Topics

قرآن و سنت کی روشنی میں شیطانی قوتوں پر غلبہ حاصل کرنے کا طریقہ


 

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

"یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسولؐ میں ایک نہایت اعلیٰ نمونہ ہے" (الاحزاب:۲۱)

آیتِ کریمہ میں " لکُم" ( تمہارے لئے) کا لفظ اس طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہؐ کی سیرتِ طیبہ یا قوم کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والے ہر انسان کے لئے کامل نمونہ ہے۔

 لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا 

" ہر اس شخص کے لئے ( رسول اللہؐ کی حیاتِ طیبہ میں اعلیٰ نمونہ ہے) جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سےا للہ کو یاد کرے۔"(الاحزاب:۲۱)

دینِ حنیف میں ایمان کی عمارت کے تین بنیادی ستون ہیں۔۔۔ایمان باللہ یا توحید۔۔ایمان بالآخرۃ۔۔۔اور ایمان بالرسالت ۔یہ تینوں یقین ایک دوسرے مربوط ہیں۔اگر آدمی توحید کی بجائے شرک پر کاربند ہے تو وہ اللہ کے محبوب کی ذاتِ اقدس کو اپنے لئے نمونہ نہیں بنا سکتا ۔ جو شخص اللہ کی رضا کا امیدوار ہے، ہر کام اور ہر معاملہ میں اللہ کے احکامات اور اس کے اومر ونواہی کا اہتمام کرتا ہے، زبان و قلب سے اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے، اُسے یقین ہے کہ وہ دن آکر رہے گا جس روز جزا و سزا کے فیصلے ہونگے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اتباع ِ رسول کی اہمیت واضح کردی ہے۔

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ قُلْ أَطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الكَافِرِين

"کہہ دو اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ سے تو اتباع کرو میرا ، محبت کرے گا تم سے اللہ اور معاف کردے گا تمہارے گناہ اور اللہ تو ہے ہی بڑا معاف کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ۔ کہہ دو اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی پھر اگر منہ موڑیں( تو وہ کافر ہیں) اور بے شک اللہ نہیں پسند کرتا کافروں کو۔"(الاحزاب: ۲۱)

آیت ِ مبارکہ میں اللہ کی اطاعت اور محبت کو رسول اللہؐ کی اطاعت و محبت کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔اللہ کی اطاعت اور اللہ کی محبت کا ماحصل عبادت ہے۔جبکہ رسول کی اطاعت اور رسول کی مبت کا ماحصل "اتباع" کہلاتا ہے۔ عبادت کا مفہوم، "انتہائی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللہ کی بندگی اور پرستش کرنا"۔۔اور اتباع کا مفہوم یہ ہے کہ " محبت کے جذبے سے سرشارہو کر پیروی کرنا۔"

مکہ میں حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام نے سخت تریب مصیبتیں جھیلیں۔ مشرکین کے جورو ستم اور ایذا رسانی نے جسم و روح کا تشتہ برقرار کھنا دوبھر کردیا۔ آپؐ کے ساتھیو کو مکہ کی سنگلاخ اور تپتی زمین  پر لٹا کر سینے پر پتھر کی بھاری سل رکھ دی گئی اور گردن میں رسی ڈال کر گھسیٹا گیا۔ اسلام کی اولین شہید ایم مؤمنہ کو اتنہائی کمنگی سے مارا گیا کہ برچھی پشت کے پار ہوگئی۔ ایک اور صحابی کے ہاتھ پیر اونٹوں کے ساتھ باندھ کر اونٹوں کو مخالف سمت میں ہانک دیا گیا۔ خود رسول اللہؐ  پر ظم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔راہ میں کانٹے بچھائے گئے، سنگ باری کی گئی، جسم مبارک لہولہان ہوا۔ آپؐ کے مکان میں نجاست ڈالنا اور راہ چلے آپ ؐ پر گندگی پھینکنا عام بات تھی۔ تمسخر ، استہزاء اور طعن و تشنیع روز کا معمول تھا۔ چچا اور چچی آپؐ کی جان کے دشمن تھے۔عبادت کے دوران گردن میں چادر ڈال کر اس طرح بل دیئے گئے کہ آپ ؐ کا سانس گھٹنے  لگا۔ سجدے کی حالت میں اونٹ کی نجاست بھری اوجھ سر اور گردن پر ڈال کر کس دی گئی۔

