Topics

12 کروڑ 61 لاکھ 44 ہزار

 

اللہ کے کرم سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی رحمت اور قلندر بابا اولیاء کی نسبت سے اب روحانی ڈائجسٹ کی عمر ایک ہزار چھ سو تین ہفتے یعنی گیارہ ہزار دو اکسٹھ دن ہو گئی ہے ان ماہ و سال میں گھنٹیوں کی آواز کو متوازن اور برقرار رکھنا انسانی جبلت کے تحت سب سے زیادہ کٹھن کام ہے۔

تین سو سترمہینوں میں تقریباً اتنے ہی موضوعات جوک قلم پر آئَ حروف نے الفاظ کا الفاظ نے جملوں کا جملوں نے تحریر کا لباس زیب قرطاس کیا۔

جو بندہ 370 موضوعات پر طبع آزمائی کر چکا ہو اس  کے لئے یہ خاصا مشکل ہے کہ وہ مزید کسی موضوع پر قلم اٹھائے ایک قاری جس مضمون کو پندرہ منٹ میں پڑھ لیتا ہے اس کی تیاری میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں پہلے حافظے کا بند دروازہ کھلتا ہے پھر انسپائریشن کی لہریں دماغ کے مخصوص خانے میں وصول ہوتی ہیں اور اس انسپائریشن کو کاغذ پر منتقل کرنے کے لئے الفاظ کاانتخاب عمل میں آتا ہے۔

انسانی دماغ میں حواس خمسہ کی اطلاعات موجود رہتی ہیں یا اطلاعات حواس خمسہ بنتی ہیں، حواس خمسہ اعصاب کے ذریعے دماغ میں پہنچ کر نقش ہو جاتے ہیں یہی وہ یاداشتیں ہیں جنہیں حافظہ کہا جاتا ہے، دماغ کے یہ دو حصے جو دائیں طرف اور بائیں طرف واقع ہیں۔ انسانی زندگی کے تمام احساسات کو جو پیدائش سے ل یکر موت تک کے حالات پر مشتمل ہیں یاد رکھتے ہیں۔

 مضمون نگار جب کوئی مضمون لکھتا ہے یا کوئی شاعر جب شعر کہتا ہے تو دماغ کے پچھلے حصے میں جہاں گردن کے اوپر ابھار ہوتا ہے، تحریکات ہوتی ہیں اور یہ تحریکات لہروں کی شکل میں وارد ہوتی ہیں، انسان جب کوئی کام کرتا ہے، کچھ سوچتا ہے، کوئی حرکت کرتا ہے تو دراصل ریڈھ کی ہڈی میں موٹا تار (حرام مغز) کرنٹ کی گزرگاہ بن جاتا ہے اور حرکت اس کا مظاہرہ ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی عمل، کوئی فعل، کوئی حرکت اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک حرام مغز میں کرنٹ کا صحیح بہاؤ نہ ہو۔ یہ کرنٹ نظام کائنات میں جاری و ساری لہریں ہیں۔

 آواز کیا ہے؟

 آواز تو لہروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور یہ ساری کائنات آواز کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

میں جب صدائے جرس لکھنے بیٹھتا ہوں تو میری ساری توجہ اس آواز کی طرف ہوتی ہے جو آواز لہروں میں منتقل ہو کر انفارمیشن بنتی ہے، انفارمیشن اور اطلاع کے بغیر کائنات کے وجود کا تذکرہ ممکن نہیں ہے، انسان کی زندگی کا تجزیہ کیا جائے تو ہمیں انفارمیشن کے علاوہ زندگی میں کچھ بھی نہیں ملتا، ہمارا پیدا ہونا، جوان ہونا، بوڑھا ہونا، خورد و نوش کی ضرورت کو پورا کرنا ، سونا، جاگنا، رزق تلاش کرنا، پڑھنا، لکھنا، عروج و زوال کی راہ کا متعین ہونا سب انفارمیشن پر قائم ہے۔اوسط عمر اگر ساٹھ سال ہو تو ایک آدمی بارہ کروڑ اکسٹھ لاکھ چوالیس ہزار سال معلومات میں زندگی گزارتا ہے یعنی اوسط عمر میں معلومات کا دورانیہ بارہ کروڑ اکسٹھ لاکھ چوالیس ہزار سال ہو تقریباً پونے تیرہ کروڑ اطلاعات پیدائش سے موت تک انسانی زندگی کا سرمایہ ہیں، چونکہ انسان زندہ رہنے کے قانون سے واقف نہیں ہے اس لئے ۹۵ فیصد اطلاعات یا ۹۵ فیصد زندگی ضائع ہو جاتی ہے، یہ اطلاعات قدرت کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق قبول کی جائیں اور ان پر عمل درآمد ہو جائے تو انسان اشرف المخلوقات ہے، اگر ایسا نہ ہو (جیسا کہ عام طور پرنہیں ہوتا) تو انسان اشرف المخلوات کے دائرہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔

