Topics

اللہ کے دوست کو غم و خوف نہیں ہوتا

اعوذبا للہ …(لندن عرس میں خطاب)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون …

معزز حضرات، محترم خواتین و حضرات، میرے دوستوں اور عظیمی بہن بھائیوں میں مرکزی مراقبہ ہال کراچی پاکستان سے آپ سے مخاطب ہوں اور آپ کی خدمت میں مودبانہ سلام عرض کر تا ہوں السلام وعلیکم ، حاضرین مجلس آپ بلا شبہ بہت سعید او ر خوش بخت ہیں جو آپ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کے عر س کی تقریب میں شریک ہیں ۔حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کے بارے میں آپ سب حضرات اس بات سے واقف ہیں۔ کہ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ سیدناحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے علوم کے وراث ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کے بارے میں فرمایا ہے ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون …کہ اللہ کے دوستوں کو غم اور خوف نہیں ہو تا ۔اب آپ یہ دیکھئے کہ انسان کی زندگی میں وہ دو رخ ایسے ہیں جن کی بنیاد پر انسان بیمار بھی ہو تا ہے۔ انسان کی عمر کم بھی ہو تی ہے اور انسان کے اندر دشمنیاں بھی پیدا ہو تی ہیں۔ اگر انسان کے اندر سے خوف اور غم نکال دیا جائے یا انسان اپنی جدوجہد اور کوشش سے خوف اور غم کی اس بات سے آزاد ہو جائے تو اس کی زندگی ساری کی ساری زندگی خوشی کے علاوہ کچھ نہیں ہو گی ۔اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کی بیوی حوا کو کہا کہ تم جنت میں رہو تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے… جنت میں رہو اور وہاں سے خوش ہو کر کھاؤ پیو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ایسی جگہ ہے۔ ایک ایسا مقام ہے کہ جہاں آدمی خوش ہو کر تو رہ سکتا ہے لیکن نا خوش آدمی کو جنت کسی بھی حال میں قبول نہیں کرتی ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا …لا تقرب ھذہ شجرۃ …کہ اس درخت کے قریب نہ جانا اگر تم نے نا فرمانی کی اوراس درخت کے قریب جاکر اللہ کی  خلاف ورزی کی تو تمہارا شمار ظالموں میں ہو گا ۔ظاہر ہے ظالم آدمی تو خوش ہو ہی نہیں سکتا ۔یہ اللہ تعالیٰ نے جو قرآن پاک میں فرمایا ہے … ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون ……اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کے دوست کی شناخت یہ ہی ہے کہ اسے خوف اور غم نہیں ہو تا یہ جتنے بھی پیر فقیر اولیا ء اللہ ابدال اس دنیا میں تشریف لائے ۔یہ سارے کے سارے سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور سب جانتے ہیں سیدنا علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے علوم کے وارث ہیں اب ہم یوں کہیں گے یہ جتنے بھی اولیا ء اللہ ہیں جن کو رسول اللہ  ﷺ کا علم منتقل ہوا دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے بھی وارث ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان بندوں کی  شان میں فرمایا ہے کہ زمین پر میرے بندے ایسے بھی ہیں جو میرے بھروسے پر کوئی بات کہہ دیتے ہیں تو میں ان کو پورا کرنااپنے اوپر لازم سمجھتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ زمین پر میرے بندے ایسے بھی ہیں جو چیز پکڑ لیتے ہیں تو دراصل میں ان کا ہاتھ بن جاتا ہوں ۔ جب وہ چلتے ہیں تو میرے پیروں سے چلتے ہیں اور جو وہ کچھ کہتے ہیں تو ان کی زبان پر میں بولتا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس بات کی طرف واضح طور پر دلیل ہے کہ انبیاء کے وارث اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے علوم کے وارث ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے علوم کی وارثت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرز فکر کیا ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے یہ جوکائنات بنائی ہے اس کائنات کے اندر جو تخلیقی فارمولے کام کر رہے ہیں۔ ان سے واقفیت کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے واقفیت ہیں،اللہ تعالیٰ کے علم الاسماء سے واقفیت ہیں ،یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کو جس بنیاد پر تخلیق کیا اس کائنات کی تخلیق سے واقف ہیں ، اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جو ایڈمنسٹریشن قائم کیا ہے اس ایڈمنسٹریشن سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ چلانے والے ہیں اس لئے یہ سارے بندے ،اولیا ء اللہ کا یہ گروہ علم لدّنی کا حامل ہے ۔اللہ تعالیٰ کے نائب اور خلیفہ ہیں جب کوئی بندہ اولیا ء اللہ کی طرز فکر کو حاصل کر لیتا ہے تو وہ بھی ولی ہو جا تا ہے ۔ولی کا مطلب ہے اللہ کا دوست اور اللہ نے اپنے دوستوں کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ ان کو خوف اور غم نہیں ہو تا ۔اب جتنے بھی ہم عبادت کر تے ہیں یا جتنے بھی کام اللہ اور رسول سے منسو ب کر کے ہم قائم کر تے ہیں اس کا صلہ یا یہ نتیجہ مرتب ہو نا چاہئے اور ہو تا ہے کہ بندہ یہ ساری جدوجہد اور کوشش اس لئے کر رہا ہے کہ وہ اللہ کا دوست بننا چاہتا ہے اور اللہ کے دوست کی تعریف یہ ہے کہ اسے خوف اور غم نہیں ہو تا ۔اب یہاں جتنے بھی اہل مجلس تشریف فرما ہیں ۔وہ سب اور میں تمام امت مسلمہ اس بات پر اگرتفکر کریں کہ اللہ کے ولی کی، اللہ کے دوست کی پہچان یہ ہے کہ اس کے اندر خوف اور غم نہیں ہو تا۔ لہذا میں جب اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچتاہوں کہ میرے اندرغم اور خوف ہے اور مجھے یہ جواب ملتا ہے ۔ساری زندگی غم اور خوف کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے میں کسی بھی طرح اللہ کا د وست نہیں ہو ں ۔اگر میرے اندر غم اور خوف نہیں ہے۔ میرا رشتہ اللہ سے استوار ہے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ  ﷺ کی نسبت مجھے حاصل ہے تو اس کے نتیجے میں بڑی طرز فکر یہ ہو گی کہ مجھے کو ئی خوف اور غم نہیں ہوگا دنیا میں رہتے ہو ئے دنیا کے سارے وسائل میں استعمال کرو نگا ،چیزیں استعمال کروں گا ، زندگی گزارنے کے لئے معاش کے ساتھ ساتھ خاندان میں رہوں گا،  بیوی بچے بھی میرے ہو نگے،لیکن پھر بھی وہی بات ہے ان تمام چیزوں کے ہو تے ہوئے مجھے ان چیزوں کے ظاہر ہونے کا غم ہے یا مجھے خوف ہے کہ یہ ساری چیزیں مجھے چھوڑ جائیں گی تو میں کچھ بھی کرو ں کچھ بھی کروں اللہ کا دوست نہیں ہو نگا  اورجب اللہ کا دوست نہیں ہو نگا میرے اوپر غم اور خوف مسلط رہے گا ۔ تو جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں ولی جیسے میں نے ابھی عرض کیا کہ حضور قلندربابا اولیاء ؒ اللہ کے ولی ہیں جن کی پیروی کر نا ہم سب اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔جن کی تعلیمات پر عمل کر کے خوش ہوتے ہیں۔جن کے روحانی مشن کو ہم پھیلا کر اپنے لئے عاقبت درست کر تے ہیں ،جن کا ذکر جمیل کر کے ہمارے اندر خوشیوں کے فوارے ابلنے لگتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے دوست ہیں اوران کے اندر خوف اور غم نہیں ہوتا ۔