Topics

تخلیق کا قانون

 

زمان اور مکان کو سمجھنے کے لئے  کُن  کی تشریح ضروری ہے۔ جب ہم لفظ قرآن کہتے ہیں تو ہماری مراد اس سے وہ افہام و تفہیم ہوتی ہے جو قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئیں۔ ہماری مراد ق ر پیش قُر، زبر آ، ان ساکن قُرآن(لفظ) ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر بات کے لئے ایک اسم(نام) یا علامت جسے جسم کہنا چاہئے ہوتا ہے لیکن کوئی علامت یا جسم اس شئے کی زندگی یا روح نہیں ہوتی۔ علامت یا جسم مفروضہ ہے، اس کے اندر بسنے والی روح یا زندگی حقیقت ہے۔ سننے والا لفظ کو سنتا اور حقیقت کو سمجھتا ہے۔ جب ہم قلم کہتے ہیں تو سننے والا ق ل م نہیں سمجھتا بلکہ اس کے ذہن میں ایک ایسی چیز آتی ہے جو لکھنے کا کام کرتی ہے۔ ساخت کا قانون یہاں سے واضح ہو جاتا ہے۔ اگر ہم کسی شئے کو اس شئے کی زندگی یا حرکت کہیں تو اس شئے کی حقیقت کا تذکرہ کریں گے۔ اب ہم موجودات کے اندر جس قدر نوعیں ہیں اور ان نوعوں میں جس قدر افراد ہیں ان میں سے ہرفرد کا نام ذرہ رکھ لیتے ہیں۔ یہ ذرہ دراصل حرکت ہے جس کے دو رخ ہیں۔ حرکت کا ایک رخ رنگین روشنی ہے جس کو اس ذرہ کا مظہر یا جسم کہا جاتا ہے۔ حرکت کا دوسرا رخ بے رنگ روشنی ہے جس کو زندگی، فطرت، کردار یا حقیقت کہا جاتا ہے۔ حقیقت یا بے رنگ روشنی یا حرکت(نسمہ) کا ایک رخ زمان کہلاتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک حدیث شریف ہے۔

لَاتَبسُوْءُ الدَّھْر اِنّ الدَّھْر ھُوَ اللّٰہ


 

 

ترجمہ: زمانے کو برا نہ کہو، زمانہ اللہ ہے۔

حرکت کے اس رخ میں کوئی تغیر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی رو سے حرکت(نسمہ) کے بھی دو رخ ہوتے ہیں۔ یہ دونوں رخ جیسا کہ قانون ہے، اوصاف کی بنا پر ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ حرکت کے جس رخ میں تغیر ہوتا ہے اس کو مکان کہتے ہیں۔ اور جس (متضاد) رخ میں تغیر نہیں ہوتا اس کو زمان کہتے ہیں۔ وہ تمام صفات جو کسی ہستی، کردار یا زندگی کی اصلیں ہیں ان کا قیام زمان کے اندر ہے۔ ان اصلوں میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا مستقر یا مرکز زمان ہے جو غیر متغیر ہے۔ حرکت کا وہ رخ جو زمان کے برعکس ہے مکان کہلاتا ہے۔ ہر قسم کا تغیر اس ہی رخ میں ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے:

نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد

ان الفاظ میں زمان کی وضاحت کی گئی ہے۔ معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ کا کوئی کلام اور ارشاد عبث نہیں ہوتا۔ اس بات کی تصدیق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مذکورہ بالا حدیث سے ہوتی ہے، زمانے کو برا نہ کہو، زمانہ اللہ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دوسری حدیث میں بھی اس معنی کی تشریح کرتی ہے۔

مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ

نفس اس حقیقت کا نام ہے جس میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔

زمان کو سمجھ لینے کے بعد خالقیت اور مخلوقیت کی قدریں الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدُٗoاَللّٰہُ الصَّمَدُoلَمْ یَلِدْoوَلَمْ یُوْلَدoوَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُواً اَحَدُٗo

ترجمہ:    اللہ لاثانی ہے۔ اللہ لا احتیاج ہے۔ اللہ لا اولاد ہے۔ اللہ لاوالدین ہے۔ اللہ لا کفو ہے۔

یہ سب خالقیت کی قدریں ہیں۔

ثانی ہونا، ذی احتیاج ہونا، ذی اولاد ہونا، ذی والدین ہونا، ذی خاندان ہونا، مخلوقیت کی قدریں ہیں۔ یہ قدریں مکان یعنی مظہر(Space) پر مشتمل ہیں۔ لیکن خالقیت کی قدریں ان قدروں کے برعکس ہیں۔ مخلوقیت کی قدروں میں ابتدا، انتہا، اشتباہ، عکس رنگ(روشنی) کی درجہ بندی اور ہر قسم کا تغیر ہوتا ہے اور مختلف نوعوں میں مختلف شکل و صورت، مختلف آثار و احوال پائے جاتے ہیں۔

