Topics

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ


موجودہ سائنس تلاش و جستجو کے اس راستے پر پہنچی ہے کہ پوری کائنات ایک ہی قوت کا مظاہرہ ہے۔ یہ انکشاف نیا نہیں ہے۔ ہمارے اسلاف میں کتنے ہی لوگ اس بات کو بیان کر چکے ہیں کہ کائنات کے تمام مظاہر کو ایک ہی توانائی کنٹرول کر رہی ہے اور اس قوت کا براہ راست اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط ہے۔ قرآن اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

’’اللہ آسمانوں اور زمین کی روشنی  ہے۔‘‘

ہم مادی سائنس اور اپنے اسلاف کے علوم کا موازنہ کرتے ہیں تو یہ دیکھ کر ہمارے اوپر حیرت کے باب کھل جاتے ہیں کہ اب سے تقریباً آٹھ صدی پہلے حضرت شاہ عبدالقادر جیلانیؒ ایک ایسے عظیم سائنس داں تھے جو فطرت کے قوانین کو جانتے تھے جن کے وجود مسعود سے آفاقی قوانین کے راز ہائے سر بستہ کا انکشاف ہوا ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر جیلانیؒ فطرت کے قوانین کے استعمال کا جو طریقہ بتا گئے ہیں اور انہوں نے ان قوانین کو سمجھنے کی جو راہ متعین کی ہے وہاں آج کی سائنس کھربوں ڈالر خرچ کر کے بھی نہیں پہنچ سکتی ہے۔

سائنسی علوم کی  ترقی اور کامیابی کا ایک بڑافیکٹر بجلی یا الیکٹرسٹی ہے اور اب یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ہر موجود شئے میں برقی اور مقناطیسی لہریں موجود ہیں ہیں مختلف اشیاء میں یہ لہریں مختلف تناسب اور مقداروں میں کام کرتی ہیں جبکہ ان لہروں کو ایک بنیادی قوت زندگی مہیا کر رہی ہے۔ یہی لہریں ہیں جو زندگی اور زندگی کے تمام عوامل و حرکات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ نے بتایا ہے کہ زمین اور آسمان کا وجود اس روشنی پر قائم ہے جس کو اللہ کا نور فیڈ کرتا ہے۔ اگر نوع انسانی کا ذہن مادہ سے ہٹ کر اس روشنی میں مرکوز ہو جائے تو وہ یہ سمجھنے پر قادر ہو جائے گا کہ انسان کے اندر عظیم الشان ماورائی صلاحیتیں ذخیرہ کر دی گئی ہیں جن کو استعمال کر کے نہ صرف یہ کہ وہ زمین پر پھیلی ہوئی اشیاء کو اپنا مطیع و فرمانبردار کر سکتا ہے بلکہ ان کے اندر کام کرنے والی قوتوں اور لہروں کو حسب منشاء استعمال کر سکتا ہے۔ پوری کائنات اس کے سامنے ایک نقطہ یا دائرہ بن کر سامنے آ جاتی ہے۔ اس مقام پر انسان مادی وسائل کا محتاج نہیں رہتا۔ وسائل اس کے سامنے سربسجود ہو جاتے ہیں۔ ہم جب قرآن کی تعلیم اور رسول اللہ کی سیرت کو دیکھتے ہیں اور مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالتے ہیں تو سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس لئے کہ قرآن کی حقیقی تعلیم اور مسلمانوں کے عمل میں بہت بڑا تضاد واقع ہو چکا ہے۔ قرآن جس راہ کا تعین کرتا ہے۔ مسلمان جس راستہ پر چل رہا ہے یہ دونوں دو ایسی لکیروں کی طرح ہیں جو آپس میں کبھی نہیں ملتیں۔

