Topics
صلوٰۃ سے متعلق ارشاد نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام ہے:
’’جب تم نماز میں مشغول ہو تو یہ محسوس کرو کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا یہ محسوس کرو کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔‘‘
اس ارشاد مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل ذہنی رجوع ہے۔
چنانچہ صلوٰۃ محض جسمانی اعضاء کی حرکت اور مخصوص الفاظ کے دہرانے کا نام نہیں ہے۔ نماز میں قیام، رکوع و سجود اور تلاوت جسمانی وظیفہ ہے اور رجوع الی اللہ وظیفہ روح ہے۔ صلوٰۃ اپنی ہیئت ترکیبی میں جسمانی اور فکری دونوں حرکات پر مشتمل ہے۔ جس طرح جسمانی اعمال ضروری ہیں اسی طرح تصور و توجہ کا موجود ہونا بھی لازمہ صلوٰۃ ہے۔ ان دونوں اجزاء کو تمام تر توجہ سے پورا کرنا اور ان کی حفاظت کرنا قیام صلوٰۃ ہے۔ مراقبہ کی جو تعریف و تشریح ہم گذشتہ ابواب میں کر چکے ہیں اس کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نماز وہ مراقبہ ہے جس میں جسمانی اعمال و حرکات کے ساتھ اللہ کی موجودگی کا تصور کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص مندرجہ بالا آداب و قواعد کے ساتھ مسلسل نماز ادا کرتا ہے تو اس کے اندر انوار الٰہی ذخیرہ ہونے لگتے ہیں اور انوار کا یہ ذخیرہ روحانی پرواز کا سبب بنتا ہے۔