Topics

تخلیق کا راز

 

 

قرآن پاک میں تخلیق کا راز بیان ہوا ہے۔ اللہ کا امر یہ ہے کہ

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (سورۂ یٰسین۔ آیت ۸۲)

ترجمہ: جب وہ کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’ہو‘ اور وہ ہو جاتی ہے۔

اس آیت پر غور کیا جائے تو لفظ کے اندر جو راز ہیں ان رازوں کا اور ان رازوں کو حرکت میں لانے کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’کُن‘‘ تو ان کا مخاطب کوئی شئے ہوتی ہے جو ابھی تک ظہور میں نہیں آئی لیکن جب اسے ظہور میں آنے کا حکم دیا گیا تو یہی حکم اس شئے کے اندر میکانکی حرکت بن گیا۔ غور طلب یہ ہے کہ شئے کے ظہورکی ماہیت اور طرز کیا تھی۔ یہ ماہیت وہ تصورات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارادے میں موجود ہیں۔ لیکن ان کی طرز میں کوئی ترتیب نہ تھی۔ ترتیب نہ ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ کوئی شئے لاتناہیت میں پھیلی ہوئی ہے۔ جب ارادہ نے شئے کے تصور کو لاتناہیت سے اخذ کیا تو شئے کی ایک صورت بن گئی۔ اب شئے کی صورت ایک علم بن گئی اور علم لفظ ہے۔ یعنی جس وقت شئے کے مجموعی تصورات علم کا سانچہ بن گئے تو لفظ کہلائے۔ پھر شئے کی ہستی لفظ کی گرفت میں آ گئی۔ اور لفظ اسے پردہ (کتاب المبین) سے باہر کھینچ لایا۔

لفظ کی تین قسمیں ہیں۔ دو قسمیں ایسی ہیں کہ ان کو برائے نام لفظ کہا جا سکتا ہے۔یہ دو قسم کے لفظ ظہور کے بعد استعمال ہوتے ہیں مثلاً اچھا یا برا۔ اچھا ایسا لفظ ہے جو تائید کرتا ہے، برا ایسا لفظ ہے جو تردید کرتا ہے۔ دونوں الفاظ میں تصورات کا ایسا مجموعہ پوشیدہ ہے جو ظہور میں آ چکا ہے۔ اب ارادہ میں ایسے تصورات موجود نہیں ہیں جن کو ظہور میں آنا ہو۔ یعنی ارادہ میں تصور کی گنجائش نہیں ہے۔ ان دونوں قسم کے الفاظ کا نام خلق یا کائنات ہے۔ یہ دونوں امر کے شعبے سے الگ ہیں۔ قرآن پاک میں آیا ہے:

ھُوَ الْاَوَّلُ ھُوَ الْاٰخِرُ ھُوَ الظَّاھِرُ ھُوَ الْبَاطِنُ

ان معنوں میں اللہ تعالیٰ محیط کل ہے۔ اور وجود مدرک ہے۔ ہم ظاہر کو دیکھتے ہیں باطن کو نہیں دیکھتے۔ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ تو دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ کس سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم ادراک کرتے ہیں لیکن یہ ادراک نہیں کرتے کہ کس سے ادراک کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ ادراک کر لیں کہ کس سے ادراک کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ادراک کر لیں گے۔ اس ہی لئے ہماری فہم صرف خلق میں کام کرتی ہے۔ امر تک اس کی رسائی نہیں ہوتی۔ ہم الفاظ کو کسی چیز کے رد میں استعمال کرتے ہیں یا قبول میں استعمال کرتے ہیں جس لفظ کو رد میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لفظ میں رد کئے ہوئے تصورات کام کرتے ہیں۔ جس لفظ کو قبول میں استعمال کیا جاتا ہے اس میں قبول کئے ہوئے تصورات کام کرتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے الفاظ خلق ہیں کیونکہ تصورات سے لبریز ہونے کے بعد ظہور میں آ چکے ہیں۔


Topics


Loh o Qalam

قلندر بابا اولیاءؒ

قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب  میں صوفیانہ افکارکو عام فہم انداز میں پیش کیاہے ۔ اسے تصوف یا روحانیت کی تفہیم کے لئے ایک گرانقدر علمی اورنظری سرمایہ قراردیا جاسکتاہے ۔ قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظر ایک قابل عمل اورقابل فہم علمی دستاویز پیش کرنا تھا جس کے ذریعے دورحاضر کا انسان صوفیائے کرام  کے ورثہ یعنی تصوف کو باقاعدہ ایک علم کی حیثیت سے پہچان سکے ۔ لوح وقلم روحانی سائنس  پر پہلی کتاب ہے جس کے اندرکائناتی نظام اورتخلیق  کے فارمولے بیان کئے گئے ہیں اور "روح وجسم " کے مابین تعلق کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ۔

انتساب

میں یہ کتاب

پیغمبرِ اسلام 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ 

مجھے یہ حکم 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام 

کی ذات سے 

بطریقِ اُویسیہ ملا ہے


(قلندر بابا اولیاءؒ )