Topics

عشق مجازی سے عشق حقیقی تک


اگر چہ ترک تعلق بھی کرلیا تو نے

رہا نہ تجھ سے کوئی ربط عاشقی اے دوست

نہ جانے کیوں رہِ مستی میں ہر قدم پھربھی

ہے ہم سفر تیری یادوں کی چاندنی اے دوست


اس عظیم گمنام اور محسن ہستی کے نام جس کی یادیں میری زندگی کا حاصل بن چکی ہیں۔ وہ عظیم خاتون کہاں ہے جس کو تلاش کرتے کرتے میں خود کو گم کربیٹھا ہوں ۔رفعت کے مطالب اعلیٰ وارفع مقام کے لئے جاتے ہیں۔یہ پھول جیسا خوب صورت اور شہد سے زیادہ شیریں نام خوش بختوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔

یہی نام میری زندگی کا ایک اہم راز بن گیا ہے۔یہ نام مجھے کتنا عزیز ہے کتنا پیارا ہے یوں لگتا ہے یہ نام میراجنم جنم کا ساتھی ہے، اس کے بغیر میں اپنے آپ کو نا مکمل ،ادھورا اور تنہا تنہا ساپاتا ہوں۔یہ نام زندگی کے اس چلچلاتے ،لق و دق ریگستان میں ایک سائے کی طرح میرے ساتھ ساتھ رواں دواں رہتا ہے۔اب جب کہ میں جوانی کی سرحد پار کرکے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکا ہوں مگر یہ حقیقی حادثہ جس نے میری زندگی کا رُخ ہی موڑدیا ، مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ وقت ہے کہ دبے پاؤں آگے کھسک رہا ہے اور بہتے دریا کی طرح مجھے بھی اپنے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔زندگی کو یوں بھی تو ثبات نہیں، یہ ایک بے اعتبار ساتھی ہے کوئی پتہ نہیں یہ کب ساتھ چھوڑدے ،لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ سانس کا رشتہ ٹوٹنے سے قبل اس حقیقی واقعے کو سپرد قلم کردوں ۔اس آس  پر کہ شاید یہ چند سطریں میری اس محسن ہستی کی نظر سے گزریں جس کی حسین یادوں کی امانت کو میں اب بھی اپنے سینے سے لگائے جی رہا ہوں ۔

جہاں چھوڑا تھا تیری آرزو نے

سنا ہے زندگی اب تک وہیں ہے

قارئین کرام ! اس حادثے کی ابتدا تقسیم ہند سے قبل امرتسر شہر سے شروع ہوئی تھی یہ ان دنوں کاواقعہ ہے جب میں نویں یا دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔اغلباً 1938 /39 کا زمانہ تھا۔

میری پیدائش ایک دین دار اور مذہبی گھرانے میں ہوئی اسی وجہ سے میں بچپن ہی سے صوم وصلوٰۃ ،تہجد و درود و وظائف پر سختی سے عمل پیرا رہا۔میرا یہ بچپن اور بھول پن کا زمانہ تھا یہی وجہ ہے کہ مجھے ہر خوب صورت چیز اچھی لگتی ۔سبزہ ،پھول، فوارے ،رنگ برنگ تتلیاں،غرض ہر چیز مجھے اچھی لگتی اور میرا جی چاہتا کہ ہر وقت میرے گرد خوب صورت چیزیں رہیں۔ ہاں تو میں عرض کررہا تھا کہ میرا مسکن ،محلہ’’ کٹڑہ مہان سنگھ“شہر امرتسر میں ملکہ وکٹوریہ کے مجسمے کے قریب تھا ۔میں ایم ۔اے ۔او ۔ہائی اسکول کا(جو بعد میں کالج بن گیا تھا) طالب علم تھا ۔یہ اسکول میرے گھر سے تقریباً اڑھائی میل کی مسافت پر تھا۔ 

زیر تحریر واقعے کی ابتداً ”محلہ چوک فرید “کی ایک گلی سے ہوتی ہے ،یہ محلہ میرے اسکول اور گھر کے درمیان پڑتا تھا ۔معمول کے مطابق چار بجے شام اسکول سے فارغ ہوکر میں اپنے گھر اپنے منتخب راستے سےجس میں بے شمار گلیاں، کوچے بازار پڑتے تھےگزرتا تھا۔ اگرچہ گھر جانے کے لئے اور راستے بھی تھے مگر لا شعوری طور پر مجھے یہی راستہ زیادہ پسند تھا اور آمد ورفت کا یہ سلسلہ میری تعلیم کے اختتام کے بعد بھی جاری رہا۔

