Topics

آخری نبی محمد ﷺ کا طریقہ دعوت

 

          ہر قوم کا ایک نظریہ ہوتا ہے اور اسی نظریہ پر وہ قوم زندہ رہتی ہے۔جس قوم کا نظریہ مردہ ہو جاتا  ہے پھر وہ قوم ، قوم نہیں رہتی۔۔۔ آدمیوں کا ہجوم بن کر رہ جاتی ہے۔ ہجوم اور قوم میں بہت  زیادہ فرق ہے۔ بنیادی فرق یہ ہے کہ ہجوم محض پیٹ بھرنے کے لئے زندہ ہوتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد  پیٹ بھرنا  ہوتا ہے۔ کوئی خاص نظریہ نہیں۔۔ جبکہ قوم کا مقصد محض پیٹ پوجا نہیں ایک نظریہ حیات ہے۔

           حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ آپ ؐ نے صرف اپنے قبیلے ، شہر ، قوم یا ملک کو ہی اسلام کی دعوت نہیں دی بلکہ بنی نوع انسان تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ حضور ﷺ نے اسلام کی دعوت کے لیے جو طریقہ کار اپنایا وہ رہتی دنیا تک مثال ہے۔

          دعوت کی اہمیت پر قرآن پاک میں دو طرح کے ارشادات ہیں۔

۱۔ ایک وہ جن میں دعوت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

۲۔ اور دوسرے وہ جن میں طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

          سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

” اے نبی ! ( علیہ الصلوٰۃ والسلام) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت وہ حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ تمہارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے۔“ (۱۶:۱۲۵)

          سورۃ المائدہ میں بیان ہوا ہے:

”اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ ، لیکن اگر تم نے حکم  عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچانے دینے کی ذمہ داری تھی۔“ (۵:۹۲)

          نبوت کے بعد دعوت کا آغاز خفیہ دعوت سے ہوا اور یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔ دعوت عام کے بجائے خفیہ دعوت میں یہ حکمت پوشیدہ ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صرف ان لوگوں کو حق کی طرف بلایا جن پر آپ ؐ کو اعتماد تھا۔ جو آپؐ کی نظر میں حق بات سننے  کا حوصلہ رکھتے تھے۔ جن کو سمجھایا جا سکتا تھا اور جن میں شرک چھوڑنے اور حق کی طرف آنے کی صلاحیت تھی۔ یہ باشعور لوگ آباؤ اجداد کے فرسودہ طریقہ عبادت سے تنگ تھے۔ اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہوئے ندامت محسوس کرتے تھے اور خدائے واحد کی تلاش میں تھے۔

          خفیہ دعوت کے لیے حضور اصلوۃ والسلام نے حضرت  ارقم                                                                                                                                    ؓ                          کے گھر کو تعلیم کا مرکز قرار دیا۔ یہاں اسلام میں داخل ہونے والوں کواسلام کے اصول اور آداب سکھائے جاتے تھے۔ یہ شعب ابی طالب تک قائم رہا۔ خفیہ دعوت کے دوران ۱۳۳ افراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لے آئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی ٰ عنہ  مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں جب کہ خواتین میں یہ اعزاز حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حاصل ہے۔

          بعث نبوی کے تین سال تک دعوت اسلام کا کام خفیہ رکھا گیا۔ اس کے بعد حکم ہوا کہ اسلام کا دائرہ اپنے رشتہ داروں تک بڑھاؤ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ  والسلام نے رشتہ کی دعوت کی۔۔۔ انہیں کھانے پر بلایا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو حضور  علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے سامنے تقریر فرمائی۔ ” میں تم سب کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں، دنیا میں  کوئی شخص بھی اپنی قوم کے لیے اس سے بہتر تحفہ نہیں لایا۔ میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی خیر وبرکت لے کر آیا ہوں۔ لیکن حاضرین نے سنی ان سنی کر دی۔

          اس کے بعد اہل ِ مکہ کو دعوت اسلام دینے کا حکم ہوا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور اہلِ مکہ آواز دی۔ جب تمام قبائل اکٹھے ہو گئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ ” اگر تم اس بات کا اقرار کرو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں تو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور تمہاری سفارش اور شفاعت کروں گا۔