ادارتی صفحات پر قارئین ، روحانی ڈائجسٹ میں تقریباً 370 موضوعات کا مطالعہ کر چکے ہیں ہر عنوان اس بات کی تشریح ہے کہ انسان اور حیوانات میں فرق یہ ہے کہ انسان اطلاعات (خیالات ) اور مصدر اطلاعات کو وقوف حاصل کر سکتا ہے جب کہ حیوانات اس علم تک رسائی نہیں کر سکتے ۔

پچھلے چند رسائل ہمارے سامنے ہیں ۔۔ان موضوعات کی تلخیص پیش خدمت ہے۔

کوئی اطلاع یا کسی شئے کا علم ہمیں لازمانیت سے موصول ہوتا ہے یہ لازمانیت نئی نئی اطلاعات، زمانیت(وقت) کے اندر ارسال کرتی رہتی ہے، اگر ہم لازمانیت کو ایک نقطہ سے تشبیح یدں تو یوں کہیں گے کہ اس نقطہ میں کائنات کا یکجائی پروگرام نقش ہے، لہروں کے ذریعے اس نقطہ سے جب کائنات کا یکجائی پروگرام نشر ہوتا ہے توحافظہ سے ٹکرا کر بکھرتا ہے، بکھرنے ہی ہر لہر ایک مختلف شکل وصورت میں تصویری خدوخال اختیار کر لیتی ہے، لہروں کا حافظہ کی سطح پر آ کر بکھرنا ہی وقت کو وجود میں لاتا ہے، چونکہ حافظہ جبلی طور پر (فطری طور پر نہیں) محدود ہے اس لئے تصویر کے مابین فاصلہ بن جاتا ہے اس فاصلہ کا دوسرا نام دوری کا احساس اور وقت کی طوالت ہے، اگر ہم اس نقطے کو تلاش کر لیں جہاں کائنات کا یکجائی پروگرام نقش ہے تو فاصلہ کالعدم ہو جاتا ہے۔

ہزاروں سال کی تاریخ دراصل اس راز کی پردہ کشائی ہے کہ قومیں ترقی کے خوشنما دعوؤں میں اور نئی نئی ایجادات کے پردہ زنگاری میں خود کو تباہ و برباد کرتی رہتی ہیں، ایک طرف قومیں زمین کو آتش فشاں بنا کر خود ایندھن بن جاتی ہیں اور دوسری طرف خالق و مالک ہستی اللہ تعالیٰ از سر نو زمین پر باغ کی آبیاری کرتا ہے، قوموں کے عروج و زوال کے مشاہدات یہ ہیں کہ جو قوم سب سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دے وہ ترقی یافتہ ہے اور جب اس ترقی کا فسوں ٹوٹتا ہے تو زمین آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑتی ہے اور چھ ارب کی آبادی سمٹ کر ایک ارب رہ جاتی ہے، پھر بچے کھچے خستہ حال اپاہج، معذور، ادھڑی ہوئی کھال اور زخموں سے نڈھال افراد زمین کی اجڑی ہوئی امنگ مین سندور بھرتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ زمین میں سے پیدا ہونے والے لوگ اس سندور کو اتار کر زمین کو دوبارہ اجاڑ دیتے ہیں۔

