Topics
تینوں شکلیں ان قریبی دوستوں کے روپ ہیں
جو شیر و شکر رہتے ہیں۔ ملنا جلنا ان سے یا تو روز رہتا ہے یا ہفتہ میں کئی بار۔
ان دوستوں کی تعداد چھ یا سات ہے۔ تین دوست سیدھے سادے اور مرجان مرنج ہیں۔ لیکن
باقی تین یا چار دوست غلط مشورے دینے والے غلط راستوں پر ڈالنے والے اور خطرات میں
مبتلا کرنے والے ہیں۔
غلط مشورہ دینے والے لوگوں
کی باتوں کو سمجھنا اور متنبہ رہنا ضروری ہے۔ ایسا نہیں کیا گیا تو خدا نخواستہ خطرہ
پیش آ سکتا ہے۔
مجھے ماورائی علوم سیکھنے سے بہت شغف ہے۔
کافی عرصے سے رات کو مراقبہ کر کے سوتی ہوں۔ میں نے چند خواب دیکھے ہیں جن کی
تعبیر جاننا چاہتی ہوں۔
خواب: 1۔ میں اپنے گھر کے ایک کمرے میں کھڑی ہوں اور ہمارے کمرے کے نیچے تہہ خانے میں حضور
محمد رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام بلند
آواز سے قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ میں اپنے
آپ سے کہتی ہوں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز کتنی خوبصورت ہے۔
2۔ دیکھا کہ میں اپنے اسکول میں کھڑی ہوں۔ سفید کپڑے پہنے ہوئے میرے قریب
حضور محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کھڑے ہیں۔ ان کے دائیں بائیں بھی کوئی
کھڑا ہے۔ قریب ہی ایک بہت بڑی شمع جل رہی ہے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں
میری موت کا وقت آ گیا ہے اور فرشتے آسمان سے اتر رہے ہیں۔ میں رو رو کر کہتی ہوں
کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام اس طرح کی باتیں نہ کریں۔ اس کے بعد آپ علیہ الصلوٰۃ
والسلام کا بازو پکڑتی ہوں اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دوسرے کمرے میں لے جاتی
ہوں۔ ساتھ میں وہ دونوں حضرات بھی ہوتے ہیں۔ جو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دائیں
بائیں کھڑے تھے۔
3۔ شعبان کے مہینے میں دیکھا کہ میں نہا کر اپنے گھر کے کوٹھے پر
ٹہل رہی ہوں۔ اچانک آسمان پر ایک بادل جو بالکل سفید ہے اس میں سے روشنی نکلتی ہے
اور شمال کی طرف جو دیوار ہے اس پر پڑتی ہے اس روشنی سے دیوار پر بہت بڑے الفاظ
میں کلمہ طیبہ لکھا جاتا ہے۔ میں بار بار اونچی آواز سے کلمہ طیبہ پڑھتی ہوں پھر
اپنی امی اور بہن کو آواز دیتی ہوں۔ لیکن جب امی اور بہن آتی ہیں تو روشنی غائب ہو
جاتی ہے۔
4ابھی کچھ دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور
پورا چاند نکلا ہوا ہے ہم سب گھر والے اوپر چھت پر ہیں سب کہتے ہیں کہ چاند کی
چاندنی کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔ مجھے بھی چاند بہت اچھا لگا میں جیسے ہی چاند کی
طرف ہاتھ کرتی ہوں چاند میرے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔
تعبیر: آپ کے اندر بچپن سے روحانی علوم سیکھنے
کی صلاحیت بیدار ہے۔ قدرت آپ کی روحانی صلاحیتوں سے کام لے کر سیدنا حضور محمد
الرسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن میں آپ سے کام لینا چاہتی ہے اور انشاء اللہ
آپ حضور محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کو پھیلانے میں بہت بڑا کام
انجام دیں گی۔ مناسب ہے کہ کسی روحانی انسان کو اپنا استاد منتخب کر لیں جو روحانی
دنیا کے راستوں کے نشیب و فراز سے گزر چکا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو اپنی
مخلوق کی خدمت کے لئے راحت و سکون کا ذریعہ بنائیں۔ آپ کے ذریعہ ایک عالم میں رسول
اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مشن پھیل جائے۔ (آمین یا رب العالمین) خوابوں کی
تعبیر یہی ہے جو عرض کر دی گئی ہے۔
خواب: مراقبہ کرنے کے بعد سو گئی خواب میں
دیکھا کہ میرا شوہر ایک مرد اور ایک عورت ہم چاروں کہیں جا رہے ہیں۔ وہ عورت ہمیں
لے کر ریگستان میں پہنچی اور میرا ہاتھ پکڑ کر دوڑنا شروع کر دیا۔ ہم گول گول چکر
میں دوڑ رہے تھے۔ اور جیسے جیسے دوڑ رہے تھے۔ ریت کے اندر دھنستے جا رہے تھے۔ پھر
مجھے محسوس ہوا کہ صرف ہم دو نہیں بلکہ یہاں ہزاروں مرد عورتیں موجود ہیں۔ سب نے
ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے اور گردن تک ریت کے اندر ہیں۔ لیکن پھر بھی دوڑ
رہے ہیں۔ اتنا سرور مل رہا ہے کہ بتا نہیں سکتی اچانک مجھے محسوس ہوا کہ ہم خانہ
کعبہ کے گرد چکر لگا رہے ہیں اندھیرا بہت ہے لیکن مجھے پتہ چل گیا کہ ہمارے خاندان
کے لوگ بھی وہاں پر ہیں لیکن کون کون ہے اس کا پتہ نہیں۔ صرف خالہ کی موجودگی کا
احساس ہے اتنے میں ایک سفید کبوتر آیا اور ہر طرف سفید روشنی پھیل گئی۔ اندھیرے
میں صرف وہ کبوتر چکر لگاتا ہوا نظر آ رہا تھا اتنے میں خالہ کی آواز آئی۔ ’’وہ کبوتر
جو تمہارے ساتھ تھا،تم کو پتہ ہے کون تھا؟‘‘میں نے پوچھا۔ ’’کون تھا؟‘‘ تو کہنے
لگیں وہ حضرت مولانا محمد زکریا رحمتہ علیہ تھے۔ بس اسی لمحے آنکھ کھل گئی۔ چھ ماہ
میں دوسری بار ان کو خواب میں دیکھا ہے پہلے ان کا مزار دیکھا تھا۔
تعبیر: حضرت مولانا زکریاؒ قطب ارشاد تھے۔ آپ نے
حضرت مولانا زکریاؒ کی روح کو خواب میں دیکھا ہے ان سے آپ کو یقیناًروحانی فیض ملے
گا۔ آپ ان کے لئے قرآن خوانی اور کھانا پکا کر ایصال ثواب کریں۔
خواب: 1۔ میں نے رات سونے سے قبل اور صبح فجر کے وقت دونوں اوقات میں
مراقبہ کرنا شروع کیا ہوا ہے۔ خواب میں دیکھا کہ میں سیڑھیاں چڑھ رہا ہوں جو بلندی
کی طرف جا رہی ہیں اور بلندی پر کسی بزرگ کا مزار ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد پھر
