Topics

3 ۔ دیگر انداز نشست:

 

ایک طریقہ یہ ہے کہ کولہوں کے بل بیٹھ کر دونوں پیروں کو سمیٹ کر کھڑا کر لیں اور دونوں ہاتھوں کو حلقہ بنا کر گھٹنوں کے اوپر رکھ لیں یا گھٹنوں کے گرد حلقہ بنا لیں۔ اس انداز میں اوپری دھڑ ذرا آگے کو جھکا ہوتا ہے۔ اس انداز نشست میں ایک عام شخص طویل وقفہ تک بغیر کسی جسمانی تکلیف کے مراقبہ کر سکتا ہے۔ اس انداز نشست کی ایک اور شکل اس طرح ہے:

دونوں کولہے فرش پر ٹکا کر بیٹھ جائیں اور پیروں کو اس طرح کھڑا کر لیں کہ بائیں پنڈلی دائیں پنڈلی کے اوپر ہو اور پاؤں کے تلوے فرش پر ٹکے ہوں۔ ایک نرم اور مضبوط کپڑا لے کر کمرکے پیچھے سے گزار کر گھٹنوں کے اس حلقے میں لے کر آگے کی طرف گرہ لگالیں۔ گرہ لگانے کے بعد جسم کو آزاد چھوڑ دیں۔ کپڑے کا قطر کتنا ہونا چاہئے اور کمر پر کس مقام پر رکھا جائے اس کا تعین خود کیا جا سکتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بیٹھنے میں کوئی جسمانی تکلیف نہ ہو۔ دونوں ہاتھوں کو پیروں کے برابر سے گزار کر ٹخنوں کے آگے رکھ لیں۔


                                     

مراقبہ کرسی پر بیٹھ کر بھی کیا جا سکتا ہے لیکن یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ کمر سیدھی رہے اور پشت سے ٹیک اس حد تک نہ لگے کہ نیند آ جائے۔ اسی انداز نشست میں چوکی، تخت یا صوفے پر بیٹھ کر بھی مراقبہ کیا جا سکتا ہے۔ چوکی یا تخت پر بیٹھنے کے بعد کوئی تکیہ گود میں رکھ کر اس پر ہاتھ رکھ لینے چاہئیں۔ تا کہ جسمانی سکون میں خلل نہ پڑے۔بعض مراقبے پشت کے بل لیٹ کر بھی کئے جاتے ہیں۔ لیکن لیٹ کر مراقبہ کرنے میں خامی یہ ہے کہ ذہن پر نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے اور مراقبہ کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

مراقبہ کھڑے ہو کر بھی کیا جاتا ہے اور بعض تصور ایسے ہوتے ہیں جو چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت کرائے جاتے ہیں۔ مراقبہ کے یہ انداز مستثنیات میں ہیں ورنہ بیشتر مراقبے بیٹھ کر کئے جاتے ہیں۔ بیٹھ کر مراقبہ کرنے میں آدمی آسانی کے ساتھ ذہنی یکسوئی حاصل کر لیتا ہے۔



 


Muraqba urdu

خواجہ شمس الدین عظیمی