Topics

دیباچہ۔تصوف کی تاریخ

دیباچہ

رباعیات قلندر بابا اولیاء

 

شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوشی تصوف کے بارے میں فرماتے ہیں:

"غوروفکر کے نتیجے میں یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ تصوف کی ابتدا حضرت آدمؑ سے ہوئی اور حضرت آدمؑ زمین پر پہلے صوفی ہیں۔"

ایک عصری محقق ڈاکٹر مصطفیٰ حلمی نے۔ "الحبات الروحیہ فی الاسلام" میں تصوف کی ابتدا کے بارے میں لکھا ہے۔ " کہ اسلام میں روحانی زندگی کا آغاز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے صحابہ ہر بات اور ہر عمل کو اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے اور اللہ ہی کی جانب متوجہ رہتے تھے، ان کا جینا مرنا سب اللہ کے لئے تھا۔"

اسلام کا پہلا دور سرکار دو عالمؐ اور ان کے صحابہ کرامؓ کا دور ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام ان کے تربیت یافتہ تھے۔ سیدنا حضور پاکؐ نے اپنے مخصوص شاگردوں کو باطنی علوم منتقل کئے۔ جن کی طرف بے شمارروایتوں میں اشارات ملتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بارے میں ارشاد ہے کہ " تم پر ابو بکرؓ کو فضیلت نماز روزے کی کثرت کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ اس علم کی وجہ سے ہے۔ جو ان کے سینے میں ہے۔"

حضرت عمرؓ کے بارے میں فرمایا۔ "میرے بعد اگر کوئی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتے۔" ہوا اور دریا پرحضرت عمرؓ کا تصرف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ روحانی علوم سے آراستہ تھے۔

حضرت علیؓ کے بارے میں ارشاد ہے ۔’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔‘‘اس میں واضح اشارہ ہے کہ علیؓ تصوف یا علوم باطنیہ کا سر چشمہ ہیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں ۔مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو قسم کے علوم ملے ۔ایک وہ ہیں جو میں نے ظاہر کر دیئے ہیں اور دوسرے علوم وہ ہیں جن کو میں ظاہر کردوں تو تم میری گردن اڑادو گے۔

ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور زمین کو بھی انہی کی مانند نازل ہوتا رہتا ہے امر ان کے درمیان تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔سورہ الطلاق11۔

حضرت ابن عاس اس آیت کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ۔

"اگر میں اس آیت میں موجد حقائق بیان کردوں تو تم مجھے سنگسار کردو گے اور کہو گے کہ میں کافر ہوں۔ بلاشبہ سرکار دو عالمؐ کے ان تربیت یافتہ حضرات کے سینے روحانیت اورعلم حضوری سے لبریز تھے۔

حضور پاکؐ کے صحابہ کی ایک جماعت جو خاص طور پر " اولین صوفیا" کہلانے کی حقدار ہے۔ اصحاب صفہ ہیں۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت میں دنیا کی ہر شے کی نفی کردی تھی۔ان لوگوں کے لئے مسجد نبوی میں ایک چبوترہ بنا دیا گیاتھا۔یہ محترم حضرات حضور پاکؐ کی سرپرستی میں عبادت و ریاضت اور مجاہدہ نفس میں مصروف رہتے تھے۔ روحانی علوم کا حصول ہی ان کی توجہ کا مرکز تھا۔حضور پاکؐ انہیں پسند فرماتے تھے۔ اور ان کے ساتھ نشست و برخاست کرتے تھے۔ اور ان کی ضروریات کاخیال رکھتے تھے۔ اور لوگوں کو اصحابہ صفہ کا خیال رکھنے کی ہدایت فرماتے تھے۔

اصحاب صفہ نے علوم پھیلانے کے لئے مینارہ نور کا کردار ادا کیا ۔ جس کی روشنی میں لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا آسان ہوگیا۔