زمان اور مکان کی بہت واضح مثال راستہ اور مسافر سے دی جا سکتی ہے۔ راستہ زمان ہے اور مسافر مکان۔ اگرچہ مسافر کا انہماک خود میں یعنی اپنے آثار و احوال میں ہوتا ہے تا ہم مسافر بغیر راستہ کے اپنی ہستی قائم نہیں رکھ سکتا۔ وہ راستہ سے کتنا ہی غافل رہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ وہ راستہ سے لاتعلق ہو جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مسافر میں اور راستہ میں کمترین اور نازک ترین فصل بھی نہیں ہو سکتا۔ مسافر راستہ ہی کی تخلیق ہے۔ مسافر کی تمام حرکات و سکنات، سارا کردار، زندگی کی طرزیں اور فکریں راستہ کے حدود سے باہر نہیں جا سکتیں۔ وہ راستہ کی قدروں اور راستہ کے اصولوں کا پابند ہے۔ انسانی زندگی میں راستہ لاشعور ہے اور مسافر شعور ہے۔ ہم شعور سے لاشعور کو پہچان سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا انہماک شعور میں زیادہ سے زیادہ ہے تو اس کی توجہ لاشعور میں کم سے کم ہے جس سے زندگی کے عمل اور

اقدار کم رہ جاتی ہیں۔ شعور کا زیادہ سے زیادہ ہونا شعور کے زیادہ سے زیادہ حرکت میں رہنے کی دلیل ہے۔ اس لئے عمل کی مقدار کم سے کم رہ جاتی ہے جب انسان پیہم فکر کرتا ہے تو لاشعور کے حرکت میں آنے کا وقفہ کم سے کم رہ جاتا ہے اور صرف یہی وقفہ عمل کا وقفہ ہے کیونکہ سوچ بچار سے آزاد ہے۔

قانون یہ ہوا کہ جتنا زیادہ سے زیادہ وقت لاشعور کو دیا جائے گا، زندگی اتنے ہی عمل کے راستے طے کرے گی۔ دراصل لاشعور ہی نسمہ کی حرکت کا وہ رخ ہے جو زندگی کی مکانیتوں یعنی زندگی کے اعمال کی تعمیر کرتا ہے۔ ہم پھر ایک بار تشریح کر دینا چاہتے ہیں کہ نقطۂ وحدانی کے دو رخ ہیں۔ ایک عالم نور جو اصل زمان ہے، دوسرا عالم امر جو اصل مکان ہے۔

عالم امر یا اصل مکان میں زمان غالب اور مکان مغلوب ہے۔ عالم مکان یا خلق میں مکان غالب اور زمان مغلوب ہے۔ زمان اصل امکان میں بھی بساط (Base Line) اور مکان میں بھی۔ اصل مکان نسمۂ مفرد ہے اور مکان نسمۂ مرکب۔ نسمۂ مفرد کی عام تعمیر عالم امر کہلاتی ہے اور نسمۂ مرکب کی تمام تعمیر عالم خلق کہلاتی ہے۔ ان دونوں عالموں کے درمیان عالم مثال پردہ (برزخ) ہے۔ انسان عالم امر میں پانچ قدم اٹھاتا ہے، پھر عالم خلق میں دو قدم۔۔۔۔۔۔پانچ قدم اخفیٰ، خفی، سِر، روح اور قلب ہیں۔ اور دو قدم احساس(نفس) اور قالب ہیں۔ یعنی پانچ قدم عالم امر کے ہیں اور دو قدم عالم خلق کے۔

اخفیٰ اور خفی کی حرکت لاشعور میں رہتی ہے۔ یہ حرکتِ اُولیٰ ہے۔ سِر، روح اورقلب کی حرکات قالبِ انسانی میں وہم، خیال اور تصور کی نوعیت رکھتی ہیں۔ یہ حرکت ثانی ہے۔ نفس اور جسم کی حرکات قالبِ انسانی میں احساس اور عمل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ حرکت آخر ہے۔ اخفیٰ بے رنگ حرکت ہے جس میں گریز پایا جاتا ہے۔ خفی بے رنگ حرکت ہے جس میں کشش پائی جاتی ہے۔ سِریک رنگ حرکت ہے جس میں گریز پایا جاتا ہے۔ روح یک رنگ حرکت ہے جس میں کشش پائی جاتی ہے اور قلب کل رنگ حرکت ہے جس میں گریز پایا جاتا ہے۔ نفس کل رنگ حرکت ہے جس میں کشش پائی جاتی ہے۔ قالب ان حرکات کا مظاہرہ ہے۔