بہار کا موسم تھا ،پھول ہی پھول کھلے تھے۔ ایک کیفیت کا عالم تھا اور جوانی کا سویرا نگاہوں کے دریچہ سے جھانک رہا تھا ۔عصر کے سہانے وقت آکاش پہ کہیں کہیں بادل آوارہ پھر رہے تھے۔ دھیمی دھیمی نسیم بہار سمندر کی خاموش لہروں کی طرح فضا کو اور بھی سحر انگیز اور عطر بیز بنارہی تھی۔ نہایت ہی روح پرور سماں تھا۔ اسکول سے فارغ ہوکر میں حسب معمول بغل میں کتابیں دبائےچوک فرید کی ایک پیچ دار گلی سے گزررہا تھا ۔ یادآیا، اس گلی میں ایک مسجدبھی تھی (گلی کا نام یاد نہیں آرہا)مسجد کے ملحق ایک گھر تھا، اسی گھر کے سامنے اس کہانی نے جنم لیا۔ ہاں تو میں بھی ہر طالب علم کی طرح شوخ و بے باک شرارتیں، کسی سے مذاق ، کسی سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہوا مستقبل میں آنے والے حالات سے بے خبر گلی سے گزر رہا تھا۔

 مذکورہ مکان کے قریب ایک لڑکی کو ئی بارہ تیرہ برس کا سن، اپنے ننھے منے بھائی یا بہن کو گود میں لئے کھلا رہی تھی۔ کھیلتے ہوئے اچانک اس کا پاؤں کسی چکنی چیز سے ایسا پھسلا کہ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور ننھے بچے سمیت دھڑام سے زمیں پر گرپڑی۔ لڑکی کے گرتے ہی میں لپک کر آگے بڑھا ۔اُس کا بازو پکڑ کر سہارا دیا اور پھر بچے کو اٹھا کر اس کی گود میں دے دیا اور ساتھ ہی پوچھا،آپ کو کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟ اس دوران لڑکی نے اپنے آپ کو پوری طرح سنبھال لیا تھا۔ لیکن بدستورکپڑوں سے گرد جھاڑنے میں مصروف تھی۔کٹورا سی آنکھوں سے مجھے دیکھ کر بڑے بھول پن سے جواب دیا، ”ہاں چوٹ لگی ہے“ (حالانکہ بظاہر اسے کوئی چوٹ وغیرہ نہیں لگی تھی) اس حاضرجوابی سے مجھے سمجھنے میں ذرا بھر دیر نہ لگی کہ لڑکی بلاکی ذہین و زیرک ہے۔ میں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا،” آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟“ ” کیوں اس کی کیا ضرورت ہے؟ “لڑکی نے طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔” میرے خیال میں نام پوچھنا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔“ میں نے بھی قدرے دلیری سے جواب دیا۔ لڑکی کچھ تامل کے بعد بولی،” میرا نام رفعت ہے۔“

اس نام میں کوئی جادو تھا یا آواز اتنی سحر انگیز تھی کہ میں وہیں سحر زدہ سا کھڑا رہ گیا اور اس کو دیکھنے میں محو ہو گیا جس نے ساری عمر مجھ پر حکومت کرنا تھی۔ کتنی معصومیت اور بھول پن تھا اس چہرے میں ۔ رفعت بہت خوب صورت تھی ،متوازن صحت ، کٹورا سی آنکھیں، گلاب کی سی رنگت، جیسے قدرت نے اس کے وجود کی تشکیل میں حسن و شباب کی تمام تر رعنائیاں یکجا کردی ہوں۔ معصوم سے چہرے پر پھیلی شرارت، لطیف آواز کی مٹھاس، میں انہی میں گم سم کئی لمحے یوں ہی کھڑا رہا اور پھر بادل نخواستہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ چلتے وقت میں نےمحسوس کیا کہ رفعت کے چہرے پر اداسی اور افسردگی کی چھایا سی پڑگئی ہے ۔ رفعت اسی جگہ بت سی بنی مجھے اس وقت تک دیکھتی رہی تاوقتیکہ میں خود ہی چلتے رکتے اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوکر گلی سے باہر نکل گیا۔ 