جسمانی تکالیف کے علاوہ رسول اللہ ؐ کو جو ذہنی اذیتیں دی گئیں اس کے تذکرہ سے نوعِ انسانی کا سر شرم و ندامت سے جھک جاتا ہے۔ جس معاشرہ میں بیٹیوں کو اس لئے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا کہ بیٹِ کا باپ کہلانا باعث ِ ندامت تھا ۔ جس معاشرہ میں اولادِ نرینہ سے محروم باپ ایک بے نشان فرد کی حیثیت سے زندگی گزارتا تھا۔ اُس معاشرے میں رسول اللہ ؐ کے دونوں صاحبزادے حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ  کم سنی میں انتقال کر گئے تو ابلیس کے نمائندوں نے رسول اللہؐ کے " بے نشان" ہو جانے کی خوشی میں جشن منائے۔ رسول اللہ ؐ کےدوسرے صاحبزادے کے انتقال کی خبر جب ابو لہب کو ملی تو وہ خوشی سےچلاتا ہوا اور دوڑتا ہوا کفارِ مکہ کے پاس آیا اور کہا، " محمدؐ   ( ) ابتر  ہو گئے ،  محمدؐ   ( ) ابتر  ہو گئے ۔" اس کے بعد جہاں سے بھی آپؐ کا گزر ہوتا مشرکین ِ مکہ آوازیں کستے  وہ دیکھو! محمدؐ   ( )  جا رہا ہے جو " ابتر" ہے۔ (ابتر کے لفظی معانی ایسے درخت کے ہیں جس کی جڑ کٹ گئی ہو، یعنی ایسا آدمی جس کی نسل کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہو۔) معنی طور پر ابتر کا لفظ اولاً اولاد کی جدائِ کا دکھ ، دوئم معاشرتی طرزیں ، سوئم مخالفین کا خوشیاں منانا اور ڈھول تاشے پیٹنا ، چہارم ہر گلی کوچے سے ابتر۔۔۔ابتر کی صداؤں کا بلند ہونا۔۔۔کس درجہ تکلیف دہ عمل ہے؟ کفار کی ہرزہ سرائیوں کا جواب رسول اللہؐ نے تو نہیں دیا لیکن اللہ نے اپنے محبو ب کی تسلی و تشفی فرمائی اور سورۃ الکوثر نازل ہوئی۔

انا اعطینک الکوثڑ

فصل لربک وانحر

ان شانئک ھوالابتر

" ہم نے آپ ؐ کو کوثر عطا فرمایا۔ پس اپنے رب کے لئے صلٰوۃ قائم کیجئے اور قربانی دیجئے۔ بیشک آپؐ کے دشمن ہی ابتر ہیں۔" ( الکوثر"۳-۱)

شعب ابی طالب کی قید میں۔۔ایسا  وقت بھی آیا کہ کھانے کو کچھ نہیں تھا۔بھوک اور پیاس کی شدت سے بنو ہاشم کے بچوں کی زبانیں خشک ہو گئیں اورحلق میں کانٹے پڑ گئے۔موسم کی سختیوں نے جسم لاغر اور کمزور کردیئے تھے۔ قوم و اشرف ترین خاندان عُسرت ، تنگدستی  اور لاچاری کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا تھا، حتیٰ کہ بیماروں کو دوا اور مرنے والوں کو کفن تک میسر نہیں تھا۔

طائف کے سرداروں نے دعوتِ حق کوجس حقارت سے ٹھکرایا دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نقل کفر کفر نہ باشد ۔۔۔ایک سردار نے کہا، تم جیسے مفلس و قلاش کے سوا اللہ کو رسول بنانے کے لئے کوئی اور نہیں ملا، اس طرح تو وہ گویا خود کعبہ کے غلاف کو چار کررہا ہے۔۔۔تمسخر اور بد تمیزی کا طوفان ہی کھڑا نہیں کیا گیا، انسانیت جملے ہین نہیں کسے گئے پتھر بھی برسائے گئے۔ جسمِ اطہر لہو مِں نہا گیا، نعلین مبارک خون سے بھر گئیں۔ ایک موقع پر جب آپؐ ضعف کے مارے بیٹھ گئے تو وہ بد بخت غنڈوں نے بغلوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا  کر دیا اور چلنے پر مجبور کیا تاکہ سنگ باری کا تماشہ جاری رہے۔ باقی لوگ کھڑے تالیاں پیٹتے رہے۔

حضرت عائشہ نے یومِ احد کے بعد رسول اللہ ؐ سے دریافت کیا، " یا رسول اللہؐ کیا اس سے زیادہ سخت دن بھی آپؐ کی زندگی میں آیا ہے۔" ارشاد ہوا۔۔۔"ہاں! یومِ طائف میری زندگی کا سب سے زیادہ سخت دن تھا۔"

الہامی کتابیں رہنمائی کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے رسولوں کے ذریعہ نوع انسانی کو ایسا متوازن نظام عطا کیا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کرتاہے۔

" یقیناً بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی کھلی نشانیاں دے کر اورنازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم ہوں انسان انصاف پر۔"الحدید:۲۵)

رسول اللہؐ نے ابلیس کے نمائندوں کے جانب سے قدم بقدم  کھڑی کی گئی مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کر کے، مصائب و تکالیف برداشت کر کے اور ظلم و ستم جھیل کر حقیقی نظامِ عدل قائم کر دیا۔ ایک ایسا System of Social Justics وجود  میں آگیا جس میں معاشرے کے ہر طبقے اور طبقے کے ہر فرد کے حقوق و فرائض کا تعین ہو گیا۔ زندگی کا ہر گوشہ اور ہر پہلو اللہ کے حکم کے تحت آگیا۔

