پرت ہیں۔ بیج اور مٹی، محب اور محبوب ،شمع اور پروانہ— دو رخ ہیں جو چاہت کی
لڑی میں پروئے گئے ہیں۔ ان کی طرح پیاس اور پانی کاباطن بھی ایک ہے۔ہر شے گردش میں
ہے اور گردش تمنائے وصل ِیار ہے۔
مجھے جواب مل گیا تھا۔ میں نے مسکرا
کر پانی کو دیکھا، گلاس میں ڈالا اور بسم اللہ پڑھ کر ہونٹوں تک لایا،
پانی— جیسے ہی پیاس سے ملا ، دونوں
مٹ گئے۔ پانی غائب ہوگیا اور پیاس بھی عارضی طور پر ختم ہوگئی ۔ میرے اندر بے نام
سیرابی عود آئی جیسے کسی نے فنا ہوکر مجھے زندگی بخش دی ہو۔