Topics

محبوب راکھ ہونے دیتا ہےاور نہ بجھنے دیتا ہے


طاہر کی دکان پر چائے پیتے ہوئے ہم دوست ہنسی مذاق کررہے تھے ۔ زاہد جرمنی سے اور بابر کویت سے آیا تھا ۔ سالوں بعد ہم اکٹھے ہوئے تھے۔ جب دونوں پردیس کی داستان سنا چکے تو ان کی توپوں کا رخ میری طرف ہوگیا۔ سنا ہے تم یہاں پیر بن گئے ہو ۔ بابر نے تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ میں مسکراہٹ کو نظر انداز نہیں کرسکا ۔ بھائی! میں پیر کا ادنیٰ مرید ہوں اورمحبوبیت کے آداب سیکھ رہا ہوں۔بس جب اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے تو اپنے کسی بندے سے ملوا دیتا ہے ۔ 

پردیس میں خبریں ملتی تھیں کہ لوگ تمہاری بہت عزت کرتے ہیں اور تم یہاں پر علاج معالجہ کرتے ہو، بابر تفتیشی انداز میں بولا ۔  مرشد کریم خدمت خلق کرتے ہیں، جو علاج انہوں نے بتایا ہے، میں وہی علاج لوگوں کو بتاتا ہوں۔ اللہ کے فضل سے شفا ہوتی ہے، سب عطا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ 

پردیس میں تمہارے بارے میں عجیب عجیب باتیں سننے کو ملتی تھیں کہ تم پیر بن گئے ہو اور اس سائنسی دور میں لوگوں کو تعویذ لکھ کر دیتے ہو۔ 

بھائی! تعویذتعوذ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی پناہ میں آنا ہے۔ میں تعویذ پر اللہ کا نام لکھ کر دیتا ہوں، لوگوں کو شفا ملتی ہے۔ کائنات اللہ نے تخلیق کی ہے اورتخلیق کائنات کے سامنے آدمی کی سائنس کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ 

اس جواب پر وہ خاموش ہوگئے۔ 

 میں نے مزید کچھ نہیں کہا اور موضوع بدلتے ہوئے کویت کے حالات پوچھے ۔ 

چائے پی کر ہم گاڑی کی طرف بڑھے تو گاڑی کے قریب دکان کےتھڑے پر ایک شخص کمبل اوڑھے بیٹھا تھا ، بال مٹی میں اٹے ہوئے اور ہاتھ پیروں پر میل جما ہوا تھا ۔ اس پراچٹتی نگا ہ ڈال کر گاڑی کا دروازہ کھولا تواچانک چہرہ شناسا محسوس ہوا ۔غور سے دیکھا تو دل کی حالت غیر ہوگئی ۔آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے ۔جب اس کی نگاہ مجھ پر پڑی تو وہ یک دم ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑا ہوگیا ۔ ایسا لگا کہ مجھ پر منوں مٹی گر رہی ہے اور میں دفن ہورہا ہوں ۔ 

زاہد اور بابر نے ایک پاگل کو ادب سے کھڑے ہوتے دیکھ کر حیر ت سے میری طرف دیکھا ۔ میں ان کو نظر انداز کرکے جلدی سے گاڑی میں بیٹھا ۔ دونوں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔ ان کی باتوں سے بے پروا ، شہزاد کو اس حالت میں دیکھ کر ذہن میں ماضی کی فلم نشر ہوگئی۔ 

__________

 عاشق اورمحبوب، وجود کے دو پرت عورت اور مرد کی طرح سکےّ کے دو رخ ہیں۔عشق و محبت کی داستانوں میں مجھے عاشق ہمیشہ مظلوم اور محبوب سنگدل لگا۔ 

میرے چچا کو اپنے پیر و مرشد سے والہانہ عشق تھا۔ چند دنوں کی جدائی برداشت نہیں ہوتی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ جب وہ پیر و مرشد کا نام سنتے تو آنسو چھلکنے کو بے تاب ہوتے اور وہ نشست چھوڑ کر ایک طرف کھڑے ہوجاتے ۔ 

