Topics
حضرت عثمان بن طلحہ کعبہ کے کلید بردار
تھے ۔ ایام جاہلیت میں وہ کعبہ کو پیر اور جمعرات کے دن کھولا کرتے تھے۔ ایک دن
حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کعبہ میں داخل ہوئے ۔ عثمان بن
طلحہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ۔ مگر حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے درگزر کیا اور فرمایا، اے
عثمان ! عنقریب چابی میرے ہاتھ میں ہو گی اور مجھے اس پر تصرف ہو گا جس کو چاہوں
دے دوں ، جہاں چاہوں رکھ دوں ۔ عثمان بن
طلحہ نے کہا اس دن قریش ہلاک اور ذلیل ہو جائیں گے ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے
فرمایا ، نہیں ، بلکہ وہ عزت پائیں گے اور زندہ رہیں گے ۔ فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ
کی چابی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی ۔ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ
دونوں میں سے ہر ایک نے عرض کیا کہ یہ چابی ہمیں عنایت فرما دی جائے مگرحضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے چاپی عثمان بن طلحہ کو عطا فرما دی ۔
کفار مکہ اور اہل قریش نے سیدنا علیہ
الصلوۃ والسلام کا معاشی بائیکاٹ کر کے عہد نامہ لکھ کر کعبہ میں لٹکا دیا ۔ اس
عہد نامہ میں لکھا تھا کہ بنو ہاشم سے کوئی تعلق نہ رکھے، یہاں تک کہ دوسرے علاقوں
کے سوداگر بنو ہاشم سے لین دین نہیں کر سکتے۔ آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام بمعہ
اہل و عیال شعب ابی طالب نامی گھاٹی میں مقیم ہو گئے ۔ تین سال تک حدو حساب سے
زیادہ تکالیف اور پریشانیاں برداشت کیں۔ تین سال کے بعد سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام
نے قریش مکہ کو اطلاع بھیجی کہ قریش نے متفقہ طور پر جو عہد نامہ لکھا تھا اسے
دیمک نے چاٹ لیا ہے ۔ صرف اللہ کا نام اس میں باقی رہ گیا ہے ۔ قریش نے عہد نامہ
منگوا کر دیکھا تو جہاں جہاں اللہ لکھا تھا وہ دیمک کی دست برد سے محفوظ رہا باقی
سب کو دیمک نے چاٹ لیا۔
دیمک (White Ants)چیونٹی کی ایک قسم ہے ۔ یہ پندہ سے بیس فٹ تک اونچا گھر بناتی ہیں۔ دیمک کی
عقل و دانش کا حال یہ ہے کہ جب وہ اپنا گھر بناتی ہے تو ہر گھر محرابوں پر اٹھایا
جاتا ہے۔ چھتیں اس قدر مضبوط ہوتی ہیں کہ کئی آدمیوں کا بوجھ سہار سکتی ہیں۔ ہر
گھر کے مرکز میں ملک و ملکہ رہتے ہیں ، اردگرد مزدوروں کے کمرے ہوتے ہیں ۔ ان سے
آگے دایہ جماعت کے کمرے ہوتے ہیں اور ان سے آگے گودام بنائے جاتے ہیں ۔ اس گھر
کا کوئی دروازہ نہیں ہوتا اور نہ ان کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ یہ مٹی کے نیچے رہتی ہیں
تاکہ پرندوں کا شکار نہ بنیں۔ مٹی کی سرنگ بنا کر اس کے اندر چلتی ہیں۔ان میں سے
کچھ روشنی میں چلتی پھرتی ہیں جن میں بصارت بھی کام کرتی ہے۔ نر دیمک کے دانت اس
قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ لکڑی کو چند ثانیوں میں ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں ۔ ان کی ملکہ
ایک چھوٹے کمرے میں بند رہتی ہے۔ اس کمرہ کا دروازہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ملکہ
باہر نہیں نکل سکتی ۔ اسے غذا اندر ہی پہنچا دی جاتی ہے ۔
اس ننھے سے کیڑے نے عقل و دانش کا
مظاہرہ کر کے عہد نامہ کے صرف ان الفاظ کو چاٹا جو کفار مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کو اذیت دینے کے لئے لکھے تھے ۔ لیکن خالق و مالک ہستی اللہ کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم نے جس واحد ذات کے قابل پرستش ہونے کا برملا اعلان کیا ، اس کے نام کو
