Topics

حضرت نوُح علیہ السلام


مورخین  نے حضرت آدم ؑ اور حضرت نوحؑ کی پیدائش کا درمیانی عرصہ تقریباً ڈھائی ہزار سال بیان کیاہے۔حضرت نوحؑ کا مسکن دجلہ و فرات کا دو آبہ یعنی موجودہ عراق تھا۔پہلے زمانے میں اس کالڈیا(Chaldea) یا کلدانیہ  اور بابل بھی کہتے تھے۔

حضرت ادریسؑ کے پانچ بیٹے تھے۔ان کی عادات و خصائل اور نیک طبیعت کی وجہ سے خلق خدا کو ان سے قلبی لگاؤ اور انس تھا۔ لوگ ان کی شخصیت سے قدر متاثر تھے کہ ان کی وفات کے بعد قوی البحثہ پانچ مختلف بت بنائےاور ان کے نام حضرت ادریسؑ کے بیٹوں کے نام پر تجویز کرلئے۔

 تحقیق کے مطابق پہلے بت کا نام ’’ود‘‘ تھا اور اس بت کی شکل دراز قد مرد کی تھی، دوسرے کا نام ’’سواع‘‘ تھا اور اس کی شکل و شباہت عورت کی تھی۔ تیسرے کا نام ’’یعوق‘‘تھا اور یہ گھوڑے کی شکل  و شباہت رکھتا تھا، چوتھے کا نام ’’یغوث‘‘ تھا اور اس کی شکل شیر جیسی تھی، جبکہ پانچواں بت گدھ کی شکل کا تھا اور اس کا نام ’’نسر‘‘ تھا۔

حضرت نوحؑ کی بعثت سے پہلے قوم توحید سے یکسر نا آشنا ہو چکی تھی اور اللہ کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی ، غیر اللہ کی پرستش اور اصنام پرستی ان کا شعار بن گیا تھا۔ بالآخر رشد و ہدایت کے لئے ان ہی میں سے ایک ہادی ایک سچے رسول حضرت نوح ؑ کو مبعوث کیا گیا۔

حضرت نوحؑ نے ان بتوں کی تکذیب کی اور اپنی قوم کوراہ حق کی طرف پکارا  اور سچے مذہب کی دعوت دی ،لیکن قوم نے نہ مانی اور نفرت اور حقارت کے ساتھ انکار کیا۔ قوم کے  امراء اور رؤسا نے ان کی تکذیب و تحقیر کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا، دولت کے پجاری اور دنیا پرست لوگوں نے ہر قسم کی تذلیل اور توہین کے طریقوں کو  حضرت نوح ؑ پرآزمایا۔وہ کہتے تھے کہ نوح کو نہ تو ہم پر دولت و ثروت میں برتری حاصل ہے اور نہ وہ انسانیت کے رتبہ سے بلند کوئی فرشتہ ہے، پھر یہ ہمارا پیشوا کیسے ہو سکتا ہے؟ اور ہم اس کے احکام کی تعمیل کیوں کریں۔ 

وہ جب غریب اور کمزور لوگوں کو حضرت نوحؑ کا پیروکاردیکھتے تو حقارت سے کہتے، "ہم ان کی طرح نہیں ہیں کہ تیرے تابع  فرماں ہو جائیں اور تجھ کو اپنا مقتدا مان لیں۔‘‘ وہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ کمزور اور پست ہیں، اندھے مقلد ہیں نہ ان کی کوئی رائے ہے اور نہ یہ سمجھ  بوجھ رکھتے ہیں۔ اگر وہ حضرت نوحؑ کی بات کی طرف کبھی توجہ بھی دیتے تو ان سے اصرار کرتے کہ پہلے ان  پست اور غریب لوگوں کو اپنی جماعت سے نکال دیں ہمیں ان گے گھن آتی ہے۔ہم ان کے ساتھ ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے۔‘‘

حضرت نوحؑ نے ان کی مغرورانہ باتیں پسند نہیں کیں اور ان سے کہا:

