Topics

سانس کی مشق

 

ایک وقت مقرر کر کےکسی گوشے میں ایک طرف بیٹھ جائیں آلتی پا لتی مارکریا اس طرح جیسے نمازمیں بیٹھتے ہیں۔منہ شمال کی طرف کر کے ناک کے نتھنوں سے آہستہ آہستہ بہت آہستہ  سانس اندر کھینچیں جتنی دیر سانس اندرلے سکیں۔ گھڑی دیکھ کرپندرہ سیکنڈ سانس کوروک کے رکھیں اور پھر آہستہ آہستہ بہت آہستہ  منہ کھول کر اس کو باہرنکال دیں۔ جس وقت سانس باہر نکالیں، منہ گول دائرے میں کھلنا چاہیئے جیسےسیٹی بجاتے وقت ہونٹ گولائی میں کھلتے ہیں۔ اس عمل کو پچیس مرتبہ دہرائیں۔ اگر  دماغ کے اوپر زیادہ دباؤمحسوس ہوتو  گیارہ مرتبہ سے شروع کرکے بالتدریج پچیس مرتبہ تک اس مشق کو اپنامعمول بنالیں۔ ایک مہینے کی صبح و شام مشق کے بعد کوئی بھی شخص ۱۵سیکنڈ تک سانس روکنے پر قابو پالیتا ہے۔ اس مشق  کےبعد اندھیرہ کرلیں۔آنکھوں پر ہلکا روی دار تولیہ باندھ لیں ۔ گرفت ایسی ہونی چاہئے کہ آنکھوں پر  کسی قسم کا دباؤنہ  پڑے۔ آنکھوں پرتولیہ باندھنے سے مقصد یہ ہے کہ آنکھوں کے پپوٹوں کی حرکت معطل ہو جائے ۔ اب مراقبہ میں بیٹھ  جائیں۔ سینے کے بائیں جانب متوجہ ہوکراپنے دل کے اندر دیکھنےکی کوشش کریں۔تصور یہ ہونا چاہیے کےمیں خود دل کے  اندر موجود ہوں۔ ایک مہینے کی مشق کے بعد جب آپ خود کو دیکھ لیں پھر تصور کریں کہ دل کے اندر ایک نیا آباد ہے اور میں اس دنیا میں چل پھر رہا ہوں ۔ مراقبہ کے وقت پیٹ خالی ہونا چاہئے ۔مراقبہ اور سانس کی مشق کھانے کے تین گھنٹے بعد کریں۔ مراقبہ ختم ہوجانے کے بعد موم بتی کی لو پر ارتکاز توجہ کی مشق کی جائے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک تشلہ میں پانی بھرلیں اور اس کے اندر موم بتی جلالیں۔ موم بتی بڑی ہونی چاہیئے، موم بتی اور آپ کے درمیان تین سے پانچ فٹ تک فاصلہ ہونا چاہئے۔ پھر دوز انو ہو کرموم بتی  کی لو پر  نظر جمائیں اس طرح کے پلک نہ جھپکے۔ شروع شروع میں آنکھوں سے پانی نکلے گا اور آنکھوں میں جلن ہوگی اس کی پروانہ کریں۔ یہ مشق پندرہ منٹ کے وقفے سے شروع کر کے ایک گھنٹے کے وقفے تک لے جائیں۔ دو مہینے کے بعد نظر کے اندر اتنا ٹھہراؤ  پیدا ہوجائے گا کہ نظر آپ کے ارادے کے زیراثر آپ کے اندرمشاہدہ کرنے لگے گی۔

نوٹ : دو مہینوں کی مشقوں اور مراقبے کے نتیجے میں الجھن ، اکتاہٹ بیزاری اور شدید مایوسی کے دورے پڑیں گے۔ آپ کا شعور اپنی پوری صلاحیت اس بات کے لئے صرف کردے  گا کہ جس طرح بھی ہو  آپ  ان مشقوں کو ترک کر دیں۔آپ کا کام یہ ہے کہ آپ شعور کی اس بغاوت کو نہایت ہی بے دردی سے کچل دیں۔

 یادر کھیئے ! شعور کی مزاحمت کو  ختم کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ کسی  مزاحم خیال کو رد کردیں۔شعور کو مغلوب کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مزاحمت کرنے والے خیالات کو آنے دیں اور اپنے کام سے لگے رہیں۔ اگرشعور کے باغیانہ خیالات کی تردیدمیں ذہن گرفتارہوگیا تو ہر وقت اس کے پست ہونے کا امکان ہے ۔مشق کرتے وقت خیالات کو دبانابھی انتہائی نقصان دہ ہے ۔ طریقہ یہی ہے کہ خیالات کو آنے دیجئے ،خودگزرجائیں گے۔ آپ اس چکرمیں ہر گز  نہ پڑیں کہ یہ خیال کیوں  نہیں آرہا ہے یا یہ کہ اس قسم کے خیالات نہیں آنا چاہئیں۔ 


NEERANJAT BKLET

خواجۃ شمس الدين عظيمي