دیکھا اسی طرح سیڑھیاں چڑھ رہا ہوں۔ اب میں تمام سیڑھیاں چڑھ گیا ہوں۔ جب سیڑھیاں
عبور کر لیں تو سامنے کسی بزرگ کا مزار تھا۔ بڑا روح پرور منظر تھا میں دربار میں
جانا چاہتا تھا لیکن آنکھ کھل گئی۔
2۔ اس خواب سے پہلے، بہت پہلے دیکھا تھا کہ کچھ بزرگ ہستیاں ایک
جیپ میں آسمان کی جانب سے نیچے اتر رہی ہیں ان کے چہرے نورانی تھے۔ انہوں نے میری
طرف دیکھا پھر نکل گئے پھر واپس آئے اور آسمان کی جانب جیپ ہی میں واپس چلے گئے۔
3۔ دو تین سال پہلے میں کراچی میں تھا۔ صبح فجر کی نماز پڑھ کر
مسجد سے گھر آ گیا اور آتے ہی سو گیا۔ خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ
پھنکارتے ہوئے آ رہا ہے۔ میں نے جلدی سے اس پر ایک بہت بڑا ٹوکرا رکھ دیا۔ ٹوکرا
جو کہ شہتوت کی ٹہنیوں سے بنا ہوا تھا۔ الٹتے ہی اندر سے بہت زیادہ روشنی کی کرنیں
پھوٹنے لگیں۔
تعبیر: آپ کو ماورائی علوم (روحانیت) سے
دلچسپی ہے آپ کی روح نے آپ کو بتایا ہے کہ اگر آپ دلجمعی کے ساتھ کوشش کریں تو بہت
جلدی کامیاب ہو جائیں گے۔ جس زمانے میں آپ نے سانپ اور ٹوکرے والا خواب دیکھا ہے
اس زمانہ میں آپ کے ٹونسلز خراب تھے۔ اب بھی اگر گلا خراب ہو یا نزلہ کی شکایت ہو
تو لاپرواہی نہ کریں۔ پرہیز کے ساتھ پورا علاج کرائیں۔ ٹونسلز جب خراب ہو جاتے ہیں
تو ان کے اندر پیپ پڑ جاتی ہے اور کھانے کے ساتھ یہ پیپ معدہ میں جاتی رہتی ہے۔ جس
کے نتیجہ میں معدہ خراب ہو جاتا ہے اور خون صالح نہیں بنتا اور طرح طرح کی
بیماریاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ میرے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ مستقل ٹونسلز خراب
رہنے سے پولیو بھی ہو جاتا ہے۔ رنگ اور روشنی سے علاج کے طریقہ پر زرد شعاعوں کا
تیل ٹونسلز کا نہایت مفید علاج ہے۔
خواب: ہر روز سونے سے پہلے میں تصور شیخ کا مراقبہ کر
کے سوتی ہوں۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت قبلہ جناب مرشد کریم ہمارے گھر آئے
ہیں۔ میں اتنی خوش ہوں کہ جی چاہتا ہے کہ سارے شہر کو بتا دوں کہ مرشد کریم ہمارے
گھر آئے ہیں۔ چھت پر ایک گملے میں گلاب کا پودا لگا ہوا ہے۔ جس کی شاخیں سارے صحن
میں پھیل ہوئی ہیں۔ ہم بیٹھ کر باتیں کرنے لگتے ہیں۔ پھر میں اپنی سب سہیلیوں کو
بتاتی ہوں کہ مرشد کریم ہمارے گھر آئے ہیں۔ وہ سب ان سے ملنے آتی ہیں۔ میری امی ان
سے کہتی ہیں کہ میں ان کو کراچی بھیجوں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ضرور آئیں، ہمارے بندے
اسٹیشن سے انہیں لے آئیں گے۔ ان بندوں کی نشانی وہ یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے زیتون
کا تیل اٹھایا ہو گا۔ پھر میں مرشد کریم اور میری چھوٹی بہن ہم تینوں اپنی ایک
رشتہ دار کے گھر جاتے ہیں۔ میں اس کے گھر جا کر زور سے کہتی ہوں دیکھو کون آیا ہے۔