میں اس وقت بچہ تھا ، چچا کاحال دیکھ کر مجھے ان کےمحبوب پرر شک ہونے لگتا ۔

چچا چھٹی کے دن مرشد کی جھلک دیکھنے کے لئے 55 کلومیٹر دور ایمن آباد کے گاؤں کوٹ بھٹہ جاتے تھے، بسوں کے دھکے کھا کر وہ دو گھنٹے میں ایمن آبادپہنچتے، وہاں سے آٹھ کلومیٹر دور کوٹ بھٹہ پیدل سفر کرتے اورسورج ڈھلنے سے پہلے واپسی کے لئے روانہ ہوجاتے۔

 چچا کا اپنے مرشد سے عشق دیکھ کرمیں سوچتا تھا کہ محبوب کتنے آرام میں ہوتا ہے—عاشق قربانی اور ایثار کے جذبے سے سرشار پروانے کی طرح شمع کے گرد طواف کرتا ہے جب کہ محبوب خاموش ہے ۔ 

قدرت کی رحمت سے جب مجھے مرشد ملے اور انہوں نے ناچیز کو تربیت میں لیا تو اس وقت میں عقل کےگھوڑے پر سوار تھا ۔ عاشقوں کی طویل قطار دیکھتا اور مرشد کے لئے ان کے جذبات سنتا تو حیرت ہوتی ۔ لگتا تھا کہ سارے مرید میرے چچا کی طرح دیوانے ہوتے ہیں۔ لوگ اندرون اور بیرون ملک نہ جانے کہاں کہاں سے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے آتے تھے۔

 میں سوچتا تھا کہ واہ! محبوب کی کیا شان ہوتی ہے، نہ کوئی دکھ نہ ہجر کی تکلیف، نہ کوئی درد نہ سفر کی صعوبت، بس اللہ نے محبوبیت دی اور لوگ دیدکے لئے بے تاب ہوجاتے ہیں۔ 

نہ میں عاشق تھا نہ کسی کا محبوب ، عشق کے جذبات کو کیسے سمجھتا ۔ عاشقی کا دعویٰ کبھی تھا اور نہ ہے، بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ مقناطیس کی طرح سب کو کھینچتے ہیں ۔ لوہے میں کہاں سکت کہ کھینچ سکے۔ اور میں نے تو اپنے اندر لوہے کے خواص بھی نہ دیکھے تھے۔میرے تو نہ جانے کتنے ادوار لوہا بننے میں صرف ہونے تھے۔ البتہ ذہن میں نقش تھا کہ محبوب کے ناز الگ ہوتے ہیں اور پھر قدرت نے دکھایا کہ محبوب ہونا کیا ہوتا ہے ۔ مرشد سے میرا تعلق محض علم کی حد تک تھا اور علمی ذوق کی تسکین ہو رہی تھی ۔ عشق کے رمز نہیں جانتا تھا البتہ سب سے مرشد کی باتیں کرتا اور آنے جانے والوں کو ان کی تعلیمات بتاتا۔ 

مرشد کی باتیں سن کر شہزاد میرے عشق میں مبتلا ہوگیا ۔ بہت سمجھایا کہ یہ میری باتیں نہیں ، جو روشنی تم تک پہنچی ہے وہ اس آفتاب کی ہے جس سے مجھ جیسی ہزاروں شمعیں روشن ہیں۔ جن کی باتیں ہیں تم کو ان سے عشق ہوا ہے، مجھ سے نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ عشق کے آداب کیا ہیں۔ میری حیثیت محض اسپیکر کی ہے، جو بات مجھ تک پہنچتی ہے، اہلِ ذوق تک پہنچا دیتا ہوں ۔شہزاد بولا، اگر میں آپ کا دیوانہ ہوں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے ؟ یہ کہہ کر سر جھکا دیا۔ جب اس پربات کا اثر نہیں ہوا اورسمجھانے کا کوئی طریقہ کامیاب نہ ہوا تو ایک دن میں نے اس کو پیار سےسمجھایا۔ دیکھو شہزاد! ذہنی مرکزیت ایسی ہستی سے وابستہ ہونی چاہئے جواللہ کا دوست ہو۔ میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں؟ میرے اندر ہزار خامیاں ہیں ۔ ویسے بھی اللہ کاقرب، اللہ کے دوستوں سے ملتا ہے ۔ مجھے اپنا پتہ نہیں کہ کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں اور انجام کیا ہے ،

