Topics

نسمہ مفرد ،نسمہ مرکب



کا نام جسم ہو جاتا ہے۔ اس ہی جسم کو ہم ٹھوس مادیت کا نام دیتے ہیں۔

پچھلے صفحات میں ہم نے گراف بنا کر ان کے اندر ایک فرضی جن اور ایک فرضی آدمی کا نقش دیا ہے۔ اس نقش کو غور سے دیکھا جائے تو اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ یہ لکیریں جو ایک سمت سے دوسری سمت میں رخ کئے ہوئے ہیں دراصل حرکات کی شبیہ ہیں۔ ان حرکات میں صرف حرکات کا طول تمام قسم کی صفات کا نمونہ بنتا ہے۔ مثلاً ایک حرکت جس کی طوالت مخصوص ہے اس کی صفات بھی مخصوص ہیں۔ لوح محفوظ کے قانون میں جو طوالت کے پیمانے کسی صفت کے لئے معین ہیں وہ کسی ساخت اور نقش کا بنیادی اصول ہے۔ کائنات میں جتنی چیزیں، جتنے رنگ روپ، جتنی صلاحیتیں ہوتی ہیں ان میں سے ہر ایک کے لئے مخصوص طول حرکت مقرر ہے۔ مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ اگر حرکت کی پیمائش’الف‘ ہے تو اس ’الف‘ پیمائش کی حرکت سے جو ظہور بھی تخلیق پائے گا وہ ازل سے ابد تک ایک ہی طرز پر ہو گا۔اس نقش یا ظہور کی شکل، اس کا رنگ، اس کے ابعاد، اس کی صلاحیتیں ہمیشہ معین اور مقرر ہوں گی۔ نہ ان میں کوئی چیز کم ہو سکے گی نہ زیادہ اور ان ہی حرکات کی ایک مخصوص آمیزش کا نتیجہ کسی نوع کے فرد کی شکل وصورت میں برآمد ہوتا ہے خواہ وہ نوع انسانی دنیا کی نباتات، جمادات، حیوانات ہو یا جنات کی دنیا کی نباتات، جمادات یا حیوانات ہو۔ پہلی صورت میں وہ نسمۂ مرکب یعنی دو متضاد حرکات کا نتیجہ ہو گی جس کو ہم دوہری حرکت کہہ سکتے ہیں اور دوسری صورت میں وہ صرف ایک طرفہ حرکت کا نتیجہ ہو گی جس کو ہم اکہری حرکت بھی کہہ سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے ہر چیز کو دو  قسم پر پیدا کیا ہے:

وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقنَا زَوْجَیْنِ لَعلکُمْ تَذَکَّرُوْنَ

(پارہ ۲۷، رکوع ۲، آیت ۴۹)

ترجمہ مع قوسین مولانا تھانوی: اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم بنایا تا کہ تم (ان مصنوعات سے توحید کو) سمجھو۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس حرکت کی تخلیق میں دو دو قسم کی کیا نوعیت ہے اس نوعیت کے تجزیہ میں ’’احساس‘‘ یا ’’حس‘‘ کو اچھی طرح جاننا ضروری ہے۔ ہم نے تختۂ سیاہ کی مثال میں ’’حس‘‘ کے دونوں رخوں کا تذکرہ کیا ہے۔ دراصل وہی دونوں رخ یہاں بھی زیر بحث آتے ہیں۔

جس چیز کو ہم حرکت کا نام دیتے ہیں وہ محض ایک حس ہے جس کا ایک رخ خارجی سمت میں اور دوسرا رخ داخل کی طرف ہے۔ جب نسمہ کے اندر ایک نقش خاص طرزوں کے تحت تخلیق پاتا ہے تو وہ ایسی حرکت کا مجموعہ بنتا ہے جو ایک رخ پر خود نقش کا احساس ہے اور دوسرے رخ پر نقش کی دنیا کا احساس ہے۔

ہم اس کی شرح یوں کر سکتے ہیں کہ اہل تصوف جس کا نام ظاہر الوجود رکھتے ہیں وہ دو مراتب پر مشتمل ہے جس میں سے ایک مرتبہ کوئی ابعاد نہیں رکھتا اور دوسرے مرتبہ میں پہلے مرتبہ کے نقش و نگار ابعاد کے ساتھ رونما ہوتے لیکن یہاں تک محض طبعی صفات کا وجود ہوتا ہے، طبیعت کی فعلیت نہیں ہوتی۔ مذہب نے پہلے مرتبہ کا نام عالم ارواح رکھا ہے اور اس عالم کے اجزاء کو روح کا نام دیا ہے۔ دوسرا مرتبہ عالم مثال کا ہے اور اصطلاح میں دوسرے مرتبہ کے اجزاء کے ہر جزو کا نام تمثال ہے۔ ان دونوں مرتبوں میں وہی فرق ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔

Topics


Loh o Qalam

قلندر بابا اولیاءؒ

قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب  میں صوفیانہ افکارکو عام فہم انداز میں پیش کیاہے ۔ اسے تصوف یا روحانیت کی تفہیم کے لئے ایک گرانقدر علمی اورنظری سرمایہ قراردیا جاسکتاہے ۔ قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظر ایک قابل عمل اورقابل فہم علمی دستاویز پیش کرنا تھا جس کے ذریعے دورحاضر کا انسان صوفیائے کرام  کے ورثہ یعنی تصوف کو باقاعدہ ایک علم کی حیثیت سے پہچان سکے ۔ لوح وقلم روحانی سائنس  پر پہلی کتاب ہے جس کے اندرکائناتی نظام اورتخلیق  کے فارمولے بیان کئے گئے ہیں اور "روح وجسم " کے مابین تعلق کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ۔

انتساب

میں یہ کتاب

پیغمبرِ اسلام 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ 

مجھے یہ حکم 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام 

کی ذات سے 

بطریقِ اُویسیہ ملا ہے


(قلندر بابا اولیاءؒ )