دیمک نے نہیں چاٹا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت
ابو بکر صدیقؓ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینے کی طر ف روانہ ہوئے تو کفار مکہ نے
اعلان کر دیا کہ جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی کو پکڑ کر لائے
گا اسے سو اونٹ انعام میں دئیے جائیں گے۔ انعام کے لالچ میں بہت سے لوگ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ سراقہ نامی شخص اپنے تیز رفتار
گھوڑی پر سوار ہو کر تلاش میں نکلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو
بکر صدیقؓ تین دن غار ثور میں قیام کرنے کے بعد مدینے کی طرف روانہ ہو گئے تھے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں ہی تھے کہ سراقہ اپنا گھوڑا دوڑاتا ہوا آ پہنچا
۔ جب وہ قریب آیا تو اس کے گھوڑے کے چاروں پیر پیٹ تک زمین میں دھنس گئے۔ یہ دیکھ
کر سراقہ بہت گھبرایا۔ اس نے بہت کوشش کی مگر گھوڑے کے پیر زمین سے باہر نہ نکلے ۔
سراقہ نے التجا کی:
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میرے گھوڑے
کو اس مصیبت سے نجات دلائیے ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ واپس چلا جاؤں گا اور جو کوئی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں آرہا ہو گا اسے بھی واپس لے جاؤں گا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی
۔ زمین نے گھوڑے کو باہر نکال دیا۔ سراقہ واپس جانے لگا تو حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا:
اے سراقہ !میں تیرے ہاتھوں میں ایران
کے بادشاہ نوشیروان کے کنگن دیکھ رہا ہوں
حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں ایران
فتح ہوا۔ مال غنیمت میں ایران کے بادشاہ نوشیروان کے کنگن بھی تھے ۔ جو حضرت عمر
فاروق ؓ نے سراقہ کے ہاتھوں میں پہنا دئیے۔
قریش نے جنگ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے کے
لئے فدیے بھیجے۔ حضرت عباس بولے میرے پاس کیا ہے جسے میں ادا کر کے رہائی حاصل
کروں ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جسے آپ نے اور آپ کی
بیوی ام الفضل نے چھپا رکھا ہے ۔ جنگ کے لئے روانہ ہوتے وقت آپ نے اپنی بیوی سے
کہا تھا اگر میں مارا گیا تو اس مال کو میرے بیٹوں میں تقسیم کر دینا۔
حضرت نوفل بن حارث رسول اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے عم زادہ تھے ۔ کفار کی فوج میں شامل تھے ۔ غزوہ بدر میں گرفتار ہو
گئے ۔ بدر کے قیدیوں میں سے ہر ایک کا فدیہ ایک ہزار درہم سے چار ہزار درہم تھا۔
جن کے پاس مال نہ تھا اور وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کا فدیہ یہ مقرر ہوا کہ وہ
انصار کے دس نوجوانون کو لکھنا سکھا دیں۔ جب قیدیوں کے فدیےکی بات چلی تو حضرت
نوفل بن حارث نے عرض کیا میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں کہ فدیے میں دے سکوں ۔ اس پر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ
نیزے کہاں ہیں جو تو نے جدہ میں رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کو فدیے میں دے دے ۔
غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج رات کو بہت تیز ہواچلے گی ۔ تم میں سے کوئی شخص رات
