Topics
کائنات میں ہر شے دو رخوں پر قائم ہے۔ یہ دونوں رخ جہاں ایک دوسرے کا الٹ ہیں
وہاں ایک دوسرے سے متصل بھی ہیں۔ بالکل کاغذ کے ورق کے دو صفحوں کی طرح جو ایک
دوسرے سے الگ ہوتے ہوئے بھی الگ نہیں۔ انسانی جسم بھی دو رخوں سے مرکب ہے۔ ایک
مرئی اور دوسرا غیر مرئی۔ مرئی رخ ٹھوس ہے اور مادی عناصر سے مرکب ہے۔ غیر مرئی رخ
میں ٹھوس پن نہیں۔
یہ روشنیوں کا جسم ہے۔ جسے جسم مثالی کہتے ہیں اور یہ مادی جسم سے ۹ انچ کے
فاصلے پر پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔
رخ چاہے مرئی ہو یا غیر مرئی ، دونوں شکل و صورت رکھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ
مادی آنکھ غیر مرئی رخ کو نہ دیکھ سکے لیکن روح غیر مرئی رخ کو ایسے ہی دیکھتی ہے جیسے ہم ٹھوس وجود کو دیکھتے ہیں۔
جب تک حرکت اکہری ہوتی ہے ، مادی آنکھ سے اوجھل ہوتی ہے جب دوسری لہر اس سے ٹکراتی
ہے تو گراف پیپر کی طرح تانے بانے بن جاتے ہیں اور روشنیوں کا جسم وہ لباس اختیار
کر لیتا ہے جسے مادی آنکھ دیکھ سکے۔
مثلث عالمِ ناسوت یعنی شعوری دنیا کو ظاہر کرتا ہے۔ مثلث میں تانے بانے سے
بننے والی مخلوق آدمی ہے۔ آدمی روشنی کو نہیں دیکھ سکتا اس لیے روشنی خود کو ظاہر
کرنے کے لیے مادی خدوخال اختیار کرتی ہے اور نگاہ رنگ دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔
اطلاع کے مظاہرہ کا بھی یہی فارمولا ہے۔ اطلاع کو مظہر بننے کے لیے پانچ مراحل
سے گزرنا پڑتا ہے۔ واہمہ ، خیال ، تصور ، احساس اور مظہر۔ واہمہ اور خیال میں
اکہری حرکت کام کرتی ہے۔ اس کا تعلق لاشعور سے ہے۔ جبکہ تصور اور احساس کا تعلق
شعور سے ہے۔ خیال میں جب رنگ بھرتے ہیں تو خدوخال نمایاں ہو جاتے ہیں اور احساسِ
مظہر یا تصویر بن کر سامنے آجاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تصویر واہمہ اور خیال کے
اسٹیج پر بھی مکمل بنی ہوئی ہے۔ لیکن چونکہ روشنیوں پر قائم تھی اس لیے مادی آنکھ
نہ دیکھ سکی۔ لیکن جیسے ہی روشنیوں کے خدوخال نے خود کو ظاہر کرنے کے لیے مادی
وجود اختیار کیا ، شعور نے اسے دیکھ لیا۔
حرکت اکہری ہو یا دوہری لہروں پر قائم ہے۔ لہر روشنی ہے۔ مادی اور غیر مادی
دونوں رخوں کی بساط روشنی ہے۔ طولانی ہو یا عرضی ہر لہر مخصوص صفت رکھتی ہے اور
کسی نہ کسی نقش و نگار کو ظاہر کرتی ہے۔ کوئی لہر آنکھ تو کوئی کان ، ناک یا ہونٹ
کو ، کسی لہر میں ہاتھوں کی معین مقداریں ہیں تو کسی میں سر اور بال اور پیر کی۔
یہ سب لہریں جب ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو جسم بنتا ہے۔ گراف پر تصور بنا کر یہ
مثال سمجھی جا سکتی ہے۔
رب العالمین کے علوم لاشمار اور لا محدود ہیں۔ اللہ کا ہر علم اللہ کی صفات
ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن
جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم
نہ ہوں گی۔ بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ (۲۷:۳۱)
تصوف کے نقطہ نظر سے اختصار سے بیان کیا جاتا ہے ۔ انسانی جسم میں چھ روشنی
اور نور کے قمقمے ہیں۔ یہ قمقمے تصوف میں لطائف کے نام سے جانے جاتے ہیں ان کو ”
لطائف ستہ“ یا چھ لطائف کہا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں:
۱۔ نفس
۲۔ قلب
۳۔ جسم
۴۔ سر
۵۔ خفی
۶۔ اخفی
نقطہ واحدہ…….اخفیٰ…. نقطہ واحدہ وہ مقا م ہے جہاں اللہ کی تجلی کا نزول ہوتا ہے۔ یہ
نقطہ ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے کہ:
اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا (۱۳:۴۵)
کائنات نور اور روشنی سے مرکب ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ انسان کے اندر روح کے قابل تذکرہ پرت تین ہیں۔ اصطلاحی نام :
۱۔ روح حیوانی
۲۔ روح انسانی اور
۳۔ روح اعظم
یہ تین پرت دراصل تین ورق ہیں، ایک ورق میں دو صفحہ ہوتے ہیں۔ ہر پرت پر ایک
رنگ غالب ہے ۔ شعوری اعتبار سے ( روحانی نہیں) یہ تین پرت رنگ زرد ، سبز اور نیلا