’’اگر میں تمہاری یہ خواہش پوری کرنے کا صرف ارادہ بھی کر لوں تو میرے اللہ کے عذاب سے بچنے کی کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اللہ کے یہاں اخلاص کی قدر ہے۔ سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ غرور اور تکبر کو  ناپسند کرتا، اخلاص اور عاجزی اللہ کے لئے پسندیدہ عمل ہیں۔ میں تمہارے پاس ہدایت لے کر آیا ہوں۔ میں اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر اور رسول ہوں،  اور دعوت ِ ارشاد میرا نصب العین  ہے۔ پیغمبری کا سرمایہ دارانہ طرزفکر سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی انسانوں کی ہدایت کے لئے کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجا جاتا ہے۔ یہ کمزور اور نادار لوگ جو اللہ پر سچے دل سے ایمان لائے ہیں ،تمہاری نگاہ میں اس حقیر و ذلیل  ہیں کہ  وہ تمہاری طرح صاحب  دولت  نہیں ہیں۔ تم پر واضح ہو جانا چاہئے کہ سعادت و خیر کا قانون ظاہری دولت و  حشمت کے تابع نہیں ہے۔ سعید لوگ وہ ہیں جنہیں خلوص نیت اور عمل خیر کی توفیق حاصل ہے ۔سکون قلب، طمانیت نفس اور رضائے الٰہی ان کا مقدر ہے۔‘‘

حضرت نوحؑ نے بارہا ان پر واضح کیا کہ مجھے تمہارے مال کی خواہش ہے نہ جاہ و منصب کی تمنا ہے۔ میں اجرت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میرےلے اجرو ثواب اللہ کے پاس ہے اور وہی بہترین قدردان ہے۔ قرآن پاک میں "سورۃ ہود" میں حق و تبلیغ کے ان تمام مکالموں اور پیغاماتِ حق کا ایک غیر فانی ذخیرہ موجود ہے۔

حضرت نوحؑ نے قوم کی اصلاح کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں مگر قوم نے انکار اور کفر کی روش کو ترک نہیں کیا۔ جس قدر حضرت نوحؑ کی جانب سے تبلیغ حق  میں جدوجہد ہوئی،  اسی قدر قوم  کی طرف سے بغض و عناد  میں سرگرمی کا اظہار ہوا اور ایذا ءرسانی اور تکلیف دہی کے تمام طریقوں  کا استعمال کیا گیا۔یہاں تک کہ تبلیغ حق کے جواب میں  گمراہ لوگ، مذہب کے نام پر استوار کی گئی  اپنے آباؤ اجداد کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے پرچار کرنے لگے۔

’’اور انہوں نے کہا! ہرگز اپنے معبود وں کو نہ چھوڑو، اور نہ چھوڑو  ،ود،کو اور نہ ،سواع کو ،اور’یغوث ،اور نہ یعوق اورنسر،کو۔‘‘(نوح)

’’اے نوح ! تو ہم سے جھگڑا اور بہت جھگڑ چکا اور لے آ، جو وعدہ دیتا ہے ہم کو اگر تو سچا ہے۔‘‘(ھود)

حضرت نوحؑ نے یہ سن کر ان کو جواب دیا کہ عذاب الٰہی میرے قبضے میں نہیں ہے وہ تو اس کے قبضے میں ہے جس نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ چاہے گا تو  یہ سب کچھ ہو جائے گا۔

’’لائے گا تو اس کو اللہ ہی اگر چاہے گا اور تم اس کو تھکا دینے والے نہیں ہو۔‘‘(ھود)

جب  نوح ؑ جب قوم کی جانب سے بالکل مایوس ہو گئے  اور اس کی باطل کوشی ، عناد اور ہٹ دھرمی ان پر واضح ہوگئی اور ساڑھے نو سو سال  پیہم دعوت و تبلیغ کا ان پرکوئی اثر نہ دیکھا تو سخت ملول اور رنجیدہ ہوئے تب خدا ئے تعالیٰ نے ان کو تسلی دی  کہ جو لوگ ایمان نہیں لائے ان کے اعمال پر رنجیدہ ہوناعبث ہے۔ آپؑ نے اپنا کام پورا کر دیا  ہے۔ جنہوں نے  ایمان لانا تھا وہ ایمان لا چکے ہیں۔‘‘

