Topics
کائناتی نظام کے
بارے میں تحقیق و جستجو کا آغاز ہزاروں سال پہلے سے جاری و ساری ہے جب سے انسان
فضا اور ستارے بھرے آسمان کو دیکھتا ہے تو اپنے اور ستاروں کے درمیان کشش محسوس
کرتا ہے اسی کشش نے صدیوں پہلے اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے کائناتی نظام کے بارے میں
بہت سے سوالات کو جنم دیا مختلف ادوار میں کیوں اور کیسے کا جواب حاصل کرنے میں
انسانی مشاہدہ اور تجزیہ کا ماخذ اس کے مذہبی
رجحان ، معاشرتی اقدار یا رائج علوم ہوتے تھے۔ کم و بیش یہی صورت حال دور
حاضر کے سائنسی نظریات کی بھی ہے ، تجربات سے حاصل ہونے والے علم کو سائنس کہتے
ہیں۔ جس میں ہر دور میں نئے نئے ذہن شامل ہو گئے تصورات و نظریات میں ردو بدل ہوتا
رہا۔
تقریباً 2300 سال پہلے میڈیٹرینین سائنسدانوں کا خیال تھا کہ ہماری زمین گول ہے اور یہ سورج کے گرد گھومتی ہے ان نظریات کو ثابت کرنے کا اس زمانے میں کوئی مستند طریقہ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس رائج مذہبی تصور کی بھی نفی نہیں کر سکتے تھے کہ ”ہماری زمین اس کائنات کا مرکز ہے اور تمام کائنات انسانی زندگی اور اس کی قسمت کو جاری رکھنے کے لئے وسائل مہیا کر رہی ہے “۔ جب ایک اطالوی ماہر فلکیات ”گلیلیو“ نے 1900 سال بعد ایک فلکیاتی دور بین ایجاد کی۔ جس کی مدد سے ستاروں ، سیاروں اور اجرام فلکی کا عمل مشاہدہ ممکن ہو گیا۔ مشاہدہ اور تجربہ کے اس نئے زاویے سے کائنات کی تخلیق کے حوالے سے ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔جسے Cosmology کہا گیا۔ نئے نئے نظریات بننے لگے اور مشاہدات کے زاویے بھی بدلتے رہے پہلی دور بین ایجاد ہوئی جس کا بنیادی اصول عدسے سے بننے والی شبیہ پر تھا یعنی فاصلے پر موجود اشیاء سے ٹکرا کر آنے والی روشنی جب عدسے میں داخل ہوتی ہے تو ایک چھوٹی سی شبیہ بناتی ہے ، شبیہ کی تفصیلات کو بڑا کرنے کے لئے ماہرین نے مزید بصری آلات استعمال کئے جس سے متعلقہ شئے کی شکل وشباہت ، جسامت اور رنگ و ماہیت کے بارے میں تفصیلات کی جزویات بڑھتی گئیں۔ ان تفصیلات سے جو نظریات کائنات کی تخلیق کے بارے میں پیش کئے گئے ہیں ان میں سے “Big Bang” نظریے کو زیادہ قبولیت ملی۔ “Big Bang” کے مطابق کائنات کا ایک نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ پھیلنا شروع ہوئی۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ “big Bang” کے لفظی معنی ”عظیم دھماکہ“ لئے جاتے ہیں جو کہ ایک دھماکے کا تصور ابھارتے ہیں اس کے برعکس امریکی فلائی ایجنسی NASA اور یورپی خلائی ایجنسی ESA کے مطابق “Big Bang “ درحقیقت ایک نقطہ آغاز ہے جہاں سے کائنات ابھری اور پھیلنا شروع ہوگئی۔ جیسا کہ شکل نمبر ۱ میں دکھایا گیا ہے۔ اس شکل کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم رائج سائنس کے طریقہ اظہار کو سمجھیں سائنسی طور پر رونما ہونے والے مظاہرات اور ان کے اسباب کو گراف کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔ اس کو ہم ایک مثال کے ذریعےواضح کرتے ہیں۔