فقراء کی اس جماعت میں شامل چند مشہور صحابہؓ کے نام یہ ہیں۔

حضرت بلالؓ حضرت ابو ہریرہؓ حضرت ابو عبید اللہ، بن عامر بن عداللہ الجراح ؓ حضرت عبداللہ ابن مسعود اور ان کے بھائی حضرت عقبہ بن مسعودؓ حضرت مقداد بن اسودؓحضرت خبابؓ حضرت مہیبؓ حضرت عمرؓ کے بھائی زید بن الخطاب ، حضرت ابو درداؓ حضرت  عبداللہ ابن عمرؓ وغیرہ وغیرہ۔

پانچویں صدی ہجری کے ایک بزرگ ابوالقاسم نے رسالہ قشیریہ میں تاریخ تصوف کے بارے میں تحریر فرمایا ہے کہ ۔ "عالمین میں حضورپاکؐ کی صحبت سے بڑھ کر کوئی اور شرف نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ؐ  کے ساتھیوں نے اپنے لئے صحابہ کے لفظ کا انتخاب کیا۔

صحابہ کے صحبت یافتہ لوگوں نے اپنے لئے تابعین کا نام پسند کیا اور پھر ان کے بعد والوں نے اپنے لئے اسی مناسبت سے اتباع التابعین کا نام منتخب کیا۔ اس کے بعد جن لوگوں کو دینی امور کے ساتھ خاص لگاؤ ہوتا ۔ وہ "زاہد"اور "عابد" کے نام سے موسوم ہوئے۔

تبع تابعین کے بعد جن لوگوں نے تزکیہ نفس سے خود کو حوادث زمانہ اور غفلت سے محفوظ رکھا اور روحانی علوم حاصل کرنے کی جدوجہد کی۔ وہ صوفی کے نام سے پہچانے گئے۔

ان بزرگوں کے لئے صوفی کا لقب دوسری صدی ہجری سے پہلے عام ہو گیا تھا۔

علوم باطنیہ کے بارے میں حضور پاکؐ اور صحابہ کرامؓ کے اقوال و ارشادات اور واقعات بہت سی کتابوں میں موجود ہیں۔ حضرت داتا گنج بخش  کی کتاب کشف المحجوب میں ہے کہ۔"تصوف کو صحابہ کرام اور ان کے تابعین کے زمانے میں نہایت ہی وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ تصوف کے متعلق ہر دور میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھا جاتا  رہا ہے۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے۔ کہ تصوف درویشی اور فقیری کا نام ہے اور صوفی وہ ہے جوتصوف کے طریق کو اپنا کر اپنی ذات سے  فانی ہو کر اللہ کی ذات سے بقا حاصل کرلے۔

مشائخ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ صوفی وہ ہے۔ جو اصحاب صفہ سے محبت کرتا ہے اور ان کی تقلید میں زہدوعبادت کی راہ اختیار کرے۔ اہل باطن نے تصوف کو جن الفاظ میں بیان کیا ہے۔ وہ یہ ہیں ۔ کہ تصوف ایک حال ہے۔ جو روحانی ادراک سے پیدا ہوتا ہے اور اس ادراک کا محرک عشق الٰہی کی تجلیات جب روح سے متصل ہورہی ہیں۔ تو یہ ادراک جسم مثالی میں داخل ہوجاتاہے۔ جس طرح پن چھنے سے درد کی لہر سارے جسم میں دوڑ جاتی ہے۔ اسی طرح عشق الٰہی کا سرور روح کے ادراک میں سرائیت کر جاتا ہے۔ عشق کا یہ انجذاب نفس انسانی کو جذب و مستی میں ڈبو دیتا ہے۔ یہی جذب و مستی وہ حال ہے۔ جس میں قلب کی نگاہ اپنے آپ کو دیکھ لیتی ہے۔ نگاہ کا ہر درجہ تصوف کا ایک مقام ہے۔ بلا شبہ اس حال کا طاری ہونا منجانب اللہ ہے۔ صحابہ کرام اور صحابہ کرام کی طرز فکر کو اپنانے والوں کے اندر یہ خوبیاں موجود تھیں اور ہیں کہ ان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے عشق میں سر شار رہتے ہیں۔ اللہ کا عشق  رسول اکرمؐ کی صحبت اور ان کے انوار و تجلیات کو جذب کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