حضرت نوح ؑ کو جب معلوم ہو گیا کہ ان کی  تبلیغ میں کوئی کوتاہی نہیں ہے بلکہ خود نہ ماننے والوں کی استعداد کا قصور ہے اور ان کی اپنی سرکشی کا نتیجہ ہے ، تب قوم کے اعمال کے سبب ، اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا:

’’اے پروردگار! تو کافروں میں سے کسی کو بھی زمین پر باقی نہ چھوڑ اگر تو نہیں چھوڑے گا تو یہ تیرے بندوں کو بھی گمراہ کر دیں گے اور ان کی نسل بھی انہی کی طرح نافرمان پیدا ہو گی، اے رب! معاف کر مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو آئے میرے گھر میں ایماندار اور سب ایمان والے مردوں کو اور عورتوں کو اور گنہگاروں پر یہی بڑھتا رکھ برباد ہونا۔‘‘( نوح)

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کی دعا قبول فرمائی اور حضرت نوح ؑ کو ہدایت فرمائی کہ وہ ایک کشتی تیار کریں تا کہ اسباب ظاہری کے اعتبار سے وہ اور مومنین اس عذاب سے محفوظ رہیں، جو اللہ کے نافرمانوں پر نازل ہونے والا ہے۔ حضرت نوح ؑ نے درختوں کی  لکڑی  سے کشتی بنانا شروع کر دی۔کشتی کئی منزلہ تیار کی گئی۔یہ کافی لمبی چوڑی کشتی تھی ۔  کفار نے نوحؑ کو کشتی کی تیاری میں مصروف دیکھ کر تمسخر اڑانا شروع کردیا جب کبھی ان کا ادھر سے گزر ہوتا تو وہ آوازیں کستے اور غرور و تکبر سے گستاخی کے مرتکب ہوتے۔

 آخر سفینۂ نوح تیار ہو گیا۔اللہ کے عذاب کا وقت قریب آیا تو حضرت نوح ؑ نے پہلی علامت  کو دیکھا جس کا ان سے ذکر کیا گیا تھا، یعنی  پانی ابلنا شروع ہو گیا ہے۔تب حضرت نوحؑ کو حکم ہوا کہ اپنے ماننے والوں کے ہمراہ کشتی میں سوار ہو جائیں اور ہر جاندار کا ایک ایک جوڑا  بھی سوار کرلیں ۔

 جب وحی الٰہی کی تعمیل پوری ہو گئی توآسمان کو حکم ہوا کہ  پانی! برسنا شروع ہو اور  زمین کے چشموں کو حکم دیا گیا کہ وہ  پوری طرح ابل پڑیں۔

بادو باراں کے اس عظیم طوفان میں کشتی بحفاظت تیرتی رہی، بادوباراں کا سلسلہ ایک مدت تک جاری رہا یہاں تک کہ تمام منکرین غرق آب ہو گئے اور ’’مکافات عمل‘‘ کے قانون کے مطابق اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

حضرت نوحؑ نے طوفانی عذاب کے وقت  اللہ سےاپنے بیٹے کی نجات کے متعلق سفارش کی ، اللہ نے ان کو سفارش سے روک دیا۔

سورۃ ھود میں ہے:

’’اور نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے پروردگار! میرا بیٹا میرے اہل ہی میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو بہترین حاکموں میں سے ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے کہا

’’اے نوح! یہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے یہ بدکردار ہے پس تجھ کو ایسا سوال نہ کرنا چاہئے جس کے بارے میں تجھ کو علم نہ ہو، میں بلاشبہ تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ تو نادانوں میں سے نہ بن۔‘‘

نوحؑ نے کہا:

’’اے رب! بلاتردد میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے سوال کروں اس بارے میں جس کے متعلق مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے معاف نہ کیا اور رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں ہونگا۔‘‘

حکم  ہوا:

’’اے نوحؑ! ہماری جانب سے تو اور تیرے ہمراہی ہماری سلامتی اور برکتوں کے ساتھ زمین پر اترو۔‘‘ 