          اے قوم قریش ! اگر تم نے کلمہ توحید قبول کر لیا تو تمام عرب تمہارا دین اختیار کرے گا اور تمہارے طریقے کی پیروی کرے گا۔ اس کے علاوہ عجم تمہارا فرمانبردار ہو جائے گا۔“

          مجمع خاموش رہا ۔ لیکن ابولہب نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ اس کے بعد آپ ؐ تبلیغ حق کی خاطر مکہ میں عکاظ ، ذوالجنہ اور ذوالمجاز کی مندیوں میں تشریف لے گئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے طائف کا سفر کیا ۔ اس کے بعد کئی اور قبائل کے پاس گئے اور انہیں حق کی طرف بلایا۔

          بعث  کے بعد سے ہجرت تک مکہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قیام رہا۔ اس مدت میں مشرکین کی طرف سے آپ ﷺ پر جس طرح عرصہ زیست تنگ کیا گیا وہ دل گداز داستان ہے۔ یہ ساری مدت آپ ﷺ نے انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ گزاری۔

          تیرہ سال میں قرآن کریم کا بیشتر حصہ مکہ میں نازل ہوا۔ قرآن پاک کی وہ سورتیں جو ابتدا میں نازل ہوئیں اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں۔

          سورۃ العلق میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

” پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو خون کے لوتھڑےسے پیدا کیا۔“ (۹۶ : ۱۔۲)

” جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔“

سورۃ فاتحہ میں ارشاد ہے ” سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام عالمین کا رب ہے ۔“ (۱:۲)

” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں لہذا اس کو اپنا وکیل بنا لو۔“ ( ۷۳:۲)

” ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں جوابدہ ہے۔“                                                             (۳۸:۷۳)

”  آپ فرما دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے اور جو کچھ تمہیں علم دیا گیا ہے وہ قلیل ہے۔“  (۸۵:۱۷)

          قریش یہ ساری باتیں سنتے تھے اور پوری شدت و رعونت کے ساتھ ان سچی باتوں کو ماننے سے انکار کر دیتے تھے۔ جو شخص ان کے سامنے آیات قرآنی تلاوت کرتا اس کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تلاوت کرتے تھے تو وہ لوگ فقرے کسا کرتے۔وہ یہ مطالبہ بھی کرتے تھے اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام واقعی سچے ہیں تو اپنے سچ پر کوئی مستند دلیل لے کر آئیں۔ اس مطالبے کے جواب میں   حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام قرآن کی وہ آیات تلاوت فرماتے تھے جن میں اس تمسخر کا شافی جواب تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مذاق اڑانے والوں سے فرماتے تھے کہ اگر ان کے بس میں ہے تو اس قرآن کا جواب دیں۔ مشرکین قرآن کا مثل پیش کرنے سے قاصر تھے اور اس بات کی دلیل تھی کہ یہ کلام واقعی کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

          غرض اللہ تعالیٰ کے احکام و ایات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت اچھی طرح بہت واضح طور پر واشگاف الفاظ  میں بیان فرمائے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہجرت کا حکم دیا۔ یہ حکم اس وقت ملا جب آپؐ راہ حق و صداقت میں ہر تکلیف برداشت کر چکے تھے۔

          حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یثرب تشریف لائے تو یثرب میں زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اسلام کی ترویج کا نیا راستہ کھل گیا۔ یہاں مختلف طرح کے لوگ تھے۔ ہجرت سے پہلے بھی یثرب میں مسلمان موجود تھے۔ یثرب میں مشرکین بھی تھے لیکن ان کے دل اسلام سے نا آشنا تھے اور انہی کی کثرت تھی۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قبول اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔

          ان میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے بظاہر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اپنے کفر کو چھپایا اور منافقت کی زندگی بسر کرنے لگے ۔ یہاں  یہود بھی تھے جو اپنے دین و مذہب کے علمدار تھے         اور اب وہ اپنے اندر اتنی لچک پیدا کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ یثرب کی اس نئی زندگی سے جس حد تک ممکن ہو موافقت پیدا کر لیں اور یہاں جو مختلف گروہ آباد تھے ان سے منافقانہ تعلقات قائم رکھیں۔