حضور پاک ؐ کا ارشاد ہے۔ "مر جاؤمرنے سے پہلے۔ " یعنی مرنے کے بعد کی زندگی سے اسی دنیا میں واقفیت حاصل کرو۔"

"ہر نفس کو موت کے مرحلہ سے گزرنا ہے۔(قرآن)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ موت آنے سے پہلے ، موت سے واقف ہونا ضروری ہے۔

خلفائے راشدین کے دور میں تصوف کا تذکرہ اس لئے نہیں ملتا کہ ان کے لطائف حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام  کی قربت سے رنگین تھے قرن اول تک ان کے لئے پیغمبر علیہ الصلٰوۃ والسلام کا اسوہ حسنہ  معشعل راہ بنا رہا۔۔۔ان کے شب و روز سیدنا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ گزرتے تھے۔

قرن ثانی میں مسلمانوں کی دنیاوی و روحانی زندگی میں بے شمار تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں۔۔۔یہ دور 661ء سے لے کر 850ء تک کا ہے۔ جس میں خلافت ، بادشاہت میں تبدیل ہوگئی۔ عیش و عشرت اور جاہ طلبی حکمرانوں کا مقصد حیات بن گئی۔ عوام الناس کو ظلم و ستم کی چکی میں پیسا جانے لگا۔

اس پس منظر میں صوفیا کی پہلی جماعت کھل کر سامے آئی بصرہ اور کوفہ، جہاں اموی خلفاء نے ظلم و ستم  کی انتہا کردی تھی۔ تصوف کے سب سے پہلے مرکز بنے۔ دنیا طلبی، عیش و عشرت تشدد و بربریت ، غرور و برتری چونکہ دین اسلام کے بالکل منافی باتیں تھیں۔ اس لئے اس دور کے صوفیا کرام توبہ، استغفار اور خشیت الٰہی پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ تاکہ ان کے نفوس دنیاوی لذتوں کے بجائے پیغمبرانہ طرز فکر کو اپنا کر اللہ کے راستے پر گامزن ہو جائیں۔ وہ سرکاری ملازمت اور خلفاء کی صحبت سے اجتناب کرتے تھے۔ تاکہ حکام کے ناجائز احکامات پر عمل کرنے کے سے بچے رہیں۔ وہ لوگوں کو بھی امراء اور خلفاء کی صحبت سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے ۔ تاکہ دنیا میں لوگ وظیفہ اعضاء پورا کرتے ہوئے اللہ کی جانب راغب رہیں۔ اس دور کے چند مشہور اولیاء کرام کے نام یہ ہیں:

حضرت اویس قرنیؓ حضرت داؤد طائی ، حضرت حسن بصری، حضرت رابعہ بصری حضرت مالک بن دینا، حضرت محمد واسع، حضرت حبیب عجمی، حضرت خواجہ فضیل بن عیاض، حضرت ابراہیم بن ادھم وغیرہ۔

یہ بزرگ کھانا کم کھاتے۔ سادہ لباس پہنتے اور یاد الٰہی میں منہمک رہتے تھے۔ وہ مادی زندگی کی اہمیت کو سامنے رکھ کر اعتدا ل کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے تھے۔

ان قدسی نفوس حضرات نے لوگوں کی انحطاطی روش کو پہچان لیا تھا۔ کہ رسول اکرمؐ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں عام لوگوں کی توجہ کا مرکز اللہ کی ذات اور پیغمبر کی ذات تھی۔ جو ان کے درمیان اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کا عملی نمونہ بن کر موجود تھے۔ مگر ان کے بعد لوگوں کی توجہ کا مرکز اللہ کی بجائے دنیا بن گئی۔ جس کی وجہ اس دور کے صوفیہ نے ان تمام چیزوں سے کنارہ کر لیا جو چیزیں اس راہ میں مانع تھیں۔ اس طرح ان کا ذہنی ، قلبی اورروحانی رابطہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے ساتھ قائم رہا۔ " جو لوگ ہماری راہ میں جدو جہد کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔"(قرآن)

اس ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان قدسی حضرات کو اپنی ذات سے قریب کر کے انہیں اپنی صفات سے آراستہ کردیا اور وہ وارثین انبیاء کہلائے۔ ان پر روحانی ادراک اور مشاہدات کے ذریعے معرفت الٰہی کے دروازے کھل گئے۔ حضرت ابراہیم بن ادھم  کا مشہور واقعہ ہے۔

