Topics

قانون


کائنات کو دو طرزوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک صرف دیکھنا اور دوسرے مرحلے میں یہ بات معلوم کرنا کہ کائنات کن فارمولوں سے مرکب ہے۔ کائنات کو دیکھنا یا مظاہر کو دیکھنا شعوری دائرہ کار میں آتا ہے۔ کائنات کے باطن کو دیکھنا لا شعور میں دیکھنا ہے۔ انسان کا لاشعور اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کائنات کے ہر ذرے کی شکل و صورت حرکات اور باطنی حسیات کیا ہیں۔ شعور میں یہ علم اس لئے نہیں آتا کہ انسان کو اپنے لاشعور کا مطالعہ کرنا نہیں آتا۔ اگر ہمارے اندر لاشعور کو مطالعہ کرنے کی صلاحیتیں بیدار ہو جائیں تو کائنات کے ہر ذرہ کی شکل و صورت حرکات اور باطنی حسیات کا مطالعہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

ازل سے ابد تک جو کچھ جس طرح اور جس ترتیب کے ساتھ وقوع میں آنا تھا وقوع میں آ گیا۔ یہ بات آخری الہامی کتاب قرآن میں بالوضاحت بیان ہوئی ہے کہ ماورائی ہستی اللہ نے ’’کُن‘‘ کہا تو ازل سے ابد تک جو کچھ جس ترتیب کے ساتھ وقوع میں آنا تھا وہ ظاہر ہو گیا ہے۔ خالق کے ذہن میں کائنات سے متعلق جو پروگرام تھا اس پروگرام سے متعلق جو فارمولے تھے، جو اجزائے ترکیبی تھے، ان اجزائے ترکیبی میں ماضی، حال اور مستقبل جس طرح بھی موجود تھا ’’کُن‘‘ کہتے ہی سب وجود میں آ گیا۔ کن کہنے کے بعد کسی زمانے میں بھی لاکھوں سال پہلے یا لاکھوں سال بعد جو چیز بھی مظاہرے میں آئے گی وہ اس کا مظہر ہو گی جو کن کے بعد مظہر ہو چکا ہے۔ کھربوں دنیاؤں میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو پہلے سے اپنا وجود نہ رکھتی ہو۔

کسی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے انسان کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔ اگر غیر جانبدار ذہن نہیں ہو گا تو معنی پہنانے میں مصلحتیں شامل ہو جائیں گی۔ ہر شخص کو طرز فکر کے دو زاویے حاصل ہیں۔ ایک زاویہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات سے الگ ہو کر سوچتا ہے اور دوسرا زاویہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کو سامنے رکھ کر غور و فکر کرتا ہے جو بندہ اپنی ذات کو سامنے رکھ کر تجسس کرتا ہے ۔ اس کے اوپر حقائق منکشف نہیں ہوتے اور جو بندہ غیر جانبدار ہو کر گہرے تفکر کے ساتھ غور و فکر کرتا ہے اس کے اوپر حقائق منکشف ہو جاتے ہیں۔



Nazariya E Rang O Noor

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی

سائنسی دنیانےجوعلمی اورانقلابی ایجادات کی ہیں ان ایجادات میں فزکس اورسائیکولوجی سےآگےپیراسائیکولوجی کاعلم ہے ۔روحانیت دراصل تفکر،فہم اورارتکازکےفارمولوں کی دستاویزہے ۔ 

عظیمی صاحب نے اس کتاب میں طبیعات اورنفسیات سےہٹ کران ایجنسیوں کاتذکرہ کیاہےجوکائنات کی مشترک سطح میں عمل پیرا ہیں اورکائنات کےقوانین عمل کااحاطہ کرتی ہیں اوراس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ انسان کائنات کی تخلیق میں کام کرنےوالےفارمولوں سےکہاںتک واقف ہے ۔ یہ فارمولےاسکی دسترس میں ہیں یانہیں اور ہیں توکس حدتک ہیں ۔ انسان کےلئےانکی افادیت کیاہےاوران سےآگاہی حاصل کرکےوہ کسطرح زندگی کوخوشگواراورکامیاب بناسکتاہے ۔

انتساب
زمان و مکان ( Time&Space) ایک لمحے کی تقسیم در تقسیم ہے
اور لمحہ کی تقسیم ‘ اطلاع ہے جو ہر آن لہروں کے ذریعہ انسانی دماغ پر وارد ہوتی رہتی ہے۔
اگر ہم ان اطلاعات کا مخزن (Source of Information) معلوم کرنا چاہیں تو
اس کا ذریعہ روحانی علوم ہیں اور
روحانی علوم کے لئے دانشوروں کو بہرحال قرآن میں تفکر کرنا پڑے گا۔