آیات مبارکہ سے یہ حقیقت آشکارہ ہوتی ہے کہ فلاح اور بھلائی کے حصول اور عذاب الٰہی سے نجات کا تعلق نسل و خاندان سے ہے اور نہ دولت و منصب سے اس کا کوئی واسطہ ہے بلکہ اس کا تعلق ’’ایمان اور یقین‘‘ سے ہے۔

شفقت پدری کے تحت آخری وقت پر حضرت نوح ؑ نے بیٹے کو ایمان لانے کی دعوت  اور منکرین کی پانی میں غرقابی سے آگاہ کیا لیکن اس نافرمان نے جواب دیا:

’’میں لگ رہوں گا کسی پہاڑ کو، کہ بچا لے گا مجھ کو پانی سے۔‘‘(ھود)

حضرت نوح ؑ نے  یہ سن کر فرمایا:

’’آج کوئی بچانے والا نہیں ہے صرف وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو جائے اس دوران ان دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ غرق ہونے والوں میں سے ایک ہو گیا۔‘‘ 

پانی بڑھتا چلا گیا اور ہر شئے غرق ہو گئی۔روایت ہے کہ آسمان سے پانی برستا رہا، زمین سے پانی ابلتا رہا ،یہ سلسلہ چالیس دن تک رہا اور کشتی کم و بیش ساڑھے چھ ماہ تک پانی پر رہی۔ اس کے بعد حکم الٰہی سے عذاب ختم ہوا تو سفینۂ نوح ’’جودی‘‘ پہاڑ پر جا کر ٹھہر گیا۔

توریت میں جودی کو ’’اراراط‘‘ کے پہاڑوں میں بتایا گیا ہے۔ "اراراط" درحقیقت اس علاقہ کا نام ہے جو فرات اور دجلہ کے درمیان ’دیار بکر‘ سے بغداد تک مسلسل چلا گیا ہے۔پانی آہستہ آہستہ خشک ہونا شروع ہو گیا اور کشتی کے مسافروں نے امن و سلامتی کے ساتھ خدا کی زمین پر قدم رکھا۔ چونکہ کشتی کے مسافروں کے علاوہ روئے زمین پر سے ہر جاندار چیز نابود ہو چکی تھی اور زمین کو دوبارہ آباد کرنے والے یہی لوگ تھے جو طوفان سے بچا لئے گئے تھے۔اسی بناء پر حضرت نوح ؑ کا لقب ’’ابو البشر ثانی‘‘ یا ’’آدم ثانی‘‘ مشہور ہوا۔ حدیث شریف میں حضرت نوح ؑ کو ’’اول الرسل‘‘ کہا گیا ہے۔آپ دنیا میں پہلے رسول تھے۔ نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ نبی ہر صاحب وحی کو کہتے ہیں جب کہ رسول صاحب وحی کے ساتھ ساتھ صاحب شریعت بھی ہوتا ہے۔

طوفان نوح سے متعلق قدیم و جدید دانشوروں کی دو رائے ہیں ۔

دانشوروں کی ایک جماعت اور علماء یہود و نصاریٰ ، فلکیات ، طبقات الارض اور تاریخ و طبیعات کے بعض ماہرین کی یہ رائے ہے کہ یہ طوفان تمام کرہء ارض پر نہیں آیا تھا بلکہ اسی خطہ میں محدود تھا جہاں حضرت نوحؑ کی قوم آباد تھی اور یہ علاقہ مسافت کے اعتبار سے ایک لاکھ چالیس ہزار مربع کلو میٹر ہے۔

اپنی رائے کی دلیل میں وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ طوفان عام تھا تو اس کے آثار کرہء ارضی کے مختلف خطوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ملنے چاہئیے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، نیز اس زمانے میں انسانی آبادی بہت ہی محدود تھی اور وہی خطہ آباد تھا جہاں حضرت نوحؑ اور ان کی قوم آباد تھی۔