عالم امر کی تمام حرکات مفرد ہیں۔ دو حرکات ایسی ہیں جن میں کوئی رنگ نہیں جو لانفی کا بسط ہیں۔

نمبر۱۔ لاگریز اخفیٰ عالم امر خاص۔

نمبر۲۔ لاکشش خفی عالم امر عام۔

اخفیٰ سے کشف ہوتا ہے لاگریز کا۔ اور خفی سے کشف ہوتا ہے لاکشش کا۔ یہ دونوں لطائف موجودات کی اصلوں کے بسائط(Basid Points) ہیں۔ اخفیٰ کسی نوع کی وہ اصل ہے جس میں نوع کا ایک ہیولیٰ تمام افراد نوع کو محیط ہوتا ہے۔ اس کی مثال کائناتی شئے سے دی جا سکتی ہے مثلاً کسی درخت کا جو بیج سب سے پہلے اُگا تھا اس بیج کے اندر کائنات کی عمر تک پیدا ہونے والے تمام درخت موجود تھے۔ وہی ایک بیج اپنی تمام نوع کا ہیولیٰ بنا۔ اس بیج کے ہیولیٰ میں ایسی حرکت پائی جاتی ہے جو اپنے آغاز(مبتداء) سے انجام(مظہر) کی طرف گریز کرنے والی ہے۔ نوعی ہیولیٰ کی حرکت کا یہ پہلا قدم ہے۔ دوسرا قدم خفی ہے جو اپنے  مظہر سے مبتداء کی طرف کھینچتا ہے۔ لا میں عالم امر کے دو ابتدائی بساط پائے جاتے ہیں۔ یہ  کُن  کے دو ابتدائی قدم ہوئے۔ لام(ل) بسط ہے گریز کا اور الف(ا) بسط ہے کشش کا۔ یہ دونوں بسائط اخفیٰ اور خفی حیات کی اصل(لاشعور) ہیں۔ اگر ان دونوں بسائط کے مجموعہ کو نگاہ کا نام دیں تو اس نگاہ کو سطح اور عمق دونوں رخوں پر تقسیم کریں گے۔ دونوں رخوں میں اخفیٰ عمق اور خفی سطح۔ اخفیٰ کی نگاہ ہمیشہ پردے کے پیچھے دیکھتی ہے اور خفی کی نگاہ ہمیشہ پردے کے اوپر دیکھتی ہے۔ اخفیٰ کی نگاہ پردے سے گزر جاتی ہے کیونکہ پردہ کشش ہے اور اخفیٰ گریز۔ لیکن خفی کی نگاہ کشش ہے۔ اس ہی لئے پردے پر رک جاتی ہے، گزر نہیں سکتی۔

سَبَّحَ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿٢ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿٣هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿٤ لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ ﴿٥(سورہ حدید، آیات ۱۔۵)

ترجمہ: اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ زبردست حکمت والا ہے اس ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی، وہی حیات دیتا ہے وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی پہلے وہی پیچھے اور وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی ہے  اور ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔ وہ ایسا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا، پھر تخت پر قائم ہوا۔ وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور جو چیز اس نکلتی ہے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیزاس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے خواہ تم لوگ کہیں بھی ہو اور تمہارے سب اعمال کو بھی دیکھتا ہے۔ اس ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف سب امور لوٹ جائیں گے۔