کو نہ اٹھے ۔ جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کو مضبوط باندھ دے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا رات
کو بہت تیز ہوا چلی اور سخت آندھی آئی ۔ ایک شخص کو ہوا نے اُٹھا کر پہاڑوں میں
گم کر دیا ۔
ایک غزوہ کے موقع پر راستے میں آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی ۔ صحابہ کرامؓ اونٹنی کی تلاش میں نکلے عمارہؓ
بن حزم اس وقت سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس موجود تھے ۔ ایک منافق نے لوگوں
سے کہا ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کا
دعوی کرتا ہے اور تمہیں آسمان کی خبریں سناتا ہے اور اسے یہ بھی پتہ نہیں کہ اس
کی اونٹنی کہاں ہے ؟
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت
عمارہؓ سے کہا ، ایک شخص نے یہ کہا ہے کہ
محمد نبوت کا دعوی کرتا ہے اور لوگوں کو آسمان کی خبریں سناتا ہے اور سے یہ بھی
پتہ نہیں کہ اس کی اونٹنی کہاں ہے؟ خدا کی قسم ! میں وہی جانتا ہوں جو اللہ نے
مجھے بتا دیا ہے ، مجھے وہی کچھ معلوم ہے جس کا علم اللہ نے مجھے عطا کر دیا ہے۔
اللہ نے مجھے اونٹنی کے بارے میں خبردی ہے کہ اونٹنی ایک درے میں ہے اور اس کی
نکیل ایک درخت میں پھنسی ہوئی ہے ۔ تم جا کر اسے لے آؤ۔
دو اصحاب کے ساتھ حضرت علیؓ کو حضور
علیہ الصلوۃ والسلام نے فاخ نامی مقام کی طرف روانہ کیا اور فرمایا وہاں ایک عورت
کے پاس قریش مکہ کے نام خط ہے ۔ اس عورت کو گرفتار کر کے لے آو۔ تینوں اصحاب تیز
رفتار گھڑوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے ۔ عورت کو گرفتار کر کے تلاشی لی گئی تو
چوٹی میں خط چھپا ہوا تھا۔
جس وقت موتہ کے میدان میں تین ہزار
افراد پر مشتمل لشکر اسلام کفار کے دو لاکھ لشکر سے نبرد آزما تھا ۔ اس وقت حضور
علیہ الصلوۃ والسلام مدینہ میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا ۔
زیدؓ نے جھنڈا پکڑا اور بہادری سے لڑتے لڑتے
شہید ہو گئے۔ اب جعفرؓ نے کمان سنبھال لی ۔ جعفرؓ نے گھوڑے کی کونچیں کاٹ کر حملہ
کیا ۔ ان کا دایاں بازو کٹ گیا تو علم بایئں ہاتھ میں لے لیا۔ بایاں بازو بھی کٹ
گیا تو جھندا بغل میں لے لیا اور شہید ہو گئے ۔ اب جھنڈا عبداللہ بن رواحہؓ کے
ہاتھ میں ہے۔ وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے ۔ مجھے دکھا دیا گیا ہے کہ فرشتے انہیں
سنہری پلنگ پر اٹھا کر جنت میں لے گئے ہیں۔
غزوہ حنین میں ایک سوار نے حضورعلیہ
الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
میں نے پہاڑ پر سے دیکھا ہے کہ قبیلہ ہوازن کے تمام لوگ اونٹوں پر اسلحہ لاد کر
حنین میں آ گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا ۔ سب سامان مسلمانوں کو مل جائے گا ۔ دوسری دن جب
کفر و اسلام میں معرکہ ہوا تو مسلمانوں کو فتح ہوئی ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت ام
سلمہؓ سے فرمایا ۔ میں نے ایک ریشمی حلہ
اور کئی اوقیہ مشک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے لئے ہدیہ بھیجا ہے ۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ
نجاشی کے فوت ہو جانے کے باعث ہدیہ واپس آ جائے گا ۔ ہدیہ واپس آیا تو ریشمی حلہ
تمہارا ہو گا ۔
جس روز نجاشی شاہ حبشہ کی وفات ہوئی اسی
روز حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے صحابہؓ کو اس واقعہ کی اطلاعی دی اور فرمایا
۔ اپنے بھائی کے لئے مغفرت طلب کرو۔ نجاشی
شاہ حبشہ کے مرنے کے بعد ہدیہ واپس آگیا۔
ہجرت کے ساتویں سال کے آغاز میں حضور