 وہ مسکرا دیا ، کہا کچھ نہیں۔ 

شدید دھند اور جاڑے کی سردی میں جب دانت سے دانت بج رہے تھے ،میں گر م بستر میں میٹھی نیند سو رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو دوسری طرف ہمارے ہمسائے شاہد صاحب تھے ، آواز میں پریشانی تھی۔ 

ہیلو، شاہد صاحب، اس وقت؟ خیریت ہے؟ رات کا ایک بج رہا تھا۔ 

خیریت نہیں ہے۔ آپ کے گھر کے باہر کوئی چادر اوڑھے بیٹھا ہوا ہے،شاہد صاحب بولے۔  سخت سردی میں گھر کے باہر کون ہوسکتا ہے۔ بستر چھوڑ کر باہرکی طرف بڑھا۔ دروازے میں سوراخ سے دیکھا تو دھند میں گٹھڑی بنا ہوا ایک شخص نظر آیا ۔  بیٹھنے کی نشست سے اندازہ ہوا کہ وہ شہزادہے۔ شدید جھٹکا لگا کہ یہ اس وقت یہاں کیا کررہا ہے۔ دروازہ کھول کرقریب گیا تو اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے ۔   اندر آنے کو کہا اورسمجھایا کہ میرے بھائی! یہ تم کیا کررہے ہو۔ کیوں زندگی کو اپنے لئے مشکل بنارہے ہو۔ وہ خاموش تھا۔ میں اس کے کھانے اور سونے کا انتظام کرکے کمرے میں آگیا۔

شہزاد نے اس عمل کو معمول بنالیا۔ روز رات کو باہر بیٹھ کر میرے گھر کی جانب تکتا رہتا تھا۔ میں پریشان ہوگیا کہ اس آدمی کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ اس نے میری وجہ سے خود کو تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ وہ باہر سردی میں ٹھٹھرتا تھا اور اس خیال سے اندر مجھے گرم بستر میں نیند نہیں آتی تھی۔ اس وقت احساس ہوا کہ محبوب بننا آسان نہیں ۔ مجھ سے ایک دیوانہ نہیں سنبھالا جارہا—میرے مرشد کریم ہزاروں پروانے کیسے سنبھالتے ہیں —؟

 شدت سے محسوس ہوا کہ عاشق تو سوزِ دلِ پروانہ لیے رقصاں ہوتا ہے، اس کی دیوانگی سمجھ میں آتی ہے لیکن محبوب کو بھی شمع کی طرح جلنا پڑتا ہے۔ عاشق تکلیف میں ہوتا ہے تو محبوب بھی بے حس نہیں ہوتا، اس کو بھی نیند نہیں آتی ۔ محبوب بننا آسان نہیں ۔ 

میں مرشد کریم کے مشن کےلئے کام کرنا اور اور ان کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانا چاہتا تھا۔ بہت لوگ اس راہ میں ہم سفر بنے ۔ ہم نے مل کر اپنے عمل سے مرشد کی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی۔ البتہ شہزاد کے طرزِعمل سے میری سرد مہری کا دور شروع ہوا اور میں آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوگیا ، پھر ملاقات نہیں ہوئی ۔

وقت گزرتا رہا ۔۔ نہ جانے کب نظر کرم ہوئی اور میرے اندر لوہے کے خواص بیدار ہونا شروع ہوگئے — میں موصل بن کر مقناطیس کے حصار میں آگیا ۔ وہ تمام دھاتیں جن میں سے کرنٹ گزرسکتا ہے، موصل کہلاتی ہیں۔ جن دھاتوں میں سے کرنٹ نہیں گزرتا، ان کو غیر موصل کہتے ہیں۔ ایک کشش تھی جو خود سے بے خود کر کے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ نہ جانے پروانے کے سوز نے کہاں سے آ کر میرے دل میں بسیرا کرلیا ۔ زندگی میں پہلی مرتبہ دل اس دردسے آشنا ہوا جوملے تو سہا نہیں جاتا اور نہ ملے تو لگتا ہے سب کچھ چھن گیا ہے ۔