نزول و صعود    

اخفیٰ، خفی، سِر، روح، قلب اور نفس یہ سب چھ لطائف ہوئے۔ دراصل یہ چھ حرکتوں کے نام ہیں۔ ان میں سے ہر ایک حرکت ہر نوع میں ایک طول رکھتی ہے۔ ان چھ حرکات میں سے تین حرکات نزولی ہیں اور تین صعودی۔ تین نزولی حرکات کے مقابل دوسرے رخ پر تین صعودی حرکات بیک وقت وقوع میں آتی ہیں۔ ہر ایک نوع میں پہلی حرکت اخفیٰ، گریز یا نزول کی حرکت ہے۔ یہ حرکت عمق سے سطح کی طرف ابھرتی ہے۔ یہ حرکت اپنا معین طول طے کرنے کے بعد جس سطح پر پہنچتی ہے اس کا نام سِر ہے۔ اخفیٰ میں یہ حرکت بے رنگ تھی لیکن جب یہ سِر(عالم مثال) کے اندر قدم رکھتی ہے تو اس میں ایک رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ اخفیٰ کی بے رنگی تمام رنگوں کی اصل تھی۔ اب سِرّ کی یک رنگی اپنے اندر تمام رنگوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ سِرّ کے بعد یہ حرکت ایک طول اور طے کرتی ہے۔ جیسے ہی یہ طول طے ہو چکتا ہے یک رنگی کے اندر جس قدر رنگ تھے سب بکھر جاتے ہیں۔ جن حدود میں یہ رنگ منتشر ہوئے ہیں ان حدود کا ایک رخ قلب یا تصور اور دوسرا رخ نفس یا احساس  ہے۔ رنگوں کا یہی مجموعہ مظہر یا جسم ہے، خواہ کسی نوع کا ہو۔ اب تک اس سفر میں لاشعور یعنی زمان سطح پر تھا اور مکان یعنی شعور عمق میں۔ لیکن مظہر کی حدود میں قدم رکھنے کے بعد زمان عمق میں چلا جاتا ہے اور مکان سطح پر آ گیا تو حرکت صعودی ہو گئی۔ یہ حرکت مظہر(لطیفۂ نفسی) سے روح کی طرف صعود کرتی ہے اور روح سے خفی کی طرف۔ اخفیٰ لوح محفوظ ہے۔ سِرّ عالم مثال ۔لطیفۂ روحی مذہب کی زبان میں اعراف یا برزخ کہلاتا ہے۔ خفی کتاب المرقوم، حشر و نشر کی منزل ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر تذکرہ کر چکے ہیں انسانی زندگی کے یہ سات قدم ہوئے۔ ساتوں قدم سات عمریں ہیں۔ ان ساتوں عمروں کے دو مجموعی نام ہیں۔

ایک عالم رنگ یا عالم ناسوت یعنی موجودہ دنیا۔ دوسرا حشر و نشر۔

ان دو منزلوں کے درمیان دو مرحلے اور پڑتے ہیں۔ لوح محفوظ اور عالم ناسوت کا درمیانی مرحلہ عالم مثال کہلاتا ہے۔ عالم ناسوت اور حشر و نشر کا درمیانی مرحلہ عالم برزخ کہلاتا ہے۔ یہ مرحلہ صعودی حرکت میں پیش آتا ہے۔

تشریح:قلم یعنی علم القلم اور لوح یعنی لوح محفوظ۔

یہ دونوں نقطۂ وحدانی کے دو رخ ہیں جو رخ ذات باری تعالیٰ کی طرف ہے اس کو علم القلم کہتے ہیں۔ یہی رخ تجّلی  ذات بھی کہلاتا ہے۔ اور عام اصطلاح میں ورائے بے رنگ یا ورائے لاشعور کہہ سکتے ہیں۔ قلم اور لوح کے تئیس شعبے ہیں ہم یہاں قلم (ورائے بے رنگ) کے تئیس شعبوں کاتذکرہ نظر انداز کرتے ہیں۔ صرف لوح (بے رنگ) کے اس شعبہ کا تذکرہ کریں گے جس کا بیان مذکورہ بالا آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ شعبہ لوح یا لاشعور کے اس نقطہ سے متعلق ہے جس کی ایک سطح حافظہ اور دوسری سطح فکر ہے۔ یہ دونوں سطحیں ایک ہی حرکت کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ حافظہ کی سطح اور دوسرا رخ فکر کی سطح۔ حافظہ کی سطح خلائے نور ہے۔ یہ بسیط، عمیق اور محیط ہے۔ فکر کی سطح محض نور ہے جو خلائے نور سے نور کی طرف یعنی لامحدودیت سے محدودیت کی طرف نزول کرتی ہے۔ اس ہی حرکت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت کے پہلے جزو میں کیا ہے۔

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ          الخ

چنانچہ ہر شئے لامحدودیت سے محدودیت میں آ کر اس بات کا تعارف کراتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک بے نقص اور غیر محدود ہے اور غیر محدودیت ہی اللہ تعالیٰ کی سبحانیت اور پاکی کا شعبہ ہے۔ اگر غیر متغیر اور متغیر کو الگ الگ سمجھنا چاہیں تو غیر متغیر کا نام لامحدودیت اور تغیر پذیر کا نام محدودیت رکھنا ہو گا۔ جب کسی شئے میں تغیر پیدا ہوتا ہے تو پہلے حدود کا قیام عمل میں آتا ہے یعنی حد بندی کے بغیر کوئی شئے تغیر کا مظاہرہ نہیں کر سکتی۔ تغیر حرکت کا دوسرا نام ہے اور کسی شئے میں جب تک حدود کا تعین موجود نہ ہو حرکت واقع نہیں ہو سکتی۔ تغیر سے پاک ہونا ہر قسم کی احتیاج ہر طرح کی پابندی اور ہر تعدد سے آزاد ہونا ہے۔ قرآن پاک میں لامحدودیت کو خالق اور محدودیت کو مخلوق قرار دیا گیا ہے۔

