Topics

ایثار

 

’’اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیمؑ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوق دکھائیں تا کہ وہ عارف ہو جائیں اور کامل یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا، فرمایا یہ میرا رب ہے، سو جب وہ غروب ہو گیا تو آپؑ نے فرمایا، میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا، پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے، سو جب وہ غروب ہو گیا تو فرمایا اگر مجھ کو میرا رب ہدایت نہ کرتا رہے تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں، پھر جب آفتاب کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، سو جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا۔ اے قوم! بے شک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں، میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کی، آپؑ نے فرمایا تم اللہ کے معاملے میں مجھ سے حجت کرتے ہو حالانکہ اس نے مجھ کو طریقہ بتلا دیا تھا اور ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو، نہیں ڈرتا۔ ہاں، اگر میرا پروردگار ہی کوئی امر چاہے میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم کے گھیرے میں لئے ہوئے ہے، کیا تم پھر خیال نہیں کرتے اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ سو ان دو جماعتوں میں سے امن کے زیادہ مستحق کون ہیں؟ اگر تم خبر رکھتے ہو تو جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ ہدایت پر چل رہے ہیں۔ یہ ہماری محبت تھی جو ہم نے ابراہیمؑ کو ان کی قوم کے مقابلے میں دی تھی، ہم جس کو چاہتے ہیں رتبہ میں بڑھا دیتے ہیں، بے شک آپ کا رب بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

(سورۃ انعام۔ آیت ۸۶ تا ۸۴ پارہ ۷)

حضرت ابراہیمؑ کے والد آذر بت تراش تھے۔ اپنے فن میں یگانہ روزگار تھے۔ فن بت تراشی میں انہیں اس درجہ کمال حاصل تھا کہ ان کے بنائے ہوئے بتوں کو بادشاہ پوجتے تھے۔ فرزند آذر حضرت ابراہیمؑ نے ایسے گھر میں آنکھ کھولی جہاں انہیں آسائش کی سب چیزیں میسر تھیں۔

زر و جواہرات سے خزانے بھرے ہوئے تھے، اس آسائش و آرام کی زندگی میں انہوں نے سوچا کہ میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ اور میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اگر میرا باپ آذر ایک بہترین بت تراش ہے تو میرے باپ نے بت تراشی کا انتخاب کیوں کیا؟ بادشاہ کو فہم و عقل کا اعلیٰ کردار سمجھا جاتا تھا، یہ کیسا بادشاہ ہے کہ اپنے جیسے فانی انسان کے ہاتھ سے تراشے ہوئے پتھر کو خدا مانتا ہے اور اس کے سامنے سر بسجود ہو جاتا ہے۔

روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابراہیمؑ کسی سوچ میں گم کھڑے تھے کہ ایک کتا آیا اور اس نے ٹانگ اٹھا کر ان کے سب سے بڑے بت پر پیشاب کر دیا اور وہاں سے چلا گیا۔

حضرت ابراہیمؑ نے سوچا کہ بناوٹی خدا کے لئے اس سے زیادہ بڑی دلیل کوئی اور نہیں ہو سکتی اور حضرت ابراہیمؑ نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنا شروع کر دیا کہ میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ مجھے کس نے پیدا کیا ہے؟ اور میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ حضرت ابراہیمؑ نے زمین کے اوپر موجود اللہ کی بے شمار تخلیقات پر غور و فکر کیا تا کہ انہیں یقین کی قوت حاصل ہو جائے، ذہن گہرائی کی حدود میں پہنچا تو گہرائی میں ’’علو‘‘  پیدا ہوا اور آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں اور انہوں نے رات کی تاریکی میں ایک ستارہ دیکھا فرمایا۔ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہو گیا تو اس سے زیادہ چمک دمک والے سیارے چاند کو دیکھا اور فرمایا یہ میرا رب ہے وہ بھی غروب ہو گیا تو سورج کے بارے میں فرمایا۔ یہ سب سے زیادہ روشن اور تابناک ہے سو جب سورج بھی غروب ہو گیا تو فرمایا کہ میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

زمینی زندگی پر غور و فکر کرتے وقت یقیناً یہ بات حضرت ابراہیمؑ کے سامنے آئی ہو گی کہ انسان کے اوپر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ مر جاتا ہے، اگر انسان کی زندگی کا دارومدار پانی، ہوا، آکسیجن اور فضاء میں موجود دوسری گیسز پر ہے تو مردہ حالت میں بھی یہ سب چیزیں موجود رہتی ہیں۔

اگر ہوا، پانی اور غذا ہی انسانی زندگی کا سبب ہے تو کسی مردہ جسم کو ان چیزوں کے ذریعے زندہ کرنا ناممکن نہ ہوتا۔ اس تفکر سے یہ حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے کہ انسانی زندگی کا سبب ہوا، پانی غذا نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ ہم جب آدمی کی پوری زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انسانی زندگی برابر برابر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصہ سارا کا سارا مادی ہے اور دوسرا حصہ سارا کا سارا مادیت کی نفی ہے، مادیت کی نفی دراصل غیر رب کی نفی ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ میں مادیت یا غیر رب کی نفی کی روشن اور واضح مثالیں ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ کو ذبح کر رہے ہیں چونکہ یہ عمل انہوں نے خواب (غیر مادی شعور) میں دیکھا اس لئے مادی شعور کی نفی کر کے اس خواب کو پورا کر دکھایا یعنی اپنے عمل سے غیر رب کی نفی کر دی۔ اللہ تعالیٰ نہایت رحیم و کریم ہے کہ اللہ کو غیر رب کی نفی کا یہ عمل اتنا زیادہ پسند آیا کہ انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کے اس ایثار کو اس قربانی کو اور مادیت کی نفی کو قبول کیا اور پوری امت مسلمہ پر قربانی فرض کر دی گئی۔

