Topics

کائنات …کیا….کب اور کیوں ؟ جنوری ۲۰۱۴ء

 

خیال ٹکرایا اور دماغ کی اسکرین پر بکھر گیا۔ خدوخال واضح نہیں تھے لیکن خیال بھی بے معنی نہیں تھا۔ خیال کو بساط ملی تو خدوخال واضح ہونے لگے۔ لکیریں ملتی گئیں ، نقش ابھرنے لگے اور رنگ بھرتے گئے۔ ذہن محوِ خیال تھا اور خیال پانی کی لہروں کی طرح گہرائی سے نکل کر سطح پر مظہر بن رہا تھا۔ تصویر مکمل ہو رہی تھی اور بالآخر خیال مختلف رنگوں میں ڈھل کر مضمون کی صورت سامنے تھا۔ قانون یہ بنا کہ ارادے کی تکرار سے خیال مظہر بنتا ہے۔

ایک ارادہ بندے کا ہے اورایک اس کے رب کا۔ آدمی جب ارادہ کرتا ہے تو اسے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ وہ محنت و مشقت اور وقت کا پابند ہوتا ہے اور خالق کے ارادے اور وسائل کو استعمال کر کے ارادے کی تکمیل کرتا ہے۔ ہم جب درخت لگانے کے لئے بیج زمین میں بوتے ہیں تو بیج فوراً درخت نہیں بن جاتا۔ بیج کو پانی ملتا ہے ۔ پانی جب مٹی کے ذرات میں دبے بیج سے ٹکراتا ہے تو اس تکرار سے بیج کی سطح کو چیر کر پودا بن جاتا ہے اور پھر وہ پودا بتدریج بڑھ کر تناور درخت بن جاتا ہے۔ بیج میں پورا درخت موجود تھا۔ ہمیں درخت لگانے کا خیال آیا۔ ہم نے بیج بونے کے خیال پر عمل کیا تو اس خیال کی لہریں کائنات میں بکھر گئیں۔ بیج کی نشوونما کے لئے جو وسائل جہاں جہاں موجود تھے سب متوجہ ہوئے۔ پھر پانی کی تکرار سے ، مٹی کی تکرار سے ، سورج کی حرارت کی تکرار سے بیج درخت بنا۔ ہواؤں کی تکرار نے درخت کو تازگی بخشی اور چاند کی کرنوں کی تکرار نے اس کے پھلوں میں مٹھاس پیدا کی۔ یعنی ہم نے ارادہ کیا تو وسائل خالق کے حکم سے بیج کی آبیاری کے لیے متحرک ہو گئے۔ اور ایک معین وقت کے بعد بیج مکمل درخت بن گیا۔ اللہ فرماتے ہیں:

” انسان نا قابلِ تذکرہ شے تھا۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی پس یہ بولتا ، سنتا ، سمجھتا اور محسوس کرتا انسان بن گیا۔“     (۷۶: ۱۔۲)

مٹی کا جسم ایک پتلا ہے جسے اللہ نے روح کی تحریکات کو ظاہر کرنے کے لیے میڈیم بنایا ہے۔ آدمی بے ہوش ہو جائے ، اسے آواز دیں ، کان موجود ہیں ، وہ سنے گا نہیں۔ ہاتھ اٹھائیں، ہاتھ گر جائے گا۔ اس لیے کہ آدمی وقتِ مقررہ تک بے ہوش رہتا ہے اور اس دوران جسم حرکت نہیں کرتا۔ اس دوران انجیکشن لگا کر جسم کے کسی عضو کا کاٹ کر کھال دوبارہ سی دی جائے تو مریض کو پتہ نہیں چلتا۔۔ عورت یا مرد بقا سے فنا کی طرف جاتے ہیں تو یہ حیثیت بے ہوشی کے مقابلے میں مزید وضاحت طلب ہے۔

لاش کا پوسٹ مارٹم کیجیے۔ کوئی عضو کاٹ کر میز پر رکھ دیجیےاب کیا ہوگا…… آپ برملا کہیں گے بے جان جسم میں پیوند کاری نہیں کی جاتی اس لیے پیوند کاری کا کوئی فائدہ نہیں۔