بعض  دانشوروں اور ماہرین طبقات الارض اور ماہرین طبیعات کے نزدیک یہ طوفان تمام کرہء ارض پر حاوی تھا، یہی نہین بلکہ ان کے خیال میں اس زمین پر متعدد ایسے طوفان آئے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک طوفان یہ بھی تھا۔ وہ پہلی رائے تسلیم کرنے والوں کو "آثار" سے متعلق سوال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ عراق و عرب کی اس سرزمین کے علاوہ بلند پہاڑوں پر بی ایسے حیوانات کے ڈھانچے اور ہڈیاں بکثرت پائی گئی ہیں جن کے متعلق علم طبقا ت ر الارض کے ماہرین کی رائے ہے کہ یہ حیوانات صرف پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ پانی سے باہر ایک لمحہ بھی ان کی زندگی دشوار ہے۔ اس لئے کرہ ارض کےمختلف پہاڑوں کی ان بلند چوٹیوں پر ان کے نشانات (Fossils) اس بات کی دلیل ہے کہ کسی زمانے میں پانی کا ایک ہیبت ناک طوفان آیا تھا جس نے پہاڑوں کی ان بلند چوٹیوں کو تہہ آب کردیا تھا۔

قرآن کریم نے غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر صرف ان ہی باتوں کو بیان کیا ہے، جو موعظت و عبرت کے لئے ضروری ہیں۔

’’قرآنی علوم کے تیسرے حصے تاریخ ‘‘ سے تعلق رکھنے والے اس واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ آج سے ہزار سال قبل ایک قوم نے اللہ کی نافرمانی پر اصرار کیا اور اس کے بھیجے ہوئے ہادی حضرت نوحؑ کے پیغام کو جھٹلایا اور جب حق بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو اللہ کا قانون حرکت میں آ گیا اور سرکشوں اور نافرمانوں کو طوفانِ باد و باراں نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔اس واقعہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس قدر پر ہیبت طوفان کے باوجود کہ جس نے زمین کے طبقات کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا اور کرہ ارض پر جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہو گئیں ایک جماعت تباہی سے محفوظ رہی وجہ یہ تھی کہ حضرت نوحؑ اور ان کے حواریوں پر مشتمل یہ مختصر جماعت، ایمان کی دولت سے مالا مال تھی۔

جوہری توانائی، خلائی سفر، چاند پر انسان کا پہنچنا، انسانی اعضاء کی پیوندکاری، اور روز مرہ کی نت نئی سائنسی دریافتوں کی بنا پر آج کا انسان یہ خیال کرنے لگا ہے کہ وہ ترقی کی معراج پر پہنچ چکا ہے اور اس لحاظ سے آج کے دور کو عظیم تصور کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی آج کا دور ہے؟ ۔۔۔۔۔اور۔۔۔آج  جو ترقی ہے کیا اتنی ترقی کبھی نہیں ہوئی؟

پچھلی ایک  صدی سے سائنس دان یہ ثابت کرنے کی کوششں کر رہے ہیں کہ انسان لاکھوں سال سے ارتقائی منازل طے کر رہا ہے اور آج کا انسان جسے مخلوق میں ’’افضل‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہے محض کبھی زمین پر رینگنے والا کیڑا یا درختوں پر چھلانگیں لگانے والا بندر تھا۔ یہ سب کچھ مفروضوں پر مبنی ہے کیونکہ انسان کے پاس زیادہ سے زیادہ چھ ہزار سال تک کا  تاریخی ریکارڈ موجود ہے، جس کوبنیاد بنا کر سر بہمر کردیا گیا ہے کہ بس یہ حرف آخر ہے۔ آج انسان، ترقی  کی جن بلندیوں پر پہنچ چکا ہے وہ محض مفروضہ ہے۔ایسے شواہد موجود ہیں جو دوسری کہانی سناتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان حقائق کی تحقیق کئے بغیر حتمی نتائج پر پہنچنا ممکن نہیں۔

دنیا بہت مختصر ہوگئی ہے۔ مختلف علاقوں کے لوگوں میں میل جول سے ایک دوسرے کے خیالات اور روایات سے آگاہ ہونے کے وافر مواقع میسر ہیں۔ سائنس دان زمین کے چپہ چپہ پر پھیل کر ان روایات کی تصدیق میں لگے ہوئے ہیں جو نوع انسانی میں مشترک ہیں۔