علیہ الصلوۃ والسلام نے عرب سربراہان حکومت کو دعوت اسلامی کے خطوط ارسال فرمائے
تھے ۔ شاہ ایران خسرو پرویز کے پاس سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کا نامہ مبارک پہنچا
تو خسرو پرویز نے خط کو چاک کر دیا ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جب خط چاک کرنے کی اطلاع پہنچی تو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ۔ نامہ مبارک کو چاک کرنے
کے بعد خسرو پرویز نے یمن کے حاکم باذان کو گستاخانہ حکم دیا ، تو اس مدعی نبوت کے پاس جا اور اس سے کہہ دے کہ
اپنے دعوے سے باز آجائے ورنہ اس کا سر قلم کر کے میرے پاس بھیج دے ۔ باذان نے اپنے دو مصاحب اس غرض سے مدینہ بھیجے
کہ وہ جا کر مدی نبوت سے ملیں اور اطلاع دیں ۔ وہ دونوں بارگاہ رسالت میں حاضر
ہوئے اور حقیقت حال عرض کی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ آج تم
آرام کرو ، کل میرے پاس آنا ۔ اگلے روز جب وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت
میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل رات اللہ تعالی نے کسری(خسرو پرویز) کو قتل
کروا دیا ہے اور اس کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا ہے ، میری طرف سے باذان
کو یہ خبر دے دو اور یہ بھی کہہ دو کہ میرا دین اور میری حکومت ایک روز کسری کے
ملک کی حدود تک پہنچ جائے گی اور اسے یہ بھی بتادو کہ اگر تم اسلام لے آو گے تو
تمہارا ملک تمہیں دے دیا جائے گا ۔ قاصدوں نے واپس جا کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم
کے ارشادات اس کے گوش گزار کر دئیے۔
زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ شیرویہ کی طرف سے باذان کے نام خط آیا ۔ اس خط میں
لکھا تھا میں نے اپنے باپ خسرو پرویز کو قتل کر دیا ہے کیونکہ وہ معززین ایران کے
قتل کو روا رکھتا تھا ۔ تم رعایا سے میری اطاعت کا عہد لو اور اس مدعی نبوت سے
تعرض نہ کرو میرے باپ نے جس کی گرفتاری کا حکم دیا تھا ۔ باذان مسلمان ہو گیا اور
اس کے ساتھ ہی یمن میں مقیم ایرانی بھی ایمان لے آئے ۔
واثلہؓ بن اثقع حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کی مجلس میں بیٹھے
ہوئے تھے کہ واثلہؓ بیچ میں آکر بیٹھ گئے۔ صحابہؓ نے اس کو برا سمجھا اور انہیں
ایک طرف بیٹھنے کو کہا ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اسے بیٹھا رہنے دو
مجھے معلوم ہے کہ یہ یہاں کس مقصد سے آیا ہے ۔ واثلہؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم آپ بتا ئیے میں کس مقصد سے یہاں آیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا تم شر اور نیکی کے بارے میں جاننا چاہتے ہو۔ واثلہؓ نے کہا قسم اس
ذات کی جس نے سچائی کے ساتھ آپ کو بھیجا ہے ۔ میں اسی لئے آیا ہوں۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ
نیکی وہ ہے جس سے اطمینان قلب حاصل ہو اور شر میں اطمینان قلب نہیں ہوتا ۔ تجھے
چاہیے کہ اس چیز کو اختیار کر جس میں شک و شبہ نہ ہو ۔
شیطان صفت عمیر بن وہب حضور علیہ الصلوۃ
والسلام اور صحابہ کرامؓ کو اذیتیں دینے میں پیش پیش رہتا تھا ۔ ایک روز خانہ کعبہ
میں عمیر نے کہا ، اللہ کی قسم اگر مجھ پر
قرض نہ ہوتا اور گھر والوں کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو
قتل کر دیتا۔ ابو لہب نے کہا تمہارا قرض
میں ادا کر دیتا ہوں ۔ تمہارے بیوی بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے ۔ جب تک وہ زندہ ہیں