قارئین یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ مرے ہوئے آدمی کی آنکھ زندہ آدمی کے لگا دی جاتی ہے۔۔۔ مرنے سے پہلے آدمی وصیت کرتا ہے کہ میرے جسم کا عضو کسی کے لگایا جا سکتا ہے لیکن یہ بات مدِ نظر رہے کہ زندگی کے موت میں تبدیل ہوجانے کے بعد ایک مخصوص وقت تک عضلات میں حرکت رہتی ہے۔ جیسے ہی اعضاء کے ٹشوز Dead ہوتے ہیں پھر ان کی پیوند کاری ممکن نہیں۔ آخر کس شے نے اس جسم کو حرکت میں رکھا؟

روح کے بارے میں اللہ نے فرمایا:

یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے روح میرے رب کے امر سے ہے۔ (۸۵:۱۷)

اور رب کے امر کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہے:

” اس کا امر یہ ہے جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا تو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔“          (۸۲:۳۶)

نیا نکالنے والا آسمان اور زمین کا۔ اور جب حکم کرتا ہے ایک کام کو تو یہی کہتا ہے اس کو کہ ہو، وہ ہو جاتا ہے۔ (۱۱۷:۲)

اللہ کے قانون میں استثنا نہیں۔ روح کو اللہ نے اپنا امر قرار دیا ہے۔ روح اللہ کے حکم سے ہر کام کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب روح ہر شخص میں موجود ہے تو پھر ہر شخص کے ارادے کی تکمیل کیوں نہیں ہوتی اور اگر ہو جاتی ہے تو اسے اتنے مراحل سے کیوں گزرنا پڑتا ہے۔ جبکہ اسی روح کے بارے میں اللہ کہتا ہے کہ ہمارا کام تو ایک دفعہ ہی ایسے ہو جاتا ہے ، جیسے آنکھ جھپکنا۔(۵۰:۵۴)

عظیم روحانی سائنسدان حضور قلندر بابا اولیا سورۃ یسٰین کی آخری آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

” کن فیکون کی بات اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب اس آیت کا کام پورا ہو جائے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے

انما امر ہ اذا اراد شینا ان مقول لہ کن فیکون یعنی اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا تو کہتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔

یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اذا اراد شیا جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا ، زیادہ چیزوں کا نہیں ۔ کتنی ہی چیزوں کا وہم یا خیال آتا ہے تو سارے (Gates) اوپن ہو جاتے ہیں جو اشیا سے منسوب ہیں ، آپس میں ٹکراتے ہیں ۔ ٹکرانے کے معنی یہ ہیں کہ کوئی گیٹ(Open) رہتا ہے اور کوئی (Close) ہو جاتا ہے۔ نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔ یہاں اللہ خاص طور پر ”امر“ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ارادہ ہونا چاہیے ایک چیز خیال میں آئے تو اسے رد کرنے والی کوئی چیز دماغ میں نہیں آنی چاہیے یعنی کہ پہلے ہاں کہنا ، پھر نہ کہنا یہ اصول ہی غلط ہے۔ یہ دراصل قرآن پاک کے منافی ہے۔“

