Topics
اس پیرا گراف کو تین بار پڑھیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ثبات
دنیا۔۔۔ بے ثباتی سے مراد ہے کہ ظاہر دنیا کا ہونا اور غائب ہوجانا مسلسل عمل اور
ردعمل ہے۔ واضح طور پر اس بات کو بیان کرنا اس لئے مشکل ہے کہ لاکھوں الفاظ میں
کوئی لفظ ایسا نظر نہیں آتا جس لفظ کے تعاون سے یہ بات بیان ہوجائے۔ مثال سے مشکل
سے مشکل بات کسی نہ کسی حد تک واضح ہوجاتی ہے۔مرحلہ وار زندگی کا کھوج لگایا جائے
تو یہ فارمولا (Equation)بنتا ہے۔
پانی+ مٹی= کیچڑ یا گار ا
انسان
خالق کائنات کا ارشاد ہے،
"اور ہم نے انسان کو مٹی
کے ست (سللۃ) سے بنایا۔ پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند (نطفہ) میں تبدیل
کیا پھر اس بوند کو لوتھڑے (علقہ) کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنادیا۔ پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت
چڑھایا، پھر ہم نے اسے نئی صورت میں بنادیا۔ پس اللہ بڑا بابرکت ہے جو تخلیق کرنے
والوں میں بہترین خالق ہے۔" (المومنون)
قرار مکین جہاں جسم کی تخلیق
اور نشوونما ہوتی ہے۔۔۔ ماں کا درجہ رکھتا ہے اس لئے زمین ہماری ماں ہے۔ زندہ رہنے
کے لئے وسائل درکار ہیں۔۔۔ وسیلہ زمین ہے۔ کسان بیج بوتا ہے۔ رحم مادر مٹی، کسی
بھی وجہ سے بیج کو قبول نہ کرے تو جذب ہونے کی صلاحیت کے باوجود بیج تناور درخت
نہیں بنتا۔ اسی طرح خراب بیج زرخیز زمین میں ڈالا جائے تو زمین بیج کو جذب نہیں
کرتی۔ بیج مٹی میں فنا ہوتا ہے اور مٹی بیج بنتی ہے تو زمین کے اندر موجود وسائل
کا ذخیرہ پرت در پرت ظاہر ہوتا ہے۔احسن الخالقین فرماتے ہیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمین کا نظر آنے والا رخ ظاہر
اور نظر نہ آنے والا رخ باطن ہے۔
بیج کا زمین کی سطح سے باہر آنا غیب سے ظاہر
ہوتا ہے۔ بیج جب پودے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو پودے کا ربط زمین میں موجود بیج
سے قائم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نظام میں
ہر شے اعتدال اور معین مقداروں کے ساتھ قائم ہے۔ اعتدال کے لئے ضروری ہے کہ درخت
جتنا اونچا ہے اسی مناسبت سے زمین میں پھیلا ہوا ہو۔ اس لئے کہ ظاہر باطن کا عکس
ہے۔۔۔ فاصلہ چاہے جتنا ہو، شے کا مرکز سے رشتہ برقرار رہتا ہے۔۔۔ مرکز لائف لائن
ہے۔
قارئین آپ نے مٹی کے بارے میں
پڑھا۔ آپ کیا سمجھے مٹی کی فطرت کیا ہے۔۔۔؟ غیب ہے۔ اس لئے کہ ماں کے پیٹ میں
مسلسل ردوبدل ہے۔ سڑے ہوئے پانی سے نرم و نازک پھول جیسے بچے کی پیدائش کے مراحل
کو غیب کے علاوہ دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا، نشوونما کے مراحل غیب سے ظاہر ہونے
اور ظاہر ہونے کے بعد غیب ہیں۔ فارمولا یہ بنا کہ ہر شے تین رخوں پر متحرک ہے،
غیب+ ظاہر + غیب
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کیا ہے۔۔۔ سمجھئے
ڈراما نویس ڈراما لکھتا ہے تو
معاشرہ کی خوبیوں اور خامیوں کو قلمبند کرتا ہے۔ جب وہ کہانی لکھتا ہے تو رویوں کو
بنیاد بنا کرکسی کو جانب دار کردار دیتا ہے اور کوئی کردار غیرجانب دار ہوتا ہے۔
کہانی ڈرامے کی ہو یا کسی گھر کی۔۔۔ بظاہر الگ الگ ہونے کے باوجود زندگی کا حاصل
یہ ہے کہ کہانی ایک ہے لیکن بات کو پیش کرنے کا زاویہ بدلتا رہتا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں
کوئی بات نئی بات نہیں۔ کرداروں پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کہانی
ڈرامے کی ہو یا زندگی کی، رویوں سے بنتی ہے۔۔ رویے کہانی بناتے ہیں۔
سوچنا یہ ہے کہ رویے کیا ہیں؟
اگر عمل کے نتیجے میں ردعمل کو رویہ کہتے ہیں تو
ردعمل کیا ہے؟
ردعمل کی بنیاد عمل ہے تو پھر عمل کیا ہے۔۔؟
ندی کنارے سرس کا درخت تھا۔ طغیانی آئی تو درخت
جڑ سے اکھڑ کر بہہ گیا۔
بہتے ہوئے اس نے دیکھا کہ نرسل
کا درخت قائم ہے۔
حیران ہوا اور پوچھا۔ سینکڑوں
سال پرانے مضبوط درخت طغیانی میں اکھڑ گئے، تو کیسے کھڑا رہ گیا۔۔۔ وہ کون سا راز
ہے جو تجھے معلوم ہے، ہمیں نہیں۔۔؟
نرسل بولا، آؤ میں تمہیں وہ
راز بتاتا ہوں جو مجھے دشمن سے محفوظ رکھتا ہے۔ میں کسی سے جھگڑتا نہیں۔۔ طاقت ور
کے سامنے اکڑتا نہیں۔۔ اپنی بات منواتا ہوں نا کسی بات کو انا کا مسئلہ بناتا ہوں
۔۔ دشمن درپے ہوجائیں تو جھک کر جان بچالیتا ہوں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
"اور وہ لوگ جو غصہ کھاتے
ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے احسان کرنے والے بندوں سے محبت کرتا ہے۔
" ( اٰل عمران: 134(
قارئین ! آپ نے آج کی بات
پڑھی۔ آپ کیا سمجھے آج کی بات کا مفہوم کیا ہے۔۔؟
اگر مفہوم یہ لیا جائے کہ بات سے بات نکلتی
رہی۔۔۔ جن جن الفاظ کا فضا میں ارتعاش ہوا وہ سماعت کے لئے ناگوار یا گوارا محسوس
ہوئے۔۔مفہوم یہ نہیں ہے۔
لکھنے والے کے دماغ میں جو کمپیوٹر (ذہن) مسلسل
بول رہا ہے، غور نہ کیا جائے تو سماعت قبول نہیں کرتی۔ آواز دراصل لہروں کے اتار
چڑھاؤ کی تخلیق ہے۔ لہریں تیز آواز میں ناگوار اور ہلکی آواز میں سحر انگیز ہوتی
ہیں۔ اسی طرح تحریر معنی و مفہوم کے اعتبار سے بھاری، ہلکی، پسند ناپسند۔۔۔ مختلف
زاویوں کا مجموعہ ہے۔