میں ان کا کفیل ہوں ۔ عمیر بن وہب زہر میں بجھا ہوا خنجر لے کر مدینہ کی طرف چل
پڑا ۔ جب وہ مدینہ پہنچا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں داخل ہو گیا تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ، عمیر
! تو یہاں کیوں آتا ہے ؟ عمیر نے کہا ۔ میں اپنے بیٹے کی رہائی کا فدیہ دینے آیا ہوں ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تو
جھوٹ بولتا ہے ۔ تو اس لئے نہیں آیا کہ اپنے قیدی کو فدیہ ادا کر کے چھڑا لے جائے
بلکہ تو مجھے قتل کرنے آیا ہے ۔ عمیر راز کھلنے پر لرزنے لگا او رکپڑوں میں چھپا
ہوا خنجر زمین پر گر گیا ۔
بعثت نبوی کے پانچویں برس آتش پرست
ایرانیوں اور مسیحی عقائد پر کار بند رومیوں میں جنگ ہوئی ۔ جنگ میں ایرانیوں کو
کامیابی حاصل ہوئی ۔ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانون کو رومیوں سے ہمدردی تھی ۔
رومیوں کی شکست سے انہیں افسوس ہوا ۔ اللہ نے مسلمانوں کو تسلی دی :
ترجمہ : رومی مغلوب ہوئے ۔ پاس کی زمین میں اور وہ اس
مغلوبی کے بعد غالب ہوں گے ۔ کئی برس میں ، حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے اور
ا س دن خوش ہوں گے ایمان والے۔ اللہ کی مدد سے ، مدد کرے جس کی چاہے اور وہی ہے
زبر دست رحم والا ۔ اللہ کا وعدہ ہوا ، خلاف نہ کرے گا اللہ اپنا وعدہ لیکن بہت
لوگ نہیں جانتے ۔ ( الروم ۲۔۶)
مشرکین مکہ نے مسلمانون کا مذاق اڑایا تو سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے پیشین
گوئی فرمائی ۔
تین سے نو سال کی مدت میں رومی دوبارہ
غالب ہوں گے ۔
سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان پیشین گوئی کے نویں سال پورا ہو گیا۔
عدی بن حاتم ، حاتم طائی کے بیٹے تھے ۔
شام سے مدینہ منورہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ سیدنا علیہ
الصلوۃ والسلام انہیں گھر لے گئے اور کھجور کی چھال سے بھرا ہو اکشن بیٹھنے کے لئے
دیا اور خود زمین پر بیٹھ گئے ۔ عدی بن حاتم نے سوچا بلا شبہ یہ بادشاہ نہیں ہیں
کیونکہ بادشاہوں میں اس طرح کی تواضح نہیں ہوتی ۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ۔
اے عدی تم عیسائیت اور صابیت کے درمیان کا اعتقاد رکھتے ہو ۔ عدی بن حاتم نے عرض
کیا ، بے شک آپ نے سچ فرمایا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے
عدی بن حاتم تم اپنی قوم سے غنیمتوں کا چوتھا حصہ لیتے ہو ۔ حالانکہ تمہارے دین
میں یہ جائز نہیں ہے۔ عدی کہنے لگے ، بے شک آپ نے سچ فرمایا ہے۔ عدی بن حاتم کو
یقین ہو گیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نبی ہیں جو غیب کی باتین جانتے ہیں ۔ پھر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
اے عدی اسلام کی طرف تمہاری رغبت ہے مگر تم
اسلام اس لئے قبول نہیں کرتے کہ تمہیں بظاہر مسلمانوں کی حالت کمزور نظر آتی ہے ۔
خدا کی قسم ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کے پاس دولت پانی کی طرح بہتی ہو گی ۔
مسلمان مٹھیاں بھر بھر کر سونا چاندی خیرات میں دیں گے اور اسے قبول کرنے والا
کوئی نہیں ملے گا ۔
اور تم اسلام کو اس لئے قبول نہیں کرتے
کہ تمہیں مسلمان تھوڑے اور ان کے مقابلے میں کفار تعداد میں زیادہ نظر آتے ہیں ۔
خدا کی قسم ایک وقت آئے گا کہ چار دانگ عالم میں اسلام کا چرچا ہو گا ۔ زمین کے
اوپر پھیلے ہوئے دور دراز ممالک مسلمانوں کے زیر نگیں ہو گے ۔ حتی کہ عورتین تن