          یثرب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کسی معنی میں بھی حیات مکہ سے سہل اور آسان نہیں تھی۔ لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے راضی بہ رضا صبر اور شکر کے ساتھ حالات کو قبول کیا۔ یثرب میں بہرحال مکے کے مقابلے میں امن تھا۔ یہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مہاجرین  مکہ اور انصار یثرب کے مابین مواخات (برادری) کا رشتہ قائم کیا۔ وحی کا سلسلہ جاری تھا  جو کچھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوتا لوگوں تک پہنچا دیتے تھے۔ اس طرح صحابہ                                                 ؓ             کی تعلیم و تربیت ہو رہی تھی۔ یثرب میں مسجد نبوی ؐ کی تعمیر ہوئی اس مسجد میں خدائے بزرگ و برتر کی عبادت ہوتی تھی۔ یہاں مہاجرین و انصار کی مجلسیں ہوتی تھیں اور ان مجالس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حاضرین کو اسلام کی تعلیم دیتے تھے۔

” درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“ (۶:۷۳)

          رسول اللہ ﷺ نے دعوت دین میں بڑا منظم طریقہ اختیار فرمایا ہے اور اس کے اصولوں کا خاص خیال رکھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ساری زندگی شہادت فراہم کرتی ہے کہ آپ ؐ نے اسلام کی دعوت کا کام انفرادی کردار سے انجام دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو کچھ کہا حکم ربی کے مطابق  فرمایا اور اس پر عمل کر کے دکھایا۔ کوئی ایک مثال ایسی نہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہو اور اس پر عمل نہ کیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اعلیٰ سیرت اور حسن اخلاق سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ دشمن دوست بن گئے۔

          حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیا۔

          امیر المومنین حضرت علی             ؓ  فرماتے ہیں : ” رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام خوش مزاج ، نرم خو اور مہربان تھے۔ سخت مزاج اور تنگ دل نہ تھے۔“

          یمامہ کے سردار ثمامہ کا واقعہ گواہ ہے کہ وہ صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔ فتح مکہ کے موقع پر اور اس کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔

          جو قوت انقلاب برپا کر دیتی ہے وہ قول و فعل میں ہم آہنگی ہے۔ دعوت دینے والے کے قول اور عمل میں تضاد ہے تو اس کا پیغام قابلِ  قبول نہیں ہوتا۔ وہ اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو بھی کیا وحی الہٰی کے عین مطابق کیا اور جو کہا اس پر پوری طرح عمل کیا۔ حضرت عائشہ         ؓ            فرماتی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام قرآن کی عملی تفسیر ہیں۔

          دعوت اسلام پر غور کرنے سے یہ بات روشن دن کی طرح ظاہر ہوتی ہے کہ آپ ؐ نے ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین کیا ہے۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی مایوس نہیں ہوئے۔ طائف کا واقعہ گواہ ہے کہ اذیتوں کے بعد بھی مایوس نہیں ہوئے۔ بددعا کے بجائے دعا فرمائی۔ یقین تھا کہ ان کی نسلوں سے لوگ مسلمان ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا یہ عالم تھا کہ حالات کیسے بھی ناسازگار ہوئے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کبھی مایوس نہیں ہوئے۔

          حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر ایک کے لیے دل میں محبت ، ہمدردی ، دل سوزی اور شفقت کا جذبہ رکھتے تھے۔ آپ ؐ لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر پریشان ہو جاتے تھے۔

           ایک موقع پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

” ایک شخص نے الاؤ جلایا۔ آگ کے شعلے دیکھ کر پروانے ٹوٹ پڑے اس شخص نے ہاتھ ہلا ہلا کر انہیں بچانے کی سر توڑ کوشش کی مگر پروانے گر رہے تھے ۔ یہی مثال میری ہے میں تمہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور تم اس آگ میں چھلانگ لگانے پر تلے ہوئے ہو۔“

          دعوت کے وقت انسانی نفسیات ، ذہنیت ، سمجھ بوجھ اور حالات کو ہمیشہ مدِ نظر رکھا۔ یک لخت کسی پر بوجھ نہیں ڈالا۔ قوم کو آہستہ آہستہ اس لافانی پیغام کے لیے تیار کیا۔ لوگوں کو سوچنے کا موقع دیا۔ دین اسلام کے لیے دلوں میں جگہ بنائی۔ عمل اور احسن سلوک سے صادق اور امین کی مثال روشن کی۔ اور پھر اسلام کی طرف بلایا۔ موقع و محل کو مدِ نظر رکھ کر گفتگو فرماتے تھے۔ مخالفین سے خلوص او ر احترام سے بات فرماتے تھے ان کے دلائل حوصلےسے سنتے تھے اور ایسے جواب دیتے کہ وہ تفکر کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے ۔ طویل تقریر سے اجتناب فرماتے تھے جزباتی نہیں ہوتے تھے۔