پھر وہ سب ہم تینوں سے ملتے ہیں، پورا خواب دیکھنے کے بعد جب امی نے مجھے اٹھایا
تو نماز کا وقت تھا میں نے اٹھ کر نماز ادا کی۔
تعبیر: خواب من و عن اسی طرح ہے جس طرح آپ نے دیکھا ہے۔
دراصل آپ کی عقیدت نے خواب میں آپ کی باطنی نظر کھول دی ہے۔ اللہ آپ کو دن دونی
رات چوگنی روحانی ترقی عطا فرمائیں۔ آمین
خواب: مراقبہ کرنے کے بعد سو گیا۔ اور خواب میں دیکھا
کہ ایک بڑے اور اونچے درخت پر دو شیر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے ماموں جان سے کہا
بندوق لے آئیے، درخت پر دو شیر بیٹھے ہیں۔ ماموں بندوق تلاش کر ہی رہے تھے کہ درخت
پر سے شیر اتر کر باغ میں چلے گئے۔ دو خالہ زاد بہنیں باغ میں جانے لگیں تو میں نے
ان کو منع کیا مگر وہ میری بات سنی ان سنی کر کے باغ میں چلی گئیں۔ ایک بہن کے
اوپر شیر نے جست لگائی اور اس کا پیر اپنے منہ میں لے لیا۔ لوگ جمع ہو گئے لیکن
کسی کی ہمت نہیں تھی کہ لڑکی کو شیر سے چھڑا لے۔ میں تیزی کے ساتھ بڑھا اور لڑکی
کو شیر کے منہ سے چھڑا لیا۔ لڑکی مجھے احسان مند نظروں
سے دیکھتی ہے اور میں اسے
گود میں اٹھا کرخالہ کے گھر چھوڑ آتا ہوں۔
تعبیر: انسان Natureکے اجزاء کا مرکب ہے۔ ان اجزاء میں ترتیب ہے۔ اللہ ان کی تعداد کا تعین
کر دیتا ہے۔
’’الذی خلق فسویٰoوالذی
قدر فھدیٰo‘‘
تخلیق میں توازن رکھا گیا ہے اور اقدار کے لئے راہیں متعین کر دی گئی
ہیں۔
اس ضمن میں جنسی رجحانات بھی
قدرت کا عطیہ ہیں۔ ان کے تعامل کی راہ معین ہے۔ قبل از وقت اس پر غور کرنا، اس پر
توجہ دینا، محض فعل عبث ہے۔ بلکہ تضیع وقت اور مضر حیات ہے۔ جو چیز جس وقت جس طرح
حالات کی مناسبت سے پیش آئے وہ قابل قبول ہونی چاہئے۔ انسان خواہش کرنے کا حق ضرور
رکھتا ہے، لیکن دوسروں پر اپنی خواہش مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتا۔یہی قرآن کا مسلک
ہے۔ اسی بناء پر اقدار کا تعین کیا گیا ہے۔ اس مسلک کے سامنے ہمیں بہر صورت سر
تسلیم خم کر دینا چاہئے۔ خواب کے تمام اجزاء کا ان ہی باتوں کی طرف اشارہ ہے۔
مراقبہ کے بعد سونے کے لئے لیٹ گیا۔ خواب میں دیکھا کہ آسمان پر اللہ اور
محمد لکھا ہوا ہے۔ ان دونوں ناموں کے ارد گرد چاروں طرف پھولوں کی شکل اس طرح بنتی
ہے جیسے چلتے ہوئے بادل مختلف صورتیں اختیار کر لیتے ہیں۔ میرے سیدھے ہاتھ کی طرف
ایک صاحب کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے کہا، اگر حکومت یا عوام کی طرف سے اس بات کی
تصدیق چاہی گئی تو میں شہادت دوں گا کہ ہاں میں نے آسمان پر ان دونوں ناموں کو
دیکھا ہے۔
نوٹ: میں خود کو اکثر خواب میں نماز پڑھتے اور وضو کرتے دیکھتا ہوں۔
تعبیر و تجزیہ: اللہ اور حضور
محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسمائے مقدسہ کی تحریریں بلندی پر
دیکھنا سچے اور پرخلوص عقائد کی شبیہیں ہیں۔ دوسری طرف اس سے شگفتہ خاطری کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ جو زندگی کے معاملات
میں کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور مستقبل کے لئے نیک شگون ہیں۔
خواب: میں گیارہویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ مجھے مراقبہ
کرتے ہوئے تقریباً 3ماہ ہونے کو ہیں۔ ایک رات عجیب و غریب خواب دیکھا جس کی تعبیر
معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ خواب کچھ اس طرح سے ہے۔
اپنے استاد محترم سے تعلیم حاصل کر کے آ رہا ہوں۔ شام کا وقت ہے راستے
میں میری نظر شمال مشرق کی طرف آسمان پر پڑتی ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ بہت سے رنگ
برنگ چاند نمودار ہوئے۔ ان سب پر ’’فبای آلا ء ربکما تکذبنo‘‘ لکھا ہوا ہے۔ انہیں
دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ استاد محترم کو یہ بات بتانے کے لئے واپس
مڑتا ہوں۔ جونہی پیچھے مڑتا ہوں میری نظر جنوب مشرق میں آسمان پر موجود خوبصورت
نیلے رنگ کے چاندوں پر پڑتی ہے۔ جن میں لکھا ہوا ہے۔
’’من غشا فلیس منا‘‘
میں یہ دیکھتے ہی استاد صاحب کے گھر کی طرف دوڑتا ہوں۔ ان کی خدمت میں
حاضر ہو کر میں سب کچھ بتاتا ہوں وہ بھی یہ نظارہ دیکھنے میرے ساتھ آئے لیکن وہ یہ
نظارہ نہیں دیکھ سکے۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔ دل نے چاہا کہ پھر سو جاؤں اور
دوبارہ اس منظر سے لطف اندوز ہوں لیکن نیند نہیں آئی۔
میں نے یہ خواب اپنے استاد محترم کو بتایا۔ انہوں نے کہا کہ روشن مستقبل
کی نشانی ہے۔ براہ مہربانی خواب کی تعبیر لکھئے۔
تعبیر: قانون یہ ہے کہ خواب دیکھ کر جو تعبیر پہلے بیان کر دی جائے اس کے بعد
دوسری تعبیر نہیں دینا چاہئے۔ کیونکہ تعبیر سننے کے بعد لاشعور پر ایک نقش مرتسم
ہو جاتا ہے۔ اب اس خواب کی وہی تعبیر ہے جو کہ استاد محترم نے دی ہے۔ سیدنا حضور
محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ خواب کسی ایسے بندے سے بیان
کیا جائے جو خواب کے علم کی جزئیات سے کچھ نہ کچھ واقفیت رکھتا ہو۔ خواب علم لدنی
کا ایک باب ہے۔ علم لدنی ایسا علم نہیں ہے جو اکتساب کے ذریعے حاصل ہو جائے۔ یہ
علم سیدنا حضور محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحمت و برکت سے Giftہوتا ہے۔
خواب: مراقبہ کے بعد سو گئی۔ خواب میں دیکھا کہ میں
اپنی نانی کے گھر میں ہوں اور آسمان کو دیکھ رہی ہوں۔ وہاں آسمان پر ستارے خوب روشن
ہیں۔ ایک ستارہ جو بہت روشن سرخ رنگ کا ہے، میں اسے بہت غور سے دیکھ رہی ہوں کہ