زندگی خیالات پر قائم ہے۔ خیال لاشعور سے واہمہ کی صورت میں آتا ہے۔ ہر آنے والا خیال پندرہ  سیکنڈ تک قائم رہتا ہے ۔ پھر دوسرا خیال آتا ہے اور پھر تیسرا۔ ذہن ایک خیال پر مرکوز ہو جائے تو یہ تصور میں ڈھل کر احساس اور مظہر بن جاتا ہے۔ واہمہ ، خیال ،  تصور، احساس  ، مظہر سب دماغ کے Gates ہیں۔ ایک آدمی ارادہ کرتا ہے ۔ اس پر قائم نہیں رہتا اور منٹوں یا گھنٹوں میں ارادہ بدل دیتا ہے۔ پھر دوسرا ارادہ کرتا  ہے۔ جب تک ذہن ایک نقطہ پر مرکوز نہیں ہوگا نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ذہن کا ایک نقطہ پر مرکوز ہونا ارادے کی تکرار ہے۔ اگر کسی خیال کو رد کرنے والا دوسرا خیال آجائے تو پہلا خیال واپس لاشعور میں چلا جاتا ہے۔ خیال رد ہونے کی صورت میں شک بڑھتا ہے جبکہ ذہنی مرکزیت قائم ہونے سے یقین کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اللہ قرآن پاک کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ کتاب ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دماغ میں شک نہیں ، جو ذہن میں انے والے خیالات کو رد نہیں کرتے بلکہ غور کرتے ہیں اور حقائق کا کھوج لگاتے ہیں۔ کارخانہ قدرت میں ہر شے میں رموز حقائق کے سمندر ہیں لیکن مادیت میں بند آدمی انہیں دیکھ کر سر سری طور گزر جاتا ہے۔ جو نظر نہیں آتا وہ اس کے لیے موجود ہی نہیں اس لیے وہ بینا ہوتے ہوئے بھی اندھا ہے۔ حقیقت کی دنیا کیسے روشن ہو۔مادیت کا یہ خول کیسے ٹوٹے جواب قرآن میں ہے۔ اللہ نے قرآن پاک میں لوگوں کو تحقیق و تلاش اور تفکر کی طرف متوجہ کیا ہے۔ توجہ ، جستجو ، غورو فکر اور تحقیق و تلاش دراصل ذہن اور ارادے کی تکرار ہے۔ حرکت اور ارادے کا ایک نقطہ پر مرکوز ہونا ہے۔

تکرار کا قانون کیسے کام کرتا ہے۔ حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے پانی اور کنکر کی مثال سے اسے سمجھایا ہے۔ تجربہ کیجیے اور تالاب میں کنکر پھینکیے ، کنکر تہہ میں پہنچا تو لہریں اٹھنا شروع ہوئیں۔کنکر کے تصادم سے پانی اپنا باطن یعنی حرکت کو ظاہر کرتا ہے ۔ جو لہریں حرکت کی صورت میں سطح تک پہنچیں وہ پانی کے باطن میں موجود ہیں اسی لیے واقع ہوتی ہیں۔ یعنی پانی میں حرکت پہلے سے موجود ہے۔ کنکر پھینکنے پر حرکت نے اپنا مظاہرہ کیا۔

قلندر بابا اولیا ؒ نے کنکر کو ارادہ کہا ہے اور کنکر کا پانی سے تصادم یا پانی میں حرکت پیدا ہونا توجہ کا مرکز ہے ۔ یعنی جب ارادے میں تکرار واقع ہوئی تو توجہ کا مرکز ہے۔ یعنی جب ارادے میں تکرار واقع ہوئی تو توجہ کا عمل شروع ہوا۔ ارادے کی تکرار کو توجہ کہتے ہیں ۔ ارادہ لاشعوری طور پر بھی  تکرار کرتا ہے۔ ایسے میں توجہ بھی لاشعوری ہوتی ہے لیکن ارادہ توجہ چاہے شعوری ہو یا  لاشعوری  نتیجہ لازمی ہے۔

حضور قلندر بابا اولیا ؒ تکرار کے قانون سے مزید پردہ اٹھاتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ” کنکر جو لاشعوری ہے وہ کائناتی ذہن کا ارادہ ہے۔ یہی اللہ کا ” امر“ ہے۔ امر میں یعنی کائناتی ذہن میں برابر تکرار ہوتی رہتی ہے۔ یہ کبھی تکرار کے بغیر نہیں ہوتا۔ یہ کنکر یعنی ”امر“ کی تکرار ہی ” کتاب المبین“ ہے۔ کتاب المبین کی تکرار سے مظاہر قدرت یا کائنات رونما ہوئی۔ تکرار کبھی ذہن کی اوپری سطح پر نہیں ہوتی بلکہ ذہن کی گہرائی میں واقع ہوتی ہے۔ جب کنکر پانی کا باطن مظاہر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ مظاہر پانی میں موجود ہے۔ لیکن تکرار واقع نہیں ہوئی تھی۔ وہ باطن جس میں تکرار واقع نہیں ہوئی، صرف  مفرد حرکت ہے۔ اسی کو غیب کہتے ہیں۔“

