Topics

قران السعدین کیا ہے؟

 

قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے رسول ﷺکہہ دیجئے ان لوگوں سے کہ میرے رب کی باتیں اتنی ہیں کہ اگر تمام  سمندروں کو روشنائی بنالیا جائے تو  وہ ختم ہو جائیں گے اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی‘۔

 علم نیر نجات میں سبعہ طلسم کے ساتھ سمادی علوم بھی بیان ہوئے ہیں وہ اس طرح کہ  اجرام فلکی  بروج میں خاص مقام اور خاص اوقات میں مجتمع ہوتے ہیں اور ان اوقات میں روشنی کے طول موج کو ایک قانون کے تحت مقید کیا جاتا ہے۔ اس قانون کو جو ایک معین وقت میں حرکت کرتا ہے اجتماع سیارگاں یاقران السعدین کہتے ہیں۔

مندرجہ بالامشقوں کا عامل مراقبہ میں اس بات کا مشاہدہ کرلیتا ہے کہ اجتماع سیارگان یا قران السعدین کب ہو رہا ہے ۔ قران السعدین کے وقت نقش سبعہ طلسم ساتوں حرکتوں کو ذہن میں دہرا کر ہرن کی جھلی پر  لکھا جاتا ہے۔ آپ اپنے لیے خود لکھ سکتے ہیں۔ یہ بات ضرور  یادرکھیں کہ سبعہ طلسم ایک وقت صرف  ایک مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس وقت یہ   طلسم اپنے پاس رکھیں اس وقت مقصد کا تعین کرلیں اور اس مقصد کے ساتھ  کہ دوسرا کوئی کام  غلط ملط نہ کریں ۔صرف ایک رات گزرنے کےبعد  اثرات مرتب ہو نا ضروری ہے۔ اگر ایک مقصد کے علاوہ کئی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہوتو ہر مقصد کے لئے قران اسعدین میں الگ الگ سبعہ طلسم لکھ کر اپنے پاس رکھیں ۔

انتباه : عامل حضرات نے آج کل لوٹ مار کا بازارگرم کر رکھا ہے۔ طرح طرح کے حیلے کر کے  لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یاد رکھئیے! ایسے حضرات جن کے اندر دنیا کی حرص اور دولت کا لالچ ہو، وہ روحانی آدمی نہیں ہوتے۔ کسی صاحب کو سبعہ طلسم کے نقش کا ہدیہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ ہرن کی کھال کی جھلی چونکہ عام طور پر دستیاب نہیں ہے اس لئے اس کی فراہمی پر جائز خرچ لیا جاسکتا ہے۔ جو بندے خلوصِ نیت سے اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں دس گنا دنیا میں اور ستر گنا آخرت میں اپنی نعمتیں عطا کرتے ہیں۔

سوال : مٹھاس اور نمک کے ترک یا کمی سے انسان کے اندر کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے؟

جواب: انسان کے اندر ہمہ وقت دو دماغ کام کرتے ہیں۔ایک دماغ شعوری حواس بناتا ہے،ایسے حواس جو زمان اور مکان (TIME AND SPACE) میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دوسرا دماغ انسان کا لا شعور ہے اور یہ دماغ ایسے حواس بناتا ہے جو ٹائم اور اسپیس سے آزاد ہیں ۔