ان روایات میں جو مشترک ہیں، سب سے زیادہ اہم ایک ایسے طوفان کی روایت ہے جس نے پوری دنیا کی آبادی مع اس کے لوازمات کے، تہس نہس کرکے رکھ دی تھی۔ وہ انسان خواہ یورپ کا ہو، افریقہ کا یا آسٹریلیا کا یا، پھر ان ہزاروں جزائر میں سے کسی ایک کا ہو جو جنوبی سمندر میں بکھرے ہوئے ہیں اور جہاں موجودہ تہذیب کی کرنیں ابھی تک نہیں پہنچ پائی ہیں۔ سب کے یہاں طوفان کی روایت ایک ہی انداز میں ملتی ہے کہ زلزلہ آیا، زمین پھٹ گئی ، چشمے ابل پڑے،دریاؤں کے رخ مڑ گے اور کئی سو فٹ بلند پانی کی ایک مہیب لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انسانوں، جانوروں کا جان بچانے کی کوشش میں چیخنا ، چلانا اور ایک کشتی میں سوار ہونے کی کوشش کرنا، آخر ناکام ہونا اور لقمہ ء اجل بن جانا، یہ سب ان روایات کا حصہ ہے۔

ایک کشتی کی ایک روایت ساری دنیا کے باسیوں میں بے حد مشترک ہے پھر زیادہ تر مذہبی کتابیں بھی ایک کشتی کا تذکرہ کرتی ہیں، جس کے ذریعے بچ جانے والوں نے نسل انسانی کو باقی رکھا۔  ان روایات کی کھوج لگانے اور ان کی اصلیت تک پہنچنے کے دوران سائنس دانوں کو جن دیگر باتوں کا پتہ چلا ہے  ان کا  انکشاف  حیرت انگیز ہے جس سے دنیا کے سامنے عظمت ِ انسان کا ایک نیا روپ ابھرتا ہے۔

جوں جوں معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے اس امر کی اہمیت کا احساس اجاگر ہورہا ہے کہ طوفان سے پہلے کے حالات جانے بغیر ہم کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں گے۔ خود طوفان کے سلسلے میں جو ریسرچ اب تک ہوئی ہے وہ بھی کچھ کم حیران کن نہیں ہے اور اس ریسرچ کے دوران ہی چند اہم نظریات کی تصدیق ہوگئی ہے۔

پچھلی صدی کے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ پانی اچانک چڑھا تھا اور یہ کہ بلند سے بلند تر پہاڑ کی چوٹی بھی پانی میں ڈوب گئی تھی۔ ہمالیہ، انڈیز، الپس اور امریکہ کے سلسلہ کوہ راکیز پر جو پانی کے نشان آج بھی موجود ہیں اور وہ اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پانی اچانک ہی چڑھا ہے، دریائی جانوروں کے ڈھانچے اور ڈھانچوں کے نشانات سے بھی اس نظریہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جو مردہ جانور سالم حالت میں پائے گئے ہیں ان کے انداز سے حیرت اور کرب کرب نمایاں ہے۔ وہ بالکل سالم حالت میں ہیں  اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ان پر کسی گوشت خور جانور نے حملہ کیا ہو یا ان کا گوشت جسم سے جدا ہوا ہو۔ ان کی سب سے زیادہ واضح مثال سائبیریا سے نکلے ہوئے ایک ایسے سالم جانور کی ہے جس کا جسم کھال اور بال سمیت برف میں بالکل محفوظ حالت میں ملا ہے۔ یہ جانور بے حد جسیم ہے اور ان جانوروں میں سے ہے جن کا وجود چند ہزار سال پہلے تک تھا اور اب ناپید ہے۔ اس کی آنکھیں جسم کی کھال اور بال اس بات کی شہادت  دے رہے ہیں کہ اسےاچانک کسی حادثے نے آ لیا ہے۔ اس کے منہ میں وہ گھاس ،جو حادثہ سے پہلے چرنے کے لئے اکھاڑ چکا تھا اور وہ گھاس، جو اس کے پیٹ سے نکلی حیرت انگیز طور پر اس قسم کی گھاس میں سے ایک ہے جو گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