اس واقعے کو گزرے چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن وہ چہرہ وہ منظرہر وقت ، ہر لمحہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے اور اب تو ان کی رفاقت سے اتنا مانوس ہوچکا ہوں کہ ان کے بغیر ہر شےکو نامکمل اور دھواں دھواں سا پاتا ہوں۔ اس دوران زندگی کے افق پر بے شمار چہرے ابھرے لیکن چہروں کے اس ہجوم میں بس ایک ہی چہرہ ایسا تھا جو تمام تر دل فریبیوں ،تلخ اور شیریں یادوں کے ساتھ ہر آن میرے احساسات سے پیوست رہا ۔ بہرحال مختصراً 1939 ءمیں ، میں نے میٹرک  کا امتحان نمایاں حیثیت سے پاس کرلیا۔ اس سال ستمبر میں دنیا کی طویل اور ہولناک جنگ عظیم کا آغاز ہوگیا۔ تلاشِ روزگار مجھے امرتسر سے لاہور لے آئی۔ائیر فورس میں بھرتی شروع تھی، میں بھی سلیکشن کمیٹی کے روبرو انٹرویو کے لئے پیش ہوا اور بالآخر ائیر فورس میں بحیثیت انجن ٹیکنیشن منتخب ہو کر دنیا کی اس ہولناک ترین جنگ کی صف میں شامل ہوگیا۔ جنگ کے دوران مجھے ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ اللہ کا فضل تھا۔ دولت دنیا کی فراوانی ،کار یں سواری کے لئے، رہنے کے لئے پرتکلف رہائش اونچی سوسائٹی میں تھی۔ دوست احباب نے شادی کےلئے اصرار شروع کردیا۔خوب صورت تعلیم یافتہ لڑکیاں دیکھیں بھی اور دکھائی بھی گئیں لیکن جس چہرے کی مجھے تلاش تھی اس کا ذرا سا پرتو بھی تو ان چہروں میں نہیں ملتا تھا بقول شفیع عقیل ،

سورج چاند ستارے سارے جائیں پھر آجائیں 

جس چہرے سے روپ تھا ان کا، اسے کہاں سے لائیں

آخر کا ر وہ وقت بھی آگیا جب مجھے ہندوستان کی حدود سے تجاوز کرکے غیر ممالک برما، رنگون ، ملائشیا، جاپان وغیرہ جانا پڑا ۔جنگ کی ہولناکیاں، تباہ کاریاں ،آبادیوں کا زیر وزبر ، انسانوں کی بے گورو کفن لاشیں، مجبور مائیں، بھوک سے نڈھال ننھے منے بچے، دشمن کی پے در پے دل دہلا دینے والی بمباری، خندقوں میں پناہ لینا۔ ہر طرف موت کےسائے، انہی دل دوز حالات سے ہر وقت دن ہو یارات سامنا رہتا۔