خارج۔ خارجی طور پر کائنات تین دائروں پر مشتمل ہے۔ یہ تین دائرے دراصل کائنات کے تین حصے ہیں۔

پہلا دائرہ مادیت کا ہے۔ دوسرا حیوانیت کا اور تیسرا انسانیت کا۔ خارجی عمل جس کو میکانکی عمل کہنا چاہئے، مادیت کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس میکانکی عمل کے نتیجے میں جمادات، نباتات بنتے ہیں۔ دوسرے دائرے سے حیوانات اور پھر انسانی تعمیر کے خمیر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ تین معین دائرے خارج یا مظاہر کہلاتے ہیں لیکن تحلیل کی طرزیں ہماری نگاہ سے پوشیدہ ہیں اور یہ مخفی طرزیں اللہ تعالیٰ کی زبردست حکمت کا ایک جزو ہیں۔

واردات۔یہ منفی تحلیل نقطۂ وحدانی کے ذہن سے عمل میں آتی ہے۔ نقطۂ وحدانی کا ذہن اللہ تعالیٰ کا وہ ارادہ ہے جو  کُن  فرمانے سے ظہور میں آیا۔ یہاں سے یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ لامحدودیت کا ارادہ اخفیٰ کو خفی کی صورت عطا کرتا ہے۔ یا خلائے نور کو نور کی شکل دیتا ہے۔ یہ ارادہ کسی سبب یا وسیلہ کی احتیاج نہیں رکھتا۔ کیونکہ خلائے نور میں وسائل یا اسباب کو کوئی قوام موجود نہیں ہے۔ یہ تبدیلی جس نے خلائے نور کو نور میں تبدیل کیا ہے صرف خالق کے ارادے سے عمل میں آئی ہے۔ اس حقیقت سے یہ نتیجہ پیدا ہوتا ہے کہ خلائے نور اور خالق کا ارادہ دونوں ایک ہی حقیقت ہیں اور یہی حقیقت کائنات کی تعمیر کا بسط ہے۔ قرآن پاک میں اس حقیقت کو تدلّٰی کا نام دیا گیا ہے۔

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ﴿٥ ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ ﴿٦ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ﴿٧ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ﴿٨ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩

 (سورۂ نجم، پارہ ۲۷)

ترجمہ: ان کو تعلیم کرتا ہے جس کو طاقت زبردست ہے۔ اصلی صورت پر نمودار ہوا جب وہ افق پر تھا۔ نزدیک آیا۔ پھر اور نزدیک آیا۔ جھکا، دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ کم۔

ان آیات میں ان مشاہدات کا ذکر ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خلائے نور سے متصل ہونے میں پیش آئے تھے۔ اس حقیقت کا تعارف معرفت ذات کے اعلیٰ مراتب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مرتبہ میں ذات باری تعالیٰ کے کمالات کا انکشاف ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو تعلیمات براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کی تھیں۔ مذکورہ بالا آیات میں ان ہی تعلیمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ خلائے نور ان تجّلی ذ ات کا مجموعہ ہے جو علوم کے حقائق ہیں۔ ان ہی علوم کے حقائق کو علم القلم کہا جاتا ہے۔ یہ لوح محفوظ کے احکامات پر اولیت رکھتے ہیں۔ ان ہی علوم کی ثانویت کا نام لوح محفوظ کے احکام ہیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ماثورہ دعاؤں میں کہیں کہیں ان علوم کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے:

یا اللہ! میں تجھے تیرے ناموں کا واسطہ دیتا ہوں جن کو تو نے مجھ پر ظاہر کیا۔ یا مجھ سے پہلوں پر ظاہر کیا۔ اور میں تجھے تیرے ان ناموں کا واسطہ دیتا ہوں جن کو تو نے اپنے علم میں اپنے لئے محفوظ رکھا اور تجھے تیرے ان ناموں کا واسطہ دیتا ہوں جو تو میرے بعد کسی پر ظاہر کرے گا۔

اس دعا میں خلائے نور یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات و کمالات، شعائر و عادات اور قوانین تجلیات کو اللہ تعالیٰ کے اسماء قرار دیا گیا ہے۔ یہ علم  اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد اور ابداء سے پہلےہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس مرتبہ کی معرفت بغیر وسائل و اسباب کے تخلیق و تکوین کی صلاحیتیں عطا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر نام میں لاشمار کمالات جمع ہیں۔ کمالات خلائے نور سے صادر ہو کر لوح محفوظ کی زینت بنتے ہیں اور پھر لوح محفوظ سے عالم خلق میں ظاہر ہوتے ہیں۔