یہ ایک عظیم طوفان تھا جس نے دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب کو اس حد تک نیست و نابود کرکے رکھ دیا کہ ان کی  عظمت کے کچھ نشانات اتفاق سے سامنے آ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نوح ؑ کی کشتی جو ایک طویل مدت تک طوفانی تھپیڑوں کا مقابلہ کرتی رہی آخر کس طرح تیار کی گئی تھی کہ اس کے اوپر نہ پانی کے ریلے کا  اثر ہوا، نہ پہاڑی چٹانوں کے ٹکراؤ سے کچھ نقصان پہنچا اور نہ اس کی بناوٹ میں ایسی خامیاں ظاہر ہوئیں جو اس کی تباہی کا باعث بنتیں اور یہ کہ اس میں سوار جتنے انسان اور جانور تھے وہ بھی قطعی محفوظ رہے۔ان میں نہ بیماری پھیلی اور نہ ہی مختلف الانواع سوارون نے ایک دوسرے ضررپہنچایا۔

انجیل کی روایت کے مطابق ہمیں صرف کشتی کی بناوٹ کے بارے میں کچھ باتیں معلوم ہوئی ہیں کہ یہ  کشتی تین سو کیوبٹ لمبی، پچاس کیوبٹ چوڑی اور تیس کیوبٹ اونچی تھی۔ کیوبٹ کیا ہے؟ یعنی کس قسم کی پیمائش ہے اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ حالانکہ اس معمہ کو حل کرنے کی سائنس دانوں نے بہت کوشش کی ۔لیکن ابھی تک اس لفظ کو سمجھ نہیں پائے ہیں کہ کیوبٹ کتنے فٹ ،گزیا میٹر ہے۔بہرحال لمبائی، چوڑائی اور اونچائی کے درمیان جو نسبت بتائی گئی  ہے اس کو فٹ میں تبدیل کرنے سے یہ نتیجہ نکلا کہ  لمبائی ۴۵۰ فٹ، چوڑائی ۷۵ فٹ اور اونچائی ۳۰ فٹ تھی۔

انجیل کے بعض قدیم نسخوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کناروں سے کشتی جھکاؤ لیتے ہوئے بتدریج اوپر کی طرف اٹھائی گئی تھی یہاں تک کہ دونوں کنارے ۳۰ فٹ اوپر جا کر اس طرح ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے کہ اوپر محض ایک کیوبٹ جگہ باقی بچی تھی۔کشتی کا فرش مستطیل تھا یعنی ۷۵ فٹ چوڑا اور ۴۵۰ فٹ لمبا۔

جدید دور کے ماہرین جہاز سازی کا خیال ہے کہ یہ کشتی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی ایک بہترین مثال تھی کشتی کو ہوا، طوفانی پانی، بارش، کیچڑ اور مٹی میں پھنسنے سے محفوظ رکھنے کے لئے اس سے بہتر پیمائش ممکن  ہی نہیں تھی۔ اس پیمائش کے لحاظ سے بنائی گئی کشتی کیسی ہو گی؟ اس کی مثال  یہ ہے  کہ1844ء میں ایک شخص I.K.Bruvelنے "گریٹ بریٹن" نامی ایک جہاز بنایا تھا۔ جو کشتی نوح کی پیمائش رکھتا تھا۔ جس نے سینکڑوں کامیاب سمندری سفر کئے اور بے شمار سمندری طوفانوں کا مقابلہ کامیابی کے ساتھ کیا۔ آج بھی بڑے بڑے آئل ٹینکر اسی طریقہ پر بنائے جا رہے ہیں۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے حضرت نوحؑ نے جو کشتی بنائی تھی وہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا شاہکار تھی، ایسی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی جو آج بھی کارآمد ہے۔

الہامی کتابو ں میں مذکور یہ  قصہ ہمیں تفکر کی دعوت دیتا ہے کہ:

* اللہ قادر مطلق ہے وہ جسے چاہے عزت و شرف سے نواز ے اور جسے چاہے ذلیل و خوار کر دے۔