لہذا جب ہم ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔انفرادی طور پر تذکرہ کر یں اجتماعی طور پر تذکرہ کریں ،ان کے تعلیمات کا پرچار کریں،ان کے بتائے ہو ئے اصولوں پر عمل کریں ،تو ہمارے اندر ایک خوشی کی ایک کیفیت پیدا ہو تی ہے ۔بہرحال آج یہ تجربہ آپ کر چکے ہیں اور آئندہ بھی آپ کو یہ تجربات ہو تے رہیں گے ۔آپ تجربہ کریں کہ چار بھائی عظیمی بھائی بہنیں بیٹھے حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی تعلیمات کا تذکرہ کریں ۔ حضور کی کرامات محفل کو سنائے۔تو جتنی دیر آپ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کے تذکرہ کرتے رہے گے اتنی دیر آپ میں نہیں کوئی وسوسہ آئے گا ۔نہ آپ کے اندر کوئی خوف پیداہو گا اور نہ آپ کے اندر کسی قسم کی کوئی لہر محسوس ہو گی ۔  یہ تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں حضور قلندر بابا اولیائؒ کی نسبت حاصل ہے اور ہمارے لئے بہت بڑی خوش نصیبی ہے کہ ہمیں ایک بہت بڑےولی کی کی سرپرستی حاصل ہو گئی ہے۔ جو ہمارے لئے دنیاوی اورا خروی دونوں عالم میں اجر کا باعث اور سبب ہے ۔ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے علم لدّنی کے وارث ہیں اور علم لدّنی سے مراد وہ تمام علوم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے علم الاسماء پر مشتمل ہیں ۔یہ وہی علوم ہیں جن کی بنیاد پر آدم کو فرشتوں نے سجدہ کیا اور جب ابلیس نے سجدے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مردود قرار دے دیا ۔ اس حوالے سے بھی کہ ہم آدم کی اولاد ہیں تو ہمارے اوپر یہ انکشاف ہو تا ہے کہ آدم کی اولاد کا اصل ورثہ علم الاسماء ہے ۔اللہ تعالیٰ نے کہا فرشتوں سے کہ میں آدم کوزمین پر اپنا نائب بنا نے والا ہوں۔ فرشتوں نے اعتراض کیا کہ یہ خون خرابہ اور فساد برپا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کوعلم الاسماء سکھایا۔وعلم آدم الاسماء کلھا…پہلے آدم کو اللہ تعالیٰ نے علم الاسماء سکھا ئے ۔صفات کے علم سکھا ئے ، تخلیق کے علوم سکھا ئے، اپنی پہچان کا جو ذریعہ بنتا ہے وہ علوم سکھا ئے،اور اس کے بعد آدم سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے جو کچھ تمہیں سکھایا دیا ہے تم فرشتوں کے سامنے بیان کرو ۔۔۔۔ثم عرضھم علی الملائکتہ…اور آدم نے جب وہ علوم فرشتوں کے سامنے بیان کئے تو فرشتوں نے کہا     یا رب العالمین ہم یہ نہیں جانتے ۔ہم تو بس اتنا جانتے ہیں،  جتنے علوم آپ نے جو ہمیں سکھا  دئے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم کی فضلیت اس بنیاد پر نہیں ہے کہ وہ آدم کا بیٹا ہے۔  مادی اعتبار سے یاجسمانی اعتبار سے بلکہ آدم کی فضلیت یہ ہے کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے وہ علوم سکھا دئے جو علوم کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے نہیں سکھا  ئے او ر جب کوئی بندہ ان علوم کو سیکھ لیتا ہے اللہ کا نائب بن جاتا ہے تو ا س کی حیثیت ولی کی ہو تی ہے ۔اللہ کے دوست کی ہو تی ہے اور اللہ کے دوست کی تعریف خود اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ کے دوست کو خوف اور غم نہیں ہو تا ۔ان آیات کی روشنی میں ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے اور اپنا محاسبہ کرے کہ وہ اللہ کا دوست ہے یا نہیں یا اس بات پر غور کریں ۔کیا اللہ کا غیردوست جنت میں جا سکتا ہے اس کا ایک ہی جواب ہو گا جنت میں وہی لوگ جائیں گے جو اللہ کے دوست ہوں گے ۔ اور اللہ کے دوست کی تعریف یہ ہے کہ اس کو خوف اور غم نہیں ہو تا۔ یعنی جس بندے کے اندر خوف اور غم ہے وہ اللہ کا دوست نہیں ہے اور اللہ کا غیردوست جنت میں نہیں جا سکتا ۔