Topics

17مئی 1998ء


مرکزی سیمینار

دورہ کوئٹہ کا اہم اور مرکزی پروگرام ’’دور جدید میں علم روحانیت کی ضرورت‘‘ پر روحانی سیمینار تھا۔ جو پاکستان چلڈرنز اکیڈمی کے وسیع ہال میں الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی خانوادہ سلسلہ عظیمیہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی رئیس جامعہ بلوچستان جناب پروفیسر بہادر خان رودینی تھے جبکہ میزبان نگران کوئٹہ مراقبہ ہال جناب محمد نواب خان عظیمی تھے۔ اس خوبصورت اور باوقار ہال اور گیلری میں خواتین و حضرات کیلئے تقریباً500نشستیں پُر ہو چکی تھیں۔ حاضرین میں شہر کے معززین، اعلیٰ سرکاری افسران اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت شامل تھی۔ سٹیج پر خوبصورت اور باوقار انداز میں صاحب صدر، مہمان خصوصی اور میزبان کے لئے نشستیں مخصوص کی گئی تھیں۔

سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے راوی نے اپنے معزز مہمان کو علم و عرفان کی اس باوقار نشست اور وادی کوئٹہ میں خوش آمدید کہا۔ خالق کائنات کی تلاش کے لئے بیان کئے گئے یہ الفاظ ابھی بھی دل و دماغ کو مسحور کئے ہوئے ہیں۔

سپاسنامہ

وادی کوئٹہ میں آمد بہار کے ساتھ جہاں اس بار گلستان میں پھول مہکے ہیں اور درخت ثمر بار ہوئے ہیں وہاں برسوں بعد ایک اللہ کے دوست کی آمد سے علم و عرفان کی روشنی اہل بلوچستان کے سروں پر چھائی ہوئی ہے، بلاشبہ انوار و تجلیات سے دل معمور ہوئے ہیں۔ عقیدت اور محبت سے چشم براہ ہم آپ کو وادی کوئٹہ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

چشم ما روشن ۔۔۔ دل ماشاد

مجھے نہ صرف یقین بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ تم اہل فہم و اہل نظر ان جذبات میں میرے شریک ہیں۔

بہار۔۔۔۔۔۔دراصل قدرت کے زندہ ہونے اور کائنات کو قائم رکھنے کی نوید ہے کہ قدرت ابھی نظام فطرت قائم رکھنا چاہتی ہے جس کے تحت سوکھے تنوں اور مرجھائے درختوں میں دوبارہ زندگی دوڑ جاتی ہے۔ مرشد کی ذات بھی ایسا ہی کردار ادا کرتی ہے جب مردہ دلوں کو دوبارہ ان کی اصل کی طرف راغب کیا جاتا ہے اور ان لوگوں کو نوید حیات ملتی ہے جو حقیقت سے دور ہو کر مرجھا گئے ہوتے ہیں۔

جو لوگ اس حقیقت کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور اس فکر میں پریشان ہوتے ہیں کہ میں اسے کہاں تلاش کروں جس نے یہ بزم سجائی ہے جس کا نغمہ بلبل بھی الاپ رہا ہے، جس کی روشنی کے رنگ پھولوں میں جھلک رہے ہیں اور جس ذات کی خوشبو مختلف صفات میں الگ الگ شان سے جلوہ نما ہے۔ اس ذات کو کہاں تلاش کیا جائے جو سب کچھ بنا کر خود پوشیدہ ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔اس وسیع و عریض کائنات میں یا اپنے من میں ۔۔۔۔۔۔اپنے دل کے اندر۔۔۔۔۔۔

یہ کیسا امر ہے کہ جو رگِ جاں سے قریب ہے جو ہماری ذات سے بھی زیادہ ہم سے قریب ہے۔۔۔۔۔۔ہم اس سے بہت دور ہیں۔

قرآن پاک میں ہے:

’’اے رسول اللہﷺ! میرے بندے جب آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں ان سے قریب ہوں اور جب وہ مجھے پکارتے ہیں تو میں ان کی پکار سنتا ہوں۔

اپنی شہ رگ سے قریب اس ذات مبارکہ کو جاننے کیلئے خود اللہ رب العزت نے کائنات میں بے شمار نشانیاں رکھی ہیں اور عہل عقل و دانش کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں اور اس جستجو میں رہتے ہیں کہ اپنی اصل اور اپنے رب کو جانیں انسان کی ذات میں بھی اس نے اپنی نشانیاں رکھی ہیں اس کیلئے ضروری ہے کہ اہل علم سے رجوع کیا جائے اور اولیاء اللہ کی صحبت اختیار کی جائے تا کہ لاعلمی سے نجات مل سکے۔

صحبت صالح ترا صالح کند

صحبت طالح ترا طالح کند

عرفان حق کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے نفس کو پہچانا جائے پھر اپنی نفی کر کے حق کو جانا جائے کہ حق کو حق سے ہی پہچانا جا سکتا ہے اور استاد کامل یعنی اولیاء اللہ جو ان منازل کو طے کر چکے ہوتے ہیں ان سے رجوع کر کے ہلاکتوں سے بچا جائے۔

دانہ مٹی میں مل کر جب تک اپنا رنگ ڈھنگ ختم نہیں کر دیتا اس وقت تک اس کا نشوونما پانا ممکن نہیں ہوتا اور جب یہ چھوٹا سا ننھا منا بیج اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے تو اس کے اندر سے ایک بلند و بالا درخت جنم لیتا ہے جو اس کے باطن کا عکس ہوتا ہے اسی طرح جب ایک سالک اپنی نفی کرتا ہے تو مرشد کریم کے فیض سے وہ اپنے باطن میں موجود حقیقت سے آشنا ہو جاتا ہے۔ ایک حق آشنا مرد اس شکاری کی طرح ہوتا ہے جو چند قدم طے کرنے کے بعد ہی مشک نافہ سے ہرن کو تلاش کر لیتا ہے اور سیدھے راستے پر ہی قدم بڑھاتا ہے۔

مشک نافہ کی خوشبو پر ایک منزل چلنا، بلامقصد اور بغیر قیاس و انداز کے سو منزلوں کی راہ طے کرنے سے بہتر ہے۔

(مولانا روم)

مرشد کی صحبت نور افزاء ہوتی ہے، خلوت اولیاء اللہ سے سیکھی جاتی ہے معرفت کی راہیں اور علم کے دریا انہی کے سینوں میں مؤجزن ہوتے ہیں۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

’’بے شک اللہ کے دوستوں کو خوف ہوتا ہے اور نہ غم۔‘‘

ہمارے مہمان خصوصی رئیس جامعہ بلوچستان علم کی ایک علامت ہیں۔ سلسلہ عظیمیہ بھی ایک علمی سلسلہ ہے اس میں جہاں سلوک کی راہ میں موجود جذب و رنگ موجود ہے وہاں روحانیت اور علوم سائنس کا ایک حسین امتزاج بھی موجود ہے اور اسی طرز فکر کو فروغ دیا جاتا ہے۔ مادہ یعنی فزکس کی بنیاد میٹا فزکسMeta Physicsیا سائیکالوجی پر ہے اور سائیکالوجی کی بنیاد پیرا سائیکالوجی پر ہے، یہ پیراسائیکالوجی یا سورس آف انفارمیشن ہی روحانیت سے تعلق رکھتی ہے یا روحانیت کا دوسرا نام ہے۔ جب تک علوم قرآن و علوم مادہ کو الگ الگ رکھا جائے گا علم کی تکمیل نہیں ہو سکے گی۔ اس ربط کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد پر مادہ قائم ہے اور جو چیز مادہ کا احاطہ کرتے ہوئے اسے قائم و دائم رکھتی ہے قرآن پاک میں غور و فکر کر کے ان علوم اور اس ربط کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔

سلسلہ عظیمیہ میں روحانی اشغال یعنی ذکر و مراقبہ کے ساتھ ساتھ جہاں علوم کے حصول کو اہمیت دی جاتی ہے وہاں اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمت کر کے اللہ کا قرب اور اللہ کی دوستی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے فروغ کیلئے دنیا بھر میں 72مراقبہ ہالز قائم کئے گئے ہیں۔ مرشد کریم کی زیرسرپرستی کوئٹہ مراقبہ ہال کے زیر اہتمام علم کے فروغ کیلئے عظیمیہ روحانی لائبریریز قائم کی گئی ہیں۔ شعبہ تعلیم و تربیت کے زیر اہتمام درس ناظرہ و تجوید القرآن ہوتا ہے اور روحانی علوم کیلئے تعلیمی، تربیتی اور فکری نشست کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ شعبہ نشر و اشاعت ایک کتابچہ شائع کرتا ہے جس میں سلسلہ کی تعلیمات کو مقامی مرکز سے عام کیا جاتا ہے۔ خدمت خلق کے تحت دکھی انسانیت اور بیمار و پریشان لوگوں کو علاج و معالجہ کی بے لوث خدمات مہیا کی جاتی ہیں خدمت خلق کیلئے ٹیلی فون سروس بھی مہیا ہے اس کے علاوہ خواتین و حضرات کیلئے ہفتہ وار محافل مراقبہ کا بھی علیحدہ ایام میں اہتمام ہے۔

سلسلہ عظیمیہ دراصل محبت کا سلسلہ ہے جو انسانیت اور اس سے بڑھ کر مخلوق سے محبت کا درس دیتا ہے۔

آیئے! امن و سکون اور خالق و مخلوق کی محبت سے ہم آہنگ ہونے کیلئے اہل دل کی صحبت اختیار کریں۔

آپ سب خواتین و حضرات کا شکریہ!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب محترم احتشام الحق عظیمی نے نظامت کے فرائض نہایت وقار، عمدگی اور منجھے ہوئے انداز میں ادا کئے اور اس دوران کیا خوب کہا۔

نبیؐ کا عشق جب تک زیست میں شامل نہیں ہوتا

نظر دریا نہیں ہوتی، سمندر دل نہیں ہوتا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے کیوں ڈر ہو کشتی کا، مجھے کیوں خوف طوفاں ہو

وہ خود موجود ہوتے ہیں، جہاں ساحل نہیں ہوتا!

