Topics

دنیا میں تو اک یہی مقام اپنا ہے

 

دنیا میں تو اک یہی مقام اپنا ہے

مینا ہے جہاں وہیں قیام اپنا ہے

 روشن جو یہاں ہے اک جام اپنا ہے

 اک روز میں ہم  ضعیف ہوجائیں گے

 اک روز میں ہم جاں ہی کھو جائیں گے

 یہ عمر طبعی ہے مگر ہے کتنی
جاگے تھے صبح شام کو سو جائِیں گے

Topics


RUBAYAAT

قلندر بابا اولیاء

حضور بابا صاحب نے اپنی رباعیات میں بیشتر موضوعات پر روشنی ڈالی ہے، کہیں بنی نوع انسانی کی فطرت اور حقیقی طرز کو اجاگر کیا گیا ہے کہیں مِٹّی کے ذرے کی حقیقت اور فنا و بقا پر روشنی ڈالی ہے۔ کہیں پروردگار کی شان و عظمت کا ذکر ہے، کہیں  عالم ملکوت و جبروت کا تذکرہ ہے، کہیں کہکشانی نظام اور سیاروں ک ذکر ہے، کہیں فطرت آدام کی مستی و قلندری اور گمراہی پر روشنی ڈالی ہے، کہیں اس فانی دنیا کی زندگی کو عبرت کا مرقع ٹھہرایا گیا ہے، کہیں فرمان الہی اور فرمان رسول ﷺ پیش کرکے تصوف کے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے، کہیں عارف کے بارے میں فرمایا ہے کہ عارف وہ ہے جو شراب معرفت کی لذتوں سے بہرہ ور ہو اور اللہ تعالی کی مشیت پر راضی ہو۔

غرضیکہ رباعیات عظیم ؔ علم و عرفان کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