ہم نے پچھلے صفحات میں خلائے نور کو ورائے بے رنگ کہا ہے۔ خلائے نور یا ورائے بے رنگ سے نفی یا عدم مراد نہیں ہے بلکہ عدم نور مراد ہے، وہ عدم نور جو قانون نورانیت کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک طرح کا لطیف ترین جلوہ ہے اور اس ہی جلوہ سے نور کی تخلیق ہوئی ہے۔ذات باری تعالیٰ خلائے نور سے ماوراء ہے۔ خلائے نور ورائے بے رنگ ہے اور ذات باری تعالیٰ وراء الوراء بے رنگ ہے۔ ذات باری تعالیٰ کی تشخیص میں فی الحقیقت الفاظ کو دخل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا بیان وہم، تصور، الفاظ ہر طرز فہم سے بالاتر ہے۔ محض فکر وجدان اللہ تعالیٰ کی قربت کو محسوس کر سکتی ہے۔ اور اس ہی فکر وجدانی کی سعی انسان کو ایسے مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں وہ تجّلی  ذات کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ اس ہی مقام میں اللہ تعالیٰ سے گفتگو کے مواقع حاصل ہوتے ہیں یہ گفتگو براہ راست ذات سے نہیں بلکہ تجّلی  ذات کی معرفت ہوتی ہے۔

کائناتی نقطہ، فکر وجدانی

شئے کا مشاہدہ ہی شئے کی فہم کا باعث بنتا ہے۔ شئے پہلے انسان کے مشاہدے میں داخل ہوتی ہے۔ پھر فہم یعنی شعور میں باریابی پاتی ہے لیکن یہ آخری منزل نہیں ہے، آخری منزل لاشعور یا ورائے شعور ہے جہاں شئے اپنی حقیقت میں پیوست ہو جاتی ہے۔ یہ سطح شعور کی گہرائی میں واقع ہے۔ گزشتہ صفحات میں ہم نے اس سطح کو بے رنگ یا خفی کہا ہے۔ یہ سطح شعور سے نیچے اور ورائے بے رنگ سے اوپر واقع ہے۔

جب ہم کسی چیز کا نام لیتے ہیں تو وہ سننے والے کے ذہن (روح) میں وارد ہوتی ہے مثلاً جب سورج کہا جاتا ہے تو سننے والا اپنے داخل میں سورج کو محسوس کرتا ہے جو سورج خارج میں ہے اس سے داخلی سورج کا کوئی علاقہ نہیں ہے۔ یہ داخلی سورج ذہن یا روح کی واردات ہے۔ تمام دنیا میں جتنے انسان سورج کے بارے میں سوچتے یا سنتے ہیں ان سب کا نقطۂ واردات ایک ہی سورج ہے۔ یہ ایک حقیقت ہوئی جس میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ گویا یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے۔جب ہم کسی ایسی شئے کا نام سنتے ہیں جس کو ہم نے کبھی نہیں دیکھا تو بھی وہ اَن دیکھی شئے حقیقت ثابتہ کی صورت میں ذہن کے اندر داخل ہوتی ہے مثلاً کسی شخص نے خدا کو نہیں دیکھا لیکن جب وہ خدا کا نام سنتا ہے تو اس کے داخل میں ایک حقیقت وارد ہوتی ہے۔ ایسی حقیقت جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس حقیقت کے وارد ہونے کا ایک ہی کائناتی نقطہ ہے جس کے اندر صرف کائنات ہی نہیں بلکہ ورائے کائنات بھی موجود ہے۔ یہی محسوس نقطہ جہاں تک کائنات کا احاطہ کرتا ہے لفظ جمع یا عین الیقین سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن جب اس نقطے میں ورائے کائنات بھی داخل ہو جاتا ہے تو حق الیقین یا جمع الجمع کہلاتا ہے۔

علم الیقین           مذکورہ واردات یا محسوسات سے پیش تر ذہن انسانی کی ایک خاص حالت ہوتی ہے جس کو علم الیقین کہتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا مشاہدہ ہے۔

ایک حقیقت     ایک شخص آئینہ میں اپنا عکس دیکھ رہا ہے مگر آئینہ اس سے پوشیدہ ہے۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ میرے سامنے مجھ جیسا ایک انسان ہے تو یہ حالت علم الیقین کہلاتی ہے۔

عین الیقین       اگر دیکھنے والے کو یہ علم ہے کہ میں آئینہ میں اپنا عکس دیکھ رہا ہوں لیکن وہ اپنی، آئینہ کی اور عکس کی حقیقت سے ناواقف ہے تو یہ حالت عین الیقین کہلاتی ہے۔