مقالہ

’’روحانی تعلیمات‘‘

 

میزبان محفل جناب محمد نواب خان عظیمی نگران مراقبہ ہال کوئٹہ نے روحانی تعلیمات پر اپنا مقالہ پیش کیا۔

’’معزز سامعین! سیمینار کے موضوع کی نسبت سے میں روحانی تعلیمات پر کچھ روشنی ڈالنا چاہوں گا کہ یہ تعلیمات ہم سے کیا تقاضہ کرتی ہیں۔

اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ، وہ ایک اور بے نیاز ذات ہے۔ لم یلد و لم یولد ہے۔ اور نہ کوئی اس کا خاندان ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات واحد ہے۔ جو حقیقی وجود رکھتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ اللہ ہی تھا اور دوسرا کوئی موجود نہ تھا پھر اس ذات نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے تو اس نے محبت کے ساتھ مخلوق کو تخلیق کیا اور اپنی تمام مخلوقات میں صرف انسان کو یہ وصف عطا فرمایا کہ وہ خالق کا عرفان حاصل کر سکے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ

سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات نوع انسانی کی تخلیق کا مقصد پوری طرح اجاگر کرتی ہیں۔ ان میں یہ ہدایات دی جاتی ہیں کہ احکامات الٰہی کو پورا کر کے بندہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا عرفان حاصل کرے۔ سالک کے دل میں اللہ کے عرفان کا تجسس کروٹیں لیتا ہو۔ بندہ کا تعلق رب سے اس طور استوار ہو جائے کہ بندگی اس کی رگ رگ میں رچ بس جائے اور وہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جائے کہ اللہ کے ساتھ اس کا ایسا رشتہ قائم ہے جو کسی آن کسی لمحہ اور کسی لحظہ ٹوٹ سکتا ہے اور نہ معطل ہو سکتا ہے۔

یہ امر حقوق اللہ میں شامل ہے کہ بندہ اس بات سے واقف ہو اور اس کا دل گواہی دے کہ اس نے عالم ارواح میں اس بات کا عہد کیا ہے کہ میرا رب، مجھے خدوخال بخش کر پرورش کرنے والا، میرے لئے وسائل فراہم کرنے والا، اللہ ہے۔ اور میں نے اللہ سے اس بات کا عہد کیا ہے کہ میں زندگی میں خواہ وہ کسی بھی عالم کی زندگی ہو اللہ کا بندہ اور محکوم بن کر رہوں گا۔

طرز فکر ہمارے اعمال کی بنیاد ہے۔ طرز فکر دو طرح کی ہوتی ہیں۔ اور دنیا میں سب کچھ طرز فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک طرز فکر کا تعلق براہ راست اللہ کی ذات سے ہے اور دوسری طرز فکر میں اس کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے قائم نہیں۔ اللہ کی طرز فکر کا مشاہدہ ہر آن اور ہر گھڑی ہوتا ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے۔

ہماری نشانیوں پر غور کرو، تفکر کرو۔ عاقل، بالغ، باشعور و سمجھدار اور فہیم لوگ وہ ہیں جو ہماری نشانیوں پر غور کرتے ہیں۔

اللہ کی نشانیوں میں ہوا، پانی، دھوپ، روشنی، چاندنی، ارض و سماء شامل ہیں۔ جو براہ راست اللہ کی تخلیقات ہیں۔ ان اشیاء پر غور و فکر کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء اور مقصد سامنے آتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اللہ کی تمام مخلوقات کو بلا تفریق، بے لوث خدمت اور فائدہ پہنچانے کیلئے تخلیق کی گئی ہیں۔

اللہ سے دوستی کیلئے اللہ کی طرز فکر پر خلق خدا کی بے غرض اور بے لوث خدمت کرنی ہو گی جس میں ذاتی صلہ و ستائش کی امید شامل نہ ہو اور اپنی طرز فکر کو مثبت، غیر جانبدار اور اجتماعی و فلاحی بنیادوں پر استوار کرنا ہو گا۔

انبیاء علیہم السلام کی ساری تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی طرف موڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر صلاحیتیں ذخیرہ کی ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اسے ان صلاحیتوں کے استعمال کی توفیق دیں تو یہ نیت رہے کہ میری ان صلاحیتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچے۔

حضرت قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خدمت خلق سے خدا ملتا ہے۔

عرفان نفس کے لئے ضروری ہے کہ ہم سچی خوشی سے روشناس ہوں اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ سچی خوشی کیا ہوتی ہے ہم سب کو آگاہ ہونا چاہئے کہ زندگی کا دارومدار صرف مادہ پر نہیں بلکہ اس حقیقت پر ہے جس نے اس مادی جسم کو اپنے لئے لباس بنایا ہے۔

روح سے واقفیت ہمیں شک، وسوسہ، غم اور خوف سے آزاد کرتی ہے۔ آخر شب میں بیدار ہو کر اللہ سے رابطہ کرنا چاہئے اور سب چیزوں سے الگ تھلگ ہو کر اپنا گیان و دھیان اپنے من میں موجود اس ذات کی طرف موڑ دینا چاہئے جس کی نشانیاں ارض و سماء میں پھیلی ہوئی ہیں، اس غور و فکر اور رابطہ کا طریقہ مراقبہ ہے۔

روزہ رکھ کر جسمانی کثافتیں دور کی جاتی ہیں اور باطن میں روشنی کا بہاؤ تیز کر کے روحانی بالیدگی و انشراح کا حصول ہوتا ہے صرف اور صرف اللہ کیلئے روزہ کی جزاء خود اللہ کی ذات و صفات ہیں۔

صلوٰۃ قائم کر کے اصل معنوں میں اللہ سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ صلوٰۃ قائم ہونے سے غیب جس میں فرشتے جنت اور خود اللہ تعالیٰ کی ذات بھی شامل ہے، مشاہدہ میں آ جاتا ہے۔ جو مومن کی معراج ہے۔

زکوٰۃ غریبوں کی بے لوث اعانت ہے جس میں دکھاوا و ستائش شامل نہیں ہونی چاہئے۔ یہ مخلوق خدا کی بے غرض خدمت ہے۔ اگر اعمال کی نیت و بنیاد رضائے الٰہی بنالی جائے تو بندہ اللہ کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔

حقوق العباد کے تقاضوں اور اس کی روح سے ہم آہنگ ہونے کیلئے یہ عمل گھر میں والدین، بیوی بچوں، رشتہ داروں اور دوستوں سے شروع کرنا چاہئے اور گناہوں سے نجات کیلئے توبہ کا در جھانکنا چاہئے۔ دعا سے پہلے عمل کو اپنانے سے امید کی کرن کامیابی میں ڈھل جاتی ہے۔

اللہ ہی ہماری ضروریات کا اصل کفیل ہے۔ جہاں دولت کا ایک رخ زندگی کو عذاب جہنم کی مثال بنا دیتا ہے وہاں اس کا دوسرا روپ مسرت، قناعت اور شادمانی کا ہے۔ لالچ، جبر، غرض اور حرص و ہوس سے ارتکاز زر انسان کو درندہ اور زندگی کو نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ جبکہ دولت سے ضرورتمندوں، بیواؤں اور غریبوں کی فلاح کے اجتماعی کام ضمیر کو اطمینان و سکون کی دولت میسر کرتے ہیں۔

قرآن حکیم میں ہے:

’’اے نبیﷺ! وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں۔’’کہہ دو کہ اپنی ضرورت سے زائد۔‘‘

محبت انسانی معاشرہ کی مضبوط ترین بنیاد ہے۔ محبت سراپا اخلاص ہے اور نفرت مجسم غیض و غضب ہے۔ غصہ بھی نفرت کی ایک شکل ہے اور نفرت کا ایک پہلو تعصب ہے۔ ایسا بندہ محروم رہتا ہے۔

انسان روشنیوں سے مرکب ہے جن لوگوں نے قلب اللہ کے انوار سے معمور ہیں اور جن کے دل و دماغ میں خلوص، ایثار و محبت، پاکیزگی اور خدمت خلق کا جزبہ موجود ہوتا ہے ایسے لوگوں کے چہرے خوش نما اور معصوم ہوتے ہیں۔ تکبر، نفرت اور احساس گناہ، کراہیت، بیوست و خشونت پیدا کرتے ہیں۔

پاکیزہ طرز فکر، حقوق العباد کی اخلاص سے ادائیگی اور حقوق اللہ کا عرفان آپ کو اس راستے پر لے چلتا ہے۔ جو آپ کو اللہ تک پہنچا دیتا ہے آپ کا تعلق اللہ رب العزت سے جُڑ جاتا ہے تو کائنات کی اصل حقیقت آپ پر آشکارا ہو جاتی ہے کہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا ہمارا مالک اللہ ہے۔ اس نے انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اس کو پہچانیں۔

