Topics
مٹی کے سبو شراب کی محفل ہیں
نظاروں سے دنیا کے مگر بیدل ہیں
یہ دیکھتے ہیں سنتے ہیں سمجھتے بھی
ہیں
ذرات میں ان کے چشم و گوش ودل ہیں
قلندر بابا اولیاء
حضور بابا صاحب نے اپنی
رباعیات میں بیشتر موضوعات پر روشنی ڈالی ہے، کہیں بنی نوع انسانی کی فطرت اور
حقیقی طرز کو اجاگر کیا گیا ہے کہیں مِٹّی کے ذرے کی حقیقت اور فنا و بقا پر روشنی
ڈالی ہے۔ کہیں پروردگار کی شان و عظمت کا ذکر ہے، کہیں عالم ملکوت و جبروت کا تذکرہ ہے، کہیں کہکشانی
نظام اور سیاروں ک ذکر ہے، کہیں فطرت آدام کی مستی و قلندری اور گمراہی پر روشنی
ڈالی ہے، کہیں اس فانی دنیا کی زندگی کو عبرت کا مرقع ٹھہرایا گیا ہے، کہیں فرمان
الہی اور فرمان رسول ﷺ پیش کرکے تصوف کے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے، کہیں عارف کے
بارے میں فرمایا ہے کہ عارف وہ ہے جو شراب معرفت کی لذتوں سے بہرہ ور ہو اور اللہ
تعالی کی مشیت پر راضی ہو۔
غرضیکہ رباعیات عظیم ؔ علم و
عرفان کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