اللہ نے انسان کو اپنا نائب بنایا ہے اس کے اندر اپنی صفات کا علم پھونکا ہے اس کو اپنی صورت پر تخلیق کیا ہے ۔ اللہ وسائل کی محتاجی کے بغیر حاکم ہے جس طرح خدا نے کن کہہ کر کائنات کو وجود بخشا ہے خدا کا نائب بھی اپنے ذہن کو حرکت دے کر خدا کی تخلیق میں تصرف کر سکتا ہے کیونکہ اللہ کا نائب اس بات سے واقف ہوتا ہے کہ کائنات میں موجود تمام مظاہر ایک ہی ذات سے ہم رشتہ ہیں جو خالق و مالک ہے اللہ تعالی ٰ نے انسان کو اپنا نائب (خلیفہ ) بنایا ہےمسلمان کے پاس ماورائی علوم کا جتنا بڑا سرمایہ موجود ہے، وہ اسی مناسبت سے مفلوک الحال ہے۔ مسلمان کے اسلاف نے اس کے لئے حاکمیت اور تسخیر کائنات کے بڑے بڑے خرانے ترکہ میں چھوڑے ہیں لیکن یہ وہ بدنصیب قوم ہے جس نے ہیرے کو پتھر کہہ کر پھینک دیا ہے اور اس خزانے سے مستفیض ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ مصلحتوں کے پیش نظر مسلمان کو تفکر کی راہ سے دور ہٹا دیا گیا ہے اور اس کے سامنے ایسی نہج آ گئی ہے جہاں اس کا ہر عمل کاروبار بن گیا ہے۔ کتنی مضحکہ خیز ہے یہ بات کہ قرآن کائنات پر ہماری حاکمیت اور سرداری کو تسلیم ر رہا ہے، ہمارے اوپر حاکمیت اور سرداری کے دروازے کھول رہا ہے اور ہم قرآن کو محض برکت کی کتاب سمجھ کر طاقوں میں سجائے رکھتے ہیں۔ جب کوئی افتاد پڑتی ہے تو اس کی آیات کی تلاوت کر کے دنیاوی مصائب سے نجات کی دعائیں مانگتے ہیں مگر اس طرف ہماری توجہ مبذول نہیں ہوتی کہ قرآن میں تفکر اگر ہمارا شعار بن جائے اور ہم اس تفکر کے نتیجے میں میدان عمل میں اتر آئیں تو ساری کائنات پر ہماری سرداری مسلم ہے۔ افسوس کہ ہم ان خزانوں کو نظر انداز کر کے دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ قرآن کے ارشاد کے مطابق اللہ نے ہمیں شمس و قمر، نجوم، ارض و سماوات سب پر حاکم بنا دیا ہے اور اس حاکمیت کو حاصل کرنے کے طریقے بھی بتائے ہیں لیکن ہم ہیں کہ ہر شعبۂ زندگی میں دوسروں کے پس خردہ نوالوں کو اپنی زندگی کا حاصل مقصد سمجھ بیٹھے ہیں۔

 ہماری زندگی محض دنیا کے حصول تک محدود ہو گئی ہیں ہماری عبادتوں میں دکھاوا آگیا ہے ہم اعمال کے ظاہری پہلو کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں مگر باطن میں بہتے ہوئے سمندر میں سے ایک قطر ۂ آب بھی نہیں پیتے۔

آسمان علم و آگاہی کے خورشید منفرد اور تسخیر کائنات کے فارمولوں کے ماہر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں۔

اے منافقو!کلام نبوت سنو۔

 آخرت کو دنیا کے عوض فروخت کرنے والو!

فانی کا باقی کے بدلے کاروبار کرنے والو!

تمہارا بیوپار سراسر خسارے کا سودا ہے، تمہارا سرمایہ تمہیں بربادی کے گڑھے میں دھکیل رہا ہے۔

 افسوس تم پر۔

 تم اللہ کے غضب کا ہدف بن رہے ہو۔۔۔۔۔۔!



موت و زندگی

خواجہ شمس الدین عظیمی


حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ کا ارشاد اور اولیا ء اللہ کا قول بھی ہے ہم نے اللہ کو اللہ سے دیکھا اللہ کو اللہ سے سمجھا اور اللہ کو اللہ سے پا یا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اسپیس کا علم ملا ہوا ہے ۔ سپیس کا علم علم کی تجلی کو دیکھتا ہے ۔ جب سپیس کا علم آنکھوں سے دیکھا جا ئے ، کا نوں سے سنا ئی دے تو تجلی نظر آتی ہے ۔قر آن کر یم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کسی کو طا قت نہیں کہ اللہ سے کلام کر ے مگر تین طر یقوں سے (۱)وحی کے ذریعہ  (۲)رسول کے ذریعے یا (۳)حجاب سے ۔یہ تینوں سپیس میں حجاب بھی سپیس ہے وحی اسے کہتے ہیں جو سامنے منظر ہو وہ ختم ہو جا ئے اور پر دے کے پیچھے جو منظر ہو وہ سامنے آجا ئے اور ایک آواز آتی ہے ۔ فر شتے کے ذریعے یا رسول اللہ کے ذریعے کہ معنی یہ ہیں کہ فر شتہ سامنے آتا ہے اور اللہ کی طر ف سے بات کر تا ہے اور حجاب کے معنی یہ ہیں کہ کو ئی شکل سامنے آتی ہے اور اس طر ح بات کر تی ہے جیسے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے حا لانکہ وہ اللہ تعالیٰ نہیں ہے بلکہ حجاب ہے ۔