خاتم النبیین سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ راز بتایا ہے کہ بندہ خالق کو اس وقت پہچان سکتا ہے جب اس کا ہر عمل صرف اور صرف اللہ کے لئے ہو۔ جب بندہ کی ذاتی غرض درمیان میں نہیں رہتی۔ تو بندہ اور خالق کا براہ راست رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور اس آیت کی عملی تفسیر سامنے آ جاتی ہے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کیلئے ہے۔

خود شناسی کا طالب علم ہر چیز کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے خواہ وہ پتھر و کنکر ہوں یا سونا و چاندی۔ جب تک کوئی بندہ خود شناسی کے علم سے ناواقف رہتا ہے اس کا من بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ من کی بے چینی اور بے قراری دور کرنے کیلئے ایک مخصوص طرز فکر اپنانا ضروری ہے اور یہ آزاد طرز فکر ہے۔ آزاد طرز فکر دراصل قلندر شعور ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم ہے۔

جو لوگ علمی اعتبار سے مستحکم ذہن رکھتے ہیں یعنی ایسا ذہن جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو اور ایسا ذہن جو شیطانی وساوس، کثافت اور آلودگی سے پاک ہو وہ استغناء کے حامل ہوتے ہیں۔

استغناء کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر ایمان ہو اور ایمان کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر وہ نظر کام کرتی ہو جو غیب میں دیکھتی ہو بصورت دیگر کسی بندہ کو کبھی سکون میسر نہیں ہو سکتا۔

حضرت سید البشر رحمت عالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کائنات میں گھڑی بھر کا تفکر سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ قرآن پاک نے غور و فکر یعنی ریسرچ کو ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔ چنانچہ کائنات کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں جو قوانین جاری و ساری ہیں۔ ان کو جاننا بھی ہر ذی شعور مسلمان کا ایک فریضہ ہے۔

اللہ کی نشانیوں میں تدبر اور تفکر کے نتیجے میں سائنسی حقائق کا مشاہدہ بندہ کو اللہ کی ذات پر ایمان لانے کیلئے مجبور کر دیتا ہے جو نیابت و خلافت ازل میں آدم کو بخشی گئی تھی اگر آج آدم زاد اس نیابت و خلافت سے ناواقف ہے تو محض شکل و صورت کی بناء پر اسے اولاد آدم کا حقیقی درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی بندہ اللہ کے اسماء کا علم نہیں جانتا تو وہ اللہ تعالیٰ کا نائب نہیں۔ آدم زاد کو دوسری مخلوقات پر یہی شرف حاصل ہے کہ وہ اسمائے الٰہیہ کا علم رکھتا ہے۔

سعید روحیں قابل رشک و قابل مبارکباد ہیں جو اپنے مقاصد کو جانتے ہوئے ان خصوصیات کی حامل ہیں جن کے مشاہدہ میں یہ بات آ جاتی ہے کہ

۔۔۔ ہم تمہاری رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔

۔۔۔ جہاں بندہ ایک ہے وہاں دوسرا اللہ ہے جہاں بندے دو ہیں وہاں تیسرا اللہ ہے۔

۔۔۔ اللہ ہی ابتداء ہے۔ اللہ ہی انتہا ہے۔

۔۔۔ اللہ ہی ظاہر ہے اور اللہ ہی باطن ہے۔

۔۔۔ جب بندہ قرب نوافل سے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔

آیئے!

ان ازلی سعید روحوں کے ساتھ چلیں جو خود بھی باعمل ہیں اور دوسروں کو بھی صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دے رہی ہیں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہال میں اب ایک علمی ماحول اور روحانی کیفیت بن چکی تھی۔ اللہ کی نسبت کا حاصل ہونا اور انسان کا اپنے شرف کو بحال کرنا یہ دعوت سب پر عیاں تھی۔ اب مہمان خصوصی بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر محترم پروفیسر بہادر خان رودینی کو دعوت خطاب دی گئی۔

خطاب مہمان خصوصی

محترم پروفیسر بہادر خان رودینی

وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی، کوئٹہ

آپ نے کہا!

آج کا دن میری زندگی کا ایک یادگار دن ہے اور میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اس بابرکت محفل کے مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ میں نگران مراقبہ ہال کا شکر گزار ہوں کہ مجھے ایسی روحانی محفل میں بلایا گیا ہے۔

مجھے بڑی مسرت ہوئی ہے کہ اب ہم مادیت سے روحانیت کی جانب آ رہے ہیں اور کوئٹہ بھی اس شرف سے محروم نہیں رہا جیسا کہ جناب نواب خان عظیمی نے فرمایا کہ پوری دنیا میں 72مراقبہ ہالز قائم کئے گئے ہیں اور کوئٹہ میں بھی مراقبہ ہال کام کر رہا ہے۔ میں ان کو اس روحانی جستجو، روحانی کاوش اور روحانی اقدار اجاگر کرنے پر بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

انسان، کائنات اور خدا پر ابتدائے آفرینش سے جتنے اختلاف رہے ہیں وہ آج بھی تمام دنیا میں مختلف صورتوں میں موجود ہیں۔ کئی بڑے بڑے فلاسفر، سائنس دان اپنی تھیوریز پیش کر چکے ہیں۔ کائنات مادہ ہے Natureنیچر کی تخلیق ہے مادہ پرست خدا کے قائل نہیں لیکن مادہ کی ساخت اور اس کا متحرک رہنا ہی ان کے نظریات کی نفی کرتا ہے۔ مادہ پرست خصوصاً جرمن فلاسفر ہیگل خود اس کے قائل ہوئے کہ مادہ کو حرکت میں لانے والی کوئی دوسری طاقت ہے جسے وہ سپریم پاور یا Absolute Powerکا نام دیتے ہیں، وہ اللہ کی ذات پاک ہے جس کیلئے ہم سب یہاں جمع ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی ذات میں وہ تمام صفات موجود ہیں جیسے کہ ابھی میرے دوستوں نے ذکر کیا ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ قرآن حکیم میں کائنات کی تخلیق کیلئے کن فیکون آیا ہے کہ جب وہ اشارہ کرے تو کائنات تخلیق ہو جائے اور اسی کے ایک اشارہ پر کائنات تباہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کائنات کی تشکیل میں اللہ کے راز پوشیدہ تھے۔ انسان کو تخلیق کرنے کا کیا مقصد تھا جبکہ اللہ کی عبادت کیلئے فرشتے موجود تھے، اللہ کی منشاء یہی تھی کہ انسان اس کے نائب کی حیثیت سے تمام کائنات میں اس کی پہچان کی تدبیر کرے اور دین کو پھیلائے اور اسی لئے حضرت آدمؑ کی تخلیق ہوئی اور حکم ہوا کہ تمام فرشتے انہیں سجدہ کریں جس پر شیطان انکاری ہوا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو جو علوم سکھائے وہ فرشتے نہیں جانتے تھے۔ جب حضرت آدم ؑ نے اسماء بنائے تو فرشتے حیران ہوئے اور پھر تمام فرشتے آدم ؑ کے سامنے سربسجود ہو گئے اور اللہ کی عظمت کے قائل ہوئے۔

ایک استاد کے بغیر کوئی شئے کامل نہیں ہو سکتی اگر اس کے بغیر علم حاصل کیا جائے یا استاد ہی کو چیلنج کر دیا جائے تو ہم تکمیل کی حد تک نہیں پہنچ سکتے اور منزل کو پانا ہمارے بس کی بات نہ ہو گی۔

آج سے چودہ سو سال قبل آنحضرتﷺ نے جو فرمایا وہ سب سچ ثابت ہو رہا ہے مثلاً روشنی کی رفتار انسانی عقل و فہم سے کئی گناہ زیادہ تیز تر ہوتی ہے۔ مادہ پرست یہ چیلنج کرتے ہیں کہ جب آپﷺ معراج پر تشریف لے گئے تو یہ ناممکن بات لگتی ہے اور ہم یہ کیسے مان لیں کہ آپﷺ ایک ہی رات میں 18سال کا سفر مکمل کر کے واپس تشریف لائے تو کُنڈی ہل رہی تھی۔ یہ تو انسان کے بس کی بات نہیں۔

یہی تو وہ روحانی اقدار ہیں جو ناقابل یقین ہیں لیکن جب انسان کو اللہ کی نسبت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ قابل یقین بن جاتی ہیں۔ یہ اعتراض کرنے والے ہی ہیں جب امریکہ کی خلائی شٹل میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو اس کو زمین سے ہی کنٹرول کر کے خلائی شٹل کی خرابی دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ علم جسے سائنس کہا جاتا ہے وہ علم جو اللہ تعالیٰ عطا کرتے ہیں اس علم کا بہت معمولی سا حصہ ہے۔

یورپ والے کہتے ہیں کہ ہم یوگا کے ذریعے خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں، سکون اس طرح نہیں مل سکتا۔ آپ لاکھ کوشش کریں یوگا کی پریکٹس کریں جب تک اپنے نفس کو صحیح نہیں کریں گے، انر سلفInner selfکو نہیں پہچانیں گے اس وقت تک روحانی خوشی نہیں مل سکتی۔

میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لینا چاہتا جبکہ میں خود خواہش مند ہوں کہ مرشد کریم کے ارشادات سے میں بھی مستفیض ہوں۔ ان خیالات کے ساتھ میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔

شکریہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترم شیخ الجامعہ نے سیمینار کے موضوع پر اپنے علم، تجربہ اور مشاہداتی حوالہ سے خطاب کے اختتام پر جب صاحب صدر کو مرشد کریم کے حوالہ سے مخاطب کیا تو ایسا معلوم ہوا کہ وہ سلسلہ ہی کی نہیں بلکہ ہال میں موجود تمام صاحب دل افراد کی ترجمانی کر رہے ہوں۔

اب تمام شرکاء مجلس کی نگاہیں مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی مدظلہ کی ذات پر مرکوز ہو گئیں جو قرآنی و روحانی علوم، نظریہ رنگ و نور، اسلامی و روحانی سائنس کے داعی اور ممتاز روحانی اسکالر کے طور پر ایک دنیا میں متعارف ہیں۔ آپ کا انداز خطابت شرکائے محفل کو مبہوت کئے ہوئے تھا۔ انسان و دیگر مخلوقات کے علم و شعور کا موازنہ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تسخیر کائنات کے واقعات، انسان کے اصل شرف اور کامیابی کا شعور، ان نکات پر آپ کے عالمانہ اور عارفانہ کلام کے نکات دل و دماغ میں اترتے چلے جا رہے تھے۔

خطاب مرشد کریم

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمo

الحمد للّٰہ رب العٰلمینoالرحمٰن الرحیمo

مٰلک یوم الدینoایاک نعبدو و ایاک نستعینo

اھدناالصراط المستقیمoصراط الذین انعمت علیھم

غیر المغضوب علیہم ولا الضآلینo

 

محترم پروفیسر بہادر خان رودینی صاحب،

محترم نواب خان صاحب،

معزز خواتین و حضرات السلام علیکم!

’’کائنات کا تذکرہ تو بعد کی بات ہے جب ہم زمین کا تذکرہ کرتے ہیں تو بے شمار مخلوقات زیر بحث آ جاتی ہیں۔ مخلوقات میں چرند، پرند، چوپائے اور حشرات الارض سبھی شامل ہیں۔ ان مخلوقات میں سے ایک مخلوق آدم ہے۔ آدم زاد جب اپنا اور دوسری مخلوق کا موازنہ کرتا ہے تو اس کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ آدم کو دوسری مخلوقات پر ایک فضیلت حاصل ہے۔

اس فضیلت کی بنیاد اگر شعور کے اوپر رکھی جائے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی اس لئے کہ جب آدم کے شعور ایک شہد کی مکھی کے شعور کا موازنہ کیا جائے تو انسان انتہائی درجہ ندامت محسوس کرتا ہے کیونکہ شہد کی مکھی کا بھی اپنا ایک مکمل اور منظم نظام موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں شہد کی مکھی پر وحی نازل کرتا ہوں۔

وہ رس چوس کر چھتوں میں شہد جمع کرتی ہے۔ اس نظام کو دیکھتے ہوئے انسان کی عقل بے بس ہو جاتی ہے کہ اتنا چھوٹا جانور اور اتنی تنظیم۔۔۔! مثلاً شہد کی مکھی جب کسی پھول میں سے رس چوستی ہے تو اپنی ٹانگوں میں چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں رس بھر کر جب وہ اپنے چھتے میں جاتی ہے تو وہاں سیکورٹی گارڈز ہوتے ہیں وہ مکھی کو چیک کرتے ہیں کہ کہیں یہ مکھی غلط قسم کا رس تو نہیں لے آئے اگر مکھی غلط قسم کا رس لے آتی ہے تو اس کی سزا یہ نہیں ہوتی کہ اسے چھتے سے نکال دیا جائے یا اسے دوسرا رس لانے کو کہا جائے بلکہ قانون یہ ہے کہ وہ سیکورٹی فورس اس مکھی کو جان سے مار دیتی ہے کہ اس نے غلطی کیوں کی۔ پھر شہد کی مکھی کو اس بات کا بھی علم ہے کہ کون سے پھول میں صحت بخش رس ہے اور کونسے پھول میں زہر ہے۔ لہٰذا وہ انہی پھولوں کا انتخاب کرتی ہے جو انسانی صحت کیلئے شفا کا ذریعہ ہیں۔ انسان جب اس بات کو دیکھتا ہے تو بے بس ہو جاتا ہے۔

اسی طرح جب آدم زاد کا کتے سے موازنہ کیا جائے تو کتے کو ایک ایسا جانور سمجھا جاتا ہے جسے ہم حقیر اور ناپاک جانتے ہیں۔ اسے گھر میں بھی نہیں پالتے اور بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کا سانس بھی لگ جائے تو غسل کرنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یعنی اسے ہم ایک پلید جانور سمجھتے ہیں۔ انسانی بے راہ روی کی ایک مثال منشیات ہے جس کے چکر میں انسان اپنی انسانیت کو تباہ کرنے کے درپے ہو گیا ہے۔ منشیات رکھنے والے مجرم کو کوئی انسان نہیں پکڑ سکتا جبکہ کتا سونگھ کر بتا دیتا ہے کہ یہ مجرم ہے۔ یعنی انسان اپنے معاشرے اور ماحول میں اپنے مجرم کو بھی نہیں پکڑ سکتا وہاں بھی وہ کتوں کا محتاج ہے اور آج کل تو انسان سے زیادہ ان کتوں کی قیمت ہوتی ہے۔

اسی طرح جب ہم ایک پرندے بیا کا تجزیہ کرتے ہیں، وہ اپنے گھونسلے کو بُنتا ہے جو اتنا پیچیدہ اور مضبوط ہوتا ہے کہ آندھی و طوفان سے اگر درخت جڑے سے اکھڑ جائے تو بھی اس کا گھونسلہ نہیں ٹوٹتا، درخت تو گر سکتا ہے مگر گھونسلہ نہیں ٹوٹتا۔ اس گھونسلے میں بستر(Beds) ہوتے ہیں۔ اس کے بچوں کیلئے جھولے ہوتے ہیں اور انتہا تو یہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں اس کے گھر میں قمقمے روشن ہوتے ہیں۔ وہ یہ کرتا ہے کہ جگنو کو پکڑ کر اپنے گھونسلے میں بند کر دیتا ہے اور جگنو کی روشنی سے اس کا گھر روشن و منور رہتا ہے۔

آپ جتنا غور و فکر کرینگے تو یہ حقیقت واضح ہو گی کہ انسان کو محض عقل و شعور کے لحاظ سے فضیلت حاصل نہیں۔ اسی طرح آپ چیونٹیوں کا نظام دیکھیں۔ مثلاً ان کو یہ پتہ ہے کہ برسات میں ہمارے لئے غلہ اکٹھا کرنا ممکن نہیں رہے گا ان چیونٹیوں میں سے کچھ معمار اور کچھ غلہ اٹھا کر لانے والے مزدور ہوتے ہیں انہی چیونٹیوں میں کچھ سٹور کیپر ہوتے ہیں۔ معمار خانے بناتے ہیں اور مزدور ہر خانے میں خوراک الگ الگ رکھتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر آپ گھر دیکھیں تو زمین کی انتہائی گہرائی میں سرنگ کی طرح ان کی دیواریں ہوتی ہیں۔ اور ان دیواروں کے اندر وہ شیلف کی طرح خانے بناتے ہیں تا کہ بارش کے پانی سے ان کے ذخیرے کو نقصان نہ پہنچے اور بارش کا پانی نیچے چلا جائے۔

سورہ نمل ایک چیونٹی کے نام پر ہے۔ قرآن شریف میں حضرت سلیمان ؑ کے حوالے سے اس کا ذکر آیا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ جن کو اللہ پاک نے چرند، پرند، نباتات، حشرات الارض، جن و انس سب مخلوقات پر حکمرانی عطا فرمائی تھی۔ ان کا لشکر چلا جا رہا تھا۔ تو ملکہ چیونٹی نے اپنی رعایا سے کہا کہ سلیمان ؑ کا لشکر آ رہا ہے جلدی سے اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان ؑ کا لشکر تمہیں روندتا ہوا گزر جائے۔ چیونٹیاں جلدی جلدی اپنے اپنے بلوں میں گھسنے لگیں۔

روایت ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے چیونٹی کی یہ بات سن لی۔ حضرت سلیمان ؑ نے وہاں توقف کیا اور قیام فرمایا اور اس چیونٹی کو اٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیا اور اس سے پوچھا کہ تو اپنی رعایا سے اتنی محبت کرتی ہے اور تجھے ان کا اتنا خیال ہے۔ اس نے کہا کہ کیوں میں اپنی رعایا کا خیال نہ رکھوں؟ بلکہ میں تو اسی لئے ہوں کہ ان کا خیال رکھوں اور ان کی حفاظت کروں۔ حضرت سلیمان ؑ بہت خوش ہوئے اور پوچھا مجھے جانتی ہو یا نہیں؟ چیونٹی نے کہا کہ اگر نہ جانتی تو اپنی رعایا میں یہ اعلان کیسے کرتی کہ سلیمان ؑ کا لشکر آ رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تو یہ بھی جانتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر چیز پر حکمرانی و بادشاہی عطا کی ہے؟ ہر چیز پر میرا تصرف ہے اس نے کہا کہ ہاں میں یہ بھی جانتی ہوں۔ پھر حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا بتا تیری سلطنت بڑی ہے کہ میری۔ ملکہ چیونٹی نے جواب دیا کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی سلطنت بڑی ہے۔ اصل اور بڑی سلطنت تو پروردگار کی ہے۔ لیکن میں اس وقت کہہ سکتی ہوں کہ سلیمان ؑ جو زمین کی ہر مخلوق پر حکمران ہے اس وقت اس کی ہتھیلی میرا تخت ہے۔ سلیمان ؑ نے اس چیونٹی کی عقل دیکھ کر اسے زمین پر رکھ دیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اب آپ غور فرمائیں۔