          جذبات کا اثر فوراً ہوتا ہے اور جب تک جذبات میں تلاطم رہتا ہے ، اثر قائم رہتا ہے۔ جونہی جذبات سرد پڑتے ہیں اثر بھی ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ دلائل سے سمجھائی ہوئی بات کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ جو فیصلہ انسان سوچ سمجھ کر کرے اس پر قائم رہتا ہے۔

           طریقہ تعلیم یہ تھا کہ لوگوں کو تفکر پر مجبور کر دیتے تھے۔ فکر و تدبر کے لیے تیار کرتے تاکہ سچائی کو تسلیم کریں۔ آپؐ لوگوں کو اسلام کے اصول و ضوابط سمجھانے کے لیے ، توحید و رسالت کا قائل کرنے کے لیے بھی عقلی اور مشاہداتی دلائل دیتے تھے۔

          مناظرہ اور بحث مباحثے سے پرہیز فرمایا کیونکہ اکثر اوقات مناظرہ اور بحث مباحثہ سچائی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ مخالف بات سمجھنے کے بجائے اپنی ساری توانائی اور صلاحیت مخالف کے دلائل کو رد کرنے میں صرف کر دیتا ہے فتح وشکست کو وہ انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ اصل مقصد سے ہٹ کر مخالف کو نیچا کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔

           تعلیم و تربیت کے سلسے میں ہر شخص کی ذہنی سطح کا پورا پورا خیال رکھتے اور لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق گفتگو فرماتے تھے۔ ایک شخص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے ، جو سیاہ رنگ کا ہے۔ میں نے اُسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ ہم دونوں میاں بیوی سفید ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی سمجھ اور پیشہ کے مطابق مرحمت فرمایا۔ اس سے پوچھا

          کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟

          اس نے کہا ۔” جی ہاں۔“

          حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر پوچھا ۔” وہ کس رنگ کے ہیں؟“

          اُس نے کہا ” سرخ رنگ کے ۔“

          حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر دریافت فرمایا،

          ” کیا ان میں کوئی خاسری کا یا کم سیاہ رنگ کا کوئی اونٹ بھی ہے؟“

           اس نے کہا۔ ” جی ہاں۔“

          حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔” اب تم ہی بتاؤ کہ سرخ رنگ کے اونٹوں میں یہ سیاہی کیسے آگئی ۔“

          اس نے جواب دیا ۔” ممکن ہے اس کے نسب میں کوئی اونٹ خاکستری یا سیاہ رنگ کا ہو اور اس کی جھلک ہو۔“

          جب بات یہاں تک پہنچ چکی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

          یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نسب کا کرشمہ کار فرما ہو اور اس میں تمہاری بیوی کا کوئی قصور نہ ہو۔“

           آسان راستہ بھی ایک اصول تھا، جسے حضور ؐ احکام و عبادات میں خصوصیت سے مدِ نظر رکھتے تھے ۔ لوگوں کو اس بات سے منع فرماتے تھے کہ احکام و مسائل میں مشکلات یا تنگی سے کام نہ لیں۔ حضرت ابن عباس   ؓ         سے روایت ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے  ارشاد فرمایا:

          لوگوں کو تعلیم دو اور آسانی پیدا کرو اور مشکلات سے پرہیز کرو۔ یہ بات سورج کی طرح عیاں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بطور معلم و مبلغ سب سے زیادہ کامیاب ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ حیات میں ہی اسلام پورے عرب میں پھیل گیا تھا اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں صحابہ کرام  ؓ کی تعلیم و تربیت فرمائی جو بلند اخلاق ، پختہ ایمان والے اور اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سب کو اسلام کا معلم و مبلغ بنا دیا۔

          حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت ہر دور ، ہر زمانے ، ہر ملک اور ساری دنیا کے لیے روشن مثال ہے۔