مگر ان تمام ہولناکیوں او ر حوصلہ شکن واقعات کے باوجود رفعت کا چہرہ ہمیشہ میرا مونس و ہمدم رہا ،کڑے سے کڑے وقت بھی یہ چہرہ میری ہمت بڑھاتا رہا ،میرے حوصلوں کو جلا بخشتا رہا ۔کئی دفعہ موت کے بے رحم پنجے میری جانب پوری رفتار سے بڑھے لیکن میرے اور موت کےدرمیان ہمیشہ یہ چہرہ سپر بن کر کھڑا ہوتا۔ وہاں ایک دفعہ ہم تین چار ساتھی جاپانیوں کی مسلسل اور اندھا دھند بمباری سے بچنے کے لئے ایک قریبی خندق میں جا چھپے، خندقیں زیڈ (Z)شکل کی بنی ہوئی تھیں۔ دشمن کی طرف سے ایک گرنیڈ جو بیس پچیس انسانوں کے پرخچے اڑانے کے لئے کافی تھا۔ ہماری خندق کے عین وسط میں آکر گرا۔ آن واحد میں رفعت کا ہیولا سامنے آیا۔ جس نے پوری طاقت اور بسرعت مجھے اٹھاکر خندق سے باہر پھنک دیا۔ اسی لمحے ایک قیامت خیز دھماکہ ہوا۔ جس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہیں رہا۔ اب جب آنکھ کھلی تو ایک قیامت کا سماں تھا، فضا اب بھی گرد آلودہ تھی، ایک ہو کا عالم تھا۔ میرے عزیز دوست، غم گسار جو چند لمحے قبل میرے پاس موجود تھے وہ خود تو مجھے کیا ملتے، ہاں ان کے جسمانی اعضا جا بجا بکھرے پڑے تھے جنہیں دیکھ کرمجھے خیر خواہ دوستوں کا انجام سمجھنے میں ذرا بھر دیر نہ لگی۔ان جانباز رفیقوں کی مغفرت کے لئے فاتحہ پڑھی اور پھر ان کی غریب الوطنی کی موت پر پہروں بیٹھا آنسوؤ ں کا نذرانہ پیش کرتارہا۔ جب ذرا اوسان بحال ہوئے تو پھر اپنی محسن ہستی رفعت کے تصور میں اپنا سر اس کے حضور عقیدت کے لئے جھکا دیا۔ اللہ کے کرم سے میری جان بھی بچ گئی اوراس قیامت خیز حملے میں میرا کوئی جسمانی عضو بھی متاثر نہیں ہوا تھا۔ واقعی اگر رفعت میری معاونت کو بروقت نہ پہنچتی تو میرا انجام بھی وہی ہوتا جو میرے ساتھیوں کا چند لمحے قبل ہوا تھا۔ بہر حال میں جہاں بھی گیا یہ چہرہ میرے ساتھ ساتھ رہا۔

موت ان کا منہ ہی تکتی رہ گئی

جو تیری فرقت کے صدمے سہہ گئے

پھر 1947 ءکے پر آشوب دور کا آغاز ہوا ۔کیسے کیسے دل دوز مناظر دیکھنے کو ملے،اب انہیں یاد کرتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیسے کیسے بستے گھر پل بھر میں اجڑ گئے۔ کتنی سہاگنوں کے سہاگ لٹ گئے۔ کتنی ماؤں کے لخت جگر ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے اور یہ بے بس جیتی جاگتی آنکھیں سب کچھ دیکھتی رہیں۔ کتنے بھائی بہنوں کی عزت بچانے کے لئے اپنی جانوں پر کھیل گئے ۔اللہ اللہ کیسی قیامت تھی اور کیسا نفسا نفسی کا عالم تھا، اب بھی وہ سمے یاد آتے ہیں تو آنکھیں بھیگ بھیگ جاتی ہیں ۔خیر میں بھی اپنے احباب ودیگر رفقاء کے ساتھ پاکستان ہجرت کرآیا۔ یہاں پہنچ کر نئے نئے مسئلوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔اگر ان حالات کی تفصیل میں گیا تو ایک نیا باب کھل جائے گا۔ میرے سب رفقاء اپنے اپنے مشاغل اور مصروفیتوں میں منہمک ہوگئے لیکن مجھے ایک ہی دھن تھی کہ رفعت کو کہیں نہ کہیں تلاش کیا جائے۔ صبح ہوتی تو میں اس مشن پر نکلتا اور شام ڈھلے ناکام ونامراد لوٹتا ۔کونسا کیمپ ہوگا جہاں میں نہ پہنچا۔کونسا کیمپ افسر ہوگا جس سے میں نے رفعت کے متعلق نہ پوچھا ہوگا۔

باغ بہاراں پھُل ہزاراں باس لٹی ہر پاسے

کتوں نہ آئی بو سجن دی عمر گزاری آسے

لیکن میں اتنا بختوں والا کہاں تھا، مجھے رفعت کا کسی نے اتا پتا نہ دیا۔شاید

 وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر ہو گئیں 

ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

آخر تھک ہار کر اور ہر طرف سے مایوس ہوکر میں نے رفعت کی جستجو کا مشن بادل ِنخواستہ ترک کردیا اور روزمرہ کی مصروفیتوں میں مشغول ہو گیا۔صوم و صلوٰۃ ،درودو وظائف ،تہجد کی ادائیگی میں پھر باقاعدگی آگئی۔اہل خانہ کی طرف سے شادی کرنے کا اصرار دن بدن بڑھ رہا تھا ۔لیکن میں ہر بار اس مشورے کو سختی سے رد کردیتا کیونکہ،