کہ ایک بار آپ  دجلہ کے کنارے بیٹھے اپنی گدڑی سی رہے تھے کہ ایک شخص نے پوچھا،شیخ ابراہیم!بلخ کی سلطنت چھوڑ کر آپ کو کیا ملا۔ آپ نے سوئی دریا میں ڈالی اور اشارہ کیا تو مچھلی دجلہ سے باہر آئی۔ اس کے منہ میں سوئی تھی۔ آپ نے اس شخص کو کہا کہ بلخ کی سلطنت چھوڑ کر جو ادنیٰ بات مجھے حاصل ہوئی وہ یہ ہے۔

 روحانی علوم کے ماہرین حضرت علیؓ، امام زین العابدینؒ، امام باقرؒ اور امام جعفر صادقؒ نے روحانی ادراک کے ذریعے وارد ہونے والے کشف و الہام، مشاہدات ِ غیبی اور وجد و کیفیات کی تشریح کر کے لوگوں کو صحابۂِ کرام ؓ کی درجات سے آگاہ کیا۔ تاکہ لوگوں کے اندر علوم ربانی کو جاننے کا ذوق پیدا ہواور لوگ دنیا کی جانب سمٹنے کی بجائے اپنے رب کی جانب قدم بڑھائیں ۔ امام ابو بکر بن ابو اسحاق نے چوتھی صدی ہجری میں بخارا میں اپنی تصنیف میں ان وارثین انبیای کا تذکرہ کیا ہے۔

ان کے علاوہ اہل خراساں اور اہل جبال میں سے ابو یزید طیفوریہ بنی عیسیٰ بسطامی ابو حفص حداد نیشاپوری  ، احمد بن خضرویہ بلخی      سہیل بن قشتری  یوسف بن حسین رازی، ابو بکر طیار میری علی بن سہیل الازہر دااصفہانی اور ان کے علاوہ چند اور حضرات کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے تصوف کی تعلیمات کو صحابہ کرام کے کشف و الہام کی روشنی میں لوگوں تک پہنچایا ۔تقریباً  دو سو پچاس ہجری تک وارثین انبیاء اپنے روحانی تصرفات اور وجدانی کلام کے ذریعے لوگوں میں روحانی شعور بیدار کرتے رہے۔ اس دور میں تقریباًپچیس فیصدلوگوں میں روحانی شعور بیدار تھا۔پھر اس کے بعد یہ تعداد کم ہوتی چلی گئی۔کیونکہ لوگ درویشانہ سادہ زندگی کی چکا چوند اور زیب و زینت کو ترجیح دینے لگے تھے۔ زمانے کی بدلتی روش کے ساتھ ساتھ حصول علم کے تقاضے بھی تبدیل ہوگئے۔

صوفیا کی دوسری جماعت اس وقت سامنے آئی جب خلفائے عباسیہ بالخصوص مامون الرشید نے یونانی فلسفہ کی کتابوں کے ترجمے عربی میں کئے گئے۔ جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے میں زبردست انتشار پیدا ہوا۔ ذات و صفات باری تعالیٰ، علوم قرآنی اور معجزات ، اخروی زندگی اور معراج جیسی حقیقت کو یونانی فلسفہ و حکمت کی عینک سے دیکھا جانے لگا۔ اس طوفان کے آگے اس دور کے مشہور صوفیاء حضرت جنید بغدادی حضرت بایزید بسطامی اور حضرت ذالنون مصری نے بند باندھا۔ انہوں نے عقلی وباء کا مقابلہ عشق کی دوا سے کیا۔ جہاں پہلے دور کے صوفیا نے ظلم و جور اور شقاوت قلبی کا مقابلہ خشیت الٰہی سے کیا تھا۔ وہاں ان بزرگوں نے مادی عقلیت کے بت کو عشق الٰہی سے پاش پاش کردیا۔ اسلامی معاشرے میں ذہنی انتشار کو روحانی قوت سے ختم کیا تزکیہ قلب اور اصلاح باطنی کےلئے کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے بتایا کہ شریعت و طریقت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دونوں قوانین الٰہیہ کے ذریعہ نافذالعمل ہیں۔ باطنی حواس سے ان قوانین کو سمجھا جا سکتا ہے۔