شکل نمبر 2 میں
انسانی ارتقا کا ایک گراف ہے گراف میں سائنس کے حالیہ نظریات کے مطابق انسان کے اس
دنیا میں ظہور پذیر ہونے سے لے کر موجودہ ارتقائی حالت دکھائی گئی ہے۔ گراف میں دو
لائنیں ہوتی ہیں جس کے مابین پورے مظاہرے کی تفصیل ہوتی ہے وہ لائن جو افقی طور پر
کھینچی ہوئی ہے اسے x-axis کا
نام دیا جاتا ہے۔ x-axis پر ان عوامل میں تبدیلی دکھائی جاتی ہے جو
کہ مظاہرے میں تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔ مظاہرے کی تبدیلی کو y-axis عمود پر دکھایا
جاتا ہے شکل نمبر 2 کو غور سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ x-axis تبدیلی کے ساتھ
ساتھ y-axis میں انسان کے خدوخال میں تبدیلی یا ارتقاء ہوتا رہتا ہے اس گراف
میں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔
۱۔ گراف ہمیشہ صفر سے شروع ہوتا ہے جسے گراف
میں انتہائی بائیں جانب سب سے نیچے x-axisاور y-axis کے نقطہ انقطاع سے دکھایا گیا ہے۔
۲۔ اگرچہ گراف میں مظاہرے کی پوری تفصیلات (
یا زندگی) دکھائی ہے لیکن حقیقی دنیا میں وجود یاتی طور پر ہمارے سامنے x-axisکا
صرف ایک لمحہ موجود ہوتا اور اسی لمحے پر
موجود خدو خال y-axis پر ہوتے ہیں اس لمحہ سے پہلے کے حالات و
مناظر اور اُس لمحے کے بعد کے حالات و مناظر یا مظاہرات ہمارے سامنے نہیں ہوتے۔
شکل نمبر 2 کی
گرافی تفصیلات کا اطلاق ہم شکل نمبر 1 پر کرتے ہیں یہاں گراف میںa-axis اور ے-اشیسکے مابینکائنات کے وجودی ارتقا ء کو
دکھایا گیا ہے x-axis پر وقت ہے اور y-axis پر کا ئنات کا
ارتقا انتہائی بائیں جانب پر ”صفر وقت“ پر ہو نے والے “Big Bang” سے دکھایا گیا
ہے جہاں سے کائنات بائیں سے دائیں جانب (گراف میں) پھیلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ گراف کے
مطابق کا ئنات کو تخلیق ہوئے تیرہ ارب ستر کروڑ سال گزر چکے ہیں۔ نقطۂ ماخذ یعنی “Big Bang” سے کائنات کاسمک شعاعوں کی شکل میں پھیلنا شروع ہوئی اور کچھ عرصے
تک پھیلتی رہی کہ ستاروں کی شکل میں مادی اجسام وجود میں آنا شروع ہوئے نوارب بیس
کروڑ سال بعد اس کائنات میں ”ہماری زمین“ کی تخلیق ہوئی۔ ماہرین فلکیات کے مطابق
کائنات کا پھیلاؤ آج بھی جاری و ساری ہے
اور نئے نئے اجرام فلکی تخلیق پذیر ہیں ان میں ہر قسم کے اجرام فلکی شامل ہیں وہ
جن کی طبعی عمر سیکنڈ سے بھی کم وقفہ سے لے کر اربوں سالوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