دو عالم سے بیگانہ کرتی ہے دل کو

عجب چیز ہے لذت آشنائی

بہرحال اسی تکرار اور پس و پیش میں مزید دو سال کا عرصہ بیت گیا۔ میں ذاتی طور پر رفعت کی طرف سے مایوس او ر ناامید ہوچکا تھا، پھر وہی تہی دامنی کی زندگی تھی۔ پھیکی پھیکی محرومیوں سے بھری ،وہی خالی خالی دن رات تھے وہی گھر تھا اور وہی بے بسی۔تصور میں رفعت کےساتھ میں نے بھی ذہن میں ایک اپنا گھر محفوظ کیا ہوا تھا۔ ایک چھوٹا سا گھر ،صحن میں انگوروں کی بیلوں کا منڈوا اور پھولوں کی کیاریاں جن میں رنگ برنگے نازک نازک پھول کھلے ہوں گے جو ہوا کی ذرا سی جنبش پر جھوم اٹھیں۔ننھی منی رنگین کلیاں جو شرماشرما کر دھیرے سے مسکرا پڑیں۔۔میں انہی حسین تصورات میں گم کسی انجانی منزل کی طرف بسرعت پرواز کرتا رہا۔ آخرکار جب خوابوں اور آرزوؤں کے سارے چراغ حالات کے اندھیروں نے گل کردیئے تو میں نے احباب کے پرزور اصرار پر شادی کا مطالبہ بادل ِنخواستہ قبول کرلیا۔

خوش قسمتی سے زندگی کا ساتھی فرشتہ صفت ملا ،کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بچے دیئے اور یوں زندگی ہنسی خوشی رواں دواں ہوگئی۔

 1958 ءکا ذکر ہے ،میں بسلسلۂ ملازمت راولپنڈی چھاؤنی میں متعین تھا۔اہل و عیال بھی میرے ساتھ تھے اور میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پرجو ایک نہایت ہی خوب صورت مقام پر واقع تھی رہائش پذیر تھا۔ ہر طرف ہریالی تھی اور سر سبز درخت لہلہاتے رہتے تھے۔کوارٹر کے باہر کافی جگہ تھی جہاں ہم نے مختلف پھول اور سبزیاں اگا رکھی تھیں جس کی وجہ سے ہمیں بازار سے سبزی خریدنے کی کم ہی نوبت آتی تھی۔ایک شب حسب  ِمعمول عشاء کے بعد درودو سلام کے بعد چراغ  گلُ کرکے اپنی چارپائی پر لیٹ گیا۔ چارپائی کھڑکی کے بالکل ساتھ تھی اور حسب معمول کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ چودھویں کا چاند پوری تابانی سے آسمان پر چمک رہا تھا۔ ہر چیز چاندنی سے دھل کر نکھر ی نکھری سی نظر آرہی تھی۔حد نظر تک قدرت کے حسن اور رعنائیوں میں بے حد اضافہ ہوگیاتھا۔ فضاؤں میں نشہ سا گھل گیا تھا کیف وسرور کا عالم تھا۔ رنگوں ،امنگوں اور رعنائیوں کی بن آئی تھی ۔کھڑکی کے راستے چاندنی چھن چھن کر میرے کمرے کی ہر چیز کو نقرئی بنارہی تھی۔ رات کافی بھیگ چکی تھی ،باہر کی فضا میں مکمل سکوت طاری تھا۔ چارپائی پہ لیٹے لیٹے میں روح کے متعلق سوچنے لگا۔ روح کیا چیز ہے؟ روحانی طاقت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک برقع پوش خاتون میرے کمرے میں آگئی ۔ حتیٰ کہ چلتے چلتے میرے پلنگ کے قریب لمحہ بھر کے لئے رک کرپائنتی کی طرف بیٹھ گئی۔ گو یہ ایک انہونی سی بات تھی لیکن کیونکہ میں ایسے واقعات کا عادی سا ہو گیا تھا لہٰذا میں مطلق نہ ڈرا اور نہ ہی خوف زدہ ہوا ۔چند ثانیے کے بعد اس نے اپنے رخ سے پردہ ہٹادیا، مجھے اپنی بینائی پہ یقین ہی نہ آیا کہ میرے سامنے میری متاع حیات رفعت بیٹھی تھی ۔کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن ہزار جتن کے باوجودکچھ کہنے سے قاصر رہا، زبان جیسے گنگ ہوگئی ہو۔بقول فیض،