تنہا اونٹ پر سوار ہو کر بے خوف و خطر قادسیہ سے چل کر بیت اللہ شریف کی زیارت کو
آئیں گی۔
اور تم اس خیال سے اسلام کو قبول نہیں
کرتے کہ تمہیں مسلمانوں میں بادشاہ نظر نہیں آتے ۔ تمہارے خیال میں بادشاہت
مسلمانوں کے مخالفین کے پاس ہے ۔ خدا کی قسم وقت آئے گا کہ روم اور بابل کے شاہی
محلات مسلمانوں کے پاس ہوں گے ۔ عدی یہ پیشین گوئی سن کر مسلمان ہو گئے۔
عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میری زندگی میں
ہی بابل کے سفید شاہی محلات ختم ہو گئے اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ اونٹ پر سوار
تنہا عورت کئی دنوں کا سفر طے کر کے بیت اللہ شریف پہنچی ہے اور خدا کی قسم تیسری
پیشین گوئی بھی پوری ہو کر رہے گی کہ دولت پانی کی طرح بہے گی اور کوئی ایسا نہ
ملے گا جو اسے قبول کرنے پر تیار ہو جائے۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ
ازدواج مطہراتؓ سے فرمایا۔ میری وفات کے بعد تم میں سے سب سے پہلے وہ مجھ سے
ملاقات کرے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے۔ یہ سن کر ازدواج مطہرات آپس میں ہاتھ
ناپنے لگیں۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام کے پردہ فرمانے کے بعد ازدواج مطہرات میں
سے حضرت زینبؓ کی وفات ہوئی جن کا لقب ام المساکین تھا اور وہ صدقہ خیرات بہت کیا
کرتی تھیں۔ ان کی وفات کے بعد ازدواج پر یہ عقدہ کھلا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد اللہ
کے لئے خرچ کرنے والے ہاتھ ہیں۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت
فاطمہؓ کو طلب فرمایا اور اپنے پاس بٹھا کر کان میں چند باتیں فرمائیں ۔ حضرت
فاطمہؓ رونے لگیں اور بہت غمگین ہوئیں ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے کان
میں دوبارہ ایک بات کہی ۔ حضرت فاطمہؓ روتے روتے چپ ہو گئیں اور مسکرانے لگیں۔
حضرت عائشہؓ نے بی بی فاطمہؓ سے جب استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں کہا تھا کہ جبرائیل سال میں ایک مرتبہ
مجھ سے قرآن سنتے ہیں۔ لیکن جبرائیل نے اس سال دو بار مجھ سے قرآن سنا ہے ۔
معلوم ہوتا ہے کہ میں اس سال رخصت ہو جاؤں گا ۔ یہ سن کر میں رونے لگی ۔ پھر آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں فرمایا ۔ اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھ سے
ملاقات کرو گی ۔ یہ سن کر میں مسکرا دی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ
ماہ بعد حضرت فاطمہؓ اپنے والد گرامی کے پاس تشریف لے گئیں۔
حضرت علیؓ سے سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حضرت صالح کی قوم میں
قیدار بن سالف سب سے زیادہ شقی تھا ۔
جس نے حضرت صالح کی نبوت و رسالت کی دلیل کےلئے بھیجی گئی اونٹنی کی کو نچیں
کاٹ ڈالی تھیں اور میری امت میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تلوار سے تمہارے سر پر
وار کرے گا ۔ تمہاری داڑھی خون سے سرخ ہو جائے گی ۔ روایت ہے کہ جس صبح حضرت علیؓ
پر قاتلانہ حملہ کیا گیا وہ ساری رات آپ بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھاتے اور
فرماتے تھے کہ یہ تو وہی رات ہےجس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ بے شک سیدنا علیہ
الصلوۃ والسلام نے کبھی جھوٹی بات نہیں کہی ۔ فجر کے وقت آپ مسجد تشریف لے گئے
راستے میں بطخوں نے چلا چلا کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ لوگوں نے انہیں خاموش کرانا