حق الیقین        اگر دیکھنے والا اپنی، آئینہ کی اور عکس کی حقیقت جانتا ہے تو یہ حالت حق الیقین کہلاتی ہے۔

مزید تشریح:       روزمرہ مشاہدات میں روشنی آئینہ کا قائم مقام ہے۔ شاہد اور مشہود کے درمیان یہی روشنی آئینہ کا کام دیتی ہے۔ ہم دیکھنے کے عمل کو چار دائروں میں تقسیم کرتے ہیں۔ یہی چار دائرے تصوف کی اصطلاح میں چار بُعد کہلاتے ہیں۔ گزشتہ صفحات میں ان کا تذکرہ نہروں کے نام سے کیا جا چکا ہے۔ پہلے دائرے کا نام تسوید ہے۔ اس ہی دائرہ کو خلائے نور بھی کہتے ہیں۔ لامکان، زمان وقت وغیرہ اس ہی دائرہ کے نام ہیں۔ یہی دائرہ تجّلی  ذات یا کائنات کی بنیاد ہے۔ اس ہی کو قرآن پاک میں تدلّٰی کہا گیا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دو حدیثوں میں ہے:

۱۔ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتُٗ   وقت میں میرا اور اللہ کا ساتھ ہے۔

۲۔ لَا تَبْسُوْءُ الدَّھْرَ اِنَّ الدَّھْرَ ھُوَاللّٰہ (وقت کو برا نہ کہو، وقت اللہ ہے۔)

یہی دائرہ غیر متغیر ہے۔ اس ہی دائرہ کی حدود ازل تا ابد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد  کُن  اس ہی دائرہ کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ میں اس ہی دائرہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہی دائرہ پہلا بُعد ہے اور ہم اپنی اصطلاح میں اس کا نام نظر رکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد تینوں دائرے مکان(Space) ہیں جن کے نام بالترتیب تجرید، تشہید، تظہیر ہیں۔

بُعد نمبر۱۔ نظر

بُعد نمبر۲۔ نظارہ

بُعد نمبر۳۔ ناظر

بُعد نمبر۴۔ منظور

ان چاروں کے نام شہود، مشاہدہ، شاہد اور مشہود بھی لئے جاتے ہیں۔ نظر یا شہود یا تسوید یا زمان(Time) کائنات کی ساخت میں اصل یا بنیاد ہے۔ اس میں کبھی کوئی تغیر واقع نہیں ہوا، نہ آئندہ ہو سکتا ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک حقیقت کبریٰ ہے۔ اس ہی حقیقت کبریٰ پر تینوں مکانیتوں کی عمارت قائم ہے۔ یہی حقیقت کبریٰ ان تینوں مکانیتوں کی حقیقت ہے۔ یہ حقیقت کبریٰ لامکان ہے۔ اس کے بعد پہلی مکانیت جو تجرید کہلاتی ہے، مشاہدہ یا نظارہ کی نوعیت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ دوسری مکانیت یا تشہید شاہد یا ناظر کی نوعیت رکھتی ہے۔ تیسری مکانیت تظہیر، مشہود یا منظور کہلاتی ہے۔ یہ مکانیت روشنی کا بحرِ ذخّار ہے۔

نُور و نار

تجرید یا پہلی مکانیت نور ہے۔ تشہید یا دوسری مکانیت نسمۂ مفرد ہے۔ یہی نسمۂ مفرد کائناتی شعاع یا کاسمک ریز(Cosmic Rays) کہلاتا ہے۔ نسمۂ مرکب یا تظہیر یعنی تیسری مکانیت، کائناتی شعاعوں کے علاوہ جتنی روشنیاں ہیں سب پر مشتمل ہیں۔ تظہیر کی شعاعوں کے ہجوم ہی سے کائنات کے تمام جسم بنتے ہیں۔ تظہیر کی روشنیاں ایک طرح کا رنگین آئینہ ہیں۔

دراصل چاروں بُعد چار آئینے ہیں۔ پہلا غیر متحرک اور غیر متغیر آئینہ نظر یا لامکان ہے۔ دوسرا متحرک یا متغیر آئینہ نظارہ ہے۔ تیسرا متحرک آئینہ ناظر ہے اور چوتھا متحرک آئینہ منظور ہے۔