تو یہ بڑا المیہ ہے کہ ہم قرآن پاک کو پڑھتے ہیں۔ لیکن قرآن پاک کی آیات میں جو حکمت ہے ،اللہ تعالیٰ نے جو نوع انسانی کو پیغام دیا ہے ۔اس پر غور نہیں کر تے پھر اس بات پر آپ غور فرمائیں یہاں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہو ئے ہیں کہ میں آپ سے سوال کر تا ہوں صاحب جنت میں کون جائے گا ۔خواتین وحضرات جنت میں کون جائے گا ؟تو آپ کا یہ جواب ہو گا اللہ کا دوست جنت میں جائے گا ۔جو اللہ کا دوست نہیں ہے وہ دوزخ میں جائے گا جنت میں نہیں جائے گا ۔پھر میں خواتین و حضرات آپ سے دوسرا سوال یہ کرتا ہوں کہ اللہ کے دوست کی تعریف کیا ہے ؟آپ کا جواب یہ ہو گا،  اللہ کے ارشاد کے مطابق ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کا دوست وہ ہوتا ہے جس کے اندر خوف اور غم نہیں ہو تا۔ کسی چیز کے جانے کا غم نہیں ہو تا اور کسی چیز سے نقصان پہنچنے کا خوف نہیں ہو تا ۔اب آپ یہ بتائیں کہ جب اللہ کے دوست کی یہ پہچان ہے کہ اسے خوف اور غم نہیں ہو تا۔ تو اللہ کے غیردوست کی یہ پہچان ہو ئی کہ وہ خوف اور غم سے آزاد نہیں ہو تا ۔جب ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے ۔کوئی بھی خوف اور غم سے آزاد نہیں ہے ۔تو جب ہم خوف اور غم سے آزاد نہیں تو اللہ کے دوست نہیں۔یہ قرآن میں جب اللہ کے دوست نہیں ہیں تو جنت میں کیسے جائیں گے ۔یہ ولی اللہ ،اولیاء اللہ جو ہیں ۔اللہ کے دوست وہ اصل میں اسی بات کا درس دیتے ہیں کہ اللہ سے دوستی کرو ،جب اللہ سے دوستی ہوجائے گی تو تمہارے اندر سے خوف اور غم نکل جائے گا اور جب خوف اور غم نکل جائے گا۔ تو جنت تمہاری میراث ہو جائے گی ۔ جنت تمہارا وطن تمہیں واپس کر دیا جائے گا ۔اب ہم خوف اور غم کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے اللہ سے دوستی کی جائے اور اللہ سے دوستی کرنے کا آسان ترین طریقہ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ نے جو بتایا ہے اپنے عظیمی بچوں کو،ساری توقعات دروبست اللہ کے ساتھ وابستہ کر دی جائیں۔ اپنے جیسے مجبور لوگوں سے توقعات قائم نہ کریں ۔میں توقع قائم کر تا ہوں کہ آج قائم کر تا ہوں وہاں لیاقت بھائی بیٹھے ہو ئے ہیں یہ میرا وہ کام کر دیں گے وہ کام کر دیں گے ۔تو لیاقت بھائی تو خود محتاج ہیں۔ وہ تو خود اللہ کے محتاج ہیں ۔ اللہ اگر نہ چاہے تو ان کا بھی کام نہیں ہو گا۔ وہ میراکام کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ اللہ کسی بندے کو کسی بندے کے لئے وسیلہ بنا دے اور اللہ تعالیٰ اس بندے کو بنا کر اس کا وسیلہ بنا دے اس بندے سے میرا کام کر ادے ۔لیکن کو ئی آدمی کسی آدمی کی خدمت نہیں کرے گا جب تک کہ اللہ نہ چاہئے ۔اللہ تعالیٰ نے یہ ایک نظام بنا دیا ہے کہ کائنات کی اصل بادشاہت جو ہے وروبست اللہ کی ہے۔ کوئی آدمی اس کو مانے یا نہ ما نے لیکن کو ئی آدمی پانی نہیں بنا سکتا اگر آدمی پانی نہیں بنا ئے تو پیاس کیسے بجھے گی ۔دنیا کا بڑے سے بڑا سائنٹسٹ گیہوں کا دانہ نہیں بنا سکتا اگر زمین پر گیہوں کا دانہ موجود نہ ہو تو آدمی آٹا پیس کر روٹی نہیں کھا سکتا ، زمین پر کوئی سائنٹسٹ ہوا نہیں بنا سکتا ، کو ئی سائنٹسٹ سورج اور چاند نہیں بنا سکتا اور سب سے بڑی بات جو سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ چھ ارب انسانوں میں کوئی ایک انسان ایسا نہیں ہے کہ جو اپنی مرضی سے پیدا ہو گیا ہو، چھ ارب انسانوں میں کوئی ایک انسان ایسا نہیں ہے کہ جو اپنی مرضی سے زندہ رہا ہو،اورچھ ارب انسانوں میں کوئی ایک انسان ایسا نہیں ہے کہ جو پانی پئے بغیر زندہ رہ جائے ،کھانا کھا ئے بغیر