چاہا تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ انہیں غم کا اظہار کرنے دو ۔ آپ نماز میں اپنے
خالق و مالک کے حضورؐ حاضر تھے کہ عبداللہ الرحمن بن ملجم نے آپ پر حملہ کر دیا ۔
تلوار سے آپ کی پیشانی پر کاری ضرب لگائی اور آپ شہید ہو گئے۔
حجۃ الوداع کے موقع
پر حضرت سعد بن ابی وقاص سخت بیمار ہو گئے۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام عیادت کے
لئے تشریف لے گئے تو انہوں نے خدمت اقدس میں عرض کیا کہ شاید میں اس مرض سے جانبر
نہ ہو سکوں ۔ میری وارث ایک لڑکی ہے ۔ اجاذت ہو تو میں اپنے مال سے متعلق وصیت
کردوں ۔ سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، ابی وقاص انشااللہ تم زندہ رہو گے اور تمہاری
ذات سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا اور بہت سے لوگ نقصان میں رہیں گے ۔ حضرت
سعد بن ابی وقاصؓ صحتیاب ہو نے کے بعد پچاس سال تک اسلام کی خدمت کرتے رہے ۔ حضرت
عمرؓکے عہد خلافت میں ایران کا دارالسطنت مدائن ان کی قیادت میں فتح ہوا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مکہ کے سفر کے
دوران مرا ہوا ایک سانپ دیکھا انہوں نے ایک کپڑے میں لپیٹ کر اسے دفن کر دیا۔
کان میں سرگوشی ہوئی
۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے سنا تھا کہ
سرقؓ گاوں کے ایک میدان میں وفات پائے گا اور میری امت کا بہترین شخص اسے دفن کرے
گا ۔
عمر بن عبدالعزیز نے پوچھا ! تم کون ہو؟
آواز آئی ، میں نوع جنات میں سے ایک
فرد ہوں اور یہ میرا ساتھی سرقؓ ہے ۔ جنات میں سے جن لوگوں نے حضور علیہ الصلوۃ
والسلام سے بیعت کی تھی ان میں سے اب میرے سوا کوئی باقی نہیں رہا ۔
*********
اللہ نے کُن فرمایا تو کائنات کی جو شکل و صورت اللہ کے ذہن میں تھی ، مظہر بن
گئی یعنی کائنات اللہ کے ذہن کا عکس ہے۔ اللہ کے ذہن کا عکس اس کی صفات ہیں۔
کائنات میں جو کچھ ہے وہ زمین پرہو ،
زمین میں ہو ، آسمانوں میں ہو یا کائنات کے کسی بھی گوشے میں ہو وہ اللہ کی صفت
کا مظاہرہ ہے ۔ چونکہ کائنات اللہ کے ذہن کا عکس ہے اس لئے کائنات میں ہر مخلوق ہر
ہر قدم پر خالق کائنات اللہ کی محتاج ہے۔
اللہ کی صفات کا عکس رخ اول ہے اور خود
کائنات جو ہر آن ہر لمحہ خالق کے کرم کی محتاج ہے، رخ دوئم ہے ۔ ان دونوں رخوں سے
کائنات میں تخلیقی عمل جاری ہے۔
پہلا رخ یا مرحلہ کائنات کا اجتماعی
شعور ہے ۔ دوسرا مرحلہ نوع ہے ۔ تیسرا مرحلہ نوع کے افرا دہیں۔ کوئی شخص اس کا نام
کچھ بھی ہو اس کا وجود پہلے مرحلے کا عکس ہے، خواہ وہ فرد انسان ہو، جن ہو، فرشتہ
ہو، نباتات ہو، جمادات ہو یا پھیلی ہوئی کائنات میں کوئی کرہ ہو ۔
کائنات میں ممتاز فرد انسان ہے جس کے
بارے میں اللہ نے لقد خلقنا الانسان فی احسن التقویم فرمایا ہے۔
قانون قدرت کے مطابق انسانی زندگی کے
بھی دو رخ ہیں۔ ایک ظاہری رخ اور دوسرا باطنی رخ ۔ظاہر رخ مادی آنکھ سے دیکھنے پر
نظر آتا ہے ۔ جبکہ باطنی رخ روح کی آنکھ سے نظر آتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ
باطن میں ہے وہی ظاہر میں ہے ۔ جو چیز باطن میں نہیں ہے وہ ظاہر میں بھی موجود
نہیں ہے۔ گویا باطن رخ اصل ہے ۔ اور کسی شخص کا باطنی رخ ہی اس کی اصل اور روح ہے
۔ ظاہری حصہ یا ظاہری رخ زمانیت اور مکانیت کا پابندہے۔ باطنی حصہ میں زمان و مکان
دونوں نہیں ہوتے۔ہم جب ظاہری رخ میں سفر کرتے ہیں تو فاصلے اور رفتار کے اعتبار سے
