Topics
زیارت کوئٹہ سے 133کلومیٹر
دور سطح سمندر سے 8500فٹ بلند تفریحی مقام ہے۔ زیارت کا نام ایک بزرگ خرواری بابا کے
مزار کی وجہ سے مشہور ہوا۔ اس کی شہرت کی دوسری وجہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی
جناح کی نسبت سے ہے۔ جنہوں نے اپنے آخری لمحات یہاں ریذیڈنسی میں گزارے۔ قائداعظم ریذیڈنسی
انگریزوں کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ لکڑی کی تعمیر کردہ یہ خوبصورت عمارت فن تعمیر
کا ایک نادر نمونہ ہے۔ اس کے وسیع و عریض سرسبز لان، چنار کے درختوں اور پھولوں سے
مزین ہیں۔ دنیا میں صنوبر کے درختوں کا دوسرا بڑا قدرتی جنگل بھی وادی زیارت میں واقع
ہے۔
زیارت کا اصل حسن اس کے قرب
و جوار کے تفریحی مقامات میں ہے۔ جہاں قدرتی مناظر کا فراوانی انسان کو شہر کے شور
و غل سے منزا کرتے ہوئے فطرت سے قریب کرتی ہے۔ ان میں سر فہرست بابا خرواری کا مزار
ہے۔ زیارت سے 8کلومیٹر دور پہاڑوں اور جنگل میں یہ مزار ایک زیریں وادی میں واقع ہے۔
اسی طرح وادی چوتیر زیارت سے لورالائی کی جانب 13کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سیب
کے باغات، درختوں سے بھرے ہوئے پہاڑ اور گھنا جنگل، وادی چوتیر کا خاصہ ہیں۔ وادی چوتیر
کی جانب ہی کربی کچھ کا پوائنٹ ہے۔ جہاں قدرتی چشموں کا ٹھنڈا و شیریں پانی دو پہاڑوں
کی تنگ گھاٹی کے درمیان بہتا ہے۔ بابا خرواری، وادی زرزری، پراسپیکٹ پوائنٹ، کربی کچھ،
وادی چوتیر، زندرہ، مناڈیم اور سنڈیمن تنگی زیارت کے سفر میں قابل دید مقامات ہیں جہاں
کی سیر ضرور کرنی چاہئے۔
آج زیارت جانے کا پروگرام
تھا۔ ترتیب اس طرح طے پائی کہ مرشد کریم نے پہلے محترم ڈاکٹر
جمال ناصر کے گھر کافی نوش کی۔ ڈاکٹر صاحب کے والد محترم ریٹائرڈ کمشنر شیخ عبدالرشید
صاحب سے ملاقات میں شیخ صاحب نے اپنی سروس کے دوران لاہور میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ
کے مرشد کریم حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کا تذکرہ
کیا اور ان کی کئی کرامات بیان کیں۔ جن میں سے چند ان کی چشم دید بھی تھیں۔ وہاں سے
زیارت روانگی ہوئی بقیہ مہمانان گرامی اور سلسلہ کے بہن بھائیوں نے مراقبہ ہال سے جناب
نواب بھائی کے ہمراہ ایک قافلہ کی صورت میں زیارت جانا تھا۔
زیارت کے سفر میں ہم نے ورچوم
میں قیام کیا یہاں سب نے چائے اور سنیکس لئے۔ اس سے آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو گیا اور
جوں جوں ہم آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ زیارت کی وجہ شہرت جو نیپر کا جنگل گھنا ہوتا چلا
جا رہا تھا۔ زیارت سطح سمندر سے ساڑھے آٹھ ہزار فٹ بلند ہے۔لہٰذا سفر میں اونچائی چڑھتے
کافی وقت لگتا ہے۔ زیارت پہنچ کر لوکل گورنمنٹ کے ریسٹ ہاؤس میں آرام و طعام کا بندوبست کیا گیا۔
تازہ دم ہو کر ہم زیارت کی
مشہور، قومی ورثہ کی یادگار قائداعظم ریذیڈنسی دیکھنے گئے۔ کئی سو سال پرانے درختوں
میں گھری یہ عمارت 1892ء میں ابتداء ایک سینی ٹوریم کے لئے تعمیر کی گئی تھی جسے بعد
میں ایجنٹ برائے گورنر جنزل کی موسم گرما کی رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں
مراقبہ ہال کا قافلہ بھی ہم سے آن ملا۔ اس عمارت کو گھوم پھر کر دیکھنے کے بعد ایف
سی ریسٹ ہاؤس پہنچے۔ جہاں مرشد کریم کا قیام تھا۔ یہ ریسٹ ہاؤس وسیع و عریض خوبصورت
لان سے مزین ہے۔ یہاں کسی نے مرشد کریم سے ریذیڈنسی کے حوالے سے آپ کے تاثرات پوچھے
تو آپ نے فرمایا کہ وہاں بہت خاموشی و اداسی تھی ایسا لگتا تھا کہ قائداعظم کی موجود
روح گلہ کر رہی تھی کہ میں نے پاکستان قوم کی اجتماعی خیر و فلاح کیلئے بنایا تھا۔
لیکن ناشکری کا جو عملی مظاہرہ کیا گیا ہے اور اس ملک کا جو حال کیا گیا ہے اس پر میں
بہت مغموم اور پریشان ہوں۔ یہ بات سب کیلئے لمحہ فکریہ تھی اور سب کی آنکھیں پرنم ہو
گئیں۔
زیارت کی اس تنگ و خوشگوار
شام میں مرشد کریم کے ہمراہ ریسٹ ہاؤس کے لان میں چائے پی گئی اور یہ نشست مغرب تک
قائم رہی۔ مغرب کے بعد اجتماعی مراقبہ ہوا۔ اور رات کے کھانے کے بعد اس خوبصورت وادی
میں سب نے چہل قدمی کی۔
20 مئی 1998ء
نشست ۔۔۔
’مزار بابا خرواریؒ ‘
Chasm E Mah Roshan Dil E Mashad
خواجہ شمس الدین عظیمی
مٹی کی
لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس
جاگیر
ہے پاس اُن کے فقط ایک قیاس
ٹکڑے جو
قیاس کے ہیں مفروضہ ہیں
ان ٹکڑوں
کا نام ہم نے رکھا ہے حواس
(قلندر
بابا اولیاءؒ )
انتساب
مربّی،
مشفّی
مرشد کریم
کے نام
الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی جب کوئٹہ و زیارت
کے تبلیغی دورہ پر تشریف لائے تو آپ نے روحانی علوم کے متلاشی خواتین و حضرات کیلئے
کئی روحانی سیمینارز، علمی نشستوں، روحانی محافل، تربیتی ورکشاپس اور تعارفی تقاریب
میں شرکت فرمائی۔ علم الاسماء، تسخیر کائنات اور خواتین میں روحانی صلاحیتوں جیسے اہم
موضوعات پر اپنے ذریں خیالات کا اظہار فرمایا۔ کوئٹہ اور زیارت کے تفریحی مقامات کی
سیر کی۔ علم و عرفان کی آگہی کے اس سفر کی روئیداد حاضر خدمت ہے۔
اس روئیداد کی تدوین، مرشد کریم کی مشفقانہ
سرپرستی سے ممکن ہو سکی۔ محترمی نواب خان عظیمی کی حوصلہ افزائی، علی محمد بارکزئی،
محمد مسعود اسلم اور زکریا حسنین صاحبان کا تعاون حاصل رہا۔