حضرت ابراہیمؑ جب حضرت حاجرہ اور حضرت اسمٰعیلؑ کو بے آب و گیاہ وادی مکہ میں چھوڑ کر جانے لگے تو حضرت حاجرہ نے پیچھے سے آواز دی، حضرت ابراہیمؑ رک گئے، حضرت حاجرہ نے اپنے ہم سفر، رفیق اپنے مقدس و منور شوہر سے کہا:

’’میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ عمل اللہ کی طرف سے ہے؟‘‘

حضرت ابراہیمؑ نے کہا ’’ہاں‘‘ حضرت حاجرہ پانی کی تلاش میں صفا سے مروہ کی طرف اور مروہ سے صفا کی طرف دوڑتی رہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ ہمارے ساتھ اللہ کا ہونا کافی ہے، اللہ کو اتنا پسند آیا کہ زمین سے آب زمزم کا چشمہ ابل پڑا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حضرت حاجرہ کے اس عمل کو حج اور عمرہ قرار دے دیا اور فرمایا:

’’ان المصفا و المروۃ من شعائر اللّٰہ‘‘

قربانی، حج ، صفا مردہ پر سعی طواف کعبہ سب دراصل غیر رب کی نفی اور ایثار کی تمثیلات ہیں۔ عید الاضحیٰ کی تقریب ایک ارب مسلمانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اپنے جد امجد حضرت ابراہیمؑ اور اپنی دادی محترمہ حضرت حاجرہ کی طرز فکر کے مطابق متحد ہو کر مسلمان غیر رب کی نفی کے لئے ایثار کریں تو ان کے اوپر بھی اللہ کی رحمت اور خوشنودی عام ہو جائے گی۔

ارکان اسلام پر غور کرنے سے یہ بات ایک بچہ بھی جان لیتا ہے کہ اسلام مکمل طور پر اجتماعی پروگرام ہے، چھوٹے چھوٹے اجتماعی پروگرام (مساجد میں پانچ وقت باجماعت صلوٰۃ، جمعہ کی نماز، سحر و افطار) کی کامیابی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے عید الفطر، حج اور عید قرباں کا اجتماعی پروگرام عطا کیا ہے تا کہ ایک ارب مسلمان یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر اجتماع امت ہے تو ترقی ہے، عروج ہے، حکمرانی ہے، اختراعات و ایجادات ہیں، علوم میں فروغ ہے۔

اس کے برعکس آج اجتماعیت امت میں نہیں ہے، دیو بندی، بریلوی، غیر مقلد، شیعہ، سنی، نجدی، وہابی اور نامعلوم کتنے فرقوں میں لوگ بٹے ہوئے ہیں۔ یہ عمل تفرقہ ہے، حکمرانی کے عمل سے فرار ہے، عروج کی جگہ ذلت و مسکینیت ہے، حاکمیت کی جگہ غلامی ہے، قوم کی تذلیل ہے اور علم سے محرومی ہے۔


 


موت و زندگی

خواجہ شمس الدین عظیمی


حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ کا ارشاد اور اولیا ء اللہ کا قول بھی ہے ہم نے اللہ کو اللہ سے دیکھا اللہ کو اللہ سے سمجھا اور اللہ کو اللہ سے پا یا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اسپیس کا علم ملا ہوا ہے ۔ سپیس کا علم علم کی تجلی کو دیکھتا ہے ۔ جب سپیس کا علم آنکھوں سے دیکھا جا ئے ، کا نوں سے سنا ئی دے تو تجلی نظر آتی ہے ۔قر آن کر یم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کسی کو طا قت نہیں کہ اللہ سے کلام کر ے مگر تین طر یقوں سے (۱)وحی کے ذریعہ  (۲)رسول کے ذریعے یا (۳)حجاب سے ۔یہ تینوں سپیس میں حجاب بھی سپیس ہے وحی اسے کہتے ہیں جو سامنے منظر ہو وہ ختم ہو جا ئے اور پر دے کے پیچھے جو منظر ہو وہ سامنے آجا ئے اور ایک آواز آتی ہے ۔ فر شتے کے ذریعے یا رسول اللہ کے ذریعے کہ معنی یہ ہیں کہ فر شتہ سامنے آتا ہے اور اللہ کی طر ف سے بات کر تا ہے اور حجاب کے معنی یہ ہیں کہ کو ئی شکل سامنے آتی ہے اور اس طر ح بات کر تی ہے جیسے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے حا لانکہ وہ اللہ تعالیٰ نہیں ہے بلکہ حجاب ہے ۔