نظر    ہم نظر کو ایک طرح کا کائناتی شعور کہہ سکتے ہیں۔ یہ جس مقام پر جس نقطہ میں بھی جلوہ گر ہوتی ہے ایک ہی طرز رکھتی ہے۔ انسان میں جو نظر پانی کو پانی دیکھتی ہے وہ نظر ہر شئے کے اندر پانی کو پانی دیکھتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انسان نے پانی کو پانی دیکھا ہو اور شیر نے پانی کو دودھ دیکھا ہو۔ نظر کا کردار کائنات کے ہر ذرہ اور نقطہ میں ایک ہے۔ جس طرح ہم لوہے کو سخت محسوس کرتے ہیں اسی طرح چیونٹی بھی لوہے کو سخت محسوس کرتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ لوہا جس نگاہ سے انسان کو دیکھتا ہے اس ہی نگاہ سے چیونٹی کو دیکھتا ہے۔ کائنات میں پھیلے ہوئے تمام مناظر اس ہی قانون کے پابند ہیں۔ جب آدمی چاند کی طرف نظر اٹھاتا ہے تو چاند کو اسی شکل و صورت میں دیکھتا ہے جس شکل وصورت میں چکور دیکھتا ہے۔ جب درخت کی جڑیں پانی حاصل کرتی ہیں تو پانی سمجھ کر حاصل کرتی ہیں بالکل اس ہی طرح جس طرح ایک جانور پانی کو پانی سمجھتا ہے۔ ایک سانپ بھی دودھ کو دودھ سمجھ کر پیتا ہے اور ایک بکری بھی دودھ سمجھ کر پیتی ہے۔

نتیجہ:ہم ان تمام مثالوں سے ایک ہی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تمام کائنات کے ہر  ذرہ میں ایک نظر کام کر رہی ہے۔ اس نظر کے کردار میں کہیں اختلاف نہیں۔ وہ ہر ذرہ میں غیر متغیر ہے۔ اس کا ایک معین اور مخصوص کردار ہے۔ نظر کے کردار میں ابتدائے آفرینش سے کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یہ نظر مکانیت اور زمانیت دونوں کی نفی کرتی ہے کیونکہ اس کی روش میں نہ تو وقت کے تغیر سے کوئی تغیر ہوتا ہے اور نہ وقت کی تبدیلی سے کوئی تبدیلی۔ یہ نظر ازل سے ابد تک کسی لمحہ یا کسی ذرہ کی گہرائی میں ایک ہی صفت رکھتی ہے۔ یہی نظر وہ مقام ہے جس کو شعور کا مرکزی نقطہ یا کائنات کی حقیقت کہہ سکتے ہیں۔ یہ محض رنگ ہی سے ماوراء نہیں بلکہ بے رنگ سے بھی ماوراء ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمُ انسان کو علم سکھایا، وہ نہیں جانتا تھا۔

یہاں سکھانے کا مطلب ودیعت کرنا یا لاشعور میں پیوست کرنا ہے۔ یعنی جس چیز سے کائنات کی سرشت اور جبلت عاری تھی اللہ تعالیٰ نے وہ چیز انسان کی فطرت میں بطور خاص ودیعت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے آدم کے پُتلے میں روح پھونکی۔

فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْالَہٗ سٰجِدِیْنِِ(سورۂ ص۔ آیت ۷۲)

ترجمہ: پس جس وقت کہ درست کروں اور پھونکوں اس کے بیچ اپنی روح میں سے پس گر پڑو واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئے۔

یہ بھی ارشاد کیا ہے کہ میں نے آدم کو علم الاسماء عطا کیا۔

عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ کُلَّھَا

یہ تمام ارشادات اس مطلب کی وضاحت کرتے ہیں کہ موجودات کے اندر جو چیز اصل ہے اس کا سمجھنا اور جاننا بجز انسان کے اور کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ یہ خصوصی علم اللہ تعالیٰ نے صرف آدم کو عطا کیا ہے۔ یہ خصوصی علم لاشعور کا علم ہے۔

Topics


Loh o Qalam

قلندر بابا اولیاءؒ

قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب  میں صوفیانہ افکارکو عام فہم انداز میں پیش کیاہے ۔ اسے تصوف یا روحانیت کی تفہیم کے لئے ایک گرانقدر علمی اورنظری سرمایہ قراردیا جاسکتاہے ۔ قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظر ایک قابل عمل اورقابل فہم علمی دستاویز پیش کرنا تھا جس کے ذریعے دورحاضر کا انسان صوفیائے کرام  کے ورثہ یعنی تصوف کو باقاعدہ ایک علم کی حیثیت سے پہچان سکے ۔ لوح وقلم روحانی سائنس  پر پہلی کتاب ہے جس کے اندرکائناتی نظام اورتخلیق  کے فارمولے بیان کئے گئے ہیں اور "روح وجسم " کے مابین تعلق کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ۔

انتساب

میں یہ کتاب

پیغمبرِ اسلام 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ 

مجھے یہ حکم 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام 

کی ذات سے 

بطریقِ اُویسیہ ملا ہے


(قلندر بابا اولیاءؒ )