اب ہم “Big Bang” سے زمین کی طرف آتے ہیں جو کہ ہمارا مسکن ہے۔ ”زمین گول ہے“ کا تصور زمانہ قدیم سے رائج ہے انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان تصورات میں مزید اضافہ ہوا 2500 سال پہلے ایک یونانی سیاح نے شمال سے جنوب تک کا سفر کرتے ہوئے آسمان پر نظر آنے والے ستاروں کے جھرمٹوں کے نقشے بنائے جن سے یہ ثابت ہوا کہ تمام کے اعتبار سے زمین سے نظر آنے والے ستاروں کے جھرمٹ مختلف ہوتے ہیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا زمین کے اطراف میں ستاروں کے مختلف جھرمٹ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی چاند گرہن کے دوران زمین کے گول سائے نمودار ہونے سے اس دعویٰ کی بھی تصدیق کر دی گئی کہ زمین گول ہے۔ حتیٰ کہ کچھ صدیوں کے بعد Eratosthenes نے زمین کے محیط کو ناپنے کے لئے سورج کے سائے کو زمین پر مختلف مقامات پر پیمائش کیا جن کا آپس میں فاصلہ کئی سو میل تھا۔ اس تجربہ سے اُس نے ثابت کیا کہ زمین کا محیط معلوم کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ سائنس کے مطابق زمین کا قطر 12,756 کلو میٹر ہے جیسا کہ شکل نمبر 3 میں دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح جیومیٹری کے فارمولوں کی مدد سے زمین کی گولائی نکالی جا سکتی ہے جو کہ تقریباً 40, 079 کلو میٹر ہے کائناتی نظام میں فاصلہ کو ناپنے کے لئے روشنی کی رفتار کو پیمانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ روشنی کی رفتار 300,000 کلو میٹر فی سیکنڈ بتائی جاتی ہے یعنی اس رفتار سے زمین کے گرد ایک سیکنڈ میں تقریباً 7 چکر لگ سکتے ہیں۔
کہکشانی نظاموں
کے مابین بے پناہ فاصلوں کو اگر روائتی پیمائش مثلاً کلو میٹر یا میل میں ناپا
جائے تو شمار اتنا بڑھ جاتا ہے جیسے 10 کے ساتھ کئی سو صفر کا اضافہ کر دیا جائے۔
ظاہر ہے اتنے بڑے نمبر تحریر میں نہیں لائے جا سکتے اس وجہ سے ماہریناعداد و شمار
نے مختلف پیمائشی شمار وضع کئے ہیں مثلاً فلکیاتی یونٹ اور نوری سال وغیرہ۔ سورج
سے زمین کا فاصلہ ایک فلکیاتی یونٹ(AU) مانا جاتا ہے جیسا کہ شکل نمبر 4 میں دکھایا
گیا ہے اس لحاظ سے سورج سے زمین کا فاصلہ 1AU ہے جب کہ مشتری کا فاصلہ 5 AU اور آخری سیارہ نیپچون 30 AU کی مسافت پر ہے
اس طرح روشنی کی رفتار سے ایک سال میں طے کردہ فاصلہ کو ایک نوری سال کہا جاتا ہے۔
ہماری زمین ایک
بڑے نظام کا حصہ ہے جسے نظامِ شمسی کہا جاتا ہے۔ اس نظامِ شمسی سے متعلق مختلف دیو
مالائی کہانیوں ، مذاہب اور روایات میں بھی سورج ، زمین اور سیارتی گردش کا ذکر
ہے۔ مذہبی تصور کے برعکس Polish ماہر فلکیات نکولس کو پرنیکس نے سولہویں صدی
کی نقص دہائی میں ثابت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے نہ کہ سورج زمین کے اور
ساتھ ہی اس تصور کو بھی فروغ ملا کہ ہمارے نظام شمسی میں موجود سیارے ایک انتہائی
شفاف ٹھوس کر سٹل کرے میں جڑے ہوئے ہیں جو
کہ اپنے مرکز یعنی سورج کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس نظریئے کو بعد میں آنے والے سائنس
دانوں نے اس بنا پر مسترد کر دیا کہ اگر یہ سیارے کسی شفاف کرسٹل شیشے کی مانند
کرہ کا حصہ ہوں تو دور دراز کہکشاؤں سے آنے والے “Comets” سے کرسٹل کو
ٹوٹ جانا چاہیئے۔
