Topics

حضرت عیسیٰ ؑ :

 

حضرت عیسیٰ ؑ چالیس دن ایک بیابان میں معتکف رہے۔ اس دوران شیطان نے آپ کے ارادہ میں رخنہ ڈالنا چاہا، لالچ اور منفعت کے پہلو دکھا کر اس عمل سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن آپ نے اس کی باتوں کی طرف مطلق توجہ نہ فرمائی اور بالآخرعنایت ربانی کا نزول آپ پر شروع ہو گیا۔ مرقس کی انجیل میں لکھا ہے:

’’اور ان دنوں ایسا ہوا کہ یسوع نے نگیل کے ناصرۃ سے آ کر یردن میں یوحنا سے بپتسمہ لیا اور جب وہ پانی سے نکل کر اوپر آیا تو فی الفور اس نے آسمان کو پھٹتے اور روح کو کبوتر کی مانند اپنے اوپر اترتے دیکھا۔۔۔اور فی الفورروح نے اسے بیابان میں بھیج دیا۔ اور وہ بیابان میں چالیس دن تک شیطان سے آزمایا گیا۔ اور جنگلی جانوروں کے ساتھ رہا اور فرشتے اس کی خدمت کرتے رہے۔‘‘

حضرت مریم ؑ کی گوشہ نشینی ہو یا حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی خلوت گزینی، بنیادی بات یہ سامنے آتی ہے کہ ان ہستیوں نے ایک معینہ مدت تک تمام ظاہری علائق اور دنیاوی معاملات سے ذہنی رشتہ منقطع رکھا اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ غیب کی دنیا کی طرف متوجہ رہے۔

اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام میں مراقبے کا تذکرہ کس طرح کیا گیا ہے اور محمد الرسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت طیبہ میں مراقبہ کا کیا مقام ہے۔


Muraqba urdu

خواجہ شمس الدین عظیمی