Topics
جب تک کہ لکیر میں
ہے خم کی تصویر
جب تک کہ شب مہ کا
ورق ہے روشن
ساقی نے کیا ہے مجھے
ساغر میں اسیر
تشریح! حضور بابا صاحبؒ چاند کو خم سے تشبیہ
دیتے ہیں، جس طرح خم میں شراب بھری ہوتی
ہے اسی طرح چاند میں ٹھنڈی اور مسحور کن روپہلی چاندنی دراصل وہ روشنی ہے، جس سے
زمین کا ذرہ ذرہ نمود و حیات پارہا ہے۔ جب
تک نمود و حیات کا سلسلہ جاری ہے، کائنات
کا منور اور روشن ہے۔ اور جب روشنی کا نظام
درہم برہم ہو جائے گا تو یہ خم نہ رہے گا، نہ شراب نہ چاند رہے گا، نہ چاندنی ۔
اگر کوئی چیز باقی رہے گی تو وہ ساقی کی ذات والا صفات ہے۔[1]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