زندہ رہ جائے ، او ر بنیادی بات یہ ہے جب بچہ پیداہو تا ہے زمین پر تو اس کے لئے وسائل پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔اس کو اپنے لئے ہوا نہیں بنا نی پڑتی ،پانی نہیں بنا نا پڑتا،زمین نہیں بنا نی پڑتی ،ماں کے سینے میں دودھ بنا نے کاکوئی فارمولانہیں ہے بچوں کے پاس ،یہ سارے حقائق نوع انسانی کو خصوصاً سلسلہ عظیمیہ کے افراد کواس طرف غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں کہ یہاں جو کچھ ہے سب اللہ کا بنا یا ہوا ہے۔ ہمیں بھی اللہ نے بنایا اور ہمارے لئے زندگی کے وسائل بھی مہیا کئے ہیں تو سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ ساری توقعات اللہ سے قائم کی جائیں۔ اپنے جیسے مجبور بندوں سےتوقعات قائم نہ کی جائیں ،اپنے جیسے بندوں کی خدمت کی جائے ،اپنے جیسے بندوں سے محبت کی جائے، وہ بھی اس لئے کی جائے کہ ہمارا سرپرست اعلیٰ اور کنبہ کاسربراہ اعلیٰ اللہ ہے اور اللہ ہے ۔یہ حضور قلندربابا اولیاؒ کی تعلیمات ہیں اور ان تعلیمات پر عمل کر کے ہم خوف اور غم سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ دیکھئے اب ہمیں یقین ہو جائے سب کچھ اللہ ہی نے کیا ہے اللہ ہی کر رہاہے ۔توظاہر ہے اللہ کو سب قدرت ہے اور نہ ہمیں کسی چیز کے جانے کا غم ہو گا اور نہ کسی چیزکے چھن جا نے کاخوف ہوگا ۔جیسے جیسے ہمارا یقین اللہ کے اوپرمضبوط اور مستحکم ہو جائے گا ۔اسی مناسبت سے ہمارے اندر خوشی اور سکون کی لہریں دور کرنے لگے گی ۔معزز خواتین و حضرات مجھے الحمد للہ …آپ سے مخاطب ہو نے کا شرف حاصل ہو ا میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں ہم ابھی عرس سے فارغ ہوئے ہیں۔ الحمدللہ میں نے آپ حضرات کے لئے بہت دعائیں کیں ۔اللہ تعالیٰ کے حضور جو آپ کی درخواست ہے آپ نے مجھ سے کہیں یا نہیں کہیں اور آپ کے لئے دعا کی، التجاء کی، حضور قلندربا با اولیاء ؒ کو آپ کی طرف سے ایصال و ثواب کاہدیہ پیش کیااور آپ کی سفارشات کی میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور آپ کو سکون کی عافیت سے رکھے اور آپ کو پریشانیوں سے نجات عطا فرمائے ۔اور بنیادی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اپنا دوست بنائے تاکہ ہمارے اندر سے خوف اور غم ختم ہو جائے ۔اور ہم جنت کے حق دار بنیں ۔آپ حضرات کا بہت شکریہ ۔ دعا تومیں نے  بہت ساری کر انی تھی۔ یہاں جتنی بھی ماشااللہ جتنے بھی عظیمی بہن بھائی بیٹھے ہوئے ہیں اس میں نجمہ بھی ہیں۔ ان کو بہت بہت سلام عرض کر رہے ہیں کہ ہم عظیمی بہن بھائیوں کا عظیمی بچوں کو میری طرف سے سلام پہنچیں اور دعائیں پہنچیں ۔اللہ تعالیٰ آپ کو قبول فرمائے ۔آپ نے حضور قلندر بابااولیاء ؒ کا عرس کیا اللہ تعالیٰ قبول کرے اور اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ  وامان میں رکھے ۔آپ کی دین دنیا اچھی کرے ۔انشا اللہ …اللہ نے چاہا تو پھر ملاقات ہو گی ۔ …شکریہ

 

Topics


Khutbat Khwaja Shamsuddin Azeemi 01

Khwaja Shamsuddin Azeemi


اللہ کا شکر ہے پہلی جلد جس میں 73 تقاریر کو شامل کیا گیا ہے۔حاضر خدمت ہے۔ بہت سی جگہ ابھی بھی غلطیاں ہونے کا امکان ہے۔ برائے مہربانی ان سے ہمیں مطلع فرمائے۔اللہ تعالی میرے مرشد کو اللہ کے حضور عظیم ترین بلندیوں سے سرفراز کریں،  اللہ آپ کو اپنی ان نعمتوں سے نوازے جن سے اس سے پہلے کسی کو نہ نوازہ ہو، اپنی انتہائی قربتیں عطاکریں۔ ہمیں آپ کے مشن کا حصہ بنائے۔ ناسوت، اعراف، حشر نشر، جنت دوزخ، ابد اور ابد الاباد تک مرشد کا ساتھ نصیب فرمائے۔آمین

مرشد کا داس