اللہ کےدین کی سر بلندی اور سرفرازی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانا اور دعوتِ حق کے غلبہ کے لئے باطل قوتوں سے ٹکرا جانا، انبیاِئے کرام کی زندگی کا مقصد رہا ہے۔ انبیاء کرام کے پیروکار  خواتین و حضرات جب تک اس مقصد کو اپنی زندگی کا مقص نہیں بناتے ، پیروی کا مفہوم پورا نہیں ہوتا۔

رسول اللہؐ کی سیرت طیبہ کے موضوع پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں حیاتِ مبارکہ کے ہر ہر پہلو کو وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ سیرت کی کتب کا مطالعہ بھی ذوق و شوق سے کیا جاتا ہے اور نعرہ تحسین بھی بلند ہوتا ہے۔ سیرت کے ان شہہ پاروں سے اخذ کردہ نتائج کو ہم اپنے لئے نمونہ بھی کہتے ہیں لیکن ہم اسوۂرسول اللہؐ پر کماحقہ عمل نہیں کرتے ۔

پہلی وحی کے نزول کے بعد جب رسول اللہؐ کے غارِ حرا سے اُتر کر گھرتشریف لائے تو آپ ؐ نے اپنی زوجہ محترمہ سے صرف اتنا فرمایا،" مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔" طبیعت بحال ہونے کے بعد حضرت خدیجہ  کو جب رسول اللہ ؐ نے پورا واقعہ سنایاتو انہوں نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا،" اللہ آپ کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑے گا۔ آپؐ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، غریبوں کی دستگیری فرماتے ہیں مہمان نواز ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں ، امانتدار ہیں اور دکھی دلوں کی خبر گیری کرتے ہیں۔"

حضرت خدیجہ کے یہ الفاظ رسول اللہؐ کی طرزِ فکر اور پاکیزہ کردار کی پوری پوری عکاسی کر رہے ہیں۔ نزول ِ وحی سے پہلے ہی رسول اللہؐ کے حسنِ  اخلاق، سچائی ، دیانتداری اور معاملہ فہمی کے چرچے عرب کے طول و عرض میں پھیل چکے تھے ۔ مکہ کے لوگ رسول اللہؐ کو خوش  اخلاق، راست گو، نرم دل، کریم الطبع ، پاکیزہ نفس اور اچھے کردار کے حامل فردکی حیثیت سے جانتے تھے۔

سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سیرت طیبہ ؐ اور اخلاق حسنہ ہماری زندگی پر کتنی محیط ہیں؟

تعلیماتِ نبویؐ پر عمل نہ کرنا۔۔۔نافرمانی ہے۔ رسول اللہؐ کے ہر امتی پر لازمی ہے وہ قرآنی علوم کے مطابق اپنا محاسبہ کرے۔

"پھر کیا کیفیت ہوگی ( ان لوگوں کی) جب لائیں گے ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ اور لائیں گے تمہیں (اے محمدؐ) اُن پر بطور گواہ ۔ اُس دن آرزو کریں گے وہ لوگ جنہوں نےکفر کیا اور نافرمانی کی رسول کی کاوش ! (وہ زمین جنہوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی رسول کی کاش! ( وہ زمین میں سما جائیں اور) برابر کردی جائے ان پر زمین اور نہ چھپا سکیں گے وہ اللہ سے کوئی بات۔" النساء۔۴۱-۴۲)



Maut O Zindagi

خواجہ شمس الدین عظیمی


حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ کا ارشاد اور اولیا ء اللہ کا قول بھی ہے ہم نے اللہ کو اللہ سے دیکھا اللہ کو اللہ سے سمجھا اور اللہ کو اللہ سے پا یا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اسپیس کا علم ملا ہوا ہے ۔ سپیس کا علم علم کی تجلی کو دیکھتا ہے ۔ جب سپیس کا علم آنکھوں سے دیکھا جا ئے ، کا نوں سے سنا ئی دے تو تجلی نظر آتی ہے ۔قر آن کر یم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کسی کو طا قت نہیں کہ اللہ سے کلام کر ے مگر تین طر یقوں سے (۱)وحی کے ذریعہ  (۲)رسول کے ذریعے یا (۳)حجاب سے ۔یہ تینوں سپیس میں حجاب بھی سپیس ہے وحی اسے کہتے ہیں جو سامنے منظر ہو وہ ختم ہو جا ئے اور پر دے کے پیچھے جو منظر ہو وہ سامنے آجا ئے اور ایک آواز آتی ہے ۔ فر شتے کے ذریعے یا رسول اللہ کے ذریعے کہ معنی یہ ہیں کہ فر شتہ سامنے آتا ہے اور اللہ کی طر ف سے بات کر تا ہے اور حجاب کے معنی یہ ہیں کہ کو ئی شکل سامنے آتی ہے اور اس طر ح بات کر تی ہے جیسے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے حا لانکہ وہ اللہ تعالیٰ نہیں ہے بلکہ حجاب ہے ۔