* اللہ عجز و انکساری اور اطاعت پسند فرماتا ہے جب کہ تکبر، غرور اور نافرمانی اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ اعمال ہیں۔ ناپسندیدہ اعمال جب حد سے بڑھ جاتے ہیں تو قانون قدرت حرکت میں آ کر نافرمانوں کو نیست و نابود کر دیتا ہے۔

* ہر انسان اپنے عمل کا خود جواب دہ ہے اس لئے باپ کی بزرگی بیٹے کی نافرمانی کا مداوا اور علاج نہیں بن سکتی اور نہ بیٹے کی سعادت باپ کی سرکشی کا بدل ہو سکتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ حضرت نوحؑ کی نبوت و پیغمبری "یام" کے کفر کی پاداش کے آڑے نہ آسکی۔

* اللہ پر بھروسہ اور توکل کا مطلب یہ نہیں کہ عمل کی راہیں ترک کر دی جائیں،  بلکہ توکل کی صحیح تعریف یہ ہے کہ عملی جدوجہد میں کوتاہی نہ کی جائے اور مقدور بھر کوششوں کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ طوفان سے بچاؤ کے لئے کشتی کی تیاری عملی جدوجہد کی بہترین مثال ہے۔

* کفران نعمت اور ناشکری اتنی بڑی جہالت ہے کہ اس کے نتیجے میں اسرار الٰہی ہمیشہ پردے میں رہتے ہیں اور ناشکری قوم گمراہ ہو کر حق و معرفت کی راہوں کو چھوڑ دیتی ہے ، کبرونخوت اور سرکشی اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے اور وہ درد ناک عذاب سے دو چار ہو کر عبرت کا نمونہ بن جاتی ہے۔

* نظام کائنات کا ایک جز وپانی، جوہر قسم کی زندگی اور حیاتیاتی نظام  کو قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے وہ اپنے اندرہلاکت و بربادی کی پوری پوری طرزیں بھی رکھتا ہے۔

اس وقت قوم  کی جو حالت ہے اور نوع انسانی نے دین فطرت سے منہ موڑ کر صرف مادی وسائل سے جس طرح  رشتہ جوڑ لیا ہے، اس کے پیش نظر یہ دنیا ایک فعہ پھر عذاب کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے۔

اگرنوع انسانی نے اگر سوچ بچار سے کام نہ لیا، قوم نوح کی طرح سرکشی جاری رکھی اور افعال و کردار سے توحیدی راستہ اختیار نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب سمندر کی  تہہ سے پانی اوپر کی جانب آ جائے گا، زمین میں سے چشمے ابل پڑیں گے، آسمانوں سے پانی برستا رہے گا، اور زمین  اس طرح زیر آب آ جائے گی اور بلند و بالا پہاڑ پانی میں ڈوب جائیں گے، بلڈنگیں، محلات اور زمین پر موجود رونقیں نیست و نابود ہو جائیں گی۔

’’کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا؟ اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کو زندہ رہنے کی جو مہلت دی گئی ہے اس کے پورے ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے۔‘‘( اعراف)


Hazrat Nooh Aleh Salam


مورخین  نے حضرت آدم ؑ اور حضرت نوحؑ کی پیدائش کا درمیانی عرصہ تقریباً ڈھائی ہزار سال بیان کیاہے۔حضرت نوحؑ کا مسکن دجلہ و فرات کا دو آبہ یعنی موجودہ عراق تھا۔پہلے زمانے میں اس کالڈیا(Chaldea) یا کلدانیہ  اور بابل بھی کہتے تھے۔حضرت ادریسؑ کے پانچ بیٹے تھے۔ان کی عادات و خصائل اور نیک طبیعت کی وجہ سے خلق خدا کو ان سے قلبی لگاؤ اور انس تھا۔ لوگ ان کی شخصیت سے قدر متاثر تھے کہ ان کی وفات کے بعد قوی البحثہ پانچ مختلف بت بنائےاور ان کے نام حضرت ادریسؑ کے بیٹوں کے نام پر تجویز کرلئے۔