تجرباتی دنیا یہ ہے کہ انسان کہیں سے آتا ہے یعنی وہ پہلے سے کہیں موجود تھا جب وہاں کی موجودگی ختم ہوئی تو اس دنیا میں پیدا ہو گیا یعنی اس دنیا میں آنے سے پہلے اس پر موت وارد ہوئی، پہلے موت وارد ہوئی پھر پیدا ہوا اس دنیا سے جانے کے بعد دوسری دنیا میں پیدا ہوا اس کا منطقی استدلال یہ ہوا کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی ہم کہیں پیدا ہوئے تھے یعنی موت سے زندگی پیدا ہوئی اور زندگی سے موت پیدا ہوئی، اس کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ موت زندگی میں داخل ہوئی اور زندگی موت میں داخل ہو گئی، زندگی سے موت کا پیدا ہونا اور موت سے زندگی کا پیدا ہونا یا زندگی کا موت میں داخل ہو جانا اور موت کا زندگی میں داخل ہو جانے کا پروسیس یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی ایسی ہستی ہے جو اس پر اسیس کو جاری رکھے ہوئے ہے اور بغیر کسی تبدیلی اور تعطل کے جاری رکھے ہوئے ہے۔

جس قوم نے بھی ذاتی مفاد کے تحت گروہی تعصب کو ہوا دی ملت میں تفرقہ ڈالا اور اس تفرقے کی بنیاد پر خود کو جنتی اور دوسروں کو دوزخی قرار دیا وہ تباہ کر دی گئی۔ اس کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا اس کو ذلیل و خوار کر کے زمین پر دربدر کر دیا گیا۔

 اللہ فرماتےہیں۔

’’جو قوم اپنی حالت میں بہتری پیدا نہیں کرتی اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور اس قوم کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔‘‘

ایسی قوم دربدر کی ٹھوکریں کھا کر بالآخر اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے، جس نسل، جس ملک، جس قوم نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑا اور اجتماعی سوچ کو نظر انداز کر کے ریشم کے کیڑے کی طرح انفرادی سوچ کے غلاف میں بند ہو گئی، وہ ختم ہو گئی ہے، اپنے کوتاہ نظری کو، کوتاہ اندیشی سے حرف غلط کی طرح مٹ گئی، ایسی قوموں کی زندگی کا تاروپود بکھر جاتا ہے۔

کیا ایسا ہونا عقلی اعتبار سے صحیح نہیں ہے کہ مذہب کو سائنسی بنیادوں پر سمجھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر مذہب کی عمارت کی تزئین کی جائے اور اللہ تعالیٰ کو کائنات کی حیات کے اندر تلاش کیا جائے، کیا رات دن کا اختلاف، کہکشانی نظام اور ان نظاموں میں مسلسل حرکت اس لئے قائم نہیں ہے کہ انسان ان کے اندر تفکر کرے۔

جو انسان پیدا ہوتا ہے اس کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کہ میں پیدا ہونے سے پہلے کہاں تھا؟ کیوں پیدا ہوا؟ جس دنیا میں پیدا ہوا یہ سارا عالم خوشبو اور رنگ سے معمور عالم کی حیات عارضی اور فانی کیوں ہے؟ فانی حیات کے بعد اگر دوسری زندگی ہے تو وہ کہاں ہے؟ کیا وہ دنیا بھی اس دنیا کی طرح فنا ہونے والی ہے؟

لیکن جیسے جیسے آدم زاد زندگی کے شب و روز میں سانس لیتا ہے ایسے نظریات سے دوچار ہوتا ہے کہ بالآخر وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح اصلیت اور ماہیت کے بارے میں کوئی رائے نہیں قائم کر سکتا کیونکہ وہ نہیں سمجھتا کہ دنیا میں پھیلی ہوئی لاکھوں چیزوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ یہ سب اپنے اپنے محور پر ایک توازن کے ساتھ کیوں حیات و ممات کے دوش پر سفر کر رہی ہیں، ان کی ماہیت میں کیوں تبدیلی واقع نہیں ہوتی، اس وقت آدم زاد ایسے لوگوں کی طرف دیکھتا ہے جنہوں نے زندگی کے تجربات سے کوئی نتیجہ اخذ کر لیا ہے۔۔۔

 ہر آدم زاد کے طرز عمل کی بنیاد یہ بنتی ہے کہ وہ ان سوالوں کا جواب چاہتا ہے۔

میں کون ہوں؟

میں کیا ہوں؟

عقل کیا ہے؟

شعور کیا ہے؟

عقل و شعور میں جو باتیں وجدان کی صورت میں نازل ہوتی ہیں ان کا میری ذات سے کیا رابطہ ہے؟