ایک اور تجربہ کیجیے۔ گلاس میں پانی لیجیے اور ذرا فاصلے سے سارا پانی کسی صاف ، ہموار ، سفید رنگ کی دیوار پر پھینکیے۔ کیا ہوگا؟ پانی کی چھینٹیں جیسے ہی دیوار سے ٹکرائیں گی دیوار پر نقش و نگار بنتے جائیں گی۔ اس دیوار کو غور سے دیکھیے۔ آپ کو مختلف اشکال بنتی ، غائب ہوتی اور پھر ایک نئی صورت میں نظر آئیں گی یہاں تک کہ تصویریں ایک ایک کر کے غائب ہو جاتی ہیں اور آخر میں پھر وہی سفید دیوار ہوتی ہے۔

دیوار پر بننے والی تمام تصاویر گلاس میں موجود پانی میں موجود تھیں۔ گلاس میں جب تک پانی تھا مادی آنکھ کے لیے پانی میں موجود اشکال کے خدو خال واضح نہیں تھے۔ پانی اور دیوار کا تصادم ہوا تو تصویروں نے اپنا مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ کر کے غائب ہو کر دوسری شکل میں ظاہر ہوئیں اور ہوتے ہوتے آخر سب غیب بن گئیں۔ یہی کائنات ہے اور یہی اس کا نظام ہے۔ ایک وجود فنا ہو کر دوسرے وجود کو دوام بخش رہا ہے اور دوسرا وجود تیسرے کو۔ یعنی کائنات میں موجود  ہر شے مخفی رشتہ میں جڑی ہوئی ہے۔

قلندر بابا اولیاء نے تمثیل بیان کی ہے :

واہمہ سے لے کر مظہر تک ہر شے کائنات میں پہلے سے موجود ہے۔ لاشعور سے انے والا ہر خیال پندرہ سیکنڈ تک دماغ پر دستک دیتا ہے۔ ایک منٹ میں 60 سیکنڈ ہوتے ہیں۔ اس حساب سے ایک منٹ میں چار اور ایک گھنٹے میں 240 اطلاعات خیال بن کر دماغ کی اسکرین پر وارد ہوتی ہیں۔ جس خیال پر توجہ کی ، وہ غیب سے مظہر بن جاتا ہے۔ جس خیال کو رد کیا وہ واپس لاشعور میں چلا جاتا ہے۔ غیب ہو یا شہود ، ظاہر ہو یا باطن سب کائنات میں ہیں۔ بس دیکھنے والی نگاہ چاہیے۔ مولانا رومؒ نے فرمایا ہے:

آدمی     دید       است     باقی      پوست    است

دید     آں           باشد            کہ       دید                     دوست          است

حضور قلندر اولیا ءؒ فرماتے ہیں۔” ارادے کی تکرار ارادے کی قوت ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ارادہ سوا لاکھ بار ہی دہرایا جائے لیکن ارادے میں اتنی قوت ہونی چاہیے جو سوا لاکھ بار دہرانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ قوت موجود ہے تو ایک حرکت کافی ہے۔“

سو جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس سے صرف اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے     (۶۸:۴۰)

 ابدال حق ؒ مزید فرماتے ہیں کہ ”کبھی ایسا ہوتا ہے اور زیادہ تر اس زمانے میں ۹۹۹ فی ہزار ایسا ہی ہوتا ہے کہ سوا لاکھ بار دہرایا ہو ارادہ بھی ایک بار کی قوت سے آگے نہیں بڑھتا۔ دراصل ارادہ دہرایا ہی نہیں جاتا کیونکہ جن الفاظ کے ذریعے ارادے کو دہرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ وہ الفاظ دہرانے والے انسان کے ذہن میں اپنی کوئی تصویر یعنی معنی کے خدوخال پیدا نہیں  کرتے۔“