اس میں کئی گھنٹے، کئی دن اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ لیکن باطنی رخ میں طویل
سفرکی ضرورت پیش نہیں آتی اور نہ ہی مشاہدہ کے دوران کوئی پردہ حائل ہوتاہے۔
کائنات کا ہر فرد لا شعوری طور پر ایک
دوسرے کے ساتھ روشناس اور منسلک ہے ۔ اگر کوئی فرد سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام
کی نسبت سے اس قانون سے واقف ہو جائے تو وہ ایک ذرے کی حرکت کو دوسرے ذرے کی حرکت
سے ملحق دیکھ سکتا ہے ۔ اس قانون کا شعور رکھنے والا انسان ہزاروں سال پہلے یا
ہزارون سال بعد کے واقعات کا مشاہدہ کر سکتا ہے ۔ اس کا تجربہ نوع انسانی میں ہر
فرد کو ہوتا رہتا ہے ۔ مثلا دن میں ہم سورج کو نو کروڑ میل دور دیکھتے ہیں اور ہر
رات لاکھوں میل کے فاصلے پر ستارے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ یہ نو کروڑ
میل دیکھنا یا ستاروں کو لاکھوں میل کے فاصلے پر بغیر وقفے کے دیکھنا کائناتی شعور
سے دیکھنا ہے۔
سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی
پیشین گوئیوں میں یہی قانون نافذ ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام اللہ رب
العالمین کے بھیجے ہوئے رحمت اللعالمین ہیں ۔ حضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کائنات کی
تخلیق میں کام کرنے والے تمام مخفی گوشوں سے پوری طرح واقف ہیں۔ کائنات کے ہر مخفی
گوشہ سے واقف اور علم غیب کے امین ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کائناتی شعور
استعمال کی تو ہونے والے واقعات ان کے سامنے آ گئے ۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت پر ان گنت صفحات لکھے جاچکے ہیں اور آئندہ لکھے جاتے رہیں گے لیکن چودہ سوسال میں ایسی کوئی تصنیف منظر عام پر نہیں آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی روحانی اور سائنسی توجیہات اور حکمت پیش کی گئی ہو ۔ یہ سعادت آپ کے نصیب میں آئی ہے ۔ ایک سعید رات آپ کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری کا موقع ملا ۔ دربار رسالت میں ایک فوجی کی طرح Attention، جاں نثار غلاموں کی طرح مستعد، پرجوش اورباحمیت نوجوان کی طرح آنکھیں بند کئے دربار میں حاضر تھے۔
آہستہ روی کے ساتھ ، عشق و سرمستی کے خمار میں ڈوب کر دو قدم آگے آئے اور عرض کیا ،
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
بات بہت بڑی ہے، منہ بہت چھوٹا ہے ۔۔۔
میں اللہ رب العالمین کا بندہ ہوں اور۔۔۔
آپ رحمت للعالمینﷺکا امتی ہوں۔۔۔
یہ جرأت بے باکانہ نہیں، ہمت فرزانہ ہے۔۔۔
میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان ہوں ۔
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
یہ عاجز ، مسکین ، ناتواں بندہ ۔۔۔
آپ ﷺ کی سیرت مبارک لکھنا چاہتا ہے ۔۔۔
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !
سیرت کے کئی پہلو ابھی منظر عام پر نہیں آئے۔۔۔
مجھے صلاحیت عطا فرماےئے کہ۔۔۔
میں معجزات کی تشریح کرسکوں۔
آپ نے بند آنکھوں سے محسوس کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ملاحظہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ ہے ۔ آپ اس سرمستی میں سالوں مد ہوش رہے ۔ خیالوں میں مگن ، گھنٹوں ذہن کی لوح پر تحریریں لکھتے رہے ۔ سیرت کے متعلق ہر وہ کتاب جو آپ کو دستیاب ہوسکی اللہ نے پڑھنے کی توفیق عطا کی اوربالآ خر ایک دن ایسا آیا کہ کتاب محمد رسول اللہ جلد دوئم کی تحریر کا آغاز ہوگیا۔