امام غزالی (406ھ505) آپ کی تصانیف میں "احیائے العلوم" بہت اہم کتاب ہے۔ آپ نے تحقیق حق کی تلاش میں تمام مذہاب کا مطالعہ کیا۔ جب کہیں سے حقیقت حال منکشف نہیں ہوئی تو آپ نے تصوف کا راستہ اختیار کیا۔ سخت ریاضت کے بعد جب آپ حقیقت سے واقف ہوئے تو آپ نے معاشرے کے اخلاقی زوال کی اصلاح کے لئے یہ کتاب لکھی۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (476ھ سے562 ھ) نے سلسلہ قادریہ کی بنیاد رکھی۔

آپ کی تصانیف، "غنیتہ الطالبین" "الفیوضیات الربانیہ" " فتوح الغیب" اور فتح ربانی" مشہور ہیں۔

شیخ نجیب الدین عبدالقادر سہروردی علوم ظاہریہ اور باطنیہ دونوں کے معلم تھے آپ سہروردیہ سلسلے کے بانی ہیں۔ شیخ محی الدین عربی (637ھ) دنیائے تصوف میں شیخ اکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ اسپین میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد بہت زیادہ ہیں۔ مولانا جامی کی تحقیق کے مطابق پانچ سو تصانیف ہیں۔ ان میں سے ایک سو پچاس کے قریب کتب اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔ وحدت الوجود کی اصطلاح آپ کی رائج کردہ ہے۔

شیخ شہاب الدین سہروردی  ابن عربی کے ہم عصر تھے۔ آپ نے "عوارف المعارف" تصنیف فرمائی جس میں خانقاہی نظام اور تصور کی بنیادی باتوں پر سیر حاصل تبصرہ کیا گیا ہے۔ حضرت بابا فرید گنج شکر اپنے خاص مریدوں کو اس کتاب کا درس دیا کرتے تھے۔ شیخ سعدی  آپ کے خاص مریدوں میں سے تھے۔

حضرت نجم الدین کبریٰ حضرت ضیاء الدین ابو نجیب سہروردی کے مرید اور خلیفہ تھے۔ آپ نےعربی اور فارسی میں نظم و نثر کی کئی کتابیں لکھی ہیں۔ بارہویں صدی عیسوی کے ان ممتاز صوفیاکے ساتھ اس صدی کے ان صوفی شاعروں کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ جن کی شاعری نے تصوف کی ترقی وترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ ان میں حکیم سنائی حضرت خواجہ فرید الدین عطار اور حضرت نظام گنجویٰ بہت زیادہ مشہور ہیں۔

عراقی حضرت بہاؤالدین ذکریا ملتانی سہروردی کے مرید تھے۔ دمشق میں شیخ اکبر محی الدین ابن کے پہلو میں مدفون ہیں۔ آپ نے ایک مثنوی "عشاق نامہ " تحریر فرمائی ہے جو اب نایاب ہے۔ نثر میں ایک کتاب "لمحات" تحریر فرمائی۔جو اپنی نوعیت کی ایک بے مثل کتاب ہے۔اوحدی سات ہزار اشعار پر مشتمل آپ کی "نظم جام نجم" بہت مقبول ہوئی۔

شیخ سعدی نے ظاہری  تعلیم ابوالفرح جوزی سے حاصل کی اور باطنی تعلیم کے لئے شیخ شہاب الدین سہروردی کی شاگردی اختیار کی۔ اخلاقی شاعری میں آپ امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔ عالم باعمل مولانا جلال الدین رومی کو حضرت شمس تبریزی کی نگاہ التفات سے علوم باطنی حاصل ہوئے۔ مثنوی روم کی شہرت و عظمت سے تمام دنیا واقف ہے۔

تیرہویں صدی عیسوی کے بعد تصوف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ مگر اس کے بنیادی فلسفے اور عملی پروگرام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی۔

