Topics

ادراک کیا ہے؟

                    

اللہ تعالیٰ کا عرش پر متمکن ہونا اور رگِ جاں سے قریب ہونا۔۔۔ دونوں ارشادات میں مشترک مفہوم تلاش کرنا پڑے گا۔ فی الواقع یہ ادراک ہی کے دو اندازے ہیں۔ پہنائی میں ادراک کرنا تو انسانی تصور کو لاتناہیت کے بُعد میں لے جاتا ہے۔ اس ہی بُعد کو اللہ تعالیٰ نے عرش فرمایا ہے۔ گہرائی میں ادراک کرنا انسانی شعور کے قرب میں پہنچاتا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے رگِ جاں سے اقرب فرمایا ہے۔ یہاں یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ لاتناہیت کا بُعد اور لاتناہیت کا قرب ہم معنی اور مرادف مفہوم پیدا کرتے ہیں۔ یہ دونوں مقامات دراصل ایک ہیں۔ صرف ادراک کے اندازے الگ الگ ہیں۔ ادراک ایک طرف پہنائی میں سفر کر کے عرش تک پہنچاتا ہے، دوسری طرف گہرائی کی مسافتیں طے کر کے رگِ جاں کے اقرب میں جذب ہو جاتا ہے۔ دونوں طرح اللہ تک پہنچنا ہے۔ پہلا ادراک تسوید اور دوسرا ادراک تظہیر ہے۔ اب دو ادراک تجرید اور تشہید باقی رہے۔ تجرید تسوید کا دوسرا رخ ہے۔ ہر بلندی کی ایک پستی ہے اور ہر پستی کی ایک بلندی۔ چنانچہ تسوید کا پست رخ تجرید ہے اور تظہیر کا بلند رخ تشہید ہے۔ یہ دونوں رخ کائنات کی ان حدوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو ماورائے کائنات سے جا ملتی ہیں۔ اس مفہوم کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔

’’اللہ بلندیوں اور پستیوں کا نور ہے۔ جیسے طاق، اس میں قندیل اور قندیل کے اندر چراغ رکھا ہو۔ یہ مقدس تیل کا چراغ بغیر کسی ظاہری روشنی کے روشن ہے، جس کی روشنی نور اندر

نور ہر سمت سے آزاد ہے۔‘‘

جب پہنائی تلاش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی صفات نور در نور ملیں گی۔ ان ہی چار ادراک کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفتِ ذات حاصل ہوتی ہے۔ سیاہ نقطہ کا تذکرہ آ چکا ہے۔ اس ہی نقطہ سے چاروں ادراک کا سرچشمہ ابلتا ہے۔ اس مقام پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ آخر ادراک ہے کیا؟ ادراک زمان ہے۔ یہی ادراک سیکنڈ کی کم سے کم کسر ہے۔ ہم سمجھنے کے لئے کھربواں حصہ کہہ سکتے ہیں یا اس سے بھی کوئی چھوٹا حصہ جو ہمارے خیال میں آ سکتا ہو۔ دوسری طرف طویل سے طویل وقفہ جسے نوع انسانی کی ذہنی پرواز شمار کر سکتی ہو۔ یہ دونوں ادراک ہیں اور سیاہ نقطہ کی صفات ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے وقفوں کی مشاہداتی مثال ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم کا حادثہ ہے۔

Topics


Loh o Qalam

قلندر بابا اولیاءؒ

قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب  میں صوفیانہ افکارکو عام فہم انداز میں پیش کیاہے ۔ اسے تصوف یا روحانیت کی تفہیم کے لئے ایک گرانقدر علمی اورنظری سرمایہ قراردیا جاسکتاہے ۔ قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظر ایک قابل عمل اورقابل فہم علمی دستاویز پیش کرنا تھا جس کے ذریعے دورحاضر کا انسان صوفیائے کرام  کے ورثہ یعنی تصوف کو باقاعدہ ایک علم کی حیثیت سے پہچان سکے ۔ لوح وقلم روحانی سائنس  پر پہلی کتاب ہے جس کے اندرکائناتی نظام اورتخلیق  کے فارمولے بیان کئے گئے ہیں اور "روح وجسم " کے مابین تعلق کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ۔

انتساب

میں یہ کتاب

پیغمبرِ اسلام 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ 

مجھے یہ حکم 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام 

کی ذات سے 

بطریقِ اُویسیہ ملا ہے


(قلندر بابا اولیاءؒ )