اسی طرح ہر پرندہ یہ جانتا ہے کہ اس نے کیا کھانا ہے۔ ہر چوپایا عقل و شعور رکھتا ہے کہ غذا کیا ہے۔ کسی بکری نے کبھی گوشت نہیں کھایا، شیر ہمیشہ گوشت کھاتا ہے۔ کیوں! اس بات سے اس کے عقل و شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔شیر کا مطلب ہے گوشت کھانے والا جانور، بکری کا مطلب ہے گھاس کھانے والا جانور۔ یہ تمہید بہت لمبی ہو جائیگی۔ اس پر آپ جتنا تفکر اور غور کرینگے یہ بات واضح ہوتی چلی جائے گی اور اس کا یہی نتیجہ نکلے گا کہ عقل و شعور کی بنا پر انسان زمین کی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق سے ہرگز ممتاز نہیں۔

آپ گھر بناتے ہیں پرندہ بھی گھر بناتا ہے۔ وہ اپنی ضرورت کے مطابق بناتا ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں کے لئے گھر چھوڑ جاتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ آپ نے پتا نہیں کیا کارنامہ انجام دے دیا۔۔۔۔۔۔چڑیوں کا عجیب نظام ہے۔ چڑیوں کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں تو جیسے ہی بچے روزگار میں خود کفیل ہوتے ہیں۔ وہ ماں باپ ک و چھوڑ کر اپنا علیحدہ گھونسلا بنا لیتے ہیں۔ اگر کسی انسان کے سات آٹھ بچے ہوں اور وہ مر جائے تو یہ بچے گھر کے لئے لڑتے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں کہ انسان کماتا ہے، روزی کیلئے کوشش کرتا ہے تو اس طرح سارے پرندے صبح نکلتے ہیں اور شام تک گشت کرتے رہتے ہیں اور اپنی روزی تلاش کرتے ہیں۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے ایک قصہ سنایا کہ ایک بندر انسانی آبادی میں نکل آتا ہے اور انسان کی بود و باش کو دیکھ کر کچھ عرصہ کے بعد واپس چلا جاتا ہے۔ اپنی برادری میں پہنچتے ہی سارے جنگل کے بندر اسے ایک اونچے درخت پر بٹھا کر کہتے ہیں کہ اپنی واردات سناؤ۔ وہ بندر اپنی روئیداد سناتے ہوئے کہتا ہے کہ وہاں ایک عجیب جانور رہتا تھا اس کے بیوی اور بچے بھی تھے۔ وہ جانور صبح روزی کی تلاش میں نکلتا اور رات کو واپس آتا مگر وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا اس کی مادہ خو خو کرتی ہوئی اس کے پیچھے پڑ جاتی اور جھگڑتی رہتی۔ صبح کو وہ جانور پھر چلا جاتا اور رات کو واپس لوٹ آتا ہے اس کی مادہ پھر اس کے پیچھے پڑ جاتی۔ دوسرے بندر حیرانی سے کہتے کہ کیا اس کی مادہ نے اسے رسی ڈال رکھی تھی کہ وہ رات کو واپس آ جاتا تھا۔ کہا نہیں اس کے کوئی پاؤں میں رسی نہیں ہوتی تھی۔ بس خود ہی واپس آ جاتا تھا۔ اس بات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بندروں کو بھی اللہ نے عقل و شعور سے نوازا ہے جو اس نے اتنا تجزیہ کیا۔

اسی طرح ایک شیر اور آدمی کا مقابلہ ہو گیا۔ آدمی شیر کی زبان جانتا تھا۔ اور شیر آدمی کی زبان جانتا تھا۔ شیر کہتا تھا کہ میں طاقتور ہوں اور آدمی کہتا تھا کہ میں طاقتور ہوں۔ شیر نے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی دلیل ہو تو مجھے بتائیں کہ انسان کس طرح شیر سے طاقتور ہے۔ انسان نے جیب سے ایک تصویر نکالی جس میں ایک آدمی شیر کے اوپر سواری کر رہا تھا اور اسے شیر کو دکھایا۔ شیر حیران بھی تھا اور ساتھ ساتھ سوچتا بھی رہا، سوچنے کے بعد شیر نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ یہ تصویر کس نے بنائی ہے۔ اس انسان نے کہا کہ انسان کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہے۔ تب شیر نے کہا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ جس دن شیر کو تصویر بنانا آ جائے گی تو اس دن آدمی نیچے ہو گا اور شیر اوپر ہو گا۔

بتانا یہ مقصود ہے کہ محض عقل و شعور کی بناء پر انسان کسی طرح بھی حیوانات سے ممتاز نہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ میں حیوانات کی نسبت عقل تھوڑی زیادہ ہو لیکن کتے کے سونگھنے کی حس تک انسان پہنچ ہی نہیں سکتا۔ شاہین کی آنکھیں ماورائے بنفشی شعاعوں (Ultra Violet Rays) کو دیکھتی ہیں۔ انسان کی آنکھوں کے سامنے اگر ہلکا سا کاغذ رکھ دیا جائے تو وہ اس کے پار دیکھ ہی نہیں سکتا۔ اُلو کی آنکھ انسان سے زیادہ صاف دیکھتی ہے۔ بیماریاں حیوانات کی نسبت انسانوں میں زیادہ ہیں۔ مثلاً کسی نے آج تک یہ نہیں سنا ہو گا کہ کسی بھیڑ کی آنکھوں میں موتیا اتر آ یا ہو۔ آدم اشرف المخلوقات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام مخلوقات پر شرف عطا کیا ہے۔ ان مخلوقات میں زمین سے باہر کی دنیاؤں کی مخلوقات بھی شامل ہیں اور فرشتے و جنات بھی شامل ہیں۔ اب تلاش یہ کرنا ہے کہ یہ شرف عقل و شعور کی بنیاد پر ہے یا کوئی اور ایسی چیز ہے کہ جس کی بنیاد پر اس کو یہ شرف حاصل ہے۔

جب اللہ نے آدم کو بنایا تو فرشتوں سے کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے اور فرشتوں کو صرف الفاظ سے مطمئن نہیں کیا۔

آدم علیہ السلام کو علم الاسماء سکھایا اور آدم سے کہا!

کہ جو علوم میں نے تمہیں سکھائے ہیں وہ تم بیان کرو آدم علیہ السلام نے اللہ سے سیکھے ہوئے علوم جب فرشتوں سے بیان کئے تو فرشتوں نے برملا یہ اعتراف کیا کہ ہمیں یہ علم نہیں آتا اور ہمیں تو اتنا ہی علم آتا ہے جتنا اللہ نے ہمیں سکھایا ہے۔ یعنی آدم کو اللہ نے وہ علوم سکھائے جو فرشتوں کو بھی نہیں سکھائے۔

ان علوم کا نام اللہ نے علم الاسماء رکھا اور علم الاسماء اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ اللہ کی صفات کیا ہیں؟ سب جانتے ہیں صفات تخلیقی مراحل کے علاوہ کچھ نہیں یعنی خالق کی صفات کا مطلب ہے کہ تخلیق کرنے کی صلاحیت۔ مثلاً ایک پڑھا لکھا آدمی جسے ہم عالم فاضل کہتے ہیں یہ اس کی صفت ہے۔ وہ علم سکھاتا سکتا ہے وہ علم سے نئی نئی ایجادات کر سکتا ہے یا مثلاً ایک ڈاکٹر صاحب ہیں ان ڈاکٹر صاحب کی یہ صفت ہے کہ وہ علاج معالجے کے علم سے واقف ہیں۔ اسی طرح خالق کی صفت یہ ہے کہ وہ تخلیقی فارمولوں کا عالم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو تخلیقی فارمولوں کا علم سکھایا۔ کیوں سکھایا؟ اللہ نے قرآن حکیم میں فرمایا ہے:

انی جاعل فی الارض خلیفہ

’’میں نے زمین پر اپنا ایک نائب بنایا ہے۔‘‘

نائب کا مطلب ہے کہ جو میرے اختیارات کو استعمال کر سکے کیونکہ انسان کے پاس وہ علوم موجود ہیں جن کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی نیابت کے فرائض ادا کرتا ہے۔ اسی لئے انسان ساری زمین اور ساری کائنات پر فضیلت رکھتا ہے۔ عقل و شعور بالکل الگ چیز ہیں۔ علم الاسماء بالکل الگ چیز ہے۔ عقل و شعور کائنات کی ہر مخلوق کو حاصل ہے۔ مگر علم الاسماء انسان کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں۔ کوئی انسان عقل و شعور کی بناء پر افضل نہیں ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کی فضیلت اس بات پر قائم ہے کہ وہ ان علوم سے واقف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔

دور جدید ہو یا دور قدیم علم کی حقیقت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ علم حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ بات تو طے ہو گئی کہ انسان عقل و شعور کی بنیاد پرفضیلت نہیں رکھتا۔