رنگ ہیں یا یہ رنگ غالب نظر آتے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا
کیا۔ (۵۴:۷)
فی ستہ ایام سے مراد چھ لطائف ہیں۔ ایام یوم کی جمع ہے اور یوم سے مراد
دن اور رات ہیں۔ ہر دن ہر رات دراصل قدرت
الٰہی کی لامحدود نشانیوں پر محیط ہے۔
سورہ رحمٰن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اسی سے مانگ رہے ہیں۔ ہر آن
وہ نئی شان میں ہے۔ (۲۹:۵۵)
اللہ تعالیٰ کی لامحدود صفات ہیں اور یہ لامحدود صفات تجلی کا عکس ہیں۔
مادی وجود دراصل اصل وجود کا عکس ہے اور یہ وجود بھی لہروں پر قائم ہے۔ لہرLife Line ہے۔ اسی لہر کی وجہ سے مادی وجود
متحرک اور زندہ ہے۔ اگر لہروں کا نزول رک جائے تو مادی وجود یا میٹیریل لائف ختم
ہو جائے گی اور آدمی مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
حضور قلندر بابا اولیا ءؒ فرماتے ہیں:
آدم کو بنایا ہے لکیروں
میں بند
آدم ہے انہی لکیروں میں خورسند
واضح رہے جس دم یہ لکیریں ٹوٹیں
روکے گی نہ ایک دم اسے مٹی کی کمند
ہم نے چھ لطیفوں کا تذکرہ کیا ہے آدمی لطائف ، تجلیات ، انوار ، روشنی اور
روشنی کی قسموں سے واقف نہیں ہے (واقف اس لئے نہیں کہ اس طرف توجہ ہی نہیں دی
جاتی) اس لئے تصوف کا یہ علم پردہ بنا ہوا ہے۔
آدمی بیداری کے حواس سے واقف ہے لیکن آدھی زندگی (خواب کی زندگی) بھی اس لئے
واقف نہیں کہ یہ علم سیکھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ علم آسمانی کتابیں ، قرآن اور
احادیث میں موجود ہے۔
اگر میں انگریزی پڑھا ہوا نہیں ہوں یا انگریزی صرف اتنا پڑھا ہوا ہوں کہ رومن
انگریزی میں لکھا ہوا خط پڑھ سکتا ہوں ۔ لکھ سکتا ہوں تو یہ پڑھائی نہیں ہے۔ قرآن
و حدیث کے بارے میں بھی ہم پڑھے ہوئے ہونے کے باوجود کما حقہ نہیں سمجھتے اور اس
پر عمل بھی نہیں ہوتا۔
زبان کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس زبان کی گرامر ، تلفظ ، اظہار ِ بیان
اور ترجمہ سے کما حقہ واقفیت ہو ۔ جو نہیں ہے۔
نماز میں روزانہ الحمد شریف ، چاروں قل ، سورۃ کوثر اور تسبیح پڑھتے ہیں لیکن
ہمیں نہیں معلوم کہ کیا پڑھتے ہیں۔ آسمانی کتابوں اور آخری کتاب قرآن کریم کو
سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ عربی زبان سے پوری طرح واقفیت ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد
کے مطابق:
یہ اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے (۱:۲)
اللہ ابتدا ہے اللہ انتہا ہے ، اللہ ظاہر ہے ، اللہ باطن ہے۔ واحد ذات خالق
کائنات اللہ ہے جو قادر مطلق ہے۔ اللہ رگ جان سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ عالم الغیب و
الشہادۃ ہے۔ بندہ جو کچھ کرتا ہے اللہ دیکھتا ہے ، بندہ جو کچھ چھپاتا ہے اللہ پر
ظاہر ہے، جس کو جتنا چاہے رزق عطا فرماتا ہے۔ نیند عطا فرماتا ہے جو موت کی مثال
پیش کرتی ہے، بیدار کرتا ہے جو زندگی کو واضح نشانی ہے۔ اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔
اللہ جس کو چاہے عزت دیتا ہے جس کو چاہے عزت نہیں دیتا۔
درو بست سب کچھ کائنات کے خالق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان جب خالق کائنات اللہ کے تصور کے بغیر کائنات کو دیکھتا
ہے تو اس کی نظروں سے حقیقت اوجھل ہو جاتی ہے اور وہ فریب کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے
لیکن جب وہ اللہ پر یقین لاتا ہے اور مومن
بن جاتا ہے تو نور کی فراست سے دیکھتا ہے اور پھر اس کے سامنے ہر حقیقت نمایاں ہو
جاتی ہے۔
کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوتے ہیں (اور)
نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں۔
(۹۳:۹)
اللہ کے دوست ، ولی اللہ جو ماورائی دنیا اور ناسوتی دنیا میں موجود جسم پر
تفکر کرتے ہیں تو ان پر یہ حقیقت واضح اور روشن ہو جاتی ہے کہ روح اور جسم دونوں
نور اور روشنی سے فیڈ ہو رہے ہیں۔