اچانک وہ ٹوٹ کر میرے قدموں میں آ گرتا ہے۔ سب حیران ہوتے ہیں پھر وہ ستارہ سرمئی
رنگ کا پیالہ بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ پیالہ بہت مقدس اور پرانا ہے۔
تعبیر: خواب مستقبل سے متعلق ہے۔ ازدواجی زندگی اچھی گزرے گی اور ننھیال
کے رشتے سے کوئی روح جسمانی خدوخال میں جلوہ گر ہو کر خاندانی عظمت کا سبب بنے گی۔
خدا کرے کہ خواب کے مطابق عمل ہو جائے اور خاندانی اختلافات آڑے نہ آئیں۔
خواب: پچھلے ایک ماہ سے رات سونے سے قبل مراقبہ
کر رہا ہوں۔ اس دوران میں نے کئی خواب دیکھے۔
میرے اباجی کے پاس سفید لباس میں ملبوس ایک شخص آیا۔ نہایت خاموشی کے
ساتھ الماری میں سے بہت سارے کاغذات نکالے اور جیب میں رکھ کر چلا گیا۔ میرے والد
نے بھی اس نووارد سے کوئی بات نہیں پوچھی اور ان کی آنکھ کھل گئی۔
میں نے خواب میں دیکھا کہ شہر سانگھڑ میں نواب شاہ روڈ پر بہت بڑی مارکیٹ
بن کر تیار ہو گئی ہے۔ میں اس مارکیٹ کو دیکھ کر حیران ہو رہا ہوں۔ میری خواہش ہے
کہ میں مارکیٹ کو اندر سے اوپر چڑھ کر دیکھوں اس ہی خیال میں میری آنکھ کھل گئی۔
صبح اٹھ کر اس سڑک پر گیا کہ مبادا راتوں رات عمارت بن گئی ہو مگر وہاں کوئی عمارت
نہیں تھی۔
تعبیر و تجزیہ:پہلے خواب میں کاغذ
کے ٹکڑے آمدنی کے تمثلات ہیں۔ جو عنقریب خلاف امید حاصل ہونے والی ہے۔ یہ رقم کافی
بڑی ہو گی۔ دوسرا خواب بھی اسی خواب کا اعادہ ہے جس کا مطلب ان ذرائع کا فراہم
ہونا ہے جو مالی منفعت کا باعث بنیں گے۔
خواب: روز رات کو باقاعدگی سے مراقبہ کرتا ہوں۔ گذشتہ
رات مراقبہ کر کے سو گیا تو دیکھا کہ ہم چار دوست جہاز میں کہیں جا رہے ہیں۔ جہاز
کا کپتان میں ہوں۔ یکایک سمندر خشک ہو گیا اور ایک جزیرہ نما ٹیلے پر رک گیا۔ ہم
دوست حیران ہو رہے ہیں کہ اچانک خشکی کس طرح آ گئی اور اب جہاز کس طرح چلے گا۔ ایک
نے کہا بارش ہو گی، پانی جمع ہو جائے گا اور پھر جہاز چلے گا۔ تھوڑی دیر کے بعد
آسمان پر بادل چھا گئے۔ تیز ہوا چلنے لگی، بادل آپس میں ٹکرائے اور آسمان میں بجلی
چمکی اور پھر بارش ہونے لگی۔ پانی اتنا برسا کہ خشک سمندر جل تھل ہو گیا اور میں
وہاں سے جہاز نکال لایا۔
تعبیر و تجزیہ: چار دوست تمثل ہے
کئی ارادوں کا جو ذہن میں مرکوز ہو گئے ہیں۔ یہ ارادے کسی ایک مقصد سے تعلق رکھتے
ہیں کیونکہ سب کو ایک جہاز میں دیکھا گیا ہے۔ ان ارادوں پر عمل پیرا ہونے میں شدید
رکاوٹ پیش آئی اور مایوسی کی حد تک حالات دگرگوں ہو گئے۔ پھر غیب سے مدد ہوئی اور
حالات نسبتاً بہتر ہو گئے۔ یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ حالات دگرگوں ہونے کے
بعد غیب سے مدد ہوتی ہے۔ بارش غیب کا استعارہ ہے۔ آخر میں ٹیلہ پر سے جہاز کو چلا
کر لے آنا منزل کی طرف راستے کھل جانے کا اشارہ ہے۔