انسان کے پاس دو قسم کے علم ہیں۔ ایک مفروضہ علم ہے جس پر مادہ کی ساری بنیاد کھڑی ہوئی ہے۔ ہم وکیل بنتے ہیں، ڈاکٹر بنتے ہیں، انجینئر بنتے ہیں، سائنسدان بنتے ہیں، نئی نئی ایجادات کرتے ہیں، اگر ان ایجادات پر تفکر کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ جب تک حقیقی علم نہ ہو کوئی ایجاد ممکن نہیں۔ مثلاً اگر آپ کوئی چیز ایجاد کرتے ہیں اور اس میں لوہے کا عمل دخل ہے تو اس لوہے میں اللہ نے انسانوں کے لئے بے شمار فائدے رکھے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس میں تغیر و تبدل نہیں۔ لوہا لوہا ہی ہے لیکن اس لوہے میں آپ تصرف کر کے اس سے ریل بنا لیں، جہاز اور سائیکل کا پہیہ بنا لیں، ترازو بنا لیں۔ یہ ترازو کا بنانا، ریل کا بننا اور چلنا، ریل کی پٹڑی بننا یہ ایک مفروضہ ہے۔ لوہا حقیقی ہے۔ اسی طرح لکڑی ہے، لکڑی کا اپنا ایک تشخص ہے۔

علم کے بارے میں غور کیا جائے تو انسان دو علوم میں گھر نظر آتا ہے۔ چاہے کوئی پڑھے نہ پڑھے جاہل ہو یا عالم فاضل، پی ایچ ڈی کیوں نہ ہو جائے ان دو علوم کے دائروں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ایک مادی علم ہے اور دوسرا علم مادہ کو تخلیق کرتا ہے۔ اب مادہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے صفات رکھی ہیں اس سے استفادہ کرنا الگ بات ہے اور مادہ کی تخلیق الگ بات ہے۔ جب ہم انسان کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو انسان مادہ اور حقیقت دونوں میں زندگی بسر کرتا نظر آتا ہے۔

مادہ کیا ہے! ہمارا جسمانی وجود، گوشت پوست، ہڈیاں، کھال اور حقیقت کیا ہے؟ اس گوشت پوست کے جسم کو متحرک کرنیوالی شئے روح ہے جو حقیقت ہے آپ جب انسانی وجود پر غور کرینگے تو معلوم ہو گا کہ انسانی وجود کی اپنی ذاتی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہاتھ، پیر، ناک، کان، آنکھ، گردے، دماغ وغیرہ وغیرہ جو کچھ بھی ہے۔ انسان اللہ کی ایک بہت بڑی مشینری ہے۔ لیکن انسان کی اپنی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ ذاتی حیثیت سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہے۔ اگر جسم کے اندر حقیقی علم یعنی روح موجود نہ ہو تو جسم انسانی میں کوئی حرکت نہیں ہو سکتی۔ دن رات یہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ آدمی مر جاتا ہے تو لاش پڑی رہتی ہے۔ اس میں حرکت نہیں ہوتی۔ سارا جسمانی نظام مفلوج و معطل ہو جاتا ہے۔ کسی لاش یا مردہ جسم میں حرکت کیوں نہیں ہوتی! تو اصل انسان کون ہوا؟

اصل جسم یعنی ’’روح‘‘ کا علم حقیقی علم ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ علم انسان کے علاوہ کسی کو نہیں دیا۔ یہی وہ علم ہے جس کی بنیاد پر انسان کو فضیلت حاصل ہے۔ یہی وہ علم ہے جس کی بنیاد پر انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اسی علم کی بنا پر انسان خلیفہ کہلاتا ہے۔ اسی علم کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

کہ ہم نے تمہارے لئے سورج، چاند اور ستاروں کو مسخر کر دیا ہے۔ تم چاہو تو ان میں تصرف کر سکتے ہو ہم نے چاند کو تمہارے لئے تابع فرمان کر دیا ہے اور اس کی مثالیں آپ کے سامنے موجود ہیں۔ چاند کا نکلنا، چاندنی سے لطف اندوز ہونا چاند کی تسخیر نہیں ہے۔ چاندنی سے جس طرح انسان لطف اندوز ہوتا ہے زمین پر موجود ہر مخلوق چاندنی سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ اگر چاند کی چاندنی سے لطف اندوز ہونا تسخیر قمر ہے تو پھر چاند بلی کے لئے مسخر ہے۔ درختوں اور پرندوں کے لئے بھی مسخر ہے۔

چاند کی تسخیر یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک یہودی اور ابوجہل آتے ہیں اور ابو جہل یہودی کو کہتا ہے کہ آج جادو اور نبوت کا پتہ چل جائے گا۔ یہ جادوگر(نعوذ باللہ) ہے۔ جادو زمین کی ہر چیز پر چل سکتا ہے مگر آسمان پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا تم محمدﷺ سے کہو کہ چاند کے دو ٹکڑے کر دو تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ تو اللہ جانتا ہے کہ کون ایمان لائے گا اور کون ایمان نہیں لائے گا اور اس کے ساتھ حضورﷺ نے بسم اللہ پڑھ کر اشارہ کیا چاند کا ایک ٹکڑا ایک طرف چلا گیا اور چاند کا دوسرا ٹکڑا دوسری طرف، مکہ مکرمہ آنیوالے قافلے گواہی دیتے رہے کہ ہم نے چاند کو دو ٹکڑوں میں دیکھا ہے یہ تسخیر قمر ہے۔ تسخیر قمر یہ نہیں کہ آپ نے چاند دیکھا، چاند نکلا اور چاند واپس چلا گیا۔

یہ تو چاند کے فرائض میں شامل ہے اور اللہ نے چاند کو اپنی مخلوق کیلئے پابند کر دیا ہے کہ تو نے چاندنی بکھیرنی ہے۔ اگر چاند ایک نظام کے تحت نہ نکلے تو ساری دنیا کے پھل کڑوے ہو جائیں، گیہوں میں موجود شیرینی ختم ہو جائے اور گندم کڑوی ہو جائے۔ چاندنی سے غذاؤں میں مٹھاس منتقل ہوتی ہے۔ چاند کو اللہ تعالیٰ نے یہ ڈیوٹی دی ہے۔ اس لئے کہ وہ رب العالمین ہے۔ اس نے وعدہ کر لیا ہے کہ میں تمام عالمین کو روزی دینے والا ہوں۔

سورج کا نکلنا یا دھوپ دینا یہ سورج کی تسخیر نہیں ہے۔ کیا سردی سے بچنے کے لئے دوسرے جانور دھوپ میں نہیں بیٹھتے۔ سورج کی تسخیر یہ ہے کہ آپﷺ حضرت علیؓ کے زانو پر آرام فرما رہے تھے۔ اس اثناء میں حضرت علیؓ کی نماز قضا ہو گئی اور سورج ڈوب گیا۔ جب حضورﷺ کی آنکھ کھلی تو حضرت علیؓ کو ملول دیکھا۔ آپﷺ نے پوچھا کہ کیا ہوا، حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ نماز قضا ہو گئی۔ سورج غروب ہو گیا۔ حضورﷺ نے سورج کو حکم دیا تو سورج واپس لوٹ آیا۔ حضرت علیؓ نے نماز پڑھی اور سورج واپس غروب ہو گیا۔ یہ تسخیر شمس ہے۔

ایک یہودی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺ اس وقت پہاڑ پر تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا میں فلاں فلاں نجومی ہوں۔ یہ بہت نامور نجومی تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا ہاں! میں جانتا ہوں۔ اس نے کہا۔ حضورﷺ میں چاہتا ہوں کہ جس پہاڑ پر آپ قیام فرما ہیں۔ اس پہاڑ پر آپ کے پاؤں مبارک کا نقش آ جائے تو میں اسلام قبول کر لوں گا۔ حضورﷺ نے بسم اللہ پڑھ کر پاؤں مبارک پہاڑ پر رکھا تو پہاڑ ایسے موم ہوا کہ پاؤں مبارک اس میں اترتا چلا گیا جیسے ہی یہ عمل ہوا۔ اس نجومی نے آسمان کی طرف دیکھا اور کلمہ پڑھ لیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ جب حضورﷺ پیر مبارک پہاڑ پر رکھ رہے تھے تو تم نے آسمان کی طرف کیوں دیکھا۔ اس نے کہا کہ مجھے یہ علم ہے کہ ایک ستارہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ اگر اس ستارے کا سایہ براہ راست کسی بندے پر آ جائے تو اس بندے کے اندر یہ صلاحیت خود بخود متحرک ہو جاتی ہے کہ پہاڑ موم بن جاتا ہے۔ میں نے یہ معجزہ حضورﷺ سے اس لئے طلب کیا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ اس جگہ یہ ستارہ ایک لاکھ بیس ہزار سال بعد آئے گا۔ لہٰذا نہ یہ معجزہ دکھا سکیں گے اور نہ میں ایمان لاؤں گا لیکن میں نے دیکھا کہ جیسے ہی حضورﷺ نے قدم مبارک اٹھایا وہ ستارہ تیزی سے یہاں آیا۔ ایک لمحے کیلئے حضورﷺ کے سر پر سایہ فگن ہوا اور اسی تیزی سے پلٹ گیا۔ یہ تسخیر نجوم ہے۔