دل سے تو ہر معاملہ کرکے چلے تھے صاف ہم

کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی

ہم ایک دوسرے کو دیکھنے میں منہمک تھے کہ آخررفعت نے بولنا شروع کیا۔”میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے بے حد و بے حساب تعلق خاطر رکھتے ہیں لیکن بادلِ نخواستہ میں آپ سے استدعا کرتی ہوں کہ آپ مجھے بھول جانے کی کوشش کریں۔ میں خود ہی بے ثبات ہوں،فانی ہوں اور فناہو جانے والی چیز سے اتنا عشق کرنا دانائی نہیں۔اگر آپ جاودانی ہونا چاہتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ سے عشق کی حد تک محبت کریں اور پھر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ آپ ابدی زندگی کا راز پاجائیں گے۔ مزید رہنمائی کے لئے کسی ”مردخبیر“ کی جستجو کیا کریں ،یقیناً مل جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ علامہ اقبال  کےکلام کا باقاعدگی سےمطالعہ جاری رکھیں ۔یہ کلام آپ کو زندگی کے اسرار ورموز سے آگاہ کرے گا اور ”ام الکتاب“کو سمجھنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔یہی آپ چاہتے ہیں نا؟آپ سے دور رہنا مجھے بھی گوارا نہیں لیکن میرا علیحدہ رہنا ہی آپ کے لئے بہتر ہے۔ دنیوی و معاشرتی مجبوریوں کی وجہ سے میرا جسمانی بندھن کسی دوسری جگہ ہوگیا ہے لیکن یقین جانئے آپ سے روحانی تعلق ہر وقت اور ہر لمحے رہےگا۔میں جہاں بھی اور جس حال میں بھی ہوں گی میری روح آپ کے ساتھ ساتھ رہے گی،اب میں اجازت چاہوں گی۔“خداحافظ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب امنڈآیا اور مجھے آنسوؤں کانذرانہ پیش کرتے ہوئے، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی رفعت دروازہ سے باہر نکل گئی۔ میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔اس حیرت انگیز واقعےکے بعد گو رفعت سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ رفعت ہر وقت پاس ہی موجود ہوتی ہے، دن ہو یا رات،

پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تیری یادیں

جس سمت نظر اٹھی آواز تیری آئی

 

تمنادرد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

(اقبال ؔ )

”مرد خبیر“کی تلاش کا مرحلہ بھی ایک کٹھن اور مشکل ترین مرحلہ تھا۔ نہ کوئی تصور ، نہ کوئی تصویر، نہ کوئی اتا پتا ،نہ کوئی نشانی ،بس اللہ کا کرم اور اس کی مدد و راہنمائی درکار تھی۔ اللہ کی کرم نوازی شامل حال رہی اور مجھے وہ راہنما مل گیا۔ میں نے اپنے مرشد پاک کے سامنے (جو اب بھی بقید حیات ہیں) زانوئے ادب سے سر جھکا دیا اور انہوں نے کمال شفقت اور سخاوت سے علم ظاہر و باطن سے میری راہنمائی فرمائی۔اللہ کی معرفت حاصل ہوئی، جناب حضور سرور کائنات، فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے بمع اصحاب ؓ     کا عالم ارواح میں دیدار نصیب ہوا۔بعد ازاں عاشق رسول علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے عالم رویا میں ملاقات ہوئی۔مختصراً مجھ مسکین و ذرے کو وہ نصیب ہوا جس کا میں ہرگز مستحق نہ تھا ،شاید میاں محمد بخش ؒکے یہ اشعار میری صحیح ترجمانی کرسکیں۔