میں زندگی کے بارے میں جو فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، ان فیصلوں کے نتائج میرے حق میں ہونگے یا مجھے نقصان پہنچائیں گے؟

مستقبل اگر ہے تو کیا میں اپنے مستقبل سے مطمئن ہو سکتا ہوں؟

میں جو کچھ کرتا ہوں اس کی باز پرس ہو گی؟اگر باز پرس ہو گی تو کیا عمل میں تبدیلی ممکن ہے؟

راکٹوں، میزائلوں اور لانچرز کی تباہی اور بربادی کے آتشیں بوچھاڑ سے کسی نے اپنی شیر خوار بچی کو بچانا چاہا اور کوئی اپنی ضعیف اور بوڑھی ماں کا ہاتھ تھامے خالی ہاتھ محفوظ جگہ کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا، خوبصورت طویل و عریض گھر ان گھروں میں آرائشی سامان اور قیمتی سامان ٹوٹ پھوٹ کر زمین پر اس طرح بکھر گیا جیسے کوئی بے وقعت چیز ہے، خلاء سائنس آتش فشاں کے دھوئیں سے اس طرح بکھر گیا کہ زمین سورج کی کرنوں سے محروم ہو گئی، دیکھنے والوں نے قیامت کا جو منظر دیکھا ان کے دل ڈوب ڈوب گئے اور آنکھوں میں خون آنسو بن گیا، دل کی دنیا زیر و زبر ہو گئی۔

نوع انسانی کے دانشوروں، عقلمندوں اور بذات خود ہیومن رائٹس کا پرچار کرنے والوں نے اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے زمین پر آتش فشاں مادے کا ایسا پہاڑ کھڑا کر دیا جس کے سامنے زمین کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ گئی، سائنسدانوں نے اپنی نوع کو برباد کرنے کے لئے ایسی ایسی اختراعات کیں کہ زمین کا کلیجہ چھلنی ہو گیا، نوع انسانی سے بزعم چند باشعور انسانوں نے خود کو برتر ثابت کرنے کے لئے نوع انسانی پر ایسا جال پھینک دیا جس کا ہر سورس ایک مہلک ہتھیار ہے، نوع انسانی کے ان دانشوروں نے جو بلاشبہ اللہ کے دوست نہیں ہیں، نت نئے مہلک ہتھیاروں کی ایجاد سے خود اپنی پیشانیوں کو داغ دار بنا لیا ہے، ترقی یافتہ قوم کے باشعور افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں چالیس ہزار ایٹم بم موجود ہیں، دیگر چھوٹے اور بڑے اسلحوں کا کوئی شمار وقطارنہیں۔۔۔

 یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ لوگ ترقی کے نام پر زمین کو اجاڑ رہے ہیں۔



موت و زندگی

خواجہ شمس الدین عظیمی


حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ کا ارشاد اور اولیا ء اللہ کا قول بھی ہے ہم نے اللہ کو اللہ سے دیکھا اللہ کو اللہ سے سمجھا اور اللہ کو اللہ سے پا یا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اسپیس کا علم ملا ہوا ہے ۔ سپیس کا علم علم کی تجلی کو دیکھتا ہے ۔ جب سپیس کا علم آنکھوں سے دیکھا جا ئے ، کا نوں سے سنا ئی دے تو تجلی نظر آتی ہے ۔قر آن کر یم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کسی کو طا قت نہیں کہ اللہ سے کلام کر ے مگر تین طر یقوں سے (۱)وحی کے ذریعہ  (۲)رسول کے ذریعے یا (۳)حجاب سے ۔یہ تینوں سپیس میں حجاب بھی سپیس ہے وحی اسے کہتے ہیں جو سامنے منظر ہو وہ ختم ہو جا ئے اور پر دے کے پیچھے جو منظر ہو وہ سامنے آجا ئے اور ایک آواز آتی ہے ۔ فر شتے کے ذریعے یا رسول اللہ کے ذریعے کہ معنی یہ ہیں کہ فر شتہ سامنے آتا ہے اور اللہ کی طر ف سے بات کر تا ہے اور حجاب کے معنی یہ ہیں کہ کو ئی شکل سامنے آتی ہے اور اس طر ح بات کر تی ہے جیسے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے حا لانکہ وہ اللہ تعالیٰ نہیں ہے بلکہ حجاب ہے ۔