دل میں صدا اٹھتی کہ محبوب کے گھر کے باہر کہیں گلیوں میں بیٹھا اس گھر کو دیکھتا رہوں جہاں یار کا بسیرا ہے۔ ان در و دیوار کو سلام کروں جو آس پاس رہتی ہیں۔ ان راستوں کی مٹی چوموں جہاں محبوب نے قدم رکھے ہیں۔ ہجر کی راتوں میں جب یاد سے گلا رندھ جاتا اورآنکھیں سمندر بن جاتیں تب مجھے شہزاد یاد آتا۔ فرق اتنا تھا کہ شہزاد کا محبوب عشق کے رمز سے انجان جب کہ میرا محبوب عشق کے رموز سے واقف تھا۔ انہوں نے دیوانے کی سکت کے مطابق دیوانگی بڑھائی۔ گلے لگنے کی خواہش بڑھی تو بانہیں پھیلا کر اندر میں طوفان کو پرُسکون کیا۔ آفتاب نے اتنی ہی روشنی دی جس سے پروانہ تپش محسوس کرے لیکن جلے نہیں اور نہ دیوانہ ہوکر گلیوں میں گھومتا پھرے ۔  اب احساس ہوا کہ دل میں اٹھتے طوفان کو اگرقربت کی چند گھڑیاں میسر آجائیں ، محبت کے چند ایسے بول یا اتنی روشنی مل جائے جس سے پروانے کے جل مرنے کے شوق کی تسکین ہوسکے تو عشق — جنون سے بچ جاتا ہے ۔ 

اکثر خیال آتا تھا کہ شہزاد کے ساتھ میرا رویہ مناسب نہیں تھا کیوں کہ محبوب تو سراپا شفقت ہوتا ہے ۔مجھے عشق کی آگ میں کوئلے کی طرح چٹخنے والے کو دو بول ، بول کر دل جوئی کرکے، اس کے دامن کو، اس کے اپنے آنسوؤں سے تر کرنا تھا تاکہ بے چینی کو قرار ملتا۔ چوں کہ میں نے خود اس سے پہلے عشق کی تپش محسوس نہیں کی تھی، کسی اور کے درد کا درماں کیا کرتا! یہاں کون کسی کا ہوسکتا ہے ، کون کسی کے لئے کچھ کرسکتا ہے — ہرایک اپنی تلاش میں ہے۔ شہزاد کےمن مندر میں تصویر اس کی اپنی تھی جو اس کو میری شکل میں نظر آتی تھی کیوں کہ میں نے مرشد کی باتوں سے اس کو اندر میں محبت کا راستہ اور خود سے واقف ہونے کی راہ دکھائی تھی ۔ 

 مرشد کریم فرماتے ہیں کہ کسی کو بنانے کے لئے خود کو کھونا پڑتا ہے۔ جب تک تم اپنے آپ کو نہیں کھو ؤگے، دوسرا بندہ کچھ نہیں بنے گا۔ ماں اپنا خون نچوڑ کر بچے کے اندر انڈیلتی ہے تو بچے کی نشوونما ہوتی ہے۔اب کوئی بھولا بھٹکا پروانہ آتا ہے تو میں علم کو چھوڑ کرعشق کو امام بنا لیتا ہوں ۔ نہ عشق میرا ہے نہ علم میرا، مجھے تو بس محبوب کے مشن کو اپنا کر لوگوں کے لئے ایثار کرنا ہے، جیسے بھی ہو۔ 

 یہ عشق اور جنون کا راستہ ہے۔ میں نے جان لیا ہے کہ شمع روشنی دینے کے لئے جلتی ہے، خاکستر کرنے کے لئے نہیں جلتی ۔

 محبوبیت یہ ہے کہ عاشق کو ایسے جلایا جائے کہ روشنی قائم رہے، نہ کہ وہ اندھیروں میں گم ہوجائے ۔ خاکستر کرنے سے بہتر ہے کہ سلگادیا جائے جیسے محبوب کرتا ہے— وہ نہ جلا کر راکھ ہونے دیتا ہےاور نہ بجھنےدیتا ہے ۔