رسول اللہﷺ کو جو بھی علم عطا کیا گیا وہ سب قرآن پاک میں موجود ہے، آپﷺ نے اسے اپنی امت کے لئے آشکار کر دیا ہے چھپایا نہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ ہم نے قرآن کو سمجھنا آسان کردیا ، ہے کوئی سمجھنے والا۔ مسلمان نے قرآن کو سمجھنے پر کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ ہم تو یہ بات جانتے ہیں کہ اکتالیس مرتبہ عشاکی نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنی چاہئے تو روزی ملے گی۔ اکتالیس مرتبہ آیت الکرسی پڑھیں گے تو ملازمت میں ترقی ہو جائے گی۔ اکتالیس مرتبہ آیت الکرسی پڑھیں گے تو کاروبار میں لاکھوں گنا فائدہ ہو گا۔ چاہے وہ اسمگلنگ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم نے قرآن کو طاق کی زینت بنا کر رکھ دیا ہے کہ وہ جگہ جہاں قرآن پاک ہو وہاں بلائیں، بھوت اور جنات وغیرہ نہیں آتے۔ بچی کو قرآن کے نیچے سے گزار دو، اس لئے نہیں کہ قرآن کی برکت حاصل ہو بلکہ اس لئے کہ سسرال میں جا کر محفوظ رہے۔ ساس، سسر، نندیں برا بھلا نہ کہیں۔ آج قرآن کا جو حال ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ ہم نے زمین اور آسمانوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔ زمین کے اندر جو کچھ بھی موجود ہے وہ مسخر کر دیا گیا ہے۔ اب زمین کے اندر کیا ہے۔ معدنیات ہیں، یورینیم ہے، ہیلیم اور بیشمار گیسز ہیں۔ اب جب انسانوں نے زمین پر تفکر کیا تو یورینیم کو تلاش کر لیا اور ایٹم بم بن گیا۔ انسان نے لوہے کے اندر تفکر کیا تو ٹرین بن گئی۔ انسان نے درختوں کے اوپر غور کیا تو فرنیچر اور دروازے بن گئے۔ انسان نے مزید دھاتوں پر غور کیا، سونا مل گیا، چاندی مل گئی اور مزید غور کیا تو پیٹرول نکل آیا۔ اس میں کوئی شرط نہیں ہے کہ کوئی ایک خاص قوم ہی اللہ کی نشانیوں پر غور کرے گی تو وہی مخصوص قوم فائدہ اٹھائے گی۔ قرآن پاک میں کسی کا نام نہیں آتا۔ قرآن کریم پوری نوع انسانی کیلئے ہے۔ تسخیر کائنات کا ایک فارمولا ہے اور ایک ہی دستاویز علم ہے۔ جو بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کر لیتا ہے۔ قرآن میں غور و فکر کرتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

قرآن پاک میں ہے کہ قرآن کو سمجھنا ہم نے آسان کر دیا ہے۔ جو سمجھنا چاہے اسے سمجھ لے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا ہے رسولﷺ ہمارے ہیں، قرآن ہمارا ہے اور فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ غیر مسلم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جس قوم کے پاس علم کا خزانہ ہو، جس قوم کے پاس تسخیر کائنات کی دستاویز ہو وہ قوم غیروں کی غلام ہو، بچے کھچے ہوئے نوالے نگلنے والی ہو اور ان کی زندگی سود کے پیسوں پر گز ررہی ہو ہو کیا وہ قوم معزز ہو سکتی ہے؟ مسلمانوں کو اتنا بھی خیال نہیں آتا کہ ان کے اسلاف نے جو ترقی کی اور جو سائنسی ایجادات کی تھیں وہ غیر مسلم اپنے نام سے متعارف کرا رہے ہیں اور مسلمان قوم مجبور و بے بس بنی ہوئی بے بسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ علم بھی اس کے پاس نہیں ہے۔ وہ غیر مسلم اقوام کی بھکاری بنی ہوئی ہے۔ کیا مسلمانوں کے پاس دماغ نہیں ہے؟ ٹیکنالوجی نہیں ہے؟ لوہا نہیں ہے؟ مسلمانوں کے پاس کیا نہیں ہے؟ ان کے پاس تسخیر کائنات سے متعلق دستاویز موجود ہے۔ وہ کبھی اس کو کھول کر نہیں دیکھتے۔ بس اسی میں خوش ہیں کہ باہر سے ٹیلیفون، ٹی وی آ گیا ہے اسے استعمال کر لیں۔ باہر سے کوئی ٹیکنالوجی آ جائے تو اسے استعمال کر لیں اور لیب بنا لیں۔ وہاں سے علم طب آ جائے تو آدمی ڈاکٹر بن جائے، وہاں سے انجینئرنگ آ جائے تو آدمی انجینئر بن جائے۔ ہم اسی بات پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کہ ہم تو مسلمان اور اللہ کی محبوب قوم ہیں۔

قرآن پاک میں ہے جب کوئی قوم اپنی تبدیلی نہیں چاہتی ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ دور جدید کی چکا چوند میں انسان بالکل برباد ہو چکا ہے۔ آپ غور فرمائیں ہر آدمی دہشت میں مبتلا ہے۔ ہر آدمی خوف میں مبتلا ہے۔ یہاں ایٹم بم بن گیا ہے، وہاں میزائل بن گیا ہے۔ اس ترقی کے پس پردہ ایک قوم یہ چاہتی ہے کہ ساری دنیا پر اس کا اقتدار قائم ہو جائے۔ اللہ کا اقتدار قائم نہ رہے۔ خوف کا عجیب عالم ہے۔ ساری نوع انسانی خوف میں مبتلا ہے۔ جن لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اقتدار قائم کریں وہ نہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں اور نہ ہی قرآن کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ موجودہ دور کی کوئی ترقی ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ وسائل کے بغیر عمل میں آ گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں وسائل پھیلائے ہیں ان وسائل میں رد و بدل کر کے اور ان وسائل میں غور و فکر کر کے نئی نئی ایجادات کی جاتی ہیں۔

تو مسلمان کیوں ان وسائل میں غور و فکر کر کے نئی نئی ایجادات نہیں کرتا۔ دور جدید کے علوم میں جہاں انسانی شعور بالغ ہوا ہے، دور جدید کے علوم سے جہاں انسان کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ انسان ایک ایسا روبوٹ ہے جس کے اندر اللہ کی صفات بھری ہوئی ہے وہاں انسان مایوس ہوا ہے۔

کیا کوئی انسان اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ دور جدید کی ترقی کے بعد صحت اچھی ہوئی ہے یا بری ہو گئی ہے۔ بیماریاں بڑھی ہیں یا کم ہو گئی ہیں۔ دور جدید کی ترقی میں جو آرام و آسائش ہمیں مہیا ہوئے ہیں ان سے ہماری نگاہ تیز ہو گئی ہے یا چشمے لگ گئے ہیں۔ پرانے وقتوں میں اسی نوے سال کی عمر میں چشمے کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ اب دس بارہ سال کے بچوں کو چشمے لگ گئے ہیں۔ دور جدید کی ترقی بلاشبہ ترقی ہے۔ بلاشبہ نوع انسان کا کمال ہے۔ بلاشبہ انسان نے جدوجہد اور تفکر سے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو ایک نیا رنگ اور روپ دیا ہے لیکن دور جدید کی ترقی میں ایک بنیادی خرابی ہے کہ ہر جدید ترقی کے پیچھے مادیت کار فرما ہے۔

ایک روحانی اور مادی آدمی میں بنیادی فرق یہی ہے کہ اگر ایک روحانی آدمی کوئی علم سیکھتا یا سکھاتا ہے اور کوئی ایجادات کرتا ہے تو اس کے پس پردہ نیت دنیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔ دور جدید میں جو چیز آپ کو ملتی ہے اس کے پیچھے اللہ نہیں ہوتا۔ حرص، لالچ اور پیسہ ہوتا ہے لیکن اگر کوئی روحانی آدمی کوئی بات بناتا ہے، اگر کوئی بات سمجھتا ہے، اگر کوئی بات اور علم سیکھتا ہے تو اس کے پیچھے دنیا نہیں اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خطاب کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی اور تقریب کے اختتام پر کولڈ ڈرنکس پیش کی گئیں۔ شرکاء میں روحانی تعلیمات پر مبنی سووینیئر، تعارف سلسلہ عظیمیہ اور کوئٹہ مراقبہ ہال کا کتابچہ ’’عرفان روح‘‘ خصوصی طور پر تقسیم کئے گئے۔ ان تینوں اشاعتوں کو گذشتہ روز مرشد کریم نے ملاحظہ فرمایا تو معیار پر حد درجہ پسندیدگی ظاہر فرمائی۔ اور ہدایت کی کہ تینوں پمفلٹ دیگر تمام مراقبہ ہالز کو بھی ضرور بھیجے جائیں۔ کوئٹہ مراقبہ ہال کے کارکنوں میں نمایاں خدمات پر اسناد تقسیم کی گئیں۔ سیمینار کی اس تقریب میں مراقبہ ہال کے اراکین سخاوت علی، جاوید اقبال، اویس احمد میر، حبیب خان، ثناء اللہ دوتانی، فیصل قیوم، علی محمد وڑائچ اور عبدالرزاق نے نہایت خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دیئے۔ مرشد کریم نے شیخ الجامعہ کو طعام کی دعوت دی۔ اور اس طرح یہ باوقار روحانی سیمینار اختتام کو پہنچا۔

ظہرانہ پر مرشد کریم اور شیخ الجامعہ کی دیر تک نشست رہی۔ اس کے بعد آپ نے شیخ الجامعہ کو رخصت فرمایا تو آسمان پر ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سیمینار میں مرشد کریم کے خطاب کے دوران ہی بوندا باندی شروع ہو گئی تھی۔ یہ خوبصورت منظر دیکھتے ہوئے مرشد کریم نے فرمایا کہ آج تو بارش ہو رہی ہے۔ راوی جو ابھی تک مرشد کے خطاب کے سحر میں کھویا ہوا اس کے اثرات قلب میں محسوس کر رہا تھا۔ آپ سے گویا ہوا آج نہ صرف باہر بلکہ اندر بھی بارش ہوئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علاقائی سوغات