حضرت امام غزالی ، حضرت محی الدین ابن عربی  اور حضرت شہاب الدین سہروردی نےجو کچھ مرتب فرمایا تھا۔ آئندہ کئی صدیوں تک اس میں کوئی اضافہ نہ ہوا۔ حضرت محی الدین عبدالقادر جیلانی جب دنیا میں تشریف لائے اور آپ نے دین کے مردہ جسم میں زندگی دوڑا دی۔ اللہ کے کلام کے مطابق دین کی تعریف اورمعنی تلاش کئے۔ آپ نے قصائد غوثیہ میں تصوف کے اسرار و رموز واشگاف الفاظ میں بیان فرمائے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت غوث پاک کے روپ میں محی الدین کو دنیا میں بھیج دیا۔ آپ نے اس دور کے شعوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اور علمی ذوق کو مدنظر رکھ کر روحانی علوم کا زیادہ مظاہرہ کیا۔ اس طرح کہ آپ نے اپنے مشاہداتی تجربات بھی بیان فرمائے کشف و کرامات کا بھرپور اظہار بھی کیا اور اس کے ساتھ ہی روحانی علوم سے بھر پور کتابیں بھی تصنیف کیں۔غرض یہ کہ آپ نے دین کے کسی بھی شعبے کو نظر انداز نہیں کیا اور ا ن کی عملی اور روحانی توجیہہ بیان کردی۔ تاکہ دین کےکسی بھی مسئلے کا مفہوم غلط نہ سمجھا جائے۔

تاریخ شاہد ہے کہ پانچویں صدی ہجری سے آٹھویں صدی ہجری تک کا دور تصوف کا بہترین دور ہے۔آٹھویں صدی ہجری کے بعد تصوف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور انہی بنیادی اصولوں پر چلتا رہا۔ جو اس سے پہلے دور میں رائج تھے۔ جب ساری دنیا میں مسلمان پھیل گئے اور غیر مسلموں کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ بڑھ گیا۔ تو تصوف کے علمی ذخیرے کو بہت نقصان پہنچا ۔ بغداد جو علوم کا مرکز تھا۔ تاتاریوں نے اسے آگ لگادی اور چن چن کر تصوف کی وہ نادر کتب جلا ڈالیں ۔ جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بننے والی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ترویج و تدوین کا کام رک گیا اور لوگوں کا رجحان تصوف و روحانیت سے ہٹ کر صرف دنیا داری کی طرف ہو گیا۔ہم جب گزشتہ پانچ سو سال کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ تو یہ نظر آتا ہے کہ اس دور میں نسل انسانی نے فنون لطیفہ میں عروج حاصل کیا اور اس کے ساتھ ساتھ کئی نئی ایجادات سامنے آتی رہیں۔ سیرو سیاحت اور ذرائع آمدورفت کے نئے اور آسان ذرائع عمل میں آگئے۔اس کے علاوہ خبر رسانی میں آسانیاں پیدا ہوگئیں۔جو شعوری ارتقاء کے لئے مفید ثابت ہوئیں۔ آدم کا شعور دنیاوی راحت و آرام کا متلاشی ہے۔ شعوری ارتقاءاسی وقت ہوتا ہے۔ جب ایجادات ہوں۔ نت نئی ایجادات سے لوگوں کی طرز فکر بدلنے لگی۔ دنیاوی تقاضوں کی تکمیل ہی مقصد حیات بن گئی۔ نفس کو ضرورت سے زیادہ دنیاوی آرام و راحت مل جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع نہیں کرتا۔ جب اس دور کے صوفیا نے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو بادشاہوں کے درباروں میں بھی جانے سے دریغ نہیں کیا تاکہ لوگوں کو عبادت و ریاضت کی جانب توجہ دلائیں ۔ مگر وہ لوگوں کی طرز فکر تبدیل نہیں کر سکے  تو انہوں نے گوشہ نشینی اختیارکرلی۔

