Topics

اللہ تعالیٰ کی آواز

 

قرآن پاک میں ایک جگہ تذکرہ ہے۔ ’’ہم نے مریم پر وحی کی۔‘‘ ظاہر ہے کہ حضرت مریم رسول یا نبی نہیں تھیں۔ اس مقام سے عوام کو القاء یا وحی کرنے کا پتہ چلتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سماعت اور بصارت کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ عام حالات میں ہر انسان کو یہ کیفیت حاصل ہے۔ انسان اس کیفیت کو اپنی زبان میں ضمیر کے نام سے پہچانتا ہے۔ وہ ضمیر کی آواز سنتا ہے اور اس آواز کی رہنمائی میں نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ فی الواقع یہ اللہ تعالیٰ کی آواز ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بخشا ہوا نتیجہ ہوتا ہے۔ نتیجہ انسان کی ذات تک پہنچتا ہے۔ یہیں سے نفس کی تنقید شروع ہوتی ہے۔ یہ تنقید انسان کی نیت کو صحیح رکھتی یا غلط کر دیتی ہے۔ قرآن پاک میں نفس کی اس ہی تنقید کو رویت اور نظر کا نام دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَتَرَاھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ (سورۂ اعراف، آیت ۱۸۹)

اور تو دیکھ رہا ہے کہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں اگرچہ وہ نہیں دیکھ رہے۔

اس آیت میں چار ایجنسیوں کا تذکرہ ہے۔ نفس کی دو ایجنسیوں کا نام رویت اور نظر لیا گیا ہے۔ نیز لَایُبْصِرُوْنَ میں الٰہی سماعت اور بصارت کی دونوں ہی ایجنسیاں مدغم ہیں۔ جب تک انسان اندرونی آواز پر توجہ نہیں دیتا، رہ نمائی حاصل نہیں کر سکتا۔

 

Topics


Loh o Qalam

قلندر بابا اولیاءؒ

قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب  میں صوفیانہ افکارکو عام فہم انداز میں پیش کیاہے ۔ اسے تصوف یا روحانیت کی تفہیم کے لئے ایک گرانقدر علمی اورنظری سرمایہ قراردیا جاسکتاہے ۔ قلندربابااولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظر ایک قابل عمل اورقابل فہم علمی دستاویز پیش کرنا تھا جس کے ذریعے دورحاضر کا انسان صوفیائے کرام  کے ورثہ یعنی تصوف کو باقاعدہ ایک علم کی حیثیت سے پہچان سکے ۔ لوح وقلم روحانی سائنس  پر پہلی کتاب ہے جس کے اندرکائناتی نظام اورتخلیق  کے فارمولے بیان کئے گئے ہیں اور "روح وجسم " کے مابین تعلق کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ۔

انتساب

میں یہ کتاب

پیغمبرِ اسلام 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ 

مجھے یہ حکم 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام 

کی ذات سے 

بطریقِ اُویسیہ ملا ہے


(قلندر بابا اولیاءؒ )