جناح روڈ کوئٹہ کی مال روڈ تصور کی جاتی ہے۔ 1935ء کے زلزلے کے بعد دو تین منزلہ عمارات تعمیر نہ کرنے کا رجحان تھا جو عرصہ ہوا ختم ہو چکا ہے۔ اب شہر کے کاروباری مراکز میں کئی کئی منزلہ بلند خوبصورت پلازہ تعمیر ہو چکے ہیں۔ شہر کے دیگر اہم ترین کاروباری مراکز میں سر فہرست لیاقت بازار ہے۔ جس کے اطراف میں بے شمار مارکیٹیں ملکی و غیر ملکی سامان سے بھری ہوئی ہیں۔ بیرون شہر سے آنے والے افراد کی خریداری کا رخ ان مارکیٹوں کی طرف ہوتا ہے۔ جہاں آدھے سے زیادہ ملکی سامان ہی غیر ملکی لیبل لگا کر بیچا جاتا ہے۔ اسمگل شدہ اشیاء کا دوسرا مرکز شارع اقبال یا قندہاری بازار کا زیریں علاقہ ہے۔ یہاں بھی بے شمار مارکیٹیں ایرانی، روسی اور جاپانی اشیاء سے بھری پڑی ہیں۔ جبکہ قندہاری بازار کا بالائی حصہ اجناس کے تھوک کاروبار کی منڈی ہے۔ شہر کے دیگر کاروباری علاقے مسجد روڈ، سورج گنج بازار، مشن روڈ اور پرنس روڈ ہیں۔

جناح روڈ پر ہی صوبہ کی علاقائی سوغات کے مراکز قائم ہیں۔ جن میں سر فہرست بلوچی کشیدہ کاری کی مارکیٹ ہے۔ جو خواتین کا ایک جاذب نظر شوق ہے۔ یہاں مختلف قبیلوں کے رسم و رواج کا آئینہ دار بلوچی و افغانی کام ملتا ہے۔ جو علاقوں کی مناسبت سے بے شمار خوبصورت ڈیزائن اور دلفریب رنگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ثقافتی رنگ میں اس کام کے ذریعے یہاں کی سوچ، اقدار اور تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے۔ ہاتھ سے بنے ہوئے ریشمی دھاگہ کے خوبصورت ڈیزائن اور رنگدار بیل بوٹوں کا کام ان ہنر مند خواتین کے جمالیاتی ذوق و صلاحیت کا ثبوت ہیں جو بیشتر ان پڑھ ہیں۔ اور اپنی پوری زندگی دیہی معاشرت میں گزار دیتی ہیں۔ ان میں سب سے باریک، خوبصورت اور کمیاب کام ڈیرہ بگٹی کے علاقہ کا ہے۔ جو خواص میں تحفہ و تحائف کے کام آتا ہے۔ تربیت، نوشکی اور قلات کا کام بھی مشہور ہے۔ دھاگہ کے ساتھ ساتھ شیشہ کا استعمال درہ بولان کے کنارے واقع لہڑی کے علاقے کی خصوصیت ہے۔ ان میں قمیض، گلے، گریباں، چادر، شال، ہیڈ کور، ٹیبل، کلاتھ، کشن، ٹی کوزی، پرس، بیگ اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء شامل ہیں۔

کھانے کی روایتی مقامی ڈشز میں گوشت کو مختلف طریقوں سے بھون کر کھانا پسند کیا جاتا ہے۔ مہمان نوازی کیلئے بھی گوشت کے روایتی کھانے یہاں کی ثقافت کا حصہ ہیں۔ ان میں سجی، کھڈی کباب، لاندی، روش، چپل کباب، تکہ اور کڑاھی گوشت بہت مشہور ہیں۔ مری بگٹی کے علاقہ کی نرم اور لذیذ سجی کہیں اور دستیاب نہیں۔ ’’کھڈی کباب‘‘ کیلئے سالم بکرے کو آلائش سے پاک کر کے اور مخصوص مصالحے لگا کر رکھ دیا جاتا ہے اور پھر تندور نما گڑھے میں ایک سیخ پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ اس تندور میں آگ جلا کر بکرے کو اوپر سے بند کر دیا جاتا ہے۔ اور اوپر سے بھی تپش پہنچائی جاتی ہے۔ مخصوص مصالحہ جات میں بھنا ہوا گوشت بہت لذیذ اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔

تیسری خصوصیت یہاں کے بُنے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ قالین ہیں۔ قالین بانی کے بڑے مراکز پڑوسی ممالک افغانستان و ایران ہیں۔ افغانی قالین سرخ رنگ کے ڈیزائن میں ہوتا ہے جبکہ ایرانی قالین بیل بوٹوں میں ہلکے رنگ کے ریشمی دھاگے سے بنے ہوتے ہیں۔ دوہری گرہ والے ہاتھ کے بنے ہوئے یہ قالین انتہائی دبیز، جاذب نظر اور بیش قیمت ہوتے ہیں۔

کینٹ میں شام کی سیر

عصر کے بعد ہم ڈاکٹر جمال ناصر کے ہمراہ واک کیلئے کینٹ گئے۔ یہاں شارع گلستان پر گھنے درختوں کے نیچے سبزہ اور پھولوں کے درمیان پیدل چلنے کیلئے علیحدہ پختہ روش موجود ہے۔ جو کوہ مردار کے دامن تک جاتی ہے اس خوشگوار ماحول اور ٹھنڈی شام کے دھندلکے میں مرشد کے ہمراہ سیر کا لطف بہت پُرکیف تھا۔ اس دوران آپ نے ہماری تربیت کیلئے مختلف علمی، روحانی اور نجی موضوعات پر علم و دانش کے موتی بکھیرے جو شعور کی بالیدگی اور وجدان میں انشراع کا باعث بنے۔ مرشد کریم نے بتایا کہ کس طرح ان کی ملاقات حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ سے اردو ڈان کراچی کے دفتر میں ہوئی، تعلق خاطر بڑھا تو آپ کے روحانی درجات کا علم و مشاہدہ ہوا۔

راوی کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ قلندر بابا اولیاءؒ کا ان کے مرشد حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردیؒ سے تعارف کا ذریعہ بھی حضور الشیخ عظیمی بنے تھے۔ آپ نے حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردیؒ کی تالیف ایک کتاب حضور قلندر بابا اولیاءؒ کو لا کر دی۔ یہ کتاب حضور قلندر بابا اولیاءؒ کو بہت پسند آئی اور ان کی آپس میں ملاقات کا باعث بنی اور بعد ازاں حضور قلندر بابا اولیاءؒ ان سے بیعت ہوئے۔ کتاب پسند کرتے ہوئے حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے مرشد کریم الشیخ عظیمی سے فرمایا تھا کہ اگر ایک خاص زاویہ نظر سے کسی کتاب کو پڑھا جائے تو مصنف کا ذہن سامنے آ جاتا ہے۔ اور یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے یہ کتاب کس نسبت اور نیت سے لکھی ہے۔ روحانی کیفیات و واردات میں مشاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ شروع دنوں میں جب میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے خطوط پڑھ کر آپ کو سناتا تھا تو ان میں خواتین و حضرات کے مشاہدات کا ذکر ہوتا تھا۔ جنہیں پڑھ کر میں بہت رنجیدہ ہوتا کہ میں ہر دم آپ کی صحبت و قربت میں ہونے کے باوجود مشاہدہ سے محروم ہوں اور جو دور ہیں ان پر اتنی نظر کرم ہے۔ بہرحال میں اپنے اسباق اور کام میں لگا رہا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ مسکین پر فضل و کرم فرما دیا۔ الحمداللہ!



Chasm E Mah Roshan Dil E Mashad

خواجہ شمس الدین عظیمی

مٹی کی لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس

جاگیر ہے پاس اُن کے فقط ایک قیاس

ٹکڑے جو قیاس کے ہیں مفروضہ ہیں

ان ٹکڑوں کا نام ہم نے رکھا ہے حواس

(قلندر بابا اولیاءؒ )

 

 

انتساب

 

مربّی، مشفّی


مرشد کریم


کے نام


الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی جب کوئٹہ و زیارت کے تبلیغی دورہ پر تشریف لائے تو آپ نے روحانی علوم کے متلاشی خواتین و حضرات کیلئے کئی روحانی سیمینارز، علمی نشستوں، روحانی محافل، تربیتی ورکشاپس اور تعارفی تقاریب میں شرکت فرمائی۔ علم الاسماء، تسخیر کائنات اور خواتین میں روحانی صلاحیتوں جیسے اہم موضوعات پر اپنے ذریں خیالات کا اظہار فرمایا۔ کوئٹہ اور زیارت کے تفریحی مقامات کی سیر کی۔ علم و عرفان کی آگہی کے اس سفر کی روئیداد حاضر خدمت ہے۔

اس روئیداد کی تدوین، مرشد کریم کی مشفقانہ سرپرستی سے ممکن ہو سکی۔ محترمی نواب خان عظیمی کی حوصلہ افزائی، علی محمد بارکزئی، محمد مسعود اسلم اور زکریا حسنین صاحبان کا تعاون حاصل رہا۔