ڈیڑھ سو سال سے سائنس ترقی پذیر ہے۔ یہ دور عقل انسانی کےلئے عروج کا دور کہلاتا ہے۔ کل تک جو چیزیں غیب تھیں آج شہود بن چکی ہیں فاصلے سمٹ گئے ہیں اور اس نظام کے ذریعے دور دراز کی آوازیں سننا اس طرح ممکن ہو گیا ہے جیسے ایک کمرہ میں بیٹھ کر لوگ باتیں کرتے ہیں۔ زمین کے اندر ،اور آسمان کے نیچے کیا ہے، یہ دیکھنا ممکن العمل بنادیاگیا ہے لیکن اس عروج کے ہوتے ہوئے بھی انسانی ذہن مصیبت میں مبتلا ہے۔سکون ختم ہو گیاہے بیماریوں نے ان کو جکڑ لیا ہے۔ ہر شخص بے چین اور پریشان ہے۔خوف اور عدم تحفظ کے احساس نے نوع انسانی کو زندہ درگور کردیا ہے، سرمایہ دارانہ نظام کے ٹھیکیداروں نے عوام کو اپنا غلام بنالیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے جب بھی عوام کو لقمہ تر سمجھ کر نگلنے کی کوشش کی گئی اور لوگوں کے لئے آزاد زندگی کی راہیں مسدود کردی گئیں۔ نظام الٰہی کے تحت قدرت کے نمائندے سامنے آئے اور طاغوتی قوتیں جہنم واصل ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ رب العالمین نسل انسانی کی بقا چاہتے ہیں اور نسل انسانی کی بقا کا انحصار"توحید" پر اجتماع ہے۔مادیت کا جب غلبہ ہو گیا ور اللہ کی مخلوق بیزار، بے حال ،  بے آرام اور فنا ہونے لگی تو اللہ  کی رحمت حرکت میں آئی اور خالق نے مخلوق کےلئے ایک نجات دہندہ بھیجا۔جو موجودہ حالات اور تقاضوں کے مطابق لوگوں کو سکون و آشتی کے راستے پر چلائے اور ظاہری تعلیمات کے ساتھ ساتھ روحانی اور باطنی علوم سکھائے۔اس صدی کی یہ عظیم المرتبت ہستی ابدال حق قلندر بابا ولیاء ہیں جو حضر ت بابا تاج الدین ناگپوری کے نواسے اور تربیت یافتہ ہیں۔ عظیم روحانی سائنسدان قلندربابااولیاء نے رباعیات لکھ کر نوع انسانی کو تباہی کے غاروں سے نکلنے کا راستہ دکھایا ہے۔

حسن اخریٰ سید محمد عظیم برخیا المعروف قلندربابااولیاء سادات میں سے ہیں۔ آپ کا خاندانی سلسلہ حضرت امام حسن عسکریؑ سے جاملتا ہے۔ قصبہ خورجہ ضلع بلند شہر یوپی بھارت (1898) میں پیدا ہوئے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ۔ پھر اپنے نانا حضرت بابا تاج الدین ناگپوری کے پاس نوسال تک مقیم رہ کر روحانی تربیت حاصل کی۔ آپ کی تصنیفات میں اسرارو رموز کاخزانہ "لوح و قلم" علم و عرفان کا سمندر" رباعیات قلندربابااولیاء" اور ماورائی علوم کی جیہا پر مستند کتاب " تذکرہ تاج الدین بابا" ہیں۔ حضور قلندر بابا اولیا  کا سب سے بڑا کارنامہ  یہ ہے کہ آپ نے دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق روحانی اور ماورائی علوم کو نظم اور نثر دونوں میں پیش کیا ہے۔