سیاراتی گردش کے نظام پر مزید نظریات پیش کئے گئے جس میں دائرہ در دائرہ حرکت نے قبولیت عام حاصل کی۔ جرمن ہیئت دان کیپلر کے مطابق تمام سیارے بیضوی دائروں کی شکل میں ہمارے شمسی نظام میں گردش کر رہے ہیں۔ ابتدا میں کھلی آنکھوں سے جو فلکی اجرام دکھائی دیتے تھے اُن میں ہماری زمین ، اس کا چاند ، اور پانچ واضح نکات شامل تھے جنہیں سیارہ کہا جاتا تھا۔اس کے علاوہ آسمانوں پہ ایک چھوٹے چھوٹے تاروں پر مشتمل چمکتی ہوئی چوڑی لائن کسی سڑک کی مانند دکھائی دیتی تھی جسے ملکی وے کہا جاتا تھا۔ 1609ء میں اطالوی ماہر فلکیات گلیلیو نے اپنی نئی دور بین کی مدد سے مزید سیارے دریافت کئے۔ اور ان سیاروں کے ساتھ اُن کے اپنے چاند بھی شامل تھے۔ دور بین کی ٹیکنا لوجی میں بہتری آنے سے جہاں بڑے سائز کے سیاروں کی تفصیلات واضح ہوتی گئیں وہاں چھوٹے سائز کے سیارچے ، شہابیے اور comets کا بھی مشاہدہ کیا جانے لگا۔
کیپلر نے
سیاراتی نظام کے قوانین گردش بیان کئے اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے نظامِ شمسی کے سورج
کی مانند کئی اور ستاروں کی بھی نشاندہی کی جیسا کہ شکل نمبر 4 میں دکھایا گیا ہے۔
کیپلر کے مطابق یہ سب ستارے ہمارے نظام شمسی کی طرح قوانین حرکت کے تابع ہیں۔ اگر
ہم زمین کو مرکز مان لیں تو معلوم ستاروں کا درمیانی فاصلہ 30 نوری سال بتایا جاتا
ہے۔
متذکرہ بالا
نظریات اور مشاہدات ماہرین کے اس زاویہ فکر سے ہم آہنگ ہیں کہ کائناتی نظام میں
شامل بنیادی مادی اجزا ء کا تعین کیا جا سکے اس سلسے میں ان کے مشاہدے او ر تجربے
کا انحصار ان جدید بصری آلات پر رہا جو کہ کائناتی مظاہرات مثلاً سورج ، چاند ،
ستارے کو مجسم شکل میں دیکھتے ہیں جب کہ غیر جانب دار طرز فکر کے مطابق کسی مظاہرے
کو مشاہدہ کرنے کے لئے کئی زاویہ نگاہ (viewpoint) ہو سکتے ہیں۔
مصنف کتاب قلندر
شعور ، خواجہ شمس الدین عظیمی مشاہداتی طرز فکر میں اس کمی کی نشاندہی اس طرح سے
کرتے ہیں:-
”سائنس داں جس
مادی نظریے کی تشہیر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب تک کسی چیز کا عملی مظاہرہ (Demonstration) نہ ہو اُسے تسلیم نہیں
کیا جا سکتا۔ سائنس داں بہت کچھ جاننے کے باوجود یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ مادّی خول
میں بند ہو کر خود اپنے نظریے کی نفی کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے کہ ایسا غیب جو
آنکھ سے نظر نہ آئے کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب کہ ان کی ساری ترقی کا دارو مدار نہ
نظر آنے والی روشنی پر ہے۔“
سائنسی نظریہ
اور روحانی نظریے میں یہ فرق ہے کہ سائنس جو کچھ بیان کرتی ہے وہ محدود شعوری حواس
کے دائرہ کار بیان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس روحانیت جو انکشافات کرتی ہے وہ شعور سے
ماورا لاشعوری حواس میں بیان کیا جاتا ہے۔ لاشعوری حواس Time and space کی گرفت سے
آزاد ہیں۔
اجرام ِ فلکی کا
مطالعہ کرنے کے لئے جدید آلات کی مدد سے نئی روشنیوں کی قسمیں دریافت کی گئیں اور
کائناتی نقوش پر مشتمل 3D ماڈل بنایا گیا ۔