مٹھاس کے اندر کام کرنے والی مقداریں کششِ ثقل پیدا کرتی ہیں اور نمک جن مقداروں سے مرکب ہے وہ مقداریں لا شعوری حواس کو متحرک کرتی ہیں۔ تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ جو لوگ مٹھاس کی نسبت نمک زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے اندر لا شعوری تحریکات زیادہ ہوتی ہیں ۔ سلوک کے راستے میں چلتے ہوئے جب مجھے یہ قانون معلوم ہوا تو ذہن میں یہ بات آئی کہ اس قانون پر عمل کرکے تجربہ کرنا چاہیئے۔ چنانچہ میں نے میٹھی چیزیں کھانا چھوڑدیں۔ دو تین ہفتے طبیعت کے اندر سخت اضمحلال واقع ہوتا رہا۔ چند ہفتوں کے بعد طبیعت عادی ہوگئی۔ اضمحلال کم ہوگیا لیکن طبیعت بے کیف رہنےلگی اور مزاج میں چڑ چڑاپن آگیا۔ دو مہینے کے بعد پہلی بار یہ محسوس ہو کہ جسم لطیف اور ہلکا ہے ۔ یہ بات واضح کردینا ضروری ہے کہ میں مٹھاس کے ترکے کے ساتھ یکسو ہونے کی مشق بھی کرتا رہا۔ مٹھاس ترک کرنے سے جب خون میں نمک کی مقداروں کا اضافہ ہوا تو دیواریں کاغذ کی بنی ہوئی نظر آئیں اور زیادہ گہرائی پیدا ہوئی تو  مکانیت ٹوٹنے لگی۔ بے خیالی کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ذہن نے کروٹ بدلی اور یہ دیکھ کر میں حیران ہو گیا کہ فرش اور چھت کا فاصلہ فی الواقع کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ میں نے جب چھت کو چھونا چاہا تو چھت مجھ سے اتنی قریب تھی کہ میں نے اُسے آسانی سے چھولیا۔ یعنی چھت اور فرش کا درمیانی فاصلہ ختم ہوگیا۔ مٹھاس چھوڑے ہوئے تین ماہ گزرے تو خوابوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوا۔ ایسے خواب جن کی تعبیریں بیدار ہونے بعد سامنے آجاتی تھیں۔

پھر خود کو ہواؤں میں محوِ پرواز دیکھنے لگا۔ اُڑنے کی صورت یہ ہوتی تھی کہ جیسے ہوا میں پرندے اڑتے ہیں۔پرندے پروں کو اوپر نیچے کرتے ہیں اور میں پرواز کے دوران ہاتھوں کو اونچا نیچا کرتا تھا۔ بعض اوقات اُڑان اتنی اونچی ہوجاتی تھی کہ اوپر سے نیچے دیکھنے سے میرے اورپر دہشت اور خوف مسلط ہوجاتا تھا۔ پھر ان خوابوں نے ایک نیا روپ دھارا۔ وہ یہ کہ دور دراز کی چیزیں خواب میں نظر آنے لگیں اور خواب میں قسم قسم کے لذیذ اور شیریں پھل کھانے کو ملتے رہے۔ نیند سے جب بیدار ہوتا تو زبان پر ان پھلوں کا ذائقہ اور شیرینی کا احساس موجود ہوتا ہے۔ چھ مہینے تک مٹھاس کو چھوڑنے سے یہ کیفیت ہوئی کہ کھلی آنکھوں سے دور دراز کی چیزیں نظر آنے لگیں۔

تجربہ یہ ہوا کہ نمک کی زیادتی انسان کے اوپر سے شعور کی گرفت کو توڑدیتی ہے اور جب ہم نمک کھانا چھوڑدیتے ہیں تو ہمارے اندر بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جو بعض اوقات بہت زیادہ پریشانی کا سبب بن جاتی ہیں۔ مٹھاس اور نمک اعتدال میں استعمال کرنا چاہیئے۔ ان دونوں چیزوں میں سے کسی ایک میں بھی اعتدال قائم نہیں رہے گاتو بیماریاں اور پریشانیاں لاحق ہوں گی۔ مٹھاس کے ترک سے آدمی کے اندرSUB - CONSCIOUS ACTIVITIEبیدار ہو جاتی ہیں ۔لیکن چوں کہ انسان لاشعوری تحریکات میں زندگی گزارنے کا عادی نہیں ہے اس لئے اس کے دماغ پر خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ مٹھاس کا ترک بغیر ضرورت نہ کیا جائے ۔ کیوں کہ نمک چھوڑنے سے بھی کئی بیماریاں لاحق  ہوسکتی ہیں، اگر ماورائی علم سیکھنے میں نمک چھوڑ نا ضروری ہو تو استاد کی رہنمائی اور اجازت ضروری ہے۔

اپنے مسائل کے حل کیلئے ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ پڑھئے۔

 


NEERANJAT BKLET

خواجۃ شمس الدين عظيمي