یہ بات علی اعلان کہی جا سکتی ہے کہ آٹھویں صدی ہجری کے بعد چودہویں صدی ہجری میں تصوف پھرایک نئے دور میں داخل ہوا ہے اور اس نئے دورمیں تصوف کی راہ پر چلنے والوں کی قیادت حضور قلندر بابا اولیاء کررہےہیں۔ چودہ سو سال میں بتدریج نشوونما کے بعد آج تصوف اس دور میں داخل ہو چکا ہے۔ جس دور میں قرآن کے سربستہ رازوں کو کھول کر بیان کرنا آسان ہو گیا ہے۔ کائناتی فارمولوں سے پردے اٹھائے جارہے ہیں اور کائنات کی تخلیق میں کام کرنے والے انتظامی امور کو سمجھنے کی صلاحیت ابن آدم کے اندر پیدا ہو گئی ہے۔ گویا آدم کے اندر خلافت اور نیابت کا ذہن متحرک ہو گیا ہے۔ جب آدم دنیاوی خلافت کےذہن سےکام کرتا ہے توایجادات ظہور میں آتی ہیں اور جب آدم اللہ کی نیابت کے ذہن سے کام کرتا ہےاس  کائناتی فارمولوں اور غیب میں کام کرنے والے عوامل کے اندر کام کرتا ہے۔ انسانی ایجادات کے علوم سائنسی علوم ہیں اورغیب میں ریسرچ سے قوانین فطرت سے روحانی اور ماورائی علوم سامنے آئے ہیں۔سائنسی علوم اور روحانی علوم دونوں کا منبع(Source) اللہ تعالیٰ کا امر ہے اور اللہ کے امر کا نزول روح پر ہورہا ہے۔ انسان اگر قرآن اور آسمانی کتابوں میں غورو فکر کرے تو خود اسے اپنے فطرت کے تمام نظام موجود نظر آئیں گے اور وہ جان لے گا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا مظاہرہ دورخوں میں ہو رہا ہے۔ایک رُخ میں مادی اور ظاہری کائنات ہےاور دوسرے رخ میں باطنی کائنات ہے۔جو انسان کے قلب میں جاری ہے۔ ظاہر اور باطن دونوں میں دیکھنے والی آنکھ انسان کی آنکھ ہے اور اس آنکھ کی بینائی اللہ کا نور ہے۔ یہ نور ہی انسان کے ظاہر اور باطن دونوں مشاہدات کا واسطہ بنتا ہے۔"رباعیات قلندربابااولیاء کےمطالعہ سے انسان کے اوپر سے مادیت کا غلبہ ختم ہو جاتا ہے۔"

تصوف کے قافلہ سالاروں نے ماضی میں جس طرح نثر اور شاعری سے تصوف کی آب یاری کی ہے۔ ان ہی نقوش و قدم پر قائم مرشد کریم حضور قلندربابااولیاء نے رباعیات لکھی ہیں ۔ قلندربابااولیاء کی رباعیات نے نسل انسانی کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ رباعیات نوع انسانی کےلئے ورثہ ہے۔جس کے ذریعہ آدم ذاد خلافت و نیابت کا فراموش کردہ مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔

دنیائے طلسمات ہے یہ ساری دنیا

کیا کہیے کہ ہے کیا یہ ہماری دنیا

مٹی کا کھلونا ہے ہماری تخلیق

مٹی کا کھلونا ہے یہ ساری دنیا

 

خواجہ شمس الدین عظیمی

(خانوادہ سلسلہ عالیہ عظیمہ)

مراقبہ ہال ، لاہور

22، اکتوبر 1995ء

 

Topics


RUBAYAAT

قلندر بابا اولیاء

حضور بابا صاحب نے اپنی رباعیات میں بیشتر موضوعات پر روشنی ڈالی ہے، کہیں بنی نوع انسانی کی فطرت اور حقیقی طرز کو اجاگر کیا گیا ہے کہیں مِٹّی کے ذرے کی حقیقت اور فنا و بقا پر روشنی ڈالی ہے۔ کہیں پروردگار کی شان و عظمت کا ذکر ہے، کہیں  عالم ملکوت و جبروت کا تذکرہ ہے، کہیں کہکشانی نظام اور سیاروں ک ذکر ہے، کہیں فطرت آدام کی مستی و قلندری اور گمراہی پر روشنی ڈالی ہے، کہیں اس فانی دنیا کی زندگی کو عبرت کا مرقع ٹھہرایا گیا ہے، کہیں فرمان الہی اور فرمان رسول ﷺ پیش کرکے تصوف کے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے، کہیں عارف کے بارے میں فرمایا ہے کہ عارف وہ ہے جو شراب معرفت کی لذتوں سے بہرہ ور ہو اور اللہ تعالی کی مشیت پر راضی ہو۔

غرضیکہ رباعیات عظیم ؔ علم و عرفان کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