کائنات میں ہر شے شکل و صورت رکھتی ہے۔ خیال بھی شکل و صورت رکھتا ہے۔ ہوائی جہاز بنانے والے کو پہلے خیال آیا۔ ارادے نے تکرار کی اور خیال ہوائی جہاز بن گیا۔ یعنی خیال میں ہوائی جہاز کی مکمل تصویر تھی۔ موجد ہوائی جہاز کی شکل سے واقف نہیں تھا لیکن وہ فاصلوں کو کم کرنے کے لیے پرندے جیسی کوئی شے ایجاد کرنا چاہتا تھا۔ اس کے ذہن میں پرندے کی تصویر موجود تھی۔ یہی وجہ  ہے کہ ہوائی جہاز اور پرندے کے خدوخال میں مماثلت ہے۔ اسی طرح خوشی ، غم ، محبت اور نفرت کے خیالات بھی شکل وصورت رکھتے ہیں۔ ایک بندہ  تکرار کرتا ہے کہ میرا مستقبل اچھا ہو جائے۔ میرا مستقبل اچھا ہو جائے۔ میرا  مستقبل اچھا ہو جائے۔ وہ کیا بننا چاہتا ہے یہ اس کے ذہن میں واضح نہیں لیکن وہ تکرار کرتا ہے کہ میرا مستقبل اچھا ہو جائے۔ تو کیا یہ تکرار مظہر بنے گی۔۔۔؟

تکرار کا یہ قانون ہر فرد کی زندگی کا حصہ ہے۔ آپ طالب علم ہیں اور کسی مضمون پر تحقیق کر رہے ہیں جب تک ارادے میں توجہ نہیں ہوگی ، تحقیق مکمل نہیں ہوگی ۔آفس کے کام بھی ارادے میں توجہ کے بغیر ممکن نہیں۔ کچن میں ارادے کی تکرار کا مظاہرہ پکوان کی صورت میں ہوتا ہے۔ سائنس دان تحقیق کرتا ہے۔ اس کی ایجاد خیال میں توجہ اور ارادے کی تکرار کے علاوہ کچھ نہیں۔ کچھ لوگ غم کی تکرار کرتے ہیں۔ ان کی غمگین لہریں کائنات میں پھیلتی ہیں اور ہر اس شے کو متحرک کرتی ہیں جو پریشانیوں کا سبب بنتی ہے۔ پریشانی والے  وسائل متحرک ہو کر اس فرد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نتیجہ میں پریشانیاں  کڑی در کڑی اپنا مظاہرہ کرتی ہیں۔ یہی حال خوشی کا ہے۔ اسی قانون کے تحت اللہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ میرا شکریہ ادا کرتے ہیں میں ان کی نعمتیں بڑھاتا ہوں۔ اور جو ناشکری کرتے ہیں ان  کے لیے میرا عذاب سخت ہے۔

صرف احساسات نہیں تمام مظاہرہ قدرت میں تکرار کا قانون کام کر رہا ہے۔ اللہ نے اس کائنات کو تخلیق کرنا چاہا تو کن فرمایا۔ تخلیق آج بھی جاری ہے۔۔۔۔ کن فیکون کی بازگست جاری ہے۔۔۔ انسان ہر لمحہ سانس لیتا ہے۔ سانس کی تکرار زندگی ہے۔ سانس کی تکرار سے زندگی ہر لمحہ مظہر بن رہی ہے۔ جس دن تکرار ٹوٹی ، وقت ختم ہو جائے گا۔ سورج چاند ، دن رات ، ستارے سیارے سب تکرار کر رہے ہیں۔ مومن ہر سانس کے ساتھ کن فیکون کی صدا سن رہا ہے۔ وہ نور کی فراست سے دیکھتا ہے۔ اس لیے جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا تو کہتا ہے ہو اور وہ کام ہو جاتا ہے۔

بقول علامہ اقبال :

یہ         کائنات   ابھی      نا        تمام      ہے      شاید

کہ       آرہی            ہے             دما            دم                    صدائے                            کن                               فیکون