خسخس جناں  قدر نہ میرا ،  اس نوں سبھ وڈیائیاں

میں گلیاں دا روڑا کوڑا محل چڑھایا سائیاں

کھریاں دے لڑ لگا میں بھی کھوٹا آپ جہانوں 

شالہ کھوٹ میرے نوں کجّن دائم شرم انہاں نوں

پردہ پوشی کم فقر دا کرسن اللہ بھاوے

سدا امید محمد بخشا زور دلے وچ پاوے

ایک روز بیگم کے اصرار پر حضرت داتا گنج بخش کے آستانہ عالیہ پر حاضری دینے کا موقع نصیب ہوا۔ حضور داتاؒ کے مزار اقدس کے سامنے باادب بیٹھ گیا۔ یک دم دل میں خیال وارد ہوا کہ اولیاء اللہ مرتے نہیں، زندہ رہتے ہیں اور اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر مامور ہوتے ہیں پھر کیوں نہ داتا  کے حضور زیارت کی درخواست پیش کی جائے۔لوگ اپنی اپنی دنیوی پریشانیاں ، دکھ مصیبتیں داتا کے حضور پیش کررہے تھے کوئی کسی رنگ میں اور کوئی کسی ڈھب میں ۔میں نے بھی مؤدبانہ اپنی درخواست پیش کردی جس کا متن کچھ یوں تھا،

حضور میں آپ کے آستانہ پر اینٹوں اور پتھروں کی ایک خوش نما عمارت کو دیکھنے حاضر نہیں ہوا،ا یک خواہش لے کر آیا ہوں کہ سرکار کے دیدار نصیب ہو جائیں، مجھے اور کچھ نہیں چاہئے۔

میری خوش بختی کہئے کہ درخواست فوراً منظورہوگئی اور داتا حضور نے کمال شفقت اور مہربانی سے اس عاصی کو دیدار سے فیض یاب فرمایا ۔نماز مغرب میرے ساتھ ادا فرمائی اور پھر میری بچی نصرت  جو میرے ساتھ ہی تھی  کےگلے میںشفقت سے پھولوں کا ہار ڈالا اور پھر تشریف لے گئے۔  

جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں آدمی بے نظیر ہوتے ہیں

ان کی محفل میں بیٹھنے والے کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں 

میں خود جب اپنا احتساب کرتا ہوں تو سوائے شرمندگی اور ندامت کے کچھ بھی نہیں پاتا ،مجھ میں کتنے عیب ہیں ،میں کتنا گناہ گار ہوں، لیکن دوسری جانب جب فیضان نظر کی طرف نگاہ ڈالتا ہو ں تو اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا ہوں ۔مجھ ذرّے کو کسی کی نگاہ نے کیا سے کیا بنادیا۔ واللہ ، یہ کتنا بڑا انقلاب ہے۔ 

نظر ملا نہ سکے شہر یار بھی ان سے

تیرے فقیر بڑے ہی وقار سے گزرے

گاہے گاہے سوچتاہوں کہ وہ پر اسرار ہستی جو رفعت کے روپ میں میری مونس و غمگسار بنی رہی ہےاور جس کی ایک خاص ادا اور راہنمائی سے میری کٹھن منزلیں خود بخود ہی سہل ہوتی رہی ہیں،وہ خود معرفت کی کس منزل پر قابض ہوگی۔ اس منزل میں اس کا اپنا مقام کیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے اسے ان وارداتوں کا بالکل علم ہی نہ ہو اور اس کی روح یہ سب کام سر انجام دے رہی ہو۔ لیکن وہ پھر کہاں چھپ گئی۔وہ کس حال میں ہے ؟ دل میں ایک خلش ہے ایک تشنگی ہے کہ جاتی ہی نہیں ! خلش یہ کہ۔۔میں اسے سنا کے روؤں اور وہ مجھے سنا کے روئے ۔جو کچھ مجھ پہ بیتی ہے میں وہ اسے سب ہی کچھ تو سنانا چاہتا ہوں پہروں بیٹھ کر ۔۔

ایک حقیقی راز جسے میں مدتوں سے اپنے سینے میں چھپائے پھر رہا ہوں۔ وقت تیزی سے گزررہا ہے ہر طرف سے ناامید ہو کر قلم کا سہارا لیا ہے کہ شاید یہ تحریر میری اس محسن و غم گسار ہستی کی نظر سے گزرے جسے تلاش کرتے کرتے اتنا تھک گیاہوں کہ اب انجام قریب ہے۔

میں روسیاہ مسکین دعا ہی کر سکتا ہوں کہ یا اللہ میرے اس دورافتادہ خیر خواہ ہمدم و ندیم کو دونوں جہانوں کی خوشیوں اور مسرتوں سے نواز دے کہ یہی